’’اپنے اپنے سر بچا لو دوستو‘‘
Aug 21, 2015

میرے لئے یہ بات معمہ بنی ہوئی تھی کہ جو مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کے استعفوں کے ایشو پر آئین کی پاسداری کا جھنڈا تھامے منتخب اور پبلک فورموں پر دلیل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتے رہے ہیں اور مستعفی ہونے والے پی ٹی آئی کے ارکان کو ہائوس کے اندر بیٹھے اجنبی قرار دیتے رہے ہیں۔ وہ آئین کی پاسداری کے اس سارے تقاضے کے عین مطابق مستعفی ہونے والے متحدہ کے سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو ایوان میں واپس لانے کا بیڑہ کیوں اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان کے اس یو ٹرن پر سوشل میڈیا بھی خاصہ شغل میلہ لگا رہا ہے اور ان کے دو چہروں اور دو لہجوں والے کارٹون اس کیپشن کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں کہ ’’آئین کے تناظر میں ہم پی ٹی آئی کی اسمبلیوں میں واپسی کی مخالفت کرتے ہیں‘‘ اور پھر ’’اسی آئین کے تناظر میں ہم ایم کیو ایم کی اسمبلیوں میں واپسی کے لئے کوشاں ہیں‘‘ سبحان اللہ یہ کیا آئینی تناظر ہے ؎ جناب شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

میرے ذہن میں تو آئین کے اس تناظر پر کوئی ابہام نہیں ہے اور آئین کی دفعہ 64 شق ون استعفیٰ دینے والے کسی رکن پارلیمنٹ کے استعفیٰ کی قبولیت، عدم قبولیت کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی اور اس آئینی شق کے تناظر میں کسی رکن اسمبلی کا اس کے دستخطوں کے ساتھ سپیکر یا چیئرمین سینٹ کے آفس میں استعفیٰ وصول ہوتے ہی اس کی اسمبلی یا سینٹ کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے۔ سپیکر کو اسمبلی رولز مجریہ 2007 کے رول 43 ذیلی رول 2 کے تحت صرف یہ اختیار سونپا گیا ہے کہ اگر متعلقہ رکن کا استعفیٰ بذریعہ ڈاک یا کسی اور کی وساطت سے موصول ہوا تو وہ متعلقہ رکن سے رابطہ کرکے ان سے تصدیق کر لیں کہ موصولہ استعفیٰ آیا ان کا اپنا ہے۔ اس میں بھی سپیکر یہ پوچھنے کے مجاز نہیں کہ انہوں نے کسی کے دبائو میں تو استعفیٰ نہیں دیا۔ اس کے سوا سپیکر اور چیئرمین سینٹ کا موصولہ استعفوں کے معاملہ میں کردار صرف پوسٹ بکس کا ہے۔ انہوں نے یہ استعفیٰ خالی ہونے والی نشست پر نئے انتخابات کے لئے الیکشن کمشن کو بھجوانا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بھی پی ٹی آئی کے استعفوں کی حد تک اسی آئینی تقاضے کے قائل رہے ہیں اور اس تقاضے میں کوئی سقم یا ابہام بھی نہیں ہے۔ پھر وہ ایم کیو ایم کے ارکان کے استعفوں کے معاملہ میں پھسل کیوں گئے؟ اس حوالے سے میرے ذہن میں ایک خلش تھی جس کا اظہار میں نے دو روز قبل وقت نیوز کے ایک ٹاک شو میں بھی کر دیا تھا جبکہ اب وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں کے آج کے بیان نے اس معاملہ میں میری مشکل اور بھی آسان کر دی ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ پنجاب کرنل شجاع خانزادہ کے ساتھ دہشت گردی کی واردات کے معاملہ میں حکومتی ایجنسیوں کی اب تک ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں پوری دلیل کے ساتھ یہ انکشاف کیا ہے کہ سرحد پر گولہ باری کرنے والا دشمن ہی ہمارے وطن کی سرزمین پر دہشت گردی میں ملوث ہے۔ بس یہی ایک نازک نکتہ ہے جو مولانا فضل الرحمن کے اصولی موقف کو پلک جھپکنے میں تبدیل کرنے پر منتج ہوا ہے۔

