کرب و سوگ میں گزرے عید کے تین دن
Sep 29, 2015

اب کے عید قرباں میں جانوروں کے ساتھ انسانوں کی قربانی بھی بارگاہِ ایزدی میں جا پہنچی ہے۔ منیٰ میں حجاج کرام کی عبادت گزاری اور فریضۂ حج کی ادائیگی کے آخری مرحلہ میں شیطان رجیم کو کنکریاں مارتے بھگدڑ پیدا ہوئی تو فرزندانِ توحید کے 25,20 لاکھ کے اجتماعِ عظیم میں سے ایک ہزار کے لگ بھگ حجاج کرام کی بھی قربانی ہو گئی جو میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ اس سانحہ نے عید قرباں کو سوگوار کر دیا اور عید کے تینوں روز سوگ کی کیفیت میں ہی گزرے۔ عید کے تیسرے روز ہمارے بزرگ محترم پیر سید کبیر علی شاہ نے خیابانِ چورہ شریف میں مدعو کر لیا۔ اہلیہ کے ہمراہ وہاں گیا تو عجیب سوگ کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا۔ پیر صاحب کی روحانی محفلوں کا تو میں پہلے ہی قائل تھا مگر اس معاشرے کے ٹھکرائے، راندۂ درگاہ ضعیف العمر افراد (خواتین و حضرات) کے لئے دردمندی اور ان کی مقدور بھر کفالت کا اہتمام بھی پیر سید کبیر علی شاہ کی ذات کے ساتھ منسوب ہو گیا ہے۔ ان کی شخصیت کا یہ کرشماتی پہلو آستانۂ چورہ شریف میں منعقدہ تقریب میں ہی مجھ پر آشکار ہوا جس میں انہوں نے ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ کے 55,50بزرگوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ یہ اولڈ ایج ہوم چودھری پرویز الٰہی نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں تعمیر کرایا تھا جس میں آنے والے بے سہارا بزرگوں کی کفالت کی ذمہ داری پیر سید کبیر علی شاہ اور ان کے مریدین نے لی ہوئی ہے اور یہ ذمہ داری اتنی خوش اسلوبی سے ادا کی جا رہی ہے کہ اپنے والدین کو دھتکار کر اولڈ ایج ہوم میں پھینک جانے والے ان کے ناخلف بچوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔ تقریب میں شریک بزرگوں کی اپنی اپنی داستانِ غم تھی۔ کچھ بزرگ اپنی داستان سناتے ہوئے بھی حجاب محسوس کرتے نظر آئے۔ ایک بزرگ نے جو اچھی خاصی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں، اپنی ویران آنکھوں کے ساتھ خلائوں میں گھورتے ہوئے خود پر ہی تاسف کا اظہار کیا ’’ہاں ہم والدین کی بھی کچھ غلطیاں ہیں کہ ہم والدین اور بزرگوں کے احترام کے جذبے کو اجاگر کرنے والی اپنے بچوں کی تربیت ہی نہیں کرتے‘‘ ارے جس والدہ کے قدموں میں جنت کی بشارت دے کر ربِ کائنات نے اس کی عظمت کی گواہی دے رکھی ہے۔ اس کے ناخلف بچے کس جگرے کے ساتھ اس کی ضعیف العمری کو اس کے لئے عذاب بنا دیتے ہیں اور دھتکار کر اولڈ ایج ہوم کے دروازے کے باہر چھوڑ آتے ہیں۔ شائد ایسے لوگوں میں انسانیت کی رمق ہی موجود نہیں ہوتی۔ اولڈ ایج ہوم کے ان بزرگوں میں سے ہر ایک کے چہرے پر غم و کرب کی الگ داستان رقم تھی جو پیر کبیر علی شاہ صاحب جیسی اہل درد شخصیات سے تو مخفی نہیں رہتیں مگر یہ داستانیں ان کی اولادوں کے چہروں پر پڑنے والی پھٹکار کو بھی نمایاں کرتی نظر آتی ہیں۔ ان بزرگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ ان کی اولادوں میں سے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر اور بیوروکریٹ بھی شامل ہیں۔ کئیوں نے محض زمینیں اور جائیداد ہتھیانے کے لئے اپنے بزرگ والدین سے متعلقہ دستاویزات پر زبردستی دستخط کرائے اور پھر جان سے مروا دینے کی دھمکیاں دے کر انہیں اولڈ ایج ہوم کے دروازے کے باہر چھوڑ آئے۔

