”سٹے“ پر سٹے ”غالب کو برا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے“
Aug 25, 2015

سب سے پہلے تو متحدہ رابطہ کمیٹی کے رکن فاروق ستار کے اس بیان دلپذیر کا تذکرہ جسے سن اور پڑھ کر میں اپنی ہنسی نہیں روک پایا تھا۔ کبھی ایک اشتہاری کمپنی کا ایک قومی بنک کے بارے میں تیار کیا گیا اشتہار ٹی وی پر چلا کرتا تھا جس کے آخر میں ایک معصوم بچہ پوپلی زبان میں کہتا ہے ”میلا بھی تو ہے“ ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی لاہور کے حلقہ این اے 122میں انتخابی ٹربیونل کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا انتخاب کالعدم قرار دینے اور اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کے صادر کردہ فیصلہ پر پوپلی زبان میں فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”اب ہمارے استعفے کون منظور کرے گا“۔ اس فقرے سے اگر ان کے آئین ہی نہیں، سیاست سے بھی نابلد ہونے کا شائبہ ملتا ہے تو اصولی طور پر اس پر رونا آنا چاہئے مگر میں اپنی ہنسی نہیں روک پایا کیونکہ ایسی مفاد پرستانہ سیاست تخریبی بندوبست میں گدگدی کا اہتمام بھی کر جاتی ہے۔ اگر ڈاکٹر فاروق ستار کو اتنے طویل عرصہ سے پارلیمانی سیاست میں شریک رہنے کے باوجود اس کا علم و ادراک نہیں کہ سپیکر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی سپیکر اس کے جملہ فرائض ادا کرتا ہے تو پھر آئیے ہم مل کر ایسی بے نیازانہ سیاست پر سر پیٹ لیتے ہیں جبکہ حضرت کے استعفوں کے معاملہ میں تو سپیکر کی جانب سے منظوری یا نامنظوری کا کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ انہوں نے آئین کی دفعہ 64شق ون کے تمام تقاضے پورے کرکے اپنے دستخطوں کے ساتھ اور سپیکر کے روبرو خود پیش ہو کر استعفے دئیے تو وہ اسی وقت اپنی قومی اسمبلی، سینٹ اور سندھ اسمبلی کی نشستیں گنوا بیٹھے تھے۔ بھئی اب وہ ممبر کہاں کے ہیں کہ سپیکر کا انتخاب کالعدم ہونے کے بعد وہ اپنے استعفوں کی منظوری یا عدم منظوری کا سوال اٹھائیں۔ اگر وہ اس سوال کو جائز سمجھتے ہیں تو آئیے ہم سب مل کر ان کے فہم و ادراک کی ایک بھرپور قہقہہ لگا کر داد دیں۔ ویسے اگر میں یہ حسن ظن رکھوں تو اس میں بھی کیا حرج ہے کہ ممکن ہے انہوں نے اس سوال پر اداکاری اپنا مستقبل روشن رکھنے کے لئے کی ہو۔ سٹیج پر پرفارم کرنے والا وہی اداکار اپنے فیلڈ میں مشاق سمجھا جاتا ہے جو ڈائیلاگ کی ادائیگی سے ناظرین و حاضرین کو بیک وقت ہنسا بھی لیتا ہے اور رُلا بھی سکتا ہے۔ اس لئے میری ہنسی کی طرح ممکن ہے کسی اشتہاری کمپنی کی نظر بھی ڈاکٹر فاروق ستار کے اس بیان پر جم گئی ہو اور وہ اپنے اگلے اشتہار میں پوپلی زبان ان کی استعمال کرا لے۔ اس لئے فاروق ستار صاحب اور ان کے مستعفی ساتھیوں کو اپنے لئے سیاست کا دروازہ بند ہونے کی صورت میں بھی مطمئن رہنا چاہئے کہ ان کی مشاق اداکاری کے ناطے بھی ان کا مستقبل روشن ہے۔

