چین کا جشن فتح بمقابلہ بھارتی گولڈن جوبلی
Sep 05, 2015

”ایسے کو تیسا“ کے مفہوم سے شائد ہمارے منصوبہ ساز آشنا نہیں ہوں گے مگر ہمارے بھروسے والے دوست چین کو اس ضرب المثال کے مفہوم کی تہہ تک آگاہی ہے اس لئے بھارت نے ستمبر 65ء کی جنگ کی گولڈن جوبلی تقریبات کا اعلان کیا تو برادر چین نے دوسری جنگ عظیم کے 70 سال مکمل ہونے پر اس جنگ میں جاپان پر حاصل کی گئی اپنی فتح کا جشن منانے کا اعلان کر دیا اور یہ اعلان محض رسمی جشن والا نہیں بلکہ اس موقع پر ایک شاندار اور جاندار فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا جس میں خطے کے دوسرے ممالک کی قیادتوں اور فوجی دستوں کو بھی مدعو کیا گیا۔ گزشتہ روز اس تقریب میں پاکستان کے صدر مملکت ممنون حسین بھی موجود تھے اور پاکستان کے ایک فوجی دستہ نے بھی پریڈ میں حصہ لیا جبکہ چین کے 200 لڑاکا طیاروں کے فلائی پاسٹ نے تقریب کے شرکاءکے دل موہ لئے اور چین کی حربی استعداد کی دھاک بٹھا دی۔ اس تقریب میں ٹینکوں اور میزائلوں کی بھی نمائش کی گئی تو اس کا مقصد محض نمائش نہیں، ان اقوام کو ٹھوس پیغام دینا بھی تھا جو چین کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی بدنیتی رکھتی ہیں اور پھر چین کے صدر شی چن پنگ نے پاکستان کے صدر مملکت سے ملاقات کے دوران عزم و ایقان سے لبریز یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اس کی قومی سلامتی کے تحفظ میں ہر ممکن تعاون کریں گے تو ”ایسے کو تیسا“ والا یہ پیغام اسی بھارت کے لئے تھا جو آج اپنی جنگی جنونیت اور حربی استعداد سے بدمست ہو کر ستمبر 65ء کی جنگ میں پاکستان کی جری و بہادر افواج اور مشاق فضائیہ کے ہاتھوں اٹھائی گئی اپنی ہزیمتوں پر اپنی فتح کا ٹائٹل لگانے کی منصوبہ بندی کے تحت جنگ ستمبر کی گولڈن جوبلی تقریبات منا رہا ہے۔ 

اصولی طور پر تو بھارت کی اس بدمست منصوبہ بندی کا ہمیں چین والے جذبے کے ساتھ اسے جواب دینا چاہئے مگر ہمارے منصوبہ ساز تو جنگ ستمبر کے حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر موجود دستاویزات اور آڈیوز کی چھان پھٹک سے ہی باہر نہیں نکل سکے۔ ہمیں تقویت پیش کی ہے تو اس بے لوث دوست چین نے جو ستمبر 65ء کی جنگ میں بھی ہمارا ہمقدم تھا اور وادی کشمیر پر بھارت کے گرم کئے گئے محاذ پر عملاً ہماری معاونت کو آ پہنچا تھا۔

نوائے وقت کی ستمبر 65ء کی فائل کی ورق گردانی کے دوران مختلف تاریخوں میں شائع ہونے والی کئی خبریں ستمبر 65ءکی جنگ میں بھارتی جارحیت کے خلاف چین کی پاکستان کو بھرپور معاونت کی گواہی دیتی نظر آئیں۔ چار ستمبر 1965ءکو چین نے بھارتی فوجوں سے برسر پیکار کشمیری مجاہدین کی باضابطہ حمائت کا اعلان کیا جو نوائے وقت کی 5 ستمبر 1965ء کی اشاعت میں نمایاں طور پر شائع ہوا اور اب بھی دیکھ لیجئے! بھارت پاکستان کی سلامتی پر حملہ آور ہونے کے رعونت بھرے اعلانات کر رہا ہے اور جنگ ستمبر کی گولڈن جوبلی منا کر ہمیں اور پوری دنیا کو اپنے عزائم کی خبر دے رہا ہے تو اس نازک گھڑی میں عملاً پاکستان کے ساتھ وفا کس نے نبھائی، امریکہ تو ہماری نازک پوزیشن کو بھانپ کر ہماری بجائے بھارت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالتا نظر آیا جس کی قومی سلامتی کی مشیر روزن رائس نے اسی نازک مرحلے میں پاکستان کا دورہ کر کے ہماری سول اور عسکری قیادتوں کے سامنے سارے وہی الزامات رکھ دئیے جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کو تھما چکے تھے۔ اور پھر جس لہجے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا جو تقاضہ نریندر مودی نے کیا من و عن اسی لہجے میں اور انہی الفاظ کے ساتھ وہی تقاضہ روزن رائس نے بھی کر ڈالا اور یہ احساس بھی نہ کیا کہ پاکستان تو خود دہشت گردوں کے نشانہ پر ہے اور یہ دہشت گرد بھی تربیت اور اسلحہ دے کر بھارت کی جانب سے بھجوائے گئے ہیں جو پاکستان پر باقاعدہ جنگ مسلط کرنے پر بھی تلا بیٹھا ہے ۔ اور تو اور افغان صدر اشرف غنی کو بھی اس نازک موقع پر بھارت کی زبان لگ گئی اور وہ بھی ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے تقاضے کرنے لگے جنہیں خود کابل حکومت نے اپنی سر زمین پر پناہ دے کر انہیں پاکستان کی سلامتی پر کھلم کھلا حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کر رکھا ہے۔ برادر مسلم ممالک میں سے اور کس نے بھارتی جارحیت کے اعلانات پر پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کے لئے اس کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کیا ؟متحدہ عرب امارات کی جانب سے تو ویسے ہی ہمیں گرم ہوا کا تھپیڑا مل گیا جب نریندر مودی نے وہاں پہنچ کر یو اے ای کے امیر کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا اور یہ رعونت بھرا اعلان کیا کہ ”یہ پیغام کس کے لئے ہے، وہ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے،،۔ ارے توبہ، ایسی رعونتیں اور ایسی منافقتیں۔ مگر اس موقع پر بھی صرف برادر چین نے ہی اعلانیہ ہمارا ہاتھ تھاما اور صدر پاکستان سے ملاقات کرتے ہوئے دنیا کو باور کرا دیا کہ ہم پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اس کی قومی سلامتی کا تحفظ و دفاع کریں گے۔ یہ ہوتی ہے پرخلوص، بے لوث اور پائیدار دوستی جس پر کسی سرد گرم کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔

اور پھر جاپان کے ساتھ تو اب چین کی کوئی چپقلش نہیں، نہ جاپان سے چین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے۔ پھر اگر چین نے 70 سال قبل کی دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر حاصل کی گئی اپنی فتح کے ڈنکے، فوجی پریڈ کی عظیم الشان تقریب منعقد کرکے بجائے ہیں تو چین کا یہ پیغام بھی جاپان سے زیادہ ہمارے دشمن بھارت کے لئے ہے اور یہ پیغام ”ایسے کو تیسا“ والے جذبے پر ہی مبنی ہے۔ بھارت نے کنٹرول لائن پر شہری آبادیوں پر لگاتار فائرنگ اور گولہ باری کر کے اپنی بدمستی کا مظاہرہ کیا اور پھر جنگ ستمبر کی گولڈن جوبلی منا کر اپنی جنگی استعداد کا ڈراوا دینے کی کوشش کی تو ساتھ ہی چین کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کا پیغام آ گیا اور پھر چین کے لڑاکا طیاروں کے مظاہرے اور جدید اسلحہ کی نمائش۔ جاپان کا تو اس معاملے سے اب کوئی لینا دینا نہیں۔ چین کی حربی استعداد کا یہ مظاہرہ بھی یقیناً جنونی بھارت کا نشہ ہرن کرنے کے لئے ہی تھا اور ہمیں پوری امید ہے کہ یہ ٹھوس پیغام لالہ جی کے دماغ کی گہرائیوں تک پہنچ کر اپنا اثر چھوڑ چکا ہو گا اور بھارت پاکستان پر اپنے جنونی عزائم کی تکمیل کی خاطر اب جنگ مسلط کرنے کا سوچے گا تو بس سوچتا ہی رہ جائے گا۔ مگر کیا ہم سوچنے سمجھنے سے بھی عاری ہو چکے ہیں؟ شائد ہماری خارجہ پالیسیاں کہیںگھاس چرنے چلی گئی ہیں کہ بھارت عالمی برادری میں للکارے مارتا نظر آتا ہے اور ہم سر نیہوڑائے اس کے لئے امن کا پیغام دئیے چلے جا رہے ہیں۔ بھئی، امن کی تالی ایک ہاتھ سے بجاﺅ گے تو کیا پاﺅ گے سو ایسی پالیسی بناﺅ کہ دنیا اس جنونی بھارت کو امن کی راہ پر آنے پر مجبور کر دے۔ چین کا خلوص تو بے شک ہمارے شامل حال رہے گا۔ مگر اپنے ”ڈنڈ“ نہیں دکھاﺅ گے تو مکار بھارت کی سازشوں کا مقابلہ کیسے کر پاﺅ گے۔ سو ”ایسے کو تیسا“ والی حکمت عملی اپناﺅ اور اس کے لئے اپنی جنگ ستمبر والی کامرانیوں کے ڈنکے بجاﺅ، پھر جارحیت، پر اترا ہمارا مکار دشمن بس دیکھتا ہی رہ جائے گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com