مجھے پہیلیاں ڈالنے کا شوق ہے نہ اس کی ضرورت ہے۔ میں نے جمع تفریق والے سوال کے حل کے ادھر اُدھر تاک جھانک سے عاری فارمولے کے تحت مولانا فضل الرحمان کے دھم سے دوسرے آنگن میں جا کودنے کے مضحکہ خیز منظر کا جائزہ لیا تو مجھے ایم کیو ایم متحدہ اور جے یو آئی (ف) کے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے مفادات کی بھی بخوبی سمجھ آ گئی۔ پھر یہ تو سب ڈرامہ ہے کہ سیاست میں آگ اور پانی ایک دوسرے کے شیر و شکر ہو گئے ہیں۔ وفاق اور سندھ کی حکمران جماعتیں خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں کہ جو فضل الرحمان شدید سیاسی اختلافات کے باعث ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو میں کبھی بھٹک کر بھی نہیں گئے تھے وہ اسی ایم کیو ایم کو اسمبلیوں میں واپس لانے کے لئے سر کے بل چل کر نائن زیرو جا پہنچے ہیں اور نائن زیرو والوں نے بھی ان کے والہانہ استقبال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پھر جناب جائزہ لیجئے بظاہر سیاسی اختلافات رکھنے والی ان دونوں جماعتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ کون سے مفادات جڑے ہوئے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان استعفوں کے آئینی تقاضے پر اپنا اصولی ٹھوس موقف تیاگ کر ’’دُڑکی‘‘ لگاتے ہوئے ایم کیو ایم کو منانے چل نکلے اور ایم کیو ایم بھی ان کا استقبال کرتے ہوئے استعفے واپس لینے کا عندیہ دینے لگی۔ چودھری نثار علی خاں نے ہماری سرزمین پر دہشت گردی کرانے والے دشمن کی اس کا نام لئے بغیر نشاندہی کر دی ہے اور یہی وہ دشمن ہے جو نچلا نہیں بیٹھ رہا اور پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے لئے ہر جانب سے تابڑ توڑ حملے کئے جا رہا ہے۔ یہ دشمن اگر متحدہ کی قیادت اور کارکنوں کی آئو بھگت کرتا ہے جس کے ٹھوس ثبوتوں کی موجودگی میں اب اس دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے والے متحدہ کے لوگوں کے مفادات پر کوئی ابہام نہیں رہا تو کیا ایسا ہی معاملہ اس دشمن کے ساتھ شیر و شکر ہونے کے ناطے جے یو آئی (ف) کا بھی نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے والد بزرگوار تو یہ کراہت انگیز جملہ ادا کرتے کرتے اس جہان سے گزر گئے کہ ’’خدا کا شکر ہے، ہم پاکستان بنانے کے جرم میں شامل نہیں‘‘ اسی سوچ کی قدردانی مولانا فضل الرحمان کے لئے اس دشمن ملک کی سرزمین پر پائوں رکھتے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ شائد وہ پاکستان بنانے والوں کے ’’جرم‘‘ کا اپنے تئیں کفارہ ادا کرنا چاہتے ہوں گے اور اس کاوش کے لئے دشمن ملک کی سرزمین پر پروٹوکول اور رفعتیں سمیٹتے ہوں گے۔ متحدہ کے قائد تو نئی دہلی کی اردو کانفرنس میں شریک ہو کر یہ فریاد بھی کر چکے ہیں کہ کل کو کراچی میں اردو بولنے والوں پر کوئی افتاد ٹوٹی تو کیا دہلی والے ہمیں واپس قبول کر لیں گے۔ ان کا یہ سوال اردو کو سرکاری قومی زبان کا درجہ دلوانے کے لئے سرگرم حلقوں سے بھی سوچ بچار کا متقاضی ہے۔ مگر میں اس الگ بحث میں الجھنے کے بجائے خود کو متحدہ اور جے یو آئی کے اس مشترکہ مفاد پر بحث تک محدود رکھتا ہوں جو سیاست میں ان کے شیروشکر ہونے پر منتج ہوا ہے۔ ارے، یہ مشترکہ مفاد تو پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے والے ہمارے دشمن بھارت کے مفاد کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور پھر متحدہ کو اسمبلیوں میں واپس لانے کے لئے مولانا فضل الرحمان کو ٹاسک سونپنے والوں کی سوچ کا بھی جائزہ لے لیجئے۔ میاں نواز شریف تو تیسری ٹرم والا اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ دور کی کوڑی بھی نکال لائے تھے کہ قوم نے انہیں مینڈیٹ ہی بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کا دیا ہے۔ آپ اس منشور کے تحت انتخابی میدان میں اترتے تو آپ کو بخوبی ادراک ہو جاتا کہ قوم آپ کو اس منشور پر اقتدار کا مینڈیٹ دیتی ہے یا آپ کے اس ’’حسن ظن‘‘ کے بخئے ادھیڑتی ہے۔

مجھے تو اس تکونی شیر و شکر والی فضا پر مبنی نتیجہ نکالنے کے لئے کوئی زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا کیونکہ چودھری نثار علی خاں نے خود ہی نتیجہ نکال لیا ہے۔ مگر یہ نتیجہ تو ان کی پارٹی قیادت کے گردا گرد بھی گھوم رہا ہے۔ جب ایسے مفادات شامل حال ہوں جو ملک کی سلامتی تاراج کرنے پر متفق نظر آتے ہوں تو آئین کی پاسداری سے منسلک تقاضے کیا معنی رکھتے ہیں اور پارلیمنٹ کے وجود پر بقا و استحکام کے ٹانکے لگانے کی ذمہ داری کس نے ادا کرنی ہے۔ بھئی اس مفاداتی گٹھ جوڑ میں تو سب غتر بود ہے سو

اپنے اپنے سر بچا لو دوستو
ناریل ہیںبندروں کے ہاتھ میں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com