بے جان اقوام متحدہ اورآج براعظم توڑ سونامی کی پیشینگوئی
Oct 17, 2015

اقوام عالم کی نمائندگی کے داعی عالمی ادارے اقوام متحدہ کی ان دنوں 70 ویں سالگرہ کی تقریبات جاری ہیں۔ 12 اکتوبر سے شروع ہونے والی یہ تقریبات 22 اکتوبر تک جاری رہنی ہیں اور 22 اکتوبر کو امریکی صدر باراک حسین اوبامہ سے ملاقات کی غرض سے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نیو یارک میں موجود ہوں گے۔ جنہیں اعلیٰ ترین سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں توسیع رکوانے کی خاطر ’’شٹ اپ کال‘‘ دینے کے لئے وائٹ ہائوس مدعو کیا گیا ہے۔ آپ اس دعوت کو باعزت کہہ سکتے ہیں اور یو این جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کی اس عالمی ادارے کو اپنی بے عملی اور منافقت پر جھنجھوڑنے والی دبنگ تقریر کے پیش نظر توقع یہی ہے کہ وہ اوباما کے روبرو بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کی ضرورت کے حوالے سے پاکستان کے موقف اور مفادات کی بھرپور وکالت کریں گے۔ مگر ذرا آئیے آج اقوام عالم کی نمائندگی کے داعی عالمی ادارے اقوام متحدہ کے معاملات کا بھی جائزہ لے لیں کہ وہ اپنے رکن ممالک کے مابین کسی قسم کے تنازعات کے حل کے لئے اب تک کوئی موثر کردار ادا کر بھی پایا ہے یا نہیں اور اس کے وضع کردہ انسانی حقوق کے چارٹر، قواعد و ضوابط اور کنونشنز کو اس کے رکن ممالک کتنا خاطر میں لاتے ہیں۔

بین الریاستی تنازعات طے کرانے کے معاملہ میں لیگ آف نیشنز کے غیر موثر ثابت ہونے پر اقوام عالم نے ایک نئے موثر اور نمائندہ عالمی ادارے کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی تھی اور بالخصوص دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ضرورت زیادہ محسوس ہوئی۔ چنانچہ اس وقت کے امریکی صدر روز ویلٹ نے 24 اکتوبر 1945ء کو سان فرانسسکو میں اقوام عالم کی قیادتوں کو مدعو کیا اور اپنے بلائے گئے اس نمائندہ اجتماع میں عالمی نمائندہ ادارے اقوام متحدہ کی تشکیل کی تجویز پیش کی۔ اس عالمی ادارے کے وضع کئے گئے چارٹر کے دیباچہ میں ہی اس ادارے کی تشکیل کے اغراض و مقاصد بیان کر دیئے گئے۔ جن کا نکتہ اول یہ تھا کہ اقوام متحدہ کی تشکیل اقوام عالم (انسانیت) کو جنگوں کے ان آلام سے بچانے کے لئے عمل میں لائی جا رہی ہے جو اقوام عالم دوبار بھگت چکی ہیں۔ اس کے لئے اصول یہ طے ہوا کہ اقوام عالم یو این چارٹر میں ماتحت بنیادی انسانی حقوق اور شرف انسانیت کی پاسداری کریں گی اور اس کے لئے بڑے یا چھوٹے ملک کی تمیز نہیں ہوگی۔ ہر ایک کو مرد و خاتون کے بھی امتیاز کے بغیر انسانی حقوق کے چارٹر کو تسلیم کرنا ہو گا۔ اسی تناظر میں بلاامتیاز ہر شہری کی بہتر اور آزاد زندگی کی یورپین چارٹر پر ضمانت دی گئی اور چھوٹی بڑی کے امتیاز کے بغیر تمام ریاستوں کو باہم امن سے رہنے اور قوتِ برداشت کو پروان چڑھانے کی تلقین کی گئی تاکہ باہمی رواداری سے عالمی امن و سلامتی کی فضا استوار ہو سکے۔ یو این چارٹر کے اس دیباچہ میں یہ بھی باور کرایا گیا کہ کوئی ریاست یا ریاستیں اپنے تنازعات ازخود اپنی مسلح افواج کو بروئے کار لا کر طے نہیں کرینگی بلکہ وہ تنازعات اقوام متحدہ کے فورم پر لائے جائیں گے جو اپنے وضع شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق ان تنازعات کو طے کرانے میں کردار ادا کرے گی۔ ان قواعد و ضوابط کو ہی عالمی قوانین کا درجہ دیا گیا۔

