ڈاکٹر شریف نظامی کا ’’جواب آں غزل‘‘
Oct 27, 2015

برادر مکرم ڈاکٹر محمد شریف نظامی کا میرے 2 اکتوبر کے کالم پر 23؍اکتوبر کو ’’جواب آں غزل‘‘ نظر سے گزرا تو اس کے جواب کا قطعاً ارادہ نہیں تھا تاہم کچھ احباب نے اس پر استفسارات کئے تو ڈاکٹر صاحب کے ذہن میں موجود کچھ غلط فہمیوں اور میرے حوالے سے ان کی پیدا کردہ بعض غلط فہمیوں کے محض ازالہ کے لئے مجھے آج یہ سطور رقم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب میری ان معروضات پر بھی خامہ فرسائی کا شوق پورا کر لیں مگر میرا یہ ان کے لئے حتمی جواب الجواب ہے اور توقع ہے کہ اس سے ڈاکٹر صاحب کی اپنی بھی تشفی ہو جائے گی۔ سب سے پہلے ان غلط فہمیوں کا تذکرہ جو ڈاکٹر شریف نظامی صاحب کو میرے کالم کی بنیاد پر میری ذات کے حوالے سے لاحق ہوئیں۔ انہوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو میرا ممدوح قرار دیا۔ اگر ان کے ساتھ میری 40سال پرانی نیازمندی انہیں یاد رہی ہے تو انہیں میرے محض ایک کالم کی بنیاد پر جس سے یقیناً وہ اپنی ذات کی حد تک ’’بے سوادے‘‘ ہوئے ہیں، میری سوچ پر اپنی غلط فہمی کا ٹھپہ لگانے کا حق استعمال نہیں کرنا چاہئے اور اگر اس سے پہلے بھی میرے کالم ان کے زیر مطالعہ رہے ہوں تو بھی ان کی جانب سے میاں نواز شریف کو میرا ممدوح قرار دینا میرے ساتھ مذاق سے ہی تعبیر ہو گا۔ اگر وہ اپنے ساتھ میری نیازمندی کا دورانیہ چار پانچ سال کم کر دیں تو اس سے ان کی اپنی عمر کا بھرم بھی قائم رہ جائے گا۔ 40 سال قبل میں 21برس کا تھا اور گریجویشن کے بعد قانون کی تعلیم کے لئے 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں داخل ہوا تھا۔ ڈاکٹر شریف نظامی صاحب سے نیازمندی کا سلسلہ یقیناً رئوف طاہر صاحب کی وساطت سے 80ء کی دہائی کے آغاز میں شروع ہوا تھا۔ انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں فروغ اردو میں ان کی حوصلہ شکنی کے حوالے سے جو الفاظ میرے ساتھ منسوب کئے وہ اس وقت تو کجا، آج بھی انہیں کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کروں گا۔ یہ کسی اور صاحب کے الفاظ ہوں گے جو انہوں نے میرے ساتھ منسوب کر دئیے۔ تاہم اگر برادر رئوف طاہر تصدیق کر دیں کہ یہ الفاظ میرے ہی ذہن رسا سے زبان تک آئے تھے تو میں اس پر صاد کر لوں گا۔ دوسری غلط فہمی جو ڈاکٹر صاحب کو میرے کالم میں قائداعظم کی انگریزی زبان میں تقاریر کے دئیے گئے حوالے سے لاحق ہوئی جس کی بنیاد پر انہوں نے ازخود یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ میں نے میاں نواز شریف کو قائداعظم کے درجے کا لیڈر سمجھ لیا ہے۔ انہیں میرے کالم کا دوبارہ مطالعہ فرما کر خود ہی اس غلط فہمی کو دور کر لینا چاہئے کیونکہ میں نے قائداعظم کی قیادت اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر حوالہ دیا تھا کہ وہ انگریزی زبان سے نابلد لوگوں کے اجتماع میں بھی انگریزی میں تقریر کرتے تو وہ تقریر سمجھ میں نہ آنے کے باوجود لوگ ان پر یہ کہہ کر اپنے اعتبار و اعتماد کا اظہار کرتے تھے کہ انہوں نے جو بھی کہا ہے درست ہی کہا ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب! کیا میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کے فورم پر انگریزی زبان سے نابلد لوگوں کے اجتماع سے انگریزی میں خطاب کیا ہے؟ یہاں تو صورتحال یکسر مختلف ہے اور میں نے اس فورم پر ان کی انگریزی تقریر کو اسی لئے ’’سواد آنے‘‘ سے تعبیر کیا کہ وہ سارے کا سارا اجتماع انگریزی آشنا تھا جہاں انہیں بالخصوص بھارتی مکاریوں اور دیرینہ کشمیر ایشو پر پاکستان کے موقف کی جذبات ابھارنے والی وکالت کے لئے اسی زبان میں مخاطب ہونا چاہئے تھا جو اس اجتماع کے شرکا کے دلوں پر براہ راست اثر پذیر ہوتی۔ میں نے اپنے کالم میں اردو زبان کی جگہ انگریزی کو اسی طرح مسلط کرنے کی ہرگز وکالت نہیں کی جیسا کہ ڈاکٹر صاحب اور ان کے گروپ کے دوسرے ارکان جبراً اردو زبان کو ہر حوالے سے مسلط کرنے کی بات کرتے ہیں۔ میری ایک غلط فہمی کا تذکرہ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک میں محترمہ فاطمہ قمر کے بیان کردہ منصب کے حوالے سے کیا ہے، میں اس پر خود کوئی رائے نہیں دوں گا۔ فاطمہ قمر صاحبہ خود ہی اس کی وضاحت کر دیں تو مناسب ہو گا کیونکہ فروغ اردو کی جدوجہد میں پاکستان قومی زبان تحریک کا کوئی کردار اور فعالیت نظر آتی ہے تو یہ سارا کریڈٹ فاطمہ قمر، عزیز ظفر آزاد اور دوسرے ایک دو احباب کے ساتھ منسوب ہے۔ اگر اس تنظیم میں ان کے باہمی تنازعات و تضادات ہیں تو اس کی بنیاد پر کسی کے حقیقی کریڈٹ کی نفی نہیں کی جا سکتی۔

اب میں ڈاکٹر صاحب کے جواب آں غزل میں زبان کے معاملہ میں ان کی دانست میں کی گئی علمی بحث کی جانب آتا ہوں۔ انہوں نے میری کم علمی پر اپنی علمیت کی دھاک جمانے کے لئے قرآن مجید کی سورۂ ابراہیم کی آیت نمبر 4کا حوالہ دیا جس کا یہ ترجمہ انہوں نے خود پیش کیا ہے کہ ’’ہم نے جو بھی نبی بھیجا اس نے اپنی قوم کی زبان میں ہی تعلیم دی تاکہ وہ انہیں کھول کھول کر سمجھائیں‘‘ محترم نے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کا حوالہ دے کر ابلاغ کے حوالے سے میرے کالم میں دئیے گئے دلائل کو خود ہی مضبوط بنا دیا ہے۔ میں نے میاں نواز شریف کی اقوام متحدہ کے فورم پر انگریزی تقریر کو اسی بنیاد پر درست قرار دیا تھا کہ کسی اجتماع کے شرکاء جس زبان کو بخوبی سمجھتے اور جانتے ہیں، ان کے سامنے اس زبان میں بات ہو گی تو وہ بات بخوبی سمجھ جائیں گے۔ اس آیت کریمہ کے حوالے سے خداوند کریم کی بھی یہی منشاء تھی کہ جس بگڑی ہوئی سرکش قوم کو سدھارنامقصود ہوتا ہے، خداوند کریم اسی میں سے نبی اور پیغمبر مبعوث فرماتے ہیں تاکہ وہ انہیں احکام خداوندی کھول کھول کر بیان کر دیں۔ اس سے ان کے پاس کم از کم اس عذر کی تو گنجائش نہیں رہتی کہ انہیں تو کسی اور زبان میں بھجوائے گئے پیغام خداوندی کی سمجھ ہی نہیں آئی۔ کیا اس آیت کریمہ سے کہیں یہ مفہوم نکلتا ہے کہ خداوند کریم کسی زبان کو تسلیم کرانے کے لئے نبی اور پیغمبران مبعوث فرماتے رہے ہیں۔ میں نے اس آیت کریمہ میں ڈاکٹر صاحب کے اخذ کردہ مفہوم کو تلاش کرنے کے لئے اپنے پاس موجود قرآن کریم کی متعدد تفاسیر کو کھنگالا مگر مجھے کہیں سے بھی ڈاکٹر صاحب کے اخذ کردہ مفہوم کی تصدیق ہوتی نظر نہیں آئی۔ میں یہاں بطور حوالہ ان تفاسیر کا تذکرہ کر رہا ہوں تاکہ ڈاکٹر صاحب خود بھی ان کا مطالعہ فرما کر اپنے ذہن میں موجود غلط فہمی کا ازالہ کر لیں۔حضرت نبی آخرالزمان کے چچا زاد مفسر اعظم عبداللہ بن عباس کی تفسیر ابن عباس اردو ترجمہ شدہ مولانا فتح محمد جالندھری میں پارہ 13کی سورہ ابراہیم مکّی کی آیت چار کا ترجمہ اور تفسیر اس کی جلد دوم صفحہ 119میں موجود ہے ’’اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں احکام خدا کھول کھول کر بیان کر دے۔‘‘ اسی آیت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم میرے اور ڈاکٹر صاحب کے ممدوح مولانا سید مودودی کی تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ 471,470 میں موجود ہے جس میں کسی رسول کی جانب سے اپنی زبان میں پیغام خداوندی کا مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ ’’تاکہ اس قوم کو عذر پیش کرنے کا موقع نہ مل سکے کہ آپ کی بھیجی ہوئی تعلیم تو میری سمجھ میں ہی نہیں آئی تھی، پھر ہم ایمان کیسے لاتے‘‘ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے بھی اپنے ترجمۂ قران عرفان القرآن کے صفحہ 387میں اس آیت کریمہ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے ’’تاکہ وہ ان کے لئے پیغام حق خوب واضح کر سکے‘‘ انہوں نے ’’دی گلورئیس قرآن‘‘ کے نام سے قرآن مجید کا انگریزی زبان میں بھی ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر شریف نظامی اس کے صفحہ 410کا مطالعہ فرما لیں۔ میں نے شاہی مسجد دہلی کے خطیب و امام شیخ الاسلام مفتی شاہ محمد مظہرالدین دہلوی کی تحریر کردہ تفسیر ’’مظہر القرآن‘‘ کو بھی کھنگالا۔ اس کی جلد اول کے صفحہ 742میں سورہ ابراہیم آیت 4کے پیش کئے گئے ترجمہ اور مفہوم سے بھی زبان کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی غلط فہمی کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ابوہریرہ شریعہ کالج کے پرنسپل میاں محمد جمیل کی تفسیر فہم القرآن جلد سوم صفحہ 560میں بھی یہی مفہوم بیان کیا گیا ہے ’’تاکہ وہ ان کے لئے کھول کر بیان کرے‘‘ تو محترم ڈاکٹر صاحب ، یہ آیت کریمہ کسی زبان کی اہمیت تسلیم کرانے کے لئے نہیں بلکہ احکام خداوندی (پیغام خدا) واضح طور پر اور کھول کھول کر بتانے کی غرض سے نازل فرمائی گئی ہے اور اب آپ اسی سورہ ابراہیم کی آیت 2کا بھی ترجمہ اور مفہوم کے ساتھ مطالعہ فرما لیں جس کی بنیاد پر میں نے اپنے کالم میں ابلاغ کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔ ذات باری تعالیٰ کا اس آیت کریمہ میں ارشاد ہے کہ ’’وہ اللہ ، جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، بس اسی کا ہے اور کفار کے لئے سخت عذاب کے باعث بربادی ہے‘‘۔ یہ پیغام رب کائنات کی اس حقیقت کے منکرین کے لئے ہے۔سو کسی زبان کو دھتکارنابھی اس آیت کریمہ میں بتائے گئے عذاب کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ میں نے اپنے کالم میں یہی عرض کیا تھا کہ سب زبانیں خداوند کریم کی ودیعت کردہ ہیں۔ ہر زبان کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ جس کو جو بات پہنچانی ہے اور جو سمجھانا ہے وہ بخوبی اس تک پہنچ جائے اور اس کی سمجھ میں آ جائے اور یہی ابلاغ ہے جو میری دانست میں ’’باڈی لینگوئج‘‘ کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنی اردو دانی کے ناطے گمان یہ ہے کہ اس بنیاد پر ان کے دہلوی ہونے کا قیاس ہوتا ہے اس لئے ’’پنجابی ڈھگے‘‘ کا طعنہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ممکن ہے ساڑھے چار سو برس قبل شاہجہان کے دور میں دہلی کے فوجی یونٹوں میں ابلاغ کے لئے بولی جانے والی زبانوں کے اندر سے ایجاد ہونے والی لشکری زبان اردو کی اس ایجاد میں کسی فوجی چھائونی میں موجود ڈاکٹر شریف نظامی صاحب کے آبائو اجداد کا بھی کوئی عمل دخل ہو مگر جو اہل زبان اپنی اس زبان کے تعصب میں ڈاکٹر صاحب کے مرشد علامہ اقبال کو محض پنجابی ہونے کے ناطے قومی شاعر تسلیم کرنے کو تیار نہیں وہ ڈاکٹر شریف نظامی کے دہلوی لب و لہجہ کو بھی کیونکر خاطر میں لائیں گے۔ اور آخر میں ایک مشورہ کہ آپ نے انگریزی زبان سے مستعار لیا گیا ’’ڈاکٹر‘‘ کا لفظ کیوں اب تک اپنے نام کا حصہ بنا رکھا ہے۔ پی ایچ ڈی سکالر کو ہم اردو زبان میں حکمت و فراست والا بھی تو کہہ سکتے ہیں۔ آپ بے شک اپنے نام کے ساتھ ’’شمس الحکمائ‘‘ لگا لیں مگر غلامی کی یاد تازہ کرنے والی انگریزی زبان کے لفظ ’’ڈاکٹر‘‘ سے تو فی الحال خلاصی حاصل کر لیں۔ کچھ اور باتیں بھی وضاحت کی متقاضی ہیں مگر مزید طوالت کے خدشے سے ان سب کا اس کالم میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ انشاء اللہ کسی اور کالم میں اس کا بھی تذکرہ کروں گا مگر جواب الجواب کے طور پر ہرگز نہیں۔ وما الینا الا البلاغ۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com