ہماری قربانیاں اور نادانیاں
Sep 25, 2015

سعودی عرب کے 74سالہ بزرگ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ مسجدِ نمرہ میں رندھے ہوئے لہجے اور گلوگیر آواز میں اپنی زندگی کا 35واں خطبہ حج دے رہے تھے تو ان کے ادا ہونے والے الفاظ کی گہرائی میرے ذہن کے بند دریچوں کو کھولتی اتھاہ گہرائیوں تک جاتی نظر آئی۔ ان کے گزشتہ چار پانچ سالوں میں دئیے گئے خطبہ حج کے الفاظ میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ وہ جس دردمندی کے ساتھ اتحاد امت کا تقاضہ کرتے ہیں، مسلم حکمرانوں کو فلاحِ امت کی تلقین کرتے ہیں اور اپنے ذہن میں بسائے ہوئے دین اسلام کے کسی اور ہی تصور اور فلسفہ کے تحت مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے اور دہشت گردی کی شکل میں زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنے والے عناصر کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ صادر کرتے ہیں، اگر امتِ مسلمہ اور بالخصوص ان کے مخاطب افراد و طبقات ان کے دردمندی میں ڈوبے ارشادات کو پلے باندھ رہے ہوں تو انہیں اپنے ہر خطبہ حج میں مسلمانوں کی درماندگی کا رونا رونے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ شیخ عبدالعزیز آل شیخ اگرچہ 1999ء میں مفتی اعظم سعودی عرب کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے تاہم مسجد نمرہ میں خطبہ حج کا آغاز انہوں نے 1981ء میں کیا اور گزشتہ 35برس سے وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اور وفورِ جذبات سے لبریز ہو کر یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خطبہ دیتے ہوئے ان کی آواز رندھ جاتی ہے اور مسلم امہ کی درماندگی و بے چارگی پر تفکرات کی سلوٹیں ان کے چہرے پر نمایاں ہو جاتی ہیں۔ مسلم امہ بالخصوص حرم شریف میں جمع عازمین حج کے دل خطبہ حج میں ان کے وعظ و تلقین پر وقتی طور پر پسیجتے ہیں مگر پھر وہی بے ڈھنگی چال شروع ہو جاتی ہے گویا ؎ مرد ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر۔

مفتی اعظم سعودی عرب ہر سال مسلم حکمرانوں کو اپنی اپنی رعایا کی اقتصادی مشکلات دور کرنے اور انہیں آسودہ و خوشحال بنانے کی تلقین کرتے ہیں مگر بیشتر مسلم ممالک کے حکمرانوں کے ہاتھوں ہی امتِ واحدہ کا عرصہ حیات تنگ ہے۔ مفتیٔ اعظم فلاحِ امت کے لئے مسلم ریاستوں میں موجود تیل، گیس اور قیمتی دھاتوں پر مشتمل قدرتی وسائل بروئے کار لانے کا درس دیتے ہیں مگر ان ریاستوں کے حکمران یہ سارے وسائل اپنے دستِ قدرت میں رکھ لیتے ہیں، من مانیوں اور اقربا پروریوں کی انتہا کر دیتے ہیں۔ عرب ریاستوں کی صورتحال تو قدرے مختلف ہے مگر ہمارے ملک اور معاشرے کا تو ایسا ہی چلن ہے جس میں سلطان (جمہوری یا آمر حکمران) شہنشاہ معظم اور جمہور امت کے ہاتھوں راندۂ درگار ہے۔ مفتی اعظم تو محمدؐ عربی کے آفاقی اور لازوال دین اسلام کا خاصہ رواداری، بھائی چارے، صلہ رحمی اور اتحاد و اخوت کو اجاگر کرتے ہیں اور اس بنیاد پر امتِ واحدہ کو اقوام عالم پر فوقیت دیتے ہیں مگر ہم ریاکار بظاہر دیندار لوگ فرقہ واریت اور فروعی اختلافات والے اس بگڑے چلن کا ہی دامن تھامے رکھتے ہیں جو اقوام عالم میں ہماری سبکیوں، ہزیمتوں اور کوتاہ اندیشیوں کی داستانیں رقم کرکے ہمیں ’’مقہور‘‘ کے مقام رزالت پر فائز کرتا نظر آتا ہے۔ مفتی اعظم تو اسلامی ریاستوں اور امتِ مسلمہ کی زندگیوں کے درپے جنونی انسانوں کو ان کے مجہول فلسفہ کی بنیاد پر خوارج میں شامل کرکے مسلم امہ کو ان سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر یہ خوارج مجہول فلسفہ ہی کو اپنا اعزاز بنا کر فخریہ انداز میں اپنے کلمہ گو بھائیوں کے گلے کاٹتے اور اپنے ان سوقیانہ افعال پر دینِ اسلام کی کامرانی کے لیبل لگا کر طمانیت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ مفتی اعظم نے گزشتہ روز بھی اپنے خطبہ حج میں باور کرایا کہ اللہ سبحان تعالیٰ نے ہر قسم کا ظلم حرام قرار دیا ہے مگر حکمرانوں ہی نہیں، اپنے تئیں ہر برتر انسان کی جانب سے وہ کون سا ظلم ہے جو کمتر انسانوں پر روا نہیں رکھا جاتا اور پھر عیاریوں کے شاہکار ہمارے معاشرے کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ آج ہم جانوروں کی قربانی سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے نہیں، اپنے ’’سٹیٹس سمبل‘‘ کو بڑھانے اور معاشرے میں خود کو متمول ظاہر کرنے کے لئے کر رہے ہیں چنانچہ قربانی کا فلسفہ بھی قربانی کے گوشت کے ساتھ ہمارے ریفریجریٹروں اور ڈی فریزروں میں رکھا جم جاتا ہے۔ ہمارے آس پڑوس بے وسیلہ انسان غموں کی چادر اوڑھے ہوتے ہیں۔ بھوک سے بلکتے اپنی معاشی پسماندگی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں اور سال میں ایک بار قربانی کے گوشت کی لگائی امید بھی حسرتوں کے انبار میں پھینکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں مگر ’’میں میں‘‘ کرتی ہماری نمود و نمائش ہمارے اڑوس پڑوس کے ان بے بس طبقات کی خبر ہی نہیں لینے دیتی اور پھر بھوکے ننگے عوام پر مہنگائی کے عفریت کے منہ کھولنا بھی تو ان پر وہی ظلم ہے جسے ذاتِ باری تعالیٰ نے حرام قرار دیا۔ یہ حرام کی کمائی تو ہمارے دکاندار اور صنعتکار و تاجر ہی نہیں، حکمران طبقات بھی خوب کما رہے ہیں۔ ہماری ان ریاکاریوں سے بڑا ظلم کوئی اور ہو سکتا ہے؟ مفتی اعظم سعودی عرب تو ہر سال خطبہ حج میں ہمیں یہ ریاکاریاں ترک کرنے اور اخوت و بھائی چارہ کے امین دین اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا اسیر بننے کا راستہ دکھاتے ہیں مگر ہم بھٹکے انسان راہِ راست پر آنے کے قائل ہی نہیں۔ پھر ہماری حج، زکوٰۃ، قربانی کی بارگاہِ اقدس میں کیا اوقات ہے جہاں قربانی کا گوشت نہیں، انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ آج مفتی اعظم سعودی عرب کے گزشتہ روز کے خطبہ حج کا ان کے گزشتہ سال کے خطبہ حج کے ساتھ موازنہ کر رہا ہوں اور گزشتہ سال سے اب تک کے امتِ واحدہ کے اعمال و افعال کا جائزہ لے رہا ہوں تو الفاظ کی ادائیگی کے لئے اپنی کم مائیگی کا اسیر ہو کر رہ گیا ہوں۔ بس ہمارے اعمال و افعال ہیں کہ کھلی کھلی قیامت کی نشانیاں ہیں۔ پھر قیامت کی منزل ہم سے بھلا کتنی دور رہ گئی ہے۔ کاش آج ہم اپنی خواہشات کی قربانی دینے کے بھی اہل ہو جائیں ورنہ اک قیامت جو ہے، سو ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com