ووٹروں کے دئیے گئے سبق
Oct 13, 2015

لاہور اور اوکاڑہ کے ضمنی انتخابات میں جو حاصل ہوا اور جو سبق حاصل کرنے کے مواقع نکلے آج میں صرف ان معاملات کو ہی پیش نظر رکھوں گا۔اگر تو عمران خاں اور ان کی پارٹی نے لاہور کے حلقہ این اے 122کے ضمنی انتخاب کو مئی 2013ء کے انتخابات میں دھاندلیوں سے متعلق اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے ٹیسٹ کیس بنایا ہوا تھا جس کے بارے میں ان کے اور پی ٹی آئی کے دوسرے لیڈران کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں تو ان کے لئے یہی سبق ہے کہ دھاندلیوں کے الزامات ان کی محض سیاست تھی۔ اب اس سیاست سے رجوع کر لیں۔ اس ٹیسٹ کیس نے حلقہ این اے 122ہی نہیں ، مئی 2013ء کے سارے انتخابی عمل اور اس کے تحت اقتدار کے لئے مسلم لیگ (ن) کو حاصل ہونے والے مینڈیٹ کو بھی درست قرار دے دیا ہے۔ اب یہ کہنا بھی محض سیاست ہی ہو گی کہ 24سو ووٹوں سے ہار کوئی ہار تو نہیں ہوتی۔ عمران خاں کا کیس تو یہی تھا کہ عام انتخابات میں اس حلقے میں پچاس پچپن ہزار ووٹ جعلی بھگتائے گئے اور ایسا الیکشن کمشن اور نگران حکومت کی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ملی بھگت سے ہوا۔ آج الیکشن کمشن نے عمران خاں کی ہر خواہش پوری کرتے ہوئے شفاف پولنگ کرائی تو اس میں مسلم لیگ (ن) کے حق میں دھاندلی سے ڈالے گئے 55,50ہزار ووٹوں کا صفایا ہو گیا ہو گا۔ پھر بھی چاہے اڑھائی ہزار کی لیڈ سے ہی سہی مسلم لیگ (ن) کامیاب تو ہو گئی۔ چنانچہ اس ٹیسٹ کیس نے الیکشن کمشن اور نگرانوں کو بھی دھاندلیوں کے الزامات سے پاک کر دیا ہے جبکہ لیڈ کم ہونے کی وجہ جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید پراچہ اس انتخاب میں جماعت اسلامی کی پی ٹی آئی کو حمائت حاصل ہونے کی بتا رہے تھے۔ اس حساب سے جماعت اسلامی کے پانچ ساڑھے پانچ ہزار ووٹ پی ٹی آئی کو حاصل ہونے سے مسلم لیگ (ن) کی اس حلقے میں 2013ء والی ساڑھے آٹھ ہزار کی لیڈ اڑھائی ہزار کی لیڈ پر آئی ہے۔ فرید پراچہ کی اس دلیل کو درست مانا جائے تو عام انتخابات میں بھی سردار ایاز صادق کو پڑنے والے سارے ووٹ جائز تھے۔ کیا فرید پراچہ صاحب اپنے حلیف عمران خاں صاحب کو بھی یہ باریک نکتہ سمجھا سکتے ہیں۔ سردار ایاز صادق نے تو عمران خاں کے دھاندلیوں والے الزامات کی سزا جائز طریقے سے منتخب ہونے کے باوجود دوبارہ انتخاب میں جا کر بھگت لی ہے کہ انہیں خود بھی بے پناہ سرمایہ لگانا پڑا مگر اس سے پوری مسلم لیگ (ن) کو یہ فائدہ ضرور حاصل ہو گیا کہ اس کی حکومت کے سر سے دھاندلیوں کی پیداوار والا لگایا گیا لیبل ہٹ گیا ہے۔

