زبان پر سیاست یا اس کی وکالت؟
Aug 04, 2015

قصور تو یقیناً پنجابی ’’ڈھگوں‘‘ کا ہے کہ آئین اور قوانین میں موجود اپنے حقوق بھی نہ صرف تسلیم نہیں کرا پاتے بلکہ شور غوغا ڈالنے اور دھکم پیل کرنے والے دکھاوے کے زور آوروں کے پراپیگنڈے پر ان کے لئے اپنے حقوق کی قربانی بھی دے دیتے ہیں۔ اسی ایثار کے جذبے نے پاکستان کے لئے ہجرت کرنے اور ہجرت کے اس عمل میں بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دینے والے پنجابیوں کو کبھی مہاجر نہیں بننے دیا اور اس لفظ کو اپنے لئے گالی سمجھا کہ ہجرت تو قیام پاکستان کے ایک اچھے مستقبل والے کاز کے لئے کی گئی تھی ورنہ لاکھوں جانوں کی انسانی اور اپنے بے پناہ وسائل و املاک کی مالی قربانیاں دینے والے ان پنجابیوں سے بڑا مہاجر تو اور کوئی نہیں ہو سکتا، تو پھر یہ تاریخ کا سب سے بڑا مذاق نہیں؟ کہ قیام پاکستان کے مراحل کی ہر قسم کی کٹھنائیوں سے محفوظ رہنے اور پاکستان کا وجود ایک حقیقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ثبت ہونے کے بعد اپنے روزگار اور کاروبار کو وسعت دینے کی خاطر اتر پردیش (یو پی) بمبئی اور دوسرے نواحی علاقوں کے جو کاروباری طبقات بھارت سے نقل مکانی کر کے پاکستان آئے اور بالخصوص کراچی (سندھ) میں آباد ہوئے وہ مہاجرت کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان سے جائیدادوں، مناصب اور اپنی شناخت کے حصول کے دعویدار بن بیٹھے۔ بھئی مہاجر کوئی مذہب، قوم یا قبیلہ تو نہیں ہے یا کسی خاص علاقے کے ساتھ تو منسلک نہیں ہے کہ سندھی، پشتون، بلوچی اور پنجابی جیسی اس کی شناخت ہو۔ اگر دعویٰ پاکستان کے لئے مہاجر بننے کا ہے تو پھر مہاجر کی الگ شناخت کیسی۔ کیا پاکستانی ہونے پر فخر محسوس نہیں کیا جانا چاہئے جیسے پاکستان کے لئے ہجرت کرنے اور بے پناہ قربانیاں دینے والے پنجاب کے لوگوں نے پاکستان میں کبھی اپنی شناخت مہاجر کے طور پر نہیں کرائی۔

چونکہ ایثار و قربانی کا جذبہ ان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اس لئے وہ پنجابی ڈھگے والے اپنے مزاج کے مطابق آج بھی اپنے حقوق و مفادات کی قربانیاں دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل پنجاب نے اپنے کلچر اور زبان پر پاکستان کے استحکام اور اس کے وسیع تر مفاد کی خاطر مفاہمت کر لی اور اپنی زبان کی ترویج و فروغ کے لئے آئین کی دفعہ 251 شق 3 کے تقاضے تسلیم کرانے کے لئے کبھی کہیں تردد نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے پنجابی کمپلیکس (بلاک) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صغریٰ صدف نے ’’پنجابی زبان کے فروغ میں پرنٹ میڈیا کا کردار‘‘ کے موضوع پر میرے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کیا تو یہ نشست اسی تناظر میں سوال جواب کی نشست بن کر پنجابی زبان کے حوالے سے ایک فکری نشست بن گئی جس میں پنجابی زبان کے محققین ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ، زاہد حسن، آغا باقر، صوفیہ بیدار، غافر شہزاد، ویر سپاہی اور نشست میں شریک دوسرے احباب نے کھل کر اپنے مافی الضمیر کا اظہار کیا۔ یقیناً ایسی فکری نشستوں سے پنجابی کلچر اور زبان کے فروغ کے لئے ان حلقوں تک موثر آواز پہنچے گی جو اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر پنجاب میں بھی آئین کی دفعہ 251شق 3 کے تقاضے پورے کرا سکتے ہیں۔ اس کے لئے ڈاکٹر صغریٰ صدف نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسی فکری نشستوں کا سلسلہ آگے بڑھائیں گی جس سے پنجابی ڈھگوں میں بھی اپنے حقوق و مفادات کے لئے شعور اجاگر ہو سکتا ہے اور زبان کی بنیاد پر مفادات کی سیاست کرنے والوں کا شائستگی کے ساتھ بحسن و خوبی بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ بھئی ہم نے تو اردو کو رابطے کی قومی زبان کے طور پر اس وقت سے ہی تسلیم کر رکھا ہے جب بانی پاکستان قائداعظم نے ایک پاکستانی قوم کا تشخص منوانے کے لئے اسے قومی زبان قرار دیا تھا۔ اگر قائداعظم کو یہ علم ہوتا کہ ان کی وفات کے بعد پاکستان آنے والے ’’اہل زبان‘‘ مہاجر بن کر اپنی اردو زبان پر سیاست کریں گے اور ایسی سیاست کریں گے جو اس ملک خداداد کا آزاد وجود برداشت کرنے والے ہمارے اولین دشمن بھارت کو اس وطن کی بنیادیں ہلانے کے لئے تقویت فراہم کرے گی تو یقیناً بانی پاکستان اردو زبان کو ان عناصر کے ہاتھوں کبھی کھلونا نہ بننے دیتے۔ یہ عناصر تو آج تحریک پاکستان کے مقاصد اور بانیان پاکستان اقبال و قائد کی جدوجہد، نظریات اور اصولوں کو بھی جھٹلا رہے ہیں تو یقیناً آج اہل زبان والا تعصب ختم کرنے کے لئے ان علاقائی زبانوں سے وابستہ پاکستانیوں کی صف بندی کی ضرورت ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے وسیع تر قومی مفادات کی خاطر اپنی زبان اور اس سے منسوب اپنے علاقوں کی بھی قربانی دی۔ ان میں سب سے مظلوم پنجابی بولنے والے ہیں جنہوں نے اپنے وطن عزیز کی خاطر اپنی الگ شناخت ہی قائم نہیں ہونے دی ورنہ بھائی صاحب! ہمارے روحانی سکالرز اور صوفی شعراء بابا فرید، شاہ حسین (مادھو لال حسین) بلھے شاہ، وارث شاہ، سلطان باہو، میاں محمد بخش اور غلام فرید کی زبان افکار و معانی اور ابلاغ کے حوالے سے اتنی امیر ہے کہ اہل زبان کی ملغوبہ زبان اس کے سامنے بے وقعت نظر آئے۔