ارے صاحبو۔ 24 اکتوبر 1945ء کو تشکیل پانے والے اس عالمی ادارے کی بین الریاستی تنازعات کے حل کے معاملہ پر اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ہم سوائے اس کے اور کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہ لیگ آف نیشنز کی طرح غیر موثر ہی ثابت نہیں ہوا بلکہ دنیا کی چند بڑی طاقتوں کی باندی بن کر بھی رہ گیا ہے۔ جس کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے 5 ارکان امریکہ، چین، فرانس، روس اور برطانیہ کو ویٹو پاور دے کر پوری دنیا کو ان کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا گیا ہے چنانچہ جس بین الریاستی تنازعہ پر ان پانچ ممالک میں سے کسی ایک کے مفادات پر زد پڑتی ہے تو وہ ویٹو پاور استعمال کر کے اقوام متحدہ کو کارروائی سے روک دیتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ ویٹو پاور ملنے کے بعد اب تک روس نے 123 بار، امریکہ نے 82 مرتبہ، برطانیہ نے مختلف ایشوز پر 32 دفعہ، فرانس نے 18 اورچین نے (آپ سمجھ لیں کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے) صرف چھ بار ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ سلامتی کونسل میں تیسری دنیا اور عالم اسلام کو سرے سے کوئی مستقل نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی اور اب بھارت، جاپان، جرمنی اور برازیل مستقل رکنیت کی ریس میں شامل ہیں۔ بے شک اقوام متحدہ کی تشکیل کے بعد اب تک جنگ عظیم کی نوبت نہیں آئی مگر ویٹو پاور والے سلامتی کونسل کے رکن ممالک تو کجا، یہ ادارہ تو بھارت اور اسرائیل سے بھی اپنے چارٹر اور قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرا پایا۔ پرامن بقائے باہمی کا فلسفہ اور چھوٹے بڑے کی تمیز کے بغیر ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کا احترام یو این چارٹر ہی کا حصہ ہے مگر پاکستان بھارت تین جنگوں، امریکہ، سوویت یونین سرد جنگ اور ایران عراق جنگ سے لے کر امریکی نیٹو افواج کی عراق اور افغانستان پر چڑھائی اور عرب ریاستوں کے تنازعات تک خدا لگتی کہئے کہیں اقوام متحدہ کا کوئی موثر کردار آپ کو روبہ عمل ہوتا نظر آیا۔ کشمیر اور فلسطین کے معاملہ میں تو یہ ادارہ قطعی بے عمل اور امریکہ اور اس کے فطری اتحادیوں اسرائیل اور بھارت کی عملاً باندی بنا نظر آیا ہے۔ کشمیر کا تنازعہ خود بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو اقوام متحدہ میں لے کر آئے جس کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے ایک نہیں، مختلف موقع پر 1948ئ، 1956ء تک دو درجن کے قریب قراردادوں اور یادداشتوں کے ذریعے کشمیریوں کے استصواب کے حق کو تسلیم کیا مگر اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ آج بھارت پوری کی پوری وادی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنانے پر تلا بیٹھا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام رکن ممالک کو کسی چھوٹے بڑے کی تمیز کے بغیر پابند کیا کہ وہ اپنے تنازعات کے حل کے لئے ایک دوسرے پر فوج کشی نہیں کریں گے اور ہر معاملہ اقوام متحدہ میں لائیں گے مگر نائن الیون کے حادثہ کے بعد امریکہ نے ازخود یہ اختیار حاصل کر لیا کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے نام پر کسی بھی ریاست پر چڑھائی کر سکتا ہے جیسا کہ اس نے عراق اور افغانستان میں کی اور پاکستان پر یو این چارٹر کے باوصف ڈرون حملوں کا سلسلہ اس نے اب تک برقرار رکھا ہوا ہے۔ وہ داعش کو عالمی سلامتی کے لئے خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے مگر جب روس شام میں اسی داعش کی سرکوبی کے لئے کارروائی کرتا ہے تو روس کا یہ اقدام امریکہ کے نزدیک قابل مذمت ٹھہرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا اس ایشو پر کیا کردار ہے ڈھونڈتے رہئیے اور اس کی 70ویں سالگرہ کی تقریبات میں اس کے لئے رطب اللسا ن رہئے۔

اور آج آپ نے اقوام متحدہ کے غیرموثر ہونے کا ثبوت لینا ہے تو یہ نیپال کے آج کے حالات میں آپ کو مل جائے گا۔ 70 سال کی طویل جدوجہد کے بعد اس چھوٹی مگر آزاد و خودمختار ریاست نیپال میں ریاستی اسمبلی کے 601 میں سے 90 فیصد ارکان کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کئے گئے آئین کو اپنا مرغ دست آموز بنانے میں ناکامی پر بھارت کی جانب سے نیپال کا ناطقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور اس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر کے اس کی معیشت کا دیوالیہ نکالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے مگر اس بھارتی جبر سے اپنے چھوٹے مگر آزاد و خود مختار اس رکن ملک کو بچانے کے لئے آپ کو اقوام متحدہ کا کوئی کردار کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔ ہمارے دوست کالم نگار اسلم خاں نے اپنے دو روز قبل کے کالم میں اس کی ساری تفصیل بیان کر دی ہے۔ اس لئے جو عالمی ادارہ اپنے کسی رکن ملک کی کسی دوسرے رکن ملک کے ہاتھوں آزادی و خودمختاری کا احترام کرانے کے قابل نہیں اس کی 70 ویں سالگرہ تو کسی نئے موثر عالمی ادارے کی تشکیل کا تقاضہ کر رہی ہے۔ ورنہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فلسفہ غالب ہو گا تو اقوام متحدہ اپنی تشکیل کے بعد اب تک کسی نئی عالمی جنگ کے نہ ہونے پر نازاں نہ ہو، یہ نوبت بھی آ جائے گی اور شاید یہ جنگ اس کرہ ارض کی آخری جنگ ہو جس کے بعد انسان رہیں گے نہ انسانیت، پھر کسی نئی اقوام متحدہ کی ضرورت بھی کہاں باقی رہے گی۔ اور خدا خیر کرے، ایک برطانوی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر مہران کثیے کی برطانوی اخبار ’’ایکسپریس‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آج ہفتے کے روز انتہائی خوفناک زلزلے کا امکان ہے جس میں ان کے بقول شمالی اور جنوبی امریکہ کے براعظم ٹوٹ جائیں گے اور میگا سونامی کے ٹکرانے سے امریکہ اور ایشیاء میں چار کروڑ کے لگ بھگ انسان ہلاک ہو جائیں گے۔ اگرچہ ایک امریکی سائنسدان کی دنیا کے خاتمے سے متعلق دو سال قبل کی پیشنگوئی بھی غلط ثابت ہو چکی ہے اور آج 17 اکتوبر کو برطانوی سائنسدان کی پیشنگوئی بھی غلط ثابت ہو سکتی ہے مگر ہر کمالے راز والے کے مصداق ’’کمال‘‘ کی انتہاء تک پہنچے ہوئے انسان کے عالی دماغ کا بھی تو قدرت کے پاس کوئی علاج موجود ہو گا۔ اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کی باندی بنی رہی تو پھر اس کرہ ارض پر ایٹمی جنگ کی نوبت آ کر رہے گی۔ شائد قدرت نے بھی انسان کی عالی دماغی کا یہی علاج متعین کر رکھا ہو۔ اقوام متحدہ میں بیٹھے عالی دماغوں کو تو اپنے دماغ استعمال نہ کرنے کی مجبوری لاحق ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com