اب آتے ہیں حلقہ این اے 144اور این اے 122کے ووٹروں کے پارٹی قیادتوں کو سکھائے گئے سبق کی جانب۔ مگر یہ توقع کرنا عبث ہے کہ پارٹی قیادتیں اس سبق سے کوئی سبق حاصل کریں گی کیونکہ ان کی آمرانہ سوچ انہیں اس سبق کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دے گی۔ حلقہ این اے 144کی نشست مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد عارف کی گریجویشن کی ڈگری جعلی ثابت ہونے کی بنیاد پر خالی ہوئی تھی۔ اس کے ضمنی انتخاب میں ریاض الحق جج نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی مگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اس زعم میں کہ پارٹی قیادت کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے کی بھلا کسی میں مجال ہو سکتی ہے، چودھری عارف کے بیٹے کو امیدوار نامزد کر دیا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے بھی اسی زعم میں کہ ان کا فیصلہ ہی حرف آخر ہے، پیپلز پارٹی سے سِرک کر پی ٹی آئی کی جانب آنے والے اشرف سوہنا کو امیدوار نامزد کر دیا چنانچہ اس حلقہ میں دونوں پارٹیوں کے ووٹروں نے اپنی اپنی قیادتوں کو ان کے من مانے فیصلوں پر سبق سکھایا اور د ونوں پارٹیوں کی انتخابی زورا زوری، شورا شوری کے باوجود آزاد امیدوار کو اتنا بھاری مینڈیٹ عطا کر دیا کہ اس انتخاب میں محض آٹھ ہزار ووٹ لینے والے پی ٹی آئی کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہو گی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے بھی آزاد امیداوار نے پچاس فیصد زائد ووٹ حاصل کئے۔ آپ اسے ووٹروں کا اپنی پارٹی قیادتوں سے انتقام بھی سمجھ سکتے ہیں جبکہ ووٹروں نے اس حلقہ میں اپنے اجتماعی شعور کا اظہار کر کے یہ سبق بھی سکھا دیا ہے کہ وہ ’’سٹیٹس کو‘‘ والے نظام میں تبدیلی لانے کی سکت رکھتے ہیں۔ یقیناً حلقہ این اے 122 کے ووٹروں نے بھی اپنے خاموش ردعمل کے ذریعے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتوں کو سبق سکھائے ہیں۔ تحریک انصاف کے ووٹروں نے بھی علیم خان کو امیدوار بنانے کے غلط فیصلہ پر اپنی پارٹی قیادت کو پولنگ کے دوران گھروں سے باہر نہ نکل کر سبق سکھایا جبکہ اس حلقہ کے ووٹروں نے اپنے اجتماعی شعور کا مظاہرہ بھی اپنے اس خاموش ردعمل کے ذریعے ہی کیا ہے جو دونوں پارٹیوں کی منافقتوں اور دولت کی ریل پیل کر کے عام آدمی کے لئے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی راہیں مسدود کرنے کی سوچ سے نالاں تھے۔ چنانچہ انہوں نے پولنگ والے دن گھروں میں بیٹھ کر پارٹی قیادتوں کی عام آدمی کے ساتھ جھوٹی ہمدردیوں کو ٹھکرا دیا۔ اگر پارٹی قیادتیں اور منتخب ارکان انتخابی عمل گزرنے کے بعد ووٹروںسے قطع تعلق کئے رکھیں گی اور منتخب فورموں پر ان کے حقوق کی بات تک نہیں کریں گی تو ووٹروں میں اب اتنا شعور ضرور آگیا ہے کہ وہ اپنے نمائندوں اور پارٹی لیڈروں سے ان کی رعونتوں کا پولنگ والے دن گھروں میں بیٹھ کر خاموش انتقام لیں۔ حلقہ این اے 122 کا محض 43فیصد ٹرن آؤٹ اس کا بین ثبوت ہے۔ پولنگ سے پہلے عمران خان اپنے پارٹی عہدے داروں کے ساتھ اس حلقے کے ہر گھر کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وفاقی و صوبائی وزراء کے بعد خود وزیراعظم نواز شریف اس حلقہ میں آکر بیٹھ گئے مگر عوام نے ان سے جھوٹی ہمدردی والی ان دونوں پارٹیوں کی منافقتوں پر ماضی جیسی سادہ دلی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ان سے انتقام لینے کی ٹھانی اور گھروں میں بیٹھ کر اپنے خاموش ردعمل کا اظہار کر دیا۔

اور پھر ان ضمنی انتخابات میں سب سے بڑا سبق تو چاروں صوبوں کی زنجیر پیپلزپارٹی کی بے نظیر قیادتوں کے لئے ہے جس کے نظریاتی جیالے کارکن زرداری قیادت کے ہاتھوں اس پارٹی کے نظریے، سیاسی سوچ اور اصولوں کی تباہی ہوتے دیکھ کر اب اتنے زچ ہو چکے ہیں کہ سیاست سے یکسر لاتعلق ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ لاہور کے حلقہ این اے 122 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار بیرسٹر عامر حسن کو پڑنے والے صرف آٹھ سو ووٹ اس پارٹی کی قیادت کو شرم نام کی کسی چیز کی جانب متوجہ تو کر رہے ہوں گے مگر انہوں نے تو شرم کو مفاہمت کا نام دے چھوڑا ہے جس کے سہارے پانچ سال کا اقتدار تو پورا ہو گیا مگر آئندہ کے لئے اس پارٹی کے اقتدار ہی نہیں ، انتخابی عمل میں آنے کے راستے بھی بند کر دئیے گئے ہیں۔ اوکاڑہ میں تو ہمیشہ بھٹو کے نعرے گونجا کرتے تھے۔ آج وہاں پیپلز پارٹی کو اپنا امیدوار بھی دستیاب نہیں ہوا تو کسی شرم و حیا والا کوئی سبق تو اب اس پارٹی کی قیادت کو حاصل ہو جانا چاہئے۔ کہاں کھمبے کو بھی ٹکٹ دے کر اسے جتوانے کا طرۂ امتیاز اس پارٹی کو حاصل تھا اور اب کہاں یہ بے بسی کہ اس پارٹی کو یونین کونسل تک کے امیدوار دستیاب نہیں ہو رہے۔ اور پھر ان ضمنی انتخابات کے ذریعے جمہوریت کے لئے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ ایک دوسرے کی ہار جیت خوشدلی سے قبول اور برداشت کرو گے تو جمہوریت کی گاڑی کو بار بار پٹڑی سے اتارنے والی مکروہ روایت سے بھی نجات پا لو گے۔ کیا اب توقع باندھی جائے کہ جماعتوں کے اندر بھی اب تطہیر کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہو جائے تو سسٹم کی تبدیلی کے لئے یہی انقلاب ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com