جہاں تک سردار ایاز صادق کی رکنیت ختم ہونے کا معاملہ ہے تو میں پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے پی ٹی آئی اور متحدہ کے استعفوں پر آئین کے سراسر منافی جو منافقانہ سیاست کی، انہیں اس کی سزا ملی ہے مگر اس سے ان کی اصل سزا کا خطرہ ٹل نہیں سکتا جو ان پر آئین کی دفعہ 6 کے اطلاق کی صورت میں مستقل طور پر برقرار رہے گا۔ اب ان کے کرنے کا کام تو یہی ہو سکتا تھا کہ وہ ٹربیونل کے فیصلہ کے بعد اپنی پارٹی کی عوامی مقبولیت کے زور پر دوبارہ عوام کے پاس چلے جاتے اور اس طرح وہ عمران خاں کے انتخابات چرانے کے بار بار دہرائے جانے والے الزامات کی بھی کوئی گنجائش نہ چھوڑتے۔ یقینی بات ہے، اس بار ان کے مدمقابل امیدوار عمران خاں نہ ہوتے جبکہ انہیں لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات اور پھر ملتان، گوجرانوالہ اور ہزارہ تک کے ضمنی انتخاب میں اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) کی کامیابی سے اس پارٹی کی عوامی مقبولیت کی استوار ہونے والی فضا سے بھی تقویت ملتی اور وہ دوبارہ انتخاب میں بھی سرخرو ہو کر خود پر اور اپنی پارٹی قیادت پر ”جھرلو“ کے لگنے والے الزامات کا نتارا کر دیتے۔ مگر انہوں نے اپنی پارٹی قیادت سے ہم مشورہ ہو کر جس مصلحت اور فہم سے دوبارہ انتخاب میں جانے کی بجائے خواجہ سعد رفیق ہی کی طرح ٹربیونل کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کو ترجیح دی ہے تو وہ انتخابات چرانے کے عمرانی الزامات کو تقویت پہنچانے کا بھی خود ہی باعث بنیں گے۔

میں نے تو سعد رفیق صاحب کے حلقہ کے بارے میں ٹربیونل کے فیصلہ پر بھی یہی دوستانہ مشورہ دیا تھا کہ اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہونے کے باوجود وہ عوام کے پاس چلے جائیں اور اپنی پارٹی کی مقبولیت کو کیش کرا کے پارٹی کے دامن پر لگائے جانے والے منظم دھاندلیوں کے الزامات بھی دھلوا لیں۔ سعد رفیق صاحب خود بھی دوبارہ انتخاب کے لئے عوام کے پاس جانے کا عندیہ دے رہے تھے مگر سیاسی فہم و فراست سے عاری اس پارٹی کے قانونی مشیروں نے ان کے اور ان کی پارٹی قیادت کے پائے استقلال میں لغزش پیدا کر دی چنانچہ وہ سرکتے لڑھکتے ہوئے سپریم کورٹ کی دہلیز تک جا پہنچے۔ اب وہ حکم امتناعی کے عارضی سہارے پر اسمبلی کی رکنیت اور وزارت دونوں برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ ان کے اس اقدام سے پی ٹی آئی کی الزامات کی پٹاری اور بھی وزنی ہو گئی ہے۔ اب سردار ایاز صادق صاحب بھی اپنی خواہش کے تابع اس راستے پر چل کر عدالتی حکم امتناعی کا سہارا حاصل کر لیتے ہیں اور اپنی رکنیت اور سپیکر شپ کے مزے لوٹتے نظر آتے ہیں تو یہ عارضی سہارا مستقبل کی سیاست میں ان کے اور ان کی پارٹی کے لئے ایسی پھسلن کا اہتمام کر جائے گا کہ اس میں زمین پر قدم جمانے کے لئے کوئی مضبوط سہارا بھی ان کے کام نہیں آ سکے گا۔

کیا ابھی سے عمران خاں کو یہ کہنے کا موقع نہیں مل گیا کہ انہوں نے جو چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے دو حلقوں میں ٹربیونل کے ذریعے ان کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں تو انہوں نے انتخابات چرائے جانے کا واویلا ناجائز نہیں کیا تھا۔ آپ تصور کیجئے، خواجہ سعد رفیق دوبارہ انتخاب میں چلے جاتے اور آج انتخابی عمل کے ذریعے سرخرو ہو کر اسمبلی میں بیٹھے ہوتے تو سردار ایاز صادق والے حلقہ میں بھی ٹربیونل کے ویسے ہی فیصلہ پر کیا عمران خاں کو منظم دھاندلی والے اپنے الزامات آگے بڑھانے کی سہولت ملتی؟ جناب ساری فضا ہی یکسر بدل جاتی اور اس بدلی فضا میں ممکن ہے سردار ایاز صادق کے حلقے میں الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ بھی خواجہ سعد رفیق کے حلقے جیسا نہ رہتا مگر دل کا چور ایسا ہے کہ اب سردار ایاز صادق کے معاملہ میں بھی وہی غلطی کرانے پر تلا بیٹھا ہے چنانچہ ان سطور کی اشاعت تک سردار ایاز صادق کی جانب سے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی خبر بھی آپ تک پہنچ چکی ہو گی۔ اگر ان حضرات کو اپنے لئے امڈی پڑی عوامی پذیرائی کے بجائے رسوائی کی سیاست ہی وارا کھا رہی ہے تو ہم کون ہوتے ہیں جناب ان کے باہم شیر و شکر راز و نیاز میں دخل درمعقولات کرنے والے۔ سو ہم باز آئے محبت سے، اٹھائیے پاندان اپنا، ”سٹے“ پر سٹے کرکے اپنی چال بھلانے والوں کو سیدھا راستہ دکھانا کوئی اچھا اقدام تو نہیں

غالب کو برا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com