شاہ سلمان کے عہد کا سوگوار سعودی قومی دن
Sep 23, 2015

دو سال پہلے مجھے برادر مسلم ملک سعودی عرب کے 81ویںقومی دن کی سعودی سفارتخانہ میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کا شرف حاصل ہوا تھا جس کے لئے میڈیا سیل کی انچارج ریحانہ خاں کا اصرار شامل حال رہا۔ گزشتہ برس سعودی قومی دن کی تقریب میں دعوت نامہ موصول ہونے کے باوجود شریک نہ ہو سکا۔ آج 23ستمبر کو سعودی عرب کے 83ویں قومی دن کی تقریب کے لئے سعودی سفارتخانہ کی جانب سے کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔ میں نے ریحانہ خاں سے استفسار کیا تو پتہ چلا کہ حرم شریف میں عازمین حج کے ساتھ پیش آنے والے کرین کے سانحہ کے باعث اس بار سعودی عرب کا قومی دن سادگی سے منایا جا رہا ہے۔ اس لئے سعودی سفارتخانے نے بھی قومی دن کی تقریب میں روائتی جشن والا اہتمام نہیں کیا۔

سعودی عرب میں پہلے بھی عازمین حج کو کئی افسوسناک ناگہانی سانحات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں 1990ءسے اب تک کے سانحات کی جو تفصیلات ہمارے پاس موجود ہیں اس کے مطابق سب سے زیادہ عازمین حج 1990ءمیں شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کے دوران سرنگ میں بھگدڑ کی وجہ سے شہید ہوئے تھے جن کی تعداد 1426ہے۔ پھر 2004ءمیں بھی منیٰ میں بھگدڑ پیدا ہونے سے 244حجاج کرام شہید ہوئے اور اسی طرح 2006ءمیں 360حجاج کرام شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے بھگدڑ میں شہید ہوئے۔اس کے علاوہ 270حجاج کرام 1994ءمیں منیٰ میں عبادت کے دوران بھگدڑ سے شہید ہوئے جبکہ 340عازمین حج کو 1997ءمیں منیٰ میں خیمہ بستی میں آگ لگنے سے شہادت کا درجہ حاصل ہوا اور 180عازمین حج کو 1998ءمیں منیٰ میں ہی بھگدڑ کے دوران شہادت نصیب ہوئی۔ 2001ءمیں بھی 35حجاج کرام منیٰ میں بھگدڑ سے شہید ہوئے تھے اور 2006ءمیں بھگدڑ کے علاوہ 73عازمین حج ایک آٹھ منزلہ عمارت گرنے سے بھی شہید ہوئے تھے۔ اس بار دو ہفتے قبل عازمین حج کو نماز مغرب کے بعد گرد آلود شدید طوفان اور گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی عرب میں ایسے موسم سے غیر معمولی خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں ہمارے جیسے خطہ میں ہونے والی تیز اور لگاتار بارشوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی عرب میں ایسی بارش کی سالہا سال بعد نوبت آتی ہے۔ حسن اتفاق سے ایسے موسم میں سعودی باشندوں کی بدحواسیوں کا دو سال قبل میں نے خود بھی مشاہدہ کیا ہوا ہے۔ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب میں موجود تھا اور جب مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کی جانب ہمارا واپسی کا سفر شروع ہوا تو بارش کے تیز تھپیڑوں نے مدینہ منورہ میں ہی ہمیں گھیر لیا۔بارش کا یہ سلسلہ مکہ مکرمہ تک کے پورے سفر کے دوران جاری رہا۔راستے میں جگہ جگہ یہ بات ہمارے مشاہدے میں آتی رہی کہ ڈھلوان کی جانب تیز رفتاری سے بڑھتے ہوئے سیلابی پانی کے ریلے کو دیکھ کر سعودی باشندے بدحواسی میں اپنی چلتی گاڑیوں سے چھلانگیں لگا کر کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ مکہ مکرمہ میں تو ایسی بدحواسیوں کے مناظر جابجا نظر آئے جہاں ہمیں سیلابی پانی کے اترنے کے انتظار میں مسلسل پانچ گھنٹے بس میں ہی گزارنے پڑے۔ اس سارے عرصے کے دوران آپا دھاپی اورافراتفری کا ماحول بنا نظر آیا۔ یقیناً اس طوفانی بارش میں جانی اور مالی نقصانات بھی ہوئے ہوں گے مگر میڈیا کو کانوں کان اس کی خبر نہ ہونے دی گئی۔ مقصد اس کا یہی ہو گا کہ تباہ کاریوں کی خبریں میڈیا پر آنے سے مزید افراتفری پیدا نہ ہو مگر حرم شریف میں کرین گرنے سے ہونے والے دو ہفتے قبل کے سانحہ نے تو کل کائنات کو لرزا کر رکھ دیا جس کی تشہیر پوری دنیا میں پلک جھپکنے میں اس لئے بھی ہو گئی کہ حرم شریف سے طواف کعبہ کی لائیو کوریج کا سلسلہ پہلے ہی چل رہا تھا اور اسی کے دوران یہ سانحہ رونما ہوا تو اسی وقت پوری دنیا کی نگاہوں کے سامنے آ گیا۔ اگرچہ اس سانحہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 120سے زیادہ نہیں مگر سعودی حکومت کی جانب سے اس سانحہ کا جس انداز میں سوگ منایا گیا اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا اس کی مثال اس سے پیشتر ہونے والے سانحات کے حوالے سے کہیں نظر نہیں آتی۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز خود ہسپتالوں میں جا کر زخمیوں کی عیادت کرتے رہے اور پھر اس سانحہ میں شہید اور زخمی ہونے والے عازمین حج کے خاندانوں کی کفالت کے لئے جتنی خطیر رقم کی امداد کا اعلان کیا گیا اس کی مثال تو اس پورے کرہ ارض میں کہیں موجود ہی نہیں ہے۔ خود سعودی عرب میں اس سے پہلے کے سانحات کے حوالے سے متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کا تذکرہ کہیں پڑھنے کو نہیں ملا جبکہ فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران حرمین الشریفین میں کسی عازم حج کی شہادت تو ویسے ہی خدا کی ودیعت کردہ بہت بڑی سعادت سمجھی جاتی ہے اس لئے اس سعادت کے ساتھ سعودی حکومت سے مالی امداد کے تقاضے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شائد ہماری وزارت مذہبی امور نے بھی ایسے سانحات کی ماضی کی روایات کے پیش نظر کرین سانحہ میں پاکستانی عازمین حج کے حوالے سے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور اپنی ابتدائی رپورٹ میں یہ اعلان کر دیا کہ اس سانحہ میں کوئی پاکستانی عازم حج شہید نہیں ہوا اور جو زخمی ہوئے ہیں ان میں سے بھی بیشتر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔

