سلطانی ٔ جمہور کی تحقیر بذریعہ دھن دھونس
Oct 06, 2015

لاہور کا حلقہ این اے 122وہ حلقہ ہے جو 70ء کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر اٹھنے والی عوامی انقلاب کی لہر میں اس مثال کا عملی نمونہ بنا تھا کہ بھٹو کھمبے کو بھی ٹکٹ دے دیں گے تو وہ جیت جائے گا۔ 70ء کے انتخابات میں جن کے شفاف ہونے کے بارے میں آج تک کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ بھٹو نے بزرجمہر سیاستدانوں کے بڑے برج الٹا دئیے تھے۔ لاہور کا موجودہ حلقہ این اے 122کبھی حلقہ این اے 85 اورپھر حلقہ این اے 98ہوا کرتا تھا جہاں سے شیخ رشید کے بعد میاں آصف، میاں عثمان اور پھر میاں منیر منتخب ہوئے جبکہ اس سے پہلے یہ حلقہ کچھ اور ہوتا تھا۔ بھٹو نے 70ء کے انتخابات میں جہاں مغربی پاکستان کے تخت کے دوسرے پائے ہلائے وہیں انہوں نے لاہور میں بھی کلین سویپ کیا۔ موجودہ حلقہ این اے 122میں اس وقت عام آدمی کی آواز بنے ہوئے شیخ محمد رشید نے جو بعدازاں بابائے سوشلزم کہلائے اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ بھی اس فلسفہ کے لئے لڑتے رہے، پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کے بڑے لیڈر اور جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد کو شکست دی۔ اسی طرح 77ء کے متنازعہ انتخابات میں بھی یہ نشست شیخ رشید کے پاس رہی جو کھمبے کو ووٹ دے کر جتوانے کی زندہ مثال تھی۔ مگر اس کے بعد انتخابی سیاست کی قدریں ایسی بدلیں کہ کھمبے کو ووٹ دے کر جتوانے کا تصور کہیں فضائوں میں ہی تحلیل ہو گیا۔ آج حلقہ این اے 122کے ضمنی انتخاب کی شورا شوری میں پیسے کی سیاست کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آ رہا۔ عمران خاں جو تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعرے کو اوڑھنا بچھونا بنا کر عوام کا مقدر سنوارنے کے چکمے دے رہے ہیں، اپنی عوامی مقبولیت کے زور پر بھی کسی عام آدمی کو انتخابی میدان میں اتارنے کا رسک لینے کو تیار نہیں۔ حلقہ این اے 122کا ضمنی انتخاب موجودہ اسمبلی کی باقی ماندہ میعاد تک ہی کے لئے جو زیادہ سے زیادہ مزید اڑھائی سال کی رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق کے جیتنے کی صورت میں تو چلوہ وہ اپنی اسمبلی کی نشست سے دو اڑھائی ماہ کی محرومی کے بعد دوبارہ اسی نشست پر آ جائیں گے اور کم و بیش پانچ سال پورے کر لیں گے مگر پی ٹی آئی کے علیم خاں اس نشست پر جیتتے ہیں تو وہ بمشکل اڑھائی سال ہی نمائندگی کی ذمہ داری نبھا پائیں گے اور خدا لگتی کہئے، اس ضمنی انتخاب کی مہم میں وہ عملاً کروڑوں کے حساب سے جو سرمایہ لگا رہے ہیں، وہ اڑھائی سال میں اس حلقہ کے پسے پسماندہ عام ووٹروں کے معیار زندگی کی بہتری کے لئے سوچیں گے یا انتخابی مہم میں دائو پر لگائے گئے اپنے کروڑوں روپے بمع اس سے دوگنا یا اتنے ہی منافع کے، واپس لانے کا جتن کریں گے؟ اور پھر دولت کی ریل پیل والی موجودہ انتخابی فضا میں پیپلز پارٹی کے شریف النفس امیدوار بیرسٹر عامر حسین حکمران مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی پیسے کی دوڑ کا مقابلہ نہیں کر پا رہے جو پیسے کے اس بے دریغ استعمال پر الیکشن کمشن کو متوجہ بھی کر چکے ہیں تو کوئی بے وسیلہ عام انسان سلطانی جمہور کے مفہوم کو اجاگر کرنے کے لئے پیسے کی ریل پیل والے اس انتخابی عمل میں آنے کا بھلا تصور بھی کر سکتا ہے؟ عمران خاں تو پیسے کی اس سیاست کی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو یہ جواب دے کر خود وکالت کر رہے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی والوں کو نہیں پتہ کہ انتخابی مہم میں کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں ’’یہ آپ ہیں تو آپ کے قربان جائیے‘‘۔ اگر آپ نے پیسے کے ساتھ ہی پیسے کی سیاست کا مقابلہ کرنا ہے تو معاف کیجئے آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ کو اتنی عوامی مقبولیت ہرگز حاصل نہیں جس میں کھمبے کو بھی پارٹی ٹکٹ دے کر جتوایا جا سکتا ہو۔ تو پھر آپ کس تبدیلی اور کس نئے پاکستان کی بات کر رہے ہیں۔ آپ نے چن کر اس امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جو لینڈ مافیا میں ہر ناجائز ذریعے سے دولت اکٹھی کرنے کی شہرت رکھتے ہیں اور اس ناطے سے آپ کی پارٹی میں بھی متنازعہ ترین ہیں۔ جب آپ دھن، دھونس، دھاندلی والے انتخابی سیاسی کلچر کا ہی خود کو حصہ بنا چکے ہیں تو پھر تبدیلی کے خوش نما نعروں سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ عوام کے مقدر تو ویسے ہی پھوٹے ہوئے ہیں کہ ان کے سامنے انتخابات میں اپنے طبقے میں سے آنے والے کسی امیدوار کو ووٹ دینے کی چوائس ہی نہیں رکھی جاتی۔ انہیں بہرصورت پیسے کی ریل پیل والے امیدواروں میں سے ہی کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو ان کے مقدر مزید بگاڑ کر اپنے مقدر مزید سنوارنے کے جتن میں لگے رہتے ہیں اور مقدر سنوارنے کے اس عمل میں وہ اپنی پارٹی قیادت کا مقدر بھی سنوار دیتے ہیں۔ اسی لئے تو سیاسی قیادتوں نے ’’الیکٹ ایبل‘‘ کی مکروہ اصطلاح ایجاد اور استعمال کرکے انتخابات کو عام آدمی کے لئے شجرِ ممنوعہ بنا دیا ہے، عام آدمی کے لئے تو پہلے انتخابی سیاست میں دھماچوکڑی مچانے والی سیاسی جماعتوں نے ٹکٹ کا حصول ہی کٹھن مرحلہ بنا دیا ہے جہاں پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواست دیتے وقت بلدیاتی سطح پر ہزاروں اور صوبائی و قومی سطح پر لاکھوں روپے پارٹی فنڈ میں جمع کرانا ہوتے ہیں اور اس میں اولین شرط ناقابل واپسی کی رکھی گئی ہے۔ یعنی پارٹی ٹکٹ ملے یا نہ ملے، اس کی جمع کرائی گئی رقم بحق پارٹی ضبط۔ آج پیپلز پارٹی کی انحطاط پذیر عوامی مقبولیت اس نچلی سطح تک آ گئی ہے کہ اسے امیدوار کھڑے کرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے اس کے باوجود پارٹی ٹکٹ کے اجرا کے لئے امیدواروں سے پارٹی فنڈ میں ہزاروں لاکھوں روپے وصول کرنا ابھی تک اس پارٹی نے بھی اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے۔ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کے لئے حکمران مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کو تو عملاً ہزاروں درخواستیں پارٹی فنڈ کے ساتھ موصول ہوئیں جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی ہزاروں نہیں تو سینکڑوں درخواستیں ہزاروں لاکھوں کے فنڈ کے ساتھ ضرور وصول کی ہوں گی، ان امیدواروں میں ایسے کتنے امیدوار سامنے آئے ہوں گے جو عوام کی حقیقی نمائندگی کے مستحق قرار پا سکیں۔ جبکہ عوام کی حقیقی نمائندگی کے مستحق اور اہل امیدوار تو پاکستان میں ہزاروں لاکھوں روپے جمع کرانے کی سکت نہ رکھنے کے باعث انتخابی عمل کے پہلے ہی مرحلے میں آئوٹ ہو جاتے ہیں پھر ہم دعوے سلطانی ٔجمہور کے کرتے ہیں ؎ غالب کو برا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے۔ جہاں انقلاب اور تبدیلی کے ڈھکوسلوں میں دھن، دھونس، دھاندلی والے انتخابی کلچر کو ہی اوڑھنا بچھونا بنایا جا رہا ہو تو بھاڑ میں جاتے مقہور عوام کو اپنی بہتری کے لئے کس سے توقع وابستہ ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے حلقہ این اے 122کی جاری انتخابی مہم کا جائزہ لیں تو حکمران مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ہاتھوں سلطانی ٔ جمہور تار تار ہوتی نظر آتی ہے۔ الیکشن کمشن نے قومی و صوبائی انتخابات کے لئے اخراجات کی جو حد متعین کی ہوئی ہے اس سے زیادہ تو آج یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب پر خرچ ہو جاتا ہے۔ پھر ایسے قوانین، ضوابط اور اصولوں کا کیا فائدہ جو بروئے کار ہی نہ لائے جا سکیں۔آج الیکشن کمشن حد سے زیادہ اخراجات پر بالخصوص پی ٹی آئی کے امیدوار کی پکڑ کرے تو دنیا جہان کا کوئی ایسا الزام نہیں ہو گا جو عمران خاں کی زبانی الیکشن کمشن پر نہیں تھوپا جائے گا۔ تو کیا آئین و قانون کی حکمرانی کو قبر میں دفنا کر اس پر فاتحہ پڑھ لی جائے۔ پیسے کی ریل پیل اور دھونس والی سیاست کی قیادت کرنے والے عمران خاں اس ملک کے بے حال عوام کو ذرا آگاہ تو فرما دیں کہ وہ کس تبدیلی کے ساتھ کون سا نیا پاکستان انہیں دینا چاہتے ہیں۔ ان کے تبدیل شدہ نئے پاکستان والے جلوے تو آج علیم خاں اور اسلم اقبال کی ’’تونگری‘‘ کے نظاروں کے ساتھ ٹھاٹھیں مارتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر آج وہ بھی اس پوزیشن میں ہوتے کہ علیم خاں کی جگہ کسی کھمبے کو ووٹ دے کر جتوا لیتے تو عوام کو ان کے 63سال کے بوڑھے وجود میں سے بھی تبدیل شدہ نئے پاکستان کی جھلک نظر آ جاتی مگر اقتدار کے لئے جلدی کی چغلی کھاتا ان کا وجود تو دھن دولت اور دھونس کی بیساکھیوں کا سہارا لئے کھڑا ہے، جبکہ عوام کو اپنی نمائندگی اور اپنے نمائندوں کے ذریعے دکھوں کے مداوا کے لئے فی الواقع اپنی صفوں میں سے آنے والے ایسے مخلص لوگوں کی ضرورت ہے جو دھن دولت سے نہیں، اپنے پروگرام، منشور اور کسی قسم کی مفاہمت سے عاری اپنے اصولوں کی بنیاد پر عوام کے دل جیتنے کی پوزیشن میں ہوں۔ جب انتخابی میدان میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہو جائے گی تو وہی مرحلہ تبدیلی اور نئے پاکستان کا ہو گا۔ اس کے سوا سب ریاکاری اور سب ڈھونگ ہے اور حلقہ این اے 122آج اس کا شاہکار بنا نظر آتا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com