بے شک ہمارے معاشرے کے یہ سارے محترم بزرگ اولڈ ایج ہوم میں کھانے، پینے اور رہائش کی سہولت کے ساتھ اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن آرام سے گزار رہے ہیں جن کے علاج معالجہ کا بھی معقول بندوبست ہے مگر اپنی اولادوں کے ہاتھوں دھتکارے جانے کی خلش تو ان کے دل میں ہمہ وقت رہتی ہے۔ کیسے سفاک ہیں وہ لوگ جو اپنے ان والدین کی ضعیف العمری کا بوجھ بھی نہیں سہار پاتے جن کے پائوں پر پائوں رکھ کر اور انگلی تھام کر انہوں نے اس دھرتی پر قدم رکھنا سیکھے اور جن کی شبانہ روز کی محنت و مشقت انہیں دنیاوی مقام مرتبہ اور بلند مناصب تک لے گئی۔ مگر جب انہیں اپنی اولاد کی خدمت گزاری کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس بھٹکی ہوئی اولاد نے انہیں دھتکار دیا اور ان کی کیا شفقت پدری و مادری ہے کہ اس کیفیت میں بھی وہ اپنے ناخلف بچوں کیلئے بھی دعاگو رہتے ہیں اور ان کے توڑے گئے مظالم برداشت کر کے بھی وہ اف تک نہیں کرتے۔ مجھے تو یہ سارے بزرگ اللہ کی برگزیدہ ہسیتاں نظر آئیں اور کتنے بدنصیب ہیں ان کے بچے جو دنیاوی شان و شوکت کی خاطر ریاکاری سے کام لے کر ان بزرگوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ پیر صاحب نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ ان بے سہارا بزرگوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی ناخلف اولادوں کی ’’کونسلنگ‘‘ کا بھی اہتمام ہونا چاہئے تاکہ کسی نہ کسی مرحلے پر انہیں اپنے بزرگوں کو دھتکارنے والی سفاک غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ دوزخ کے انگارے اوڑھنے سے بچ جائیں۔

بزرگوں کی کفالت سے متعلق پیر سید کبیر علی شاہ کے سلسلۂ جاریہ کی برکت سے حالات سدھرنے کی بھی توقع کی جا سکتی ہے مگر حکمرانوں کی بھی تو کچھ ذمہ داریاں ہیں جنہوں نے ملک کے شہریوں کی جان مال، عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے اپنے آئینی فریضہ سے بھی ہاتھ کھینچ رکھے ہیں اور شرف انسانیت سے عاری معاشرے کی بنیاد پختہ کرنے میں وہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔ سانحۂ منیٰ اور اس سے دو ہفتے قبل حرم شریف میں کرین کے سانحہ میں شہید اور زخمی ہونے والے پاکستانی عازمین حج کے ساتھ ہمارے حکمرانوں کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا گیا اس میں حکمرانوں کا کردار اس ناخلف اولاد جیسا ہی نظر آتا ہے جو اپنے ضعیف العمر والدین کا اپنے کندھوں سے بوجھ اتار کر انہیں اولڈ ہومز میں پھینک جاتی ہے اور پھر ان کی خبر بھی نہیں لیتی۔ کرین کے سانحہ میں پاکستان کے درجن بھر عازمین حج شہید اور بیسیوں زخمی ہوئے مگر ہمارے وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بلاتحقیق یہ اعلان کر دیا کہ اس سانحہ میں کوئی پاکستانی عازم حج شہید نہیں ہوا۔ کچھ ایسی ہی سفاکانہ بے نیازی کا مظاہرہ منیٰ کے سانحہ کے موقع پر بھی کیا گیا جس کے بارے میں برطانوی اخبار ’’گارڈین‘‘ تو اپنی تحقیقاتی سٹوری کے ذریعے دنیا بھر کو آگاہ کر چکا ہے کہ اس سانحہ میں سب سے زیادہ پاکستانی حجاج کرام کی شہادتیں ہوئی ہیں جو 236 ہیں مگر ہمارے حکام نے بس اس خبر کی تردید کرنا ہی اپنا فرض اولین سمجھا اور اصل صورت حال کیا ہے، اس کی چھان بین کرنا ابھی تک انہوں نے اپنی ذمہ داریوں میں شامل نہیں کیا۔ اب تصدیق ہوتے ہوتے ہمارے شہدا کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی ہے اور اس سانحہ کے بعد لاپتہ ہونے والے تین سو پاکستانی حجاج کرام میں سے سرکاری ذرائع کے مطابق 85 حجاج کرام کے بارے میں ابھی تک کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا۔ اگر کل کو شہید ہونے والے ہمارے حجاج کرام کی تعداد ’’گارڈین‘‘ کی بتائی گئی تعداد کے قریب جا پہنچتی ہے تو اس کی تردیدکرنے والے ہمارے حکام کو بھی بھگدڑ کی نذر کر دیا جانا چاہئے۔ پاکستانی عازمین حج کے لئے قیام وطعام اور دیکھ بھال کے انتہائی ناقص انتظامات کی جو داستانیں اب ملک واپس لوٹنے والے حجاج کرام سنا رہے ہیں اس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہماری وزارتِ مذہبی امور اور حج افسران کی گزشتہ دور سے چلی آ رہی ٹیڑھی کل ابھی تک سیدھی نہیں ہوئی۔ خدا ہمارے حال پر رحم کرے مگر کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہم پر رحم کھایا جائے؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com