وزیراعظم کی تقریر۔ زبان نہیں ’’سواد‘‘ دیکھیں
Oct 02, 2015

رات کو وزیراعظم میاں نواز شریف کے یو این جنرل اسمبلی میں قومی جذبات اور امنگوں کی بھرپور وکالت کرنے والے ’’توپے توڑ‘‘ خطاب کی لذت لیتے سویا اور صبح اٹھتے ہی قومی زبان تحریک کے صدر ڈاکٹر شریف نظامی کے رات کے پچھلے پہر کئے گئے ایس ایم ایس پر نظر پڑی تو جسم میں ہلکی سی جھرجھری ضرور پیدا ہوئی مگر لذتِ تقریر اپنی جگہ برقرار رہی۔ ڈاکٹر شریف نظامی کے ایس ایم ایس میں ان کی تلملاہٹ حاوی نظر آ رہی تھی کہ وزیراعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی میں انگریزی زبان میں تقریر کرکے پوری قوم کو مایوس کیا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ 6جولائی 2015ء کو جاری کئے گئے اپنے حکمنامہ کی بھی خلاف ورزی کی ہے جو سپریم کورٹ میں خود ان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ ایک ایس ایم ایس قومی زبان تحریک کی نائب صدر فاطمہ قمر کا بھی نظر آیا جس میں وزیراعظم کی انگریزی تقریر پر ان کا لب و لہجہ تو ان کی طبیعت کے برعکس غم و غصہ والا نہیں تھا مگر وہ پورے یقین اور اطمینان کے ساتھ پیغام دے رہی تھیں کہ اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے آج بزبان انگریزی آخری تقریر کی ہے اور آئندہ وہ ہر فورم پر اردو میں خطاب کریں گے۔ شائد وزیراعظم نے امریکہ روانگی کے وقت ان کے کان میں یہ بات کہہ دی ہو گی کہ اس دفعہ مجھے معاف کیجئے، آئندہ میں اردو میں ہی خطاب کیا کروں گا۔

ڈاکٹر شریف نظامی سے میری دیرینہ نیازمندی ہے اور میں ان کی شرافت و متانت کا قائل ہوں۔ انہوں نے اہل زبان کی جانب سے پنجابی ڈھگے کے طعنے سننے کے باوجود عرصہ دراز سے اردو زبان کی ترویج و ترقی کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے اور اتنی طویل جدوجہد کے باوجود وہ ایس ایم ایس انگریزی رسم الخط میں لکھنے ’’اور سینڈ‘‘ کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ البتہ فاطمہ قمر صاحبہ نے اردو زبان میں اتنی ترقی ضرور کر لی ہے کہ ان کا ہر ایس ایم ایس اردو رسم الخط میں ہوتا ہے۔ بے شک آئین کی دفعہ 251کی شق ایک کے تحت اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے اور سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بنچ نے اس آئینی دفعہ کی روشنی میں ہی حکومت کو اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے کے اقدامات اٹھانے کی ہدائت کی ہے جس میںصدر، وزیراعظم اور دوسرے زعما سمیت سب پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ملکی اور غیر ملکی فورم پر صرف اردو زبان میں تقریر کریں گے۔ یقیناً یہ ہدائت نامہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے پیش کردہ 6جولائی 2015ء کے حکمنامہ کی بنیاد پر ہی جاری کیا ہے ورنہ آئین کی دفعہ 251 بذاتِ خود ایسی سخت پابندی کا تقاضہ نہیں کرتی۔ اس طرح وزیراعظم نے اپنے ہی حکمنامہ کی ضرور خلاف ورزی کی ہے مگر قومی جذبات کی بھرپور عکاسی کرنے والی ان کی جذباتی اور مدلل تقریر کے بعد تو سوائے قومی زبان تحریک کے متذکرہ عہدیداروں کے، کسی کے دل میں اس خیال نے چٹکی نہیں لی کہ وزیراعظم نے تو انگریزی میں تقریر کرکے آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کی صریحاً خلاف ورزی کر دی۔ میں نے آج صبح سارے اخبار کھنگال لئے مگرکسی ایک میں بھی مجھے وزیراعظم کی اس ’’گستاخی‘‘ کی جانب قوم کی توجہ مبذول کرانے والی خبر نظر نہیں آئی۔ ان کی تقریر میں سرشاری اور قومی جذبات کی عکاسی ہی اتنی وزن دار تھی کہ کسی کو زبان پر ان کی گرفت کرنے کا خیال ہی نہیں آیا جبکہ ان کی اس تقریر پر پورا بھارتی میڈیا دھاڑیں مارتا، چیختا، چنگھاڑتا نظر آتا ہے۔ گویا تقریر جس بھی زبان میں ہوئی، حق بحقدار رسید والا معاملہ ضرور ہو گیا ہے۔ جسے جو پیغام ملنا چاہئے تھا، وہ اس تک من و عن پہنچ ضرور گیا ہے اور یہی اصل چیز ہے کہ جس کے لئے جو بات کہی جا رہی ہے وہ اس کی سمجھ میں آ جائے۔ یہی ابلاغ کا کمال ہوتا ہے۔ یہ کس زبان میں ہو رہا ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ جب انگریزی زبان سے نابلد افراد قائداعظم کی انگریزی زبان میں کی جانے والی تقریر کی تاثیر اپنے دل میں اترتی محسوس کرتے تھے تو اس کا اظہار یہ کہہ کر کرتے تھے کہ اس نے جو بھی کہا ہے درست کہا ہے۔ تو یہی وہ ابلاغ ہے جو دل کی بات کو زبان پر آئے بغیر بھی حق بحقدار رسید بنا دیتا ہے اور پھر بھلا محبت اور خوشبو کی کوئی زبان ہوتی ہے؟ اور خاموشی کی بھی تو ایک زبان ہے ناں۔ ’’کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے‘‘ اسے باڈی لینگوئج کہتے ہیں جس کے ذریعے جس کو جو سمجھانا مقصود ہوتا ہے، بخوبی سمجھا دیا جاتا ہے۔ اب میں ’’باڈی لینگوئج‘‘ کا مفہوم بیان کرنے لگوں تو ویسی ہی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جیسے اردو زبان کے لئے فیصلہ صادر کرنے کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ کی اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران ہوئی تھی۔ ایک شرارتی صحافی نے ان کی توجہ مبذول کرائی کہ مقتدرہ قومی زبان نے انگریزی لفظ ’’گول کیپر‘‘ کا اردو میں ’’فلاں‘‘ ترجمہ کیا ہے۔ جج صاحب یہ ترجمہ سن کر بھرپور قہقہہ لگاتے ہوئے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ میں وہ ترجمہ ان سطور میں قلمبند کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ کہیں فحاشی پھیلانے کے الزام میں نہ دھر لیا جائوں مگر سوشل میڈیا پر وہ ترجمہ جج صاحب کی قہقہہ بار تصویر کے ساتھ ضرور چلا ہے۔ ’’باڈی لینگوئج‘‘ کے اردو ترجمے کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ بن سکتا ہے جبکہ لفظ ’’باڈی لینگوئج‘‘ استعمال کر کے خاموشی کی زبان کا بخوبی ادراک کرا دیا جاتا ہے۔

بھئی زبانیں تو سب ذات باری تعالیٰ کی ودیعت کردہ ہیں۔ احساسات کی بھی زبان ہے۔ کیا اسے کسی رسم الخط اور لہجے کی ضرورت ہے؟ خوشبو کس رسم الخط میں دیسی بدیسی ہر دل میں گھر کرتی ہے اور محبت بولنے سے زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ اگر ذات باری تعالیٰ کو یہ مقصود ہوتا کہ انسانوں کے درمیان ابلاغ صرف فلاں زبان میں ہونا ہے تو قدرت کے کارخانے میں ایسا ہی ہو جاتا مگر قدرت ابلاغ کو کسی ایک زبان میں قید کرنے کی متقاضی نہیں تو ہم نظام قدرت کے پابند ناچیز انسان ابلاغ اور محسوسات کو کسی ایک زبان میں قید کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ جس کو جو کہنا مقصود ہے وہ اس کی روح کے مطابق اس تک پہنچا دیا جائے چاہے اس کیلئے باڈی لینگوئج استعمال کی جائے یا کسی لب و لہجے سے کام لیا جائے۔ بے شک چین و عرب کے حکمران کسی بھی ملکی یا غیرملکی فورم پر اپنی زبان میں بات کرتے ہیں مگر ان پر آئین یا قانون کے تحت ایسی کوئی پابندی نہیں کہ وہ اپنی زبان کے سوا کسی اور زبان میں بات نہیں کریں گے۔ اسی طرح ہمارے حکمرانوں اور دوسرے نمائندگان پر بھی ایسی کوئی آئینی اور قانونی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ وہ بے شک کسی بھی ملکی یا غیر ملکی فورم پر اردو میں بات کریں اور میں تو آئین کی دفعہ 251 کی شق 3 کی بنیاد پر یہ خواہش بھی رکھوں گا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے کے ناطے وزیراعظم یا دوسرے زعما اقوام متحدہ میں پنجابی میں تقریر کریں کہ اس کا حق بحقدار رسید والا تاثر زیادہ اجاگر ہوتا ہے، کوئی پنجابی کسی کے ساتھ گتھم گتھا ہوتے وقت جب تک اسے پنجابی زبان میں بھرپور گالی نہ دے لے اس کی تشفی نہیں ہوتی۔ دو اہل زبان آپس میں لڑتے ہوئے نستعلیق زبان میں ملاحیاں لیتے ہوئے ایک دوسرے کو صلواتیں سنا رہے تھے۔ ایک پنجابی نے یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا اور وہ ان اہل زبان حضرات سے مخاطب ہوا ’’اوئے تسیں لڑ رہے او یا اک دُوجے دیاں پپیاں لے رہے او‘‘۔ اسی طرح وزیراعظم نواز شریف جس فورم پر جس کو جو پیغام دینا چاہتے تھے بے شک انہوں نے انگریزی زبان میں بات کی مگر خدا لگتی کہئے کہ حق بحقدار رسید ہوا ہے یا نہیں اور پھر آپ ان متعصب لوگوں کی زبان کو قومی سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کرانا چاہتے ہیں جو خود اس زبان کو ایک صوبے اور اپنے علاقے تک محدود کرنے کے درپے ہیں۔ پھر میں کیوں نہ اپنی پنجابی زبان کی وکالت کروں جس کی وسعت و گہرائی تک اہل زبان پہنچ ہی نہیں سکتے جبکہ آئین کی دفعہ 251 کی شق 3 مجھے اس کا حق بھی دیتی ہے۔ اور پھر ہماری مذہبی زبان تو عربی ہے۔ آپ اردو زبان کی قانونی پابندی کی بنیاد پر کیا تقاضہ کر سکتے ہیں کہ حفاظ کرام قرآن مجید عربی کی بجائے اردو میں حفظ کریں، نماز بھی اردو میں پڑھائی اور پڑھی جائے اور ہر فورم پر اور تعلیمی درسگاہوں میں قرآن مجید کی تلاوت بھی اردو میں کی جائے۔ اس لئے آپ ایک محدود زبان میں قوم کو محدود کرنے کی ضد چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔جہاں جس زبان میں بہتر طریقے سے ابلاغ ہو سکتا ہے‘ وہاں وہ زبان بولنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ قومی زبان تحریک والے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں آئین کی دفعہ 251 کے نفاذ کے متقاضی ہیں تو اس کی شق 3 کے نفاذ کی بات بھی کریں اور اہل زبان کا یہ تعصب پیش نظر رکھیں کہ وہ تو پنجابی ہونے کے ناطے علامہ اقبال کو قومی شاعر بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اقبال نے تو زیادہ شاعری فارسی زبان میں کی ہے، کیا اردو زبان کی قانونی پابندی اقبال کی فارسی شاعری کو بھی دیس نکالا دلا دے گی؟ اگر وزیراعظم کی تقریر کا قوم کو ’’سواد‘‘ آ گیا ہے تو جناب تسلیم کر لیجئے کہ ایسا ’’سواد‘‘ کسی مخصوص زبان کا متقاضی نہیں ہوتا۔ آپ آم کی مٹھاس کا سواد لیں، اس کی گٹھلیاں گننے نہ بیٹھ جائیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com