بلدیاتی انتخابات، کچھ ذکر بڑھکوں کا اور تھوڑا سا تجزیہ
Nov 03, 2015

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں حکمران مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اور سندھ کی حکمران پیپلز پارٹی کو سندھ میں معقول نشستیں ملنے پر اپنی سیاست اور سیاسی مستقبل کے بارے میں بڑھکیں مارنے کا اچھا خاصا موقع مل گیا ہے، میں ان دونوں جماعتوں کی خوشیوں اور خوش فہمیوں پر بعد میں بات کروں گا فی الوقت بلدیاتی اداروں کے ذریعے سلطانی ٔ جمہور کے سفر کا اگلا زینہ چڑھنے پر میں قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ جیسے تیسے چاہے سپریم کورٹ کی سخت وارننگ کے تحت ہی سہی، سلطانی جمہور میں بلدیاتی اداروں کے کلیدی کردار کا آغاز ہو گیا ہے جو درحقیقت سیاسی جماعتوں کی قیادتوں اور ان پارلیمنٹیرین حضرات کی شکست ہے جو پارلیمنٹ میں اپنے قانون سازی کے کردار پر توجہ دینے کے بجائے محض سرکاری ترقیاتی فنڈز پر نظریں جمائے رکھتے ہیں کہ ان میں سے کمشن اور کک بیکس حاصل کرکے وہ اپنی پارٹی قیادتوں کی خدمتوں کے لئے اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے کروڑوں کے اخراجات کیسے پورے کرتے ہیں اور پھر اگلے انتخابات کے ممکنہ اخراجات کیسے نکالتے ہیں۔ پارلیمنٹیرین حضرات کی اس حریصانہ سوچ کے تابع ہی سیاسی جمہوری حکمرانیوں میں جمہوریت کی روح بلدیاتی اداروں کا گلا بار بار گھونٹا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ حضرات ترقیاتی فنڈز میں کسی بلدیاتی ادارے کے منتخب سربراہ اور کونسلروں کو شامل ہونے ہی نہیں دینا چاہتے۔

جرنیلی آمریتوں کی ساری قباحتوں اور ماورائے آئین من مانیوں کے باوجود یہی ایک اچھا کام ہوتا رہا کہ ان کے ادوار میں جمہوریت کی جڑ بلدیاتی ادارے پروان چڑھتے رہے۔ یہ صرف اس لئے ممکن ہوتا تھا کہ ان ادوار کا زیادہ عرصہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے محروم رہا جبکہ جرنیلی آمروں کو بھی اس کا یہ فائدہ ہو جاتا تھا کہ بلدیاتی نمائندگان کی شکل میں ان کا اپنا حلقہ انتخاب بھی تشکیل پا جاتا تھا جس کے زور پر ان کے پائوں بھی زمین پر جم جاتے تھے۔ آج کی کم و بیش ساری سیاسی قیادتیں اور پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے منتخب ارکان جرنیلی آمریتوں کے لوکل باڈیز سسٹم کی بدولت ہی سیاسی میدان میں آئے اور ان کی لیڈرشپ قائم ہوئی ورنہ جرنیلی آمر اپنے اپنے دور میں بلدیاتی نظام بھی نہ لاتے تو دس سال پر محیط ایک جرنیلی آمریت کے دوران جہاں روائتی سیاستدانوں کا وجود ختم ہوتا وہیں نئے سیاستدانوں کی کھیپ بھی پیدا نہ ہو پاتی۔ یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ جن بلدیاتی اداروں نے آج کے سیاسی قائدین اور ارکان اسمبلی کو جنم دیا اور پروان چڑھایا، انہی کے ہاتھوں ان بلدیاتی اداروں کا گلا گھونٹا جاتا رہاہے۔ اب جماعتی بلدیاتی انتخابات کی نوبت آئی ہے تو ان کے ذریعے انتخابی نظام کی جن خامیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور الیکشن کمشن کی جو دانستہ نادانستہ غلطیاں اور خامیاں اجاگر ہوئی ہیں، اب بلدیاتی اداروں کا گلا گھونٹنے کی سوچ پالنے کی بجائے ان کمزوریوں، غلطیوں اور خامیوں کو دور کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ پھر تسلسل کے ساتھ بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہوتے رہیں گے تو یقیناً اس سے سلطانی جمہور کی اصل روح بھی بیدار رہے گی اور جمہوریت کے ثمرات بھی عام آدمی کی دہلیز تک پہنچتے رہیں گے اس طرح کسی جرنیلی شب خون پر عوام جرنیلی آمر کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کی بجائے اس شب خون کی مزاحمت کرتے نظر آئیں گے۔ اسی طرح جرنیلی آمریت کا مردہ خراب ہو گا تو کسی کو اس میں نئی روح پھونکنے کا سوچنے کی بھی جرات نہیں ہو گی۔