’’پلاک‘‘ کی فکری نشست میں میرا تجسس زبان کے لہجے اور ادا ہونے والے الفاظ کے حوالے سے تھا چنانچہ میں نے اپنا یہ تجسس حاضرین مجلس پر چھوڑ دیا کہ کس لہجے والی زبان کو بطور پنجابی زبان تسلیم کرانے کے لئے تردد کیا جائے۔ اگر ہیر کا قصہ سنا کر ’’اہلِ درد‘‘ کو پنجابی لوٹ سکتے ہیں تو ہیر وارث شاہ میں استعمال ہونے والی زبان ہی کیوں نہ پنجابی زبان ٹھہرے۔ مگر میری ’’جانگلی‘‘ ٹھیٹھ پنجابی زبان سرائیکی، پہاڑی، ہندکو، پنڈی وال اور پوٹھوہاری زبان والوں کو بطور پنجابی زبان قبول ہی نہیں ہو سکتی اس لئے ہم پنجابی ڈھگوں کو کم از کم اپنی زبان کے کسی ایک لہجے پر تو متفق ہو جانا چاہئے۔ پھر کیا ہرج ہے کہ اس فکری بحث کو آگے بڑھا کر کسی ایک نکتے پر اتفاق کر لیا جائے۔ بابا فرید کے اشلوک تو گورو گرنتھ صاحب کے ایک تہائی حصے میں شامل ہیں اس لئے اگر پنجابی اہلِ زبان کی بات کی جائے تو پھر ابیات بابا فرید میں استعمال ہونے والی زبان پنجابی زبان کی بنیاد بن سکتی ہے جبکہ پنجابی زبان کے تسلیم شدہ پہلے شاعر بابا فرید گنج شکر ہی ہیں۔ پھر آئیے، اسی زبان پر متفق ہو کر ہم اسے نصاب میں شامل کرانے اور درس و تدریس کا حصہ بنانے کی جدوجہد کا آغاز کریں۔ اس کے لئے آئین کی دفعہ 251 کی شق 3کی صورت میں ایک موثر ہتھیار ہمارے پاس موجود ہے۔ مگر اس ہتھیار کو ’’پنجاب کا مقدمہ‘‘ اور ’’جاگ پنجابی جاگ‘ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ جیسی مفاد پرستانہ سیاست کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہئے۔ یہ نعرہ لگانے والے آج پنجاب ہی نہیں، پاکستان کے بھی حکمران ہیں مگر انہوں نے سپریم کورٹ کی ہدائت پر قومی زبان کے فروغ کے لئے آئین کی دفعہ 251کی شق ایک اور شق 2 کو لاگو کرنے کا نوٹیفکیشن تو جاری کر دیا جبکہ شق 3 کی جانب انہوں نے نظر ہی نہیں ڈالی۔ یہ شق تو پنجاب اسمبلی کے ذریعے پنجاب میں خود انہوں نے لاگو کرنی ہے جس سے گریز کرکے وہ پنجاب کی ’’پگ‘‘ کو خود ہی داغ لگا رہے ہیں۔ آغا باقر کی یہ بات مجھے پنجابی زبان کے فروغ کے حوالے سے اچھی محسوس ہوئی کہ ہماری بیوروکریسی میں موجود لوگوں کی اکثریت نے سی ایس ایس اور پی ایم ایس کے امتحانوں کے آپشنل پرچوں میں سے پنجابی کا انتخاب کیا ہوا ہے اس لئے انہیں آئین کی دفعہ 251 کی شق تین کے تقاضے پورے کرنے پر باآسانی قائل کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً یہ اہل زبان کی مفاداتی سیاست کا توڑ بھی ہو گا اور قومیت و وطنیت کا جذبہ راسخ کرنے کی جانب اہم پیش رفت بھی ہو گی۔ اس لئے آج ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ کا محض نعرہ نہ لگائیں، اس میں عملیت پسندی کا عنصر بھی شامل کر دیں۔ یہ دھرتی ماں کے ساتھ آپ کی بے لوث وابستگی کا اظہار بھی ہے۔ اور پھر اس دھرتی ماں کی مٹی کی اہمیت بھی تو بابا فرید گنج شکر نے ہی اپنے اس خوبصورت شعر میں اجاگر کی ہے کہ

فریدا خاک نہ نِندئیے، خاکوں جیڈ نہ کوئے
جیوندیاں پیراں تھلّے، موئیاں اُپر ہوئے

(اے فرید اپنی دھرتی کی مٹی کو برا نہ سمجھ، اس مٹی سے عظیم المرتبت اور کوئی نہیں کیونکہ