خودکش بمبار مودی اور خورشید قصوری کا دھماکہ
Aug 29, 2015

نریندر مودی نے پاکستان دشمنی میں ہذیانی کیفیت کا شکار ہو کر دنیا میں فی الواقع ’’اَت‘‘ مچا رکھی ہے اور اب وہ ستمبر 1965ء کی پاکستان کے ہاتھوں دھول چاٹ کر ہاری ہوئی بھارتی جنگ کی گولڈن جوبلی تقریبات کا انعقاد کرکے دنیا کے سامنے اپنی اس شکست کو کامیابی کی شکل میں پیش کرنا چاہتے ہیں تو سفارتی محاذ پر ہمیں بھی مودی سرکار کی ان چالبازیوں کا منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔ اس بارے میں حکمران مسلم لیگ (ن) کی قیادت زبانی جمع خرچ سے ہٹ کر کوئی عملی پیش رفت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے یا نہیں مگر ہمارے دانشور دوست سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری نے اپنی ایک ضخیم کتاب "Neither A Hawk Nor A Dove"منظر عام پر لا کر بھارتی سازشوں کو سفارتی محاذ پر بے نقاب کرنے کا دھماکہ ضرور کر دیا ہے۔ برطانوی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور پینگوئن پبلشرز کے زیراہتمام شائع ہونے والی 851صفحات کی یہ کتاب اتنی بروقت اور برمحل ہے کہ اس کی بنیاد پر مودی سرکار کو سفارتی محاذ پر بھی 1965ء کی جنگ جیسی دھول چاٹنا پڑے گی۔ اس کتاب میں جہاں پاکستان کے خلاف بھارتی جارحانہ ’’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کے جواب میں پاکستان کی ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز‘‘ والی دفاعی حکمت عملی کو اجاگر کرکے بھارت کی شاطرانہ چالوں پر اسے ہزیمت اٹھاتے دکھایا گیا ہے وہیں پاکستان اور کشمیریوں کا کشمیر کیس بھی مضبوطی کے ساتھ پیش کرکے کشمیر کو ہڑپ کرنے کی مودی سرکار کی سازشوں کا توڑ کیا گیا ہے۔

میاں خورشید محمود قصوری جرنیلی آمر پرویز مشرف کی زیرسرپرستی تشکیل پانے والی 2002ء کی اسمبلی میں منتخب ہو کر آئے اور 2007ء تک وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہے۔ یہی وہ عرصہ ہے جس میں جہاں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا کردار نمایاں ہوا وہیں مشرف کے چار نکاتی یکطرفہ کشمیر فارمولہ کے باعث اقوام عالم میں مسئلہ کشمیر بھی ہائی لائٹ ہوا۔ ایک تاثر یہ ہے کہ اس فارمولا کی بنیاد پر مشرف کا بنیادی مقصد بھارت کو جامع مذاکرات کی راہ پر لا کر اس سے 1971ء کی جنگ میں چھینے گئے پاکستان کے علاقہ کارگل کو پاکستان میں واپس شامل کرانا تھا۔ جس کے لئے وہ بطور آرمی چیف مہم جوئی بھی کر چکے تھے۔ شائد منحوس منموہن سنگھ نے ان کی یہ نیت بھانپ لی ہو گی اس لئے وہ مشرف فارمولے کی بنیاد پر ناشتہ امرتسر، لنچ لاہور اور ڈنر کابل میں کرنے کی لالچی خواہش کے اظہار کے باوجود اس فارمولے پر بدک گئے اور بیک چینل ڈپلومیسی کو بریک لگا دی۔ میاں خورشید محمود قصوری کی یہ کتاب ابھی مارکیٹ میں نہیں آئی تاہم انہوں نے سب سے پہلے اپنے چیدہ چیدہ دوستوں کو یہ کتاب فراہم کرنا ضروری سمجھا جس کے لئے گزشتہ روز ان کی اقامت گاہ پر ’’پاکستان فورم‘‘ کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست میں جہاں ہمیں میاں صاحب کے ہاتھوں ان کی کتاب وصول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی وہیں اس نشست کے ذریعے پاکستان بھارت تنازعات، کشمیر ایشو اور مودی سرکار کے حالیہ جنگی جنون کے پس منظر کے حوالے سے بعض درپردہ حقائق سے بھی آگاہی ہو گئی۔ میاں خورشید محمود قصوری نے چار سال کے عرصہ میں اپنی یہ کتاب مکمل کی ہے اور احتیاط اتنی کی ہے کہ کسی بھی معاملہ میں محض سنی سنائی باتوں پر تکیہ نہیں کیا بلکہ ریسرچ کرکے اصل حقائق کا کھوج لگایا ہے اور پھر انہیں کتاب میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے قومی سلامتی مشیروں کی گزشتہ اتوار کی مجوزہ ملاقات تک پاکستان اور بھارت کے اب تک کے تعلقات و معاملات کا احاطہ کیا ہے۔ جب مودی جنونیت کے نتیجہ میں یہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوئے تو کتاب کے ناشر کی جانب سے کتاب کا مسودہ میاں خورشید محمود قصوری کو واپس بھجوا کر انہیں موقع دیا گیا کہ وہ قومی سلامتی مشیروں کے مذاکرات کی منسوخی کے معاملہ کو بھی اپنی کتاب کا حصہ بنا سکتے ہیں تاہم میاں صاحب نے ان ریمارکس کے ساتھ مسودہ اشاعت کے لئے واپس ناشر کو بھجوا دیا کہ مودی تو اپنی جنونیت کے باعث کل کو خودکش دھماکہ بھی کر سکتے ہیں اس لئے وہ اب کتاب میں مزید ردوبدل ضروری نہیں سمجھتے۔ سو ان کی جانب سے کتاب کی اشاعت کا بروقت دھماکہ کر دیا گیا ہے جس میں مشرف دور حکومت میں ان کے ذریعے بھارت کے ساتھ شروع کی گئی بیک چینل ڈپلومیسی، مشرف واجپائی آگرہ ملاقات اور پھر مشرف کے چار نکاتی کشمیر فارمولا سمیت پاک بھارت تنازعات کے حل کے معاملہ میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور ہر دور کی بھارتی ہٹ دھرمی کی ساری تفصیلات موجود ہیں اور میاں صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کشمیر کے تنازعہ میں کشمیری ہی اصل فریق ہیں جنہیں نظرانداز کرکے یا مذاکرات کے کسی عمل سے دور رکھ کر کشمیر کا کوئی قابل عمل، قابل قبول اور پائیدار حل نہیں نکالا جا سکتا۔ اس موقف کی تائید میں انہوں نے یو این قراردادوں کے علاوہ متعدد عالمی قیادتوں کی آراء کا بھی حوالہ دیا ہے جبکہ یہی معاملہ آج کل مودی سرکار کے گلے میں پھانس بن کر اٹکا ہوا جس کو جواز بنا کر سلامتی مشیروں کے مذاکرات کی بساط بھی الٹائی گئی اور نازک اندام بھارتی وزیر خارجہ شریمتی سشما سوراج نے کرخت لہجے میں پاکستان کو یہ باور کرانا بھی ضروری سمجھا کہ وہ کشمیر پر مذاکرات میں کشمیریوں کو فریق بنائے گا تو پھر اسے مذاکرات کے لئے ہمارے پاس آنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ میاں خورشید محمود قصوری اور بھارت کا حال ہی میں دورہ کرکے واپس آنے والے گزشتہ روز کی نشست کے شرکاء بھارت کے عوام میں مودی کے بارے میں قائم شدہ تاثر کا تذکرہ کرکے اس امر کو ضروری قرار دے رہے تھے کہ 65ء کی جنگ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ہمیں بھارتی جشن کی تیاریوں کو خاک میں ملانے کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے۔ اس جنگ کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت نے اپنی روائتی جنونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم پر جنگ مسلط کی تھی اور افواج پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ نے دفاع وطن کے تقاضے نبھاتے ہوئے دشمن کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اگر بھارت اب اس جنگ کی گولڈن جوبلی تقریبات منا کر دنیا کے سامنے اپنی ذلت آمیز شکست کو فتح میں بدلنا چاہتا ہے تو اب بھی بھارتی ’’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کا جواب ہماری جانب سے ’’ٹیکٹیکل نیو کلیئر ویپنز‘‘ والا ہی دیا جانا چاہئے۔ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت بھارت نے بتائے بغیر پاکستان پر کہیں سے بھی حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی جس کا جواب بھارتی چالبازوں کو ’’ٹیکٹیکل نیو کلیئر ویپنز‘‘ کی فعال حکمت عملی کی صورت میں دیا گیا تو بھارتی جنونیت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ اس پالیسی کے تحت بھارت کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان پر جہاں سے بھی جارحیت کا مرتکب ہو گا وہیں سے اس پر ایٹمی میزائلوں کی بارش کر دی جائے گا۔ بدہضمی کا شکار راجیو گاندھی کی ہوا بھی ضیاء الحق نے پاک بھارت کرکٹ میچ کے دوران اچانک بھارت جا کر ان کے کان میں ان الفاظ کا سیسہ اتار کر خارج کی تھی کہ ہم پر چڑھائی کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ ہمارے پاس ایٹم بم بھی موجود ہے۔ بے شک آج نواز شریف حکومت نے بھارتی چالبازیوں کے جواب میں کشمیر اور کشمیریوں پر ٹھوس اور مضبوط موقف اختیار کر لیا ہے مگر جب تک مودی جیسے بھارتی ’’Hawks‘‘ کو ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز‘‘ کا ڈراوا نہیں دیا جائے گا، ان کی ٹپکتی ہوئی رالوں کا مؤثر علاج نہیں ہو سکے گا۔ میرا مشورہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنے سابقہ ساتھی میاں خورشید محمود قصوری کی کتاب ’’نیدر اے ہاک نار اے ڈوو‘‘کا مطالعہ ضرور کر لیں اور اگر مناسب سمجھیں تو اپنی کشمیر پالیسی پر ان سے مشاورت بھی کر لیں مگر اس کے لئے وہ وقت کہاں سے نکالیں گے؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com