آپ موجودہ بلدیاتی انتخابات ہی کو اس کی مثال بنا لیجئے اور الیکشن کمشن کے ہاتھوں ووٹر لسٹوں کی تیاری کے مراحل میں جو سنگین اور فاش غلطیاں ہوئی ہیں انہیں فی الفور درست کر لیا جائے تاکہ آئندہ کے لئے خود مختار الیکشن کمشن کے ہاتھ سے شفاف انتخابات کا تصور اجاگر ہو سکے۔ مجھے ایسی غلطیوں کی ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی کہ کسی حلقے کے ایک ہی گھر میں رہنے والے چار، چھ یا دس افراد کے ووٹ اسی حلقے میں کیوں درج نہیں ہو سکے اور میاں، بیوی، بیٹی، بیٹوں اور بہن بھائیوں تک کے ووٹ دور دراز کی یونین کونسلوں کی انتخابی فہرستوں میں کیسے چلے گئے۔ کیا یہ محض کمپیوٹر کی غلطی ہے یا الیکشن کمشن کے متعلقہ عملے کی کسی جانچ پڑتال کے بغیر اپنے کام سے خلاصی پانے کی روائتی بدخصلتی کا شاخسانہ ہے؟ اسی طرح بیلٹ پیپرز پر کسی امیدوار کا نام یا انتخابی نشان موجود نہیں جس کی اکثر شکایات موصول ہوئی ہیں تو کیا اسے محض کمپیوٹر کی غلطی قرار دے کر متعلقہ عملے کی نااہلیت پر مٹی ڈال دی جائے۔ اگر ہم نے سسٹم چلانا اور مستحکم بنانا ہے جس کے لئے سیاسی جماعتوں کی نیت کا عمل دخل ہونا بھی ضروری ہے تو پھر الیکشن کمشن سمیت جہاں جہاں بھی انتخابی عمل اور پولنگ کے دوران بعض ناقابل برداشت اور فاش غلطیوں کی نشاندہی ہوئی ہے انہیں اب الیکشن کمشن سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ٹھوس بنیادوں پر دور کرے تاکہ آئندہ ایسی غلطیوں کا اعادہ نہ ہو سکے۔

اب میں آتا ہوں بلدیاتی نتائج کی بنیاد پر حکمران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی خوشیوں اور خوش فہمیوں کی جانب۔ ان ہر دو جماعتوں کی قیادتوں کا دعویٰ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں انہیں بے مثال کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ زمینی حقائق تو ان کا قومی تشخص ہی ختم ہونے کی چغلی کھا رہے ہیں۔ حکمران مسلم لیگ (ن) کو بے شک پہلے مرحلہ میں 2696میں سے 12سو کے قریب نشستوں پر کامیابی حاصل ہو گئی ہے مگر سندھ میں اس کے ساتھ کیا ہوا اور خیبر پی کے میں اس کے ساتھ کیا بیتی؟ اسی طرح بلوچستان میں اس کا وجودکہاں کہاں پر نظر آ رہا ہے۔ اگر آپ کو پنجاب کی حد تک محض 50فیصد نشستوں پراپنی کامیابی ہی بے مثال کامیابی نظر آ رہی ہے تو آپ کی حیثیت محض ایک علاقائی پارٹی والی بن کر رہ گئی ہے جبکہ سیاست کے قومی دھارے کا تقاضا تو کچھ اور ہے۔ اگر آپ شوق سے علاقائی پارٹی بن رہے ہیں تو پھر ملک کی یکجہتی و وحدانیت کا خدا ہی حافظ ہے۔ اور یہ زرداری قیادت نے بھی کیا خوب بڑھک لگائی ہے، آپ کس کو طعنہ دے رہے ہیں کہیں کہ ’’جو کہتے تھے پیپلز پارٹی ختم ہو گئی، ان کی پیشن گوئیاں خاک میں مل گئی ہیں‘‘۔ یہ بڑھک سندھ میں ساڑھے سات سو نشستوں پر کامیابی کی بنیاد پر لگائی گئی مگر حضور ذرا پنجاب پر تو توجہ دیجئے۔ یہاں بیلٹ بکسوں میں سے بمشکل ایک یا دو درجن سے زیادہ ووٹ آپ کے حق میں برآمد نہیں ہوئے۔ جیالے کلچر والی پیپلز پارٹی تو یہاں عملاً ختم ہو گئی ہے جبکہ خیبر پی کے اور بلوچستان بھی آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ تو کیا آپ محض علاقائی سطح پر محدود ہونے والی اپنی پارٹی کے برتے پر اپنی سیاست پر نازاں ہیں؟ ان انتخابات میں اگر آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے جیت کر دوسری بڑی پارٹی کا تشخص بناتے نظر آ رہے ہیں تو کیا اسے قومی سیاسی جماعتیں اپنی ناکامی سے تعبیر نہیں کریں گی۔ غیر جماعتی انتخابات کا تو اور معاملہ ہوتا ہے مگر جماعتی انتخابات میں بھی پنجاب میں گیارہ سو کے قریب آزاد امیدوار جیت رہے ہیں اور سندھ میں 180کے قریب امیدواروں نے میدان مارا ہے تو پھر ’’کوئی شرم ہوتی ہے۔ کوئی حیا ہوتی ہے‘‘ بھلے یہ سب آزاد کل کو پنجاب اور سندھ میں حکمران جماعتوں کا حصہ بن جائیں مگر انہیں آزاد حیثیت میں جتوا کر ووٹروں نے سیاسی قیادتوں کو واضح پیغام تو دے دیا ہے۔

آپ کو شاید حیرانی ہو رہی ہو گی کہ میں نے پاکستان تحریک انصاف کی کسی بھی حیثیت کو اس تجزئیے میں شامل نہیں کیا تو اس کے لئے عرض ہے کہ اس پارٹی کے قائد عمران خاں اگر خود اپنے کسی امیدوار کے ضمنی انتخاب اور موجودہ بلدیاتی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے تو ان سے سلطانی جمہور میں کسی موثر کردار کی کیا توقع کی جا سکتی ہے اور پھر ابھی تو وہ تازہ تازہ خانگی صدمے سے دوچار ہوئے ہیں، ان کی طبیعت بحال ہو گی تو کچھ عرض کریں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com