عازمین حج کے ساتھ ہماری وزارت مذہبی امور کی ”کرمفرمائیاں“ تو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں جس میں احساسِ زیاں کو حج کی سعادت کے غلاف میں لپیٹ دیا جاتا رہا ہے۔ اب کی بار بھی وزارت مذہبی امور اور خود وزیر موصوف سردار یوسف نے بھی شاہکار روائتی غفلت کو ہی اجاگر کیا۔ اب سعودی حکومت کی جانب سے کرین کے سانحہ میں شہید اور معذور ہونے والوں کے لئے دس لاکھ ریال فی کس اور زخمیوں کے لئے پانچ لاکھ ریال فی کس امداد کا اعلان کیا گیا ہے تو ہماری وزارت مذہبی امور کفِ افسوس مل رہی ہو گی کہ اس نے اس سانحہ میں پاکستانی عازمین حج کی شہادتوں کی پردہ پوشی کیوں کی۔ دس لاکھ ریال فی کس کی امداد پاکستان کے دو کروڑ 78لاکھ روپے اور اسی طرح پانچ لاکھ ریال کی امداد پاکستان کے ایک کروڑ 39لاکھ روپے کی امداد بنتی ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اس امداد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس سانحہ میں شہید ہونے والے ہر عازم حج کے خاندان کے دو افراد کو آئندہ سال سرکاری خرچ پر حج کرانے کا اعلان بھی کر دیا۔ سعودی خزانے سے اس ساری امداد و رعائت پر پاکستان کے لگ بھگ تین کھرب روپے کی لاگت آئے گی مگر اس اقدام سے سعودی حکومت نے پوری دنیا میں جو نیک نامی کمائی ہے آج سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر یہ اس کے لئے طرہ¿ امتیاز بن گئی ہے اور پھر کرین گرنے کے سانحہ پر شاہی خاندان سے قریب ترین تعلقداری رکھنے والی بن لادن کمپنی کے خلاف جتنا سخت ایکشن لیا گیا وہ کسی بے ضابطگی کی ریاستی پکڑ کی نادر مثال ہے۔ کیا ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبوں میں کھربوں ہڑپ کرکے ڈکار نہ مارنے والی کسی کمپنی کے خلاف ایسے ایکشن کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ تو جناب! سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے عہد اقتدار میں فلاح و امداد انسانیت کے لئے اٹھائے جانے والے بے مثال اقدامات ہی کو مشعل راہ بنا کر اپنی بگاڑی جانے والی سمتوں کو درست کرنے کا کچھ اہتمام کر لیجئے۔ ہم نے یمن کی جنگ میں سعودی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کی روش تو بطور فیشن اختیار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینے والے سعودی احسانات بھی طوطا چشم بن کر فراموش کر دئیے گئے مگر ہمارے حکمرانوں میں غیرت ملی کی کوئی رمق موجود ہے تو آج سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر اس کے ساتھ اسلامی اخوت و بھائی چارے کا اظہار کسی عملی اقدام کی شکل میں ہی کر دیں۔ ہماری منافقتیں تو دنیا بھر میں ضرب المثل بن چکی ہیں۔ کم از کم برادر سعودی عرب کے ساتھ تو اخلاص کا مظاہرہ کر دیجئے۔ اسلامیان پاکستان تو ویسے ہی حرمین الشریفین اور گنبدِ خضریٰ کے تقدس کے تحفظ کے لئے کٹ مرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ حکمرانوں کی عقل کے ناخن کہاں غائب ہو جاتے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com