مہابھارت اور قیامت
Oct 20, 2015

پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھتے ہوئے جنونی بھارت نے گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے سے اپنے دوسرے پڑوسی نیپال کی بھی جس وحشیانہ انداز میں ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس کا سرسری تذکرہ میں نے برادرم اسلم خاں کے کالم کے حوالے سے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ اب شیوسینا کی بڑھتی ہوئی جنونیت بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر میں موجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خاں اور سابق چیئرمین نجم سیٹھی پر حملے کی نوبت لے آئی ہے تو کیا دنیا کو اب اس بھارتی شر سے اس کے پڑوسیوں کو بچانے کی کوئی تدبیر اختیار نہیں کرنی چاہئے۔ میں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی بے عملی کا بھی تذکرہ کیا جبکہ اب نیپال کے معاملہ میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کی افادیت بھی سوالیہ نشان بنی نظر آ رہی ہے۔ اگر ان عالمی اور علاقائی اداروں نے طاقت کا خناس رکھنے والے اپنے کسی رکن ملک کے ہاتھوں اس سے کمزور رکن ملک کے مجروح ہوتے اصولوں، مفادات اور اس کی سلامتی کے تحفظ کے لئے سرے سے کوئی کردار ہی ادا نہیں کرنا تو پھر ایسے اداروں کی نمائشی حیثیت برقرار رکھنے کا بھی کیا فائدہ ہے۔

اب بی جے پی کی مودی سرکار میں اکھنڈ بھارت کا ہذیان بے مہار ہوتا علاقے کے دوسرے ممالک کی سلامتی کو چیلنج کرتا نظر آ رہا ہے تو اس ہذیان کو نکیل ڈالنا ہو گی یا پھر اس ناگوار عالمی جنگ کے لئے تیار رہنا ہو گا جو بہرصورت ایٹمی جنگ ہو گی اور اس روئے زمین پر عملاً قیامت کی نوبت لے آئے گی۔ کہیں بھارتی مودی سرکار ہی تو یاجوج ماجوج نہیں جس کا قیامت سے پہلے ورود ہونا ہے۔ مودی کے اپنے گلا پھاڑتے مار دھاڑ والے عزائم، توسیع پسندی کا اظہار کرتی ان کی للچائی آنکھیں اور جنگی جنون کو عملی قالب میں ڈھالنے کے لئے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ان کے اقدامات سے تو یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کے تاراج ہونے میں بس اب چند ساعتوں اور چند لمحوں کا ہی فاصلہ رہ گیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مودی جنونیت کے عملی مظاہرے تو ان کے اقتدار کے پہلے دن سے ہی شروع ہو گئے تھے جو روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے پھیلتے اب ان کی پالتو شیوسینا کی جانب سے بھارت جانے والے ہر پاکستانی پر حملے، اس کی بے عزتی، بے توقیری اور اسے پاکستان واپس دھکیلنے کے ہذیان میں لتھڑی انتہائی مکروہ شکل اختیار کئے نظر آ رہی ہے۔ مودی سرکار کے ان پالتو غنڈوں کے ہاتھوں پاکستان سے بھارت جانے والی سمجھوتہ ایکسپریس اور دوستی بس محفوظ ہے نہ پاکستانی تاجروں، صنعتکاروں، فنکاروں، دانشوروں اور کسی بھی دوسرے شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی عزت۔ کیا مودی سرکار ان ہذیانی وارداتوں سے یہ جواز گھڑ کر بری الذمہ ہو سکتی ہے کہ یہ سارے شیوسینا کے ذاتی افعال ہیں۔ ارے آپ نے تو شیوسینا کا ڈراوا دے کر سمجھوتہ ایکسپریس مسلسل چار دن تک روکے رکھی اور اس میں سفر کرنے والے اپنے شہریوں کی عزت کی بھی پاسداری نہ کی۔ مقصد تو محض اس کے پاکستانی مسافروں کو زچ اور رسوا کرنے کا تھا، اس جنونی فعل کی پردہ پوشی کے لئے بھارتی مسافروں کو بھی راندہ¿ درگاہ بنادیا گیا۔ ہمارے بڑے گائیک غلام علی کو بھی بھارت جا کر امن کی آشا کے ڈھنڈورے پیٹنے کا شوق لاحق رہتا ہے۔ شیوسینا کے غنڈوں نے ان کی جو درگت بنائی تو کیا اب بھی ان کے دل میں امن کی آشا کی جلترنگ بجتی رہے گی۔ بھارت میں اپنی کتاب کی رونمائی کے شوق کے ساتھ بندھے ہمارے دوست سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری خود تو شیوسینا کی ”سیاہ کاریوں“ سے بچ گئے مگر اپنے میزبان کا منہ کالا کرا بیٹھے اور اب پاکستانی کرکٹ بورڈ کے پردھانوں کو بھارت سے کرکٹ کی بحالی پر بات کرنے کا شوق چرایا تو شیوسینا نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر کے اندر ہی ان کا گھیراﺅ کر لیا اور ان کی بھارت نوازیوں کا نشہ ہرن کر دیا۔

ارے جس بھارت میں محض گائے ذبح کرنے یا اس کا گوشت کھانے کے شبہ میں مسلمانوں کو بے دردی سے ذبح کیا جا رہا ہو، جہاں کے ریاستی وزیر اعلیٰ یہ کھلا اعلان کر رہے ہوں کہ مسلمانوں نے بھارت میں رہنا ہے تو وہ گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں، جس جنونی ہندو غلبے والے بھارتی معاشرے میں سکھوں، عیسائیوں سمیت کسی کی بھی عزت نفس محظوظ نہ رہے اور انہیں اپنا مذہب چھوڑنے اور ہندو مذہب اختیار کرنے پر جبراً مجبور کیا جا رہا ہو جس پر بھارتی سرکار کا ردعمل ایسے فتنہ پرور جنونی اقدامات کی توثیق والا نظر آتا ہو تو یہ درحقیقت ”مہابھارت“ ہی کا ایجنڈہ ہے جسے مکمل کرنے کا اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی پارٹی نے ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ پھر ہمارے مہربانوں کو بھارت جا کر اپنی بے عزتی کرانے کا کیوں شوق لاحق ہے۔ میں آج نیپال کے ساتھ بھارتی بربریت کا بطور خاص تذکرہ کرنا چاہتا تھا مگر بھارتی کرکٹ بورڈ میں شہریار خاں اور نجم سیٹھی کی درگت بنتے دیکھ کر نیپال کے معاملہ سے توجہ پھر ہٹ گئی، مگر یہ نیپال کا معاملہ بھی تو اسی بھارتی جنونیت کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے۔ اس نے اپنے آزاد و خود مختار ہونے کا تاثر دینے کی گستاخی کر لی اور گزشتہ سال 20ستمبر کو اپنی سرزمین بے آئین کو آئین کے قالب میں ڈھال لیا جبکہ ایسا خوشگوار دن نیپالی عوام کو 70سالہ کاوشوں کے نتیجہ میں دیکھنے کو نصیب ہوا تھا تو اکھنڈ بھارتی ذہنوں نے محسوس کیا کہ یہ تو اپنے آئین کو چلا کر خودسر ہو جائے گا چنانچہ بھارت سرکار نے نیپالی آئین کو اپنے تابع کرنے کے لئے اپنی جانب سے آٹھ آئینی ترامیم کا مسودہ بھجوا دیا ان ہدایات کے ساتھ کہ انہیں اپنے آئین کا حصہ بنا لو۔ نیپالی پارلیمنٹ نے مسکت جواب دیا کہ ہم خود مختار ملک ہیں، آپ ہمیں ڈوری سے باندھ کر اپنی انگلیوں سے کیسے نچوا سکتے ہیں۔ ”مہا بھارت“ کے ماتھے پر بل پڑے اور نیپال کو تیل کی سپلائی روک کر اس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دئیے تاکہ نیپال کی جانب کسی بھی چیز کی نقل و حمل نہ ہو سکے۔ ”مہابھارت“ کا گمان تھا کہ نیپالی عوام ابھی چند ماہ قبل ہی ہولناک زلزلے کی تباہ کاریوں سے گزرے ہیں اور ابھی تک سنبھل نہیں پائے تو ہمارے اس جھٹکے پر نڈھال ہی ہو جائیں گے اور ایڑیاں رگڑتے ہمارے پاﺅں پر آ گریں گے۔ مگر نیپالی عوام اور حکمرانوں نے بھی اب اپنی خودمختاری منوانے کی ٹھانی ہوئی ہے اس لئے وہ بھوکے مرتے ہوئے بھی ہر بھارتی ہتھکنڈے کو مسترد کئے چلے جا رہے ہیں اور نئی دہلی میں تعینات نیپالی سفیر نے بھی ایک بھرپور احتجاجی مراسلہ لکھ کر بھارتی رعونتوں کا ٹھوس جواب دے دیا ہے مگر ثابت قدمی اپنی جگہ، بھارتی عائد کردہ پابندیوں سے نیپال میں عملاً بھوک، قحط اور ضروریات زندگی کی اشیاءکی ناپیدی کی تیزی سے پھیلتی صورتحال اقوام متحدہ اور سارک کے رکن اس خوددار و خودمختار ملک میں انسانی زندگی کو بھی ناپید بنا دے گی۔ پھر نیپال میں انسانی زندگی اور انسانیت کو بچانے اور اس خطے میں زہر کی طرح پھیلتی ہوئی بھارتی جنونیت روکنے کے لئے کیا عالمی اور علاقائی تنظیموں، عالمی قیادتوں اور اقوام عالم کو کوئی موثر قسم کا نوٹس نہیں لینا چاہئے؟ بھئی سارک کا کوئی ہنگامی اجلاس ہی بلا لو، اور نہیں تو کوئی رسمی قرارداد ہی منظور کر لو تاکہ مظلوم مگر خوددار نیپالیوں کی اقوام عالم کے پردھانوں کو آواز تو سنائی دے سکے۔ اگر ایسا کچھ نہیں ہے اور بے عملی ہی بے عملی ہے تو جنونی مودی سرکار کا مہابھارتی ایجنڈہ قیامت کی نوبت لا کر رہے گا، وہ قیامت جو بہرصورت آنی ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com