’’جنگ ستمبر، قوم کا اتحاد، نوائے وقت کا جہاد‘‘
Sep 01, 2015

ستمبر 1965ء کی نوائے وقت کی فائل کی ورق گردانی کر رہا تھا تو یکم ستمبر کو شائع ہونے والی خبروں سے ہی مجھے بخوبی اندازہ ہو گیا کہ بھارت تو 31اگست 1965ء کو ہی آزاد کشمیر پر حملہ آور ہو چکا تھا اور اس پہلے ہی دن درہ حاجی پیر میں آزاد کشمیر کی افواج نے گھمسان کے رن میں بزدل بھارتیوں کے دانت کھٹے کر دئیے تھے۔ بھارت کو اپنی اس پہلی ہی واردات میں اپنے فوجیوں کا اتنا جانی نقصان اٹھانا پڑا کہ بھارتی ہیلی کاپٹر دن بھر لاشیں اٹھا کر لے جاتے رہے۔ اگلے روز آزاد کشمیر کی فوجوں نے پاکستانی افواج کی کمک طلب کی اور دونوں نے مل کر بزدل بھارتیوں کے چھکے چھڑائے، جموں میں چھمب اور دیواکی سیکٹر پر بھارتی چوکیوں پر قبضہ کیا اور چار بھارتی طیارے مار گرائے۔ یکم ستمبر کو ایوب خان نے اپنے پیغام میں دنیا کو باور کرا دیا کہ بزدل بھارت نے ہماری سلامتی اور خودداری کو چیلنج کیا ہے جس کا اسے جواب دیا جائے گا۔ پانچ ستمبر تک بھارتی افواج آزاد کشمیر کے محاذ پر آزاد کشمیر اور پاکستان کی مسلح افواج کے ہاتھوں ہزیمتیں اٹھاتی رہیں اور پھر 6 ستمبر کی صبح بزدل بھارت نے لاہور کی جانب سے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان کی بہادر افواج پہلے ہی دفاع وطن کے لئے تیار تھیں چنانچہ اس پہلے حملے میں ہی بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد آ گیا اور پاک فضائیہ نے یکے بعد دیگرے دشمن کے 22جیٹ طیارے مار گرائے۔ جبکہ مسلح افواج کے جوابی حملے میں متعدد بھارتی توپوں، ٹینکوں اور گاڑیوں کو تباہ کرتے ہوئے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اس پہلے ہی دن آٹھ سو بھارتی گیڈروں کی لاشیں گریںاور اس کامیاب جوابی حملے کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی حملے سے آگاہ کیا اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج نے آج صبح سویرے لاہور کی جانب سے پاکستان کے علاقے پر حملہ کر دیا ہے۔ پاکستان اس بھارتی چیلنج کو قبول کرتا اور اس کے سامراجی عزائم ہمیشہ کے لئے ختم کر دئیے جائیں گے۔ ہم دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیں گے۔

نوائے وقت کی ستمبر 65ء کی فائل میں 18ستمبر تک کے صفحات جری و بہادر پاکستانی افواج کی کامرانیوں کی داستانوں سے بھرے نظر آتے ہیں۔ 17ستمبر تک پاکستان نے بھارت کے پانچ سو مربع میل علاقہ پر قبضہ کر لیا تھا چنانچہ اسی روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھانٹ نے پاکستان اور بھارت کو فوراً جنگ بند کر دینے کی اپیل کی جو اس کا بین ثبوت ہے کہ بھارت اپنی اس جارحیت میں پاکستان کی افواج اور قوم کے ہاتھوں عبرتناک شکست کھا چکا تھا اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری ہزیمتیں اٹھاتے جنگ کے خاتمہ کے لئے کسی سہارے کی تلاش میں تھے۔ تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی پورے ستمبر میں مختلف محاذوں پر بھارتی چالبازیوں کے باعث جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ آج بھارت کی مودی سرکار نہ جانے کس خیال میں پڑی ہے کہ 65ء کی جنگ میں پاکستان کی جری و بہادر افواج اور زندہ دل قوم سے کھائی گئی ذلت آمیز شکست کی گولڈن جوبلی منانے چل نکلی ہے۔ ہمارے کانوں میں تو آج بھی ’’ساتھیو، مجاہدو، جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘‘ کا زندہ جاوید ملی نغمہ رس گھولتا ہوا دشمن کے مقابلے میں قوم کے یکجہت و سرخرو ہونے کا پیغام دے رہا ہے۔

میں 65ء میں پانچویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ ذہن اتنا پختہ نہیں تھا کہ بھارت کی مسلط کی گئی جنگ کے پیچھے چھپی بزدل دشمن کی چالبازیوں کو سمجھ پاتا مگر ہم بچے، بڑے، بزرگ دشمن کی مسلط کردہ اس جنگ کو فیسٹیول کی طرح منا رہے تھے۔ اس وقت پاکپتن میں بجلی کی سہولت بھی خال خال ہی گھروں تک پہنچی تھی، شہر کی گلیوں بازاروں میں پاکپتن کمیٹی کی طرف سے رات کو گیس والے لیمپ جلا کر روشنی کا اہتمام کیا جاتا تھا اور رات کو لوگ بالعموم جلد سو جایا کرتے تھے۔ 6ستمبر کی صبح کمیٹی کا سائرن بجا اور لوگوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت گھروں کے صحنوں میں خندقیں کھودنے کے لئے کہا گیا۔ ساتھ ہی بعض حفاظتی تدابیر بھی بتا دی گئیں جن میں اولین تدبیر یہی تھی کہ جیسے ہی سائرن بجے ساری روشنیاں گل کرکے خندقوں میں آ جائیں اور جب اگلا سائرن بجے تو خندقوں سے باہر آئیں۔ ہمارے والد صاحب نے بھی گھر کے صحن میں خندق کھود لی جس میں ہم سب بچوں بڑوں نے مل کر حصہ لیا مگر بالعموم سائرن بجنے پر ہم گھر والوں میں سے کوئی بھی خندق میں نہیں جاتا تھا بلکہ دیے اور لیمپ بجھا کر ہم گھر کے صحن میں اکٹھے ہو جاتے، اکثر چھت پر چلے جاتے اور بھارتی جنگی جہاز کو دیکھ کر مردہ باد کے نعرے بھی لگاتے۔ کمیٹی کا سائرن بجنا درحقیقت کرفیو کا وقت شروع ہونے کا اعلان ہوتا تھا مگر سائرن بجنے پر ہمارے محلہ پیر کریاں کے لوگ کوئی خوف محسوس نہ کرتے ، حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے جوش و خروش کا اظہار کرتے نظر آتے اور ہم بچے تو اکثر سائرن بجنے پر گلیوں میں آ جاتے اور بزدل دشمن کو خالی ہاتھ ہی للکارنا شروع کر دیتے۔ یہ کیفیت پورے شہر میں ہر فرد کی بنی رہی اور کسی کو یہ فکر نہیں ہوتی تھی کہ دشمن کے جہاز کی شیلنگ سے کسی کا جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ قوم کے اسی جذبے نے پاک فوج کے جوانوں کے سینے پھلائے رکھے اور وہ جنگ کے ہر محاذ پر جرات و بہادری کی داستانیں رقم کرتے دشمن کی افواج کے چھکے چھڑاتے رہے۔ اس دور کی روائتی جنگ میں افواج کی حربی استعداد کے ساتھ ساتھ قوم کے جذبے اور دعائیں بھی شامل حال رہیں اور ریڈیو پاکستان نے اس وقت کے نامور گلوکاروں اور گلوکارائوں ملکہ ترنم نورجہاں، مہدی حسن، عنائت حسین بھٹی، مسعود رانا، شوکت علی، آئرن پروین، نسیم بیگم، مالا، فریدہ خانم سے بروقت حسبِ حال اور جوش و جذبے سے لبریز ملی نغمے تیار کرا کے محاذ جنگ پر فوجی جوانوں اور گھروں، گلیوں، بازاروں میں زندہ دلانِ وطن کے جذبات گرمانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سو ہم نے دشمن سے اعصاب کی جنگ بھی جیتی اور جنگی محاذوں پر بھی ’’سورمائوں‘‘ کی دھوتیاں اور پتلونیں گیلی کیں۔ آج مودی اس جنگ کے حوالے سے اپنی کامرانیوں کے ڈنکے 65ء کی جنگ کی گولڈن جوبلی تقریبات کی صورت میں بجانا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے سارے محاذ سنبھال کر دشمن کی اس گھنائونی سازش کا 65ء کے جذبے کی طرح مناسب، بروقت اور حسبِ حال توڑ کرنا چاہئے۔ مودی سرکار نے ستمبر کے آغاز سے پہلے سیالکوٹ کنٹرول لائن پر شہری آبادیوں پر بزدلانہ فائرنگ اور گولہ باری کرکے بیسیوں معصوم شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں تو یہ ہمارے لئے اس کی جانب سے ستمبر کے ’’جشنِ فتح‘‘ کا ہی پیغام تھا۔ ایوب خاں نے 6ستمبر کو حملہ آور دشمن کی فوجوں کو پسپا کرنے کے بعد قوم کو دشمن کے اس حملے سے آگاہ کیا تھا اور یہ چیلنج کرکے شاستری کی ’’سٹی‘‘ گم کی تھی کہ تمہیں پتہ ہی نہیں، تم نے کس بہادر قوم کو للکارا ہے۔ ارے آج شاطر، جنونی مودی للکارے مار رہا ہے اور ہم مذمتی دفاعی حکمت عملی اپنائے بیٹھے ہیں۔ قوم تو آج بھی اسی جذبے سے سرشار ہے اور جدید حربی صلاحیتوں سے لیس افواج پاکستان کا دفاع وطن کا جذبہ بھی جوان ہے اور دشمن کے مقابلے میں ہمارا ’’ایٹمی کلّہ‘‘ بھی مضبوط ہے تو کیوں نہ آج یکم ستمبر سے ہی دشمن کے جشنِ فتح کو خاک میں ملا دیا جائے، نوائے وقت آج بھی اپنے محاذ پر ڈٹا ہے اور 65ء کی جنگ میں دشمن سے چھینے گئے ٹینک پر چڑھے معمار نوائے وقت مجید نظامی کی روح بھی آج اس شاطر دشمن کو للکار رہی ہے تو آج کیوں نہ ملک کا ہر فرد، ہر طبقہ، ہر ادارہ اپنا اپنا محاذ سنبھال لے اور اس موذی دشمن کو 65ء کی جنگ میں کھائی گئی اس کی عبرتناک شکست کی ایسی یاد دلائے کہ اس کا جشنِ فتح کا نشہ اس کے آغاز سے پہلے ہی ہرن ہو جائے

’’ساتھیو، مجاہدو، جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘‘۔ تو بسم اللہ کیجئے جناب۔ تاریخ رقم کرنے کے یادگار لمحات قسمت سے ہی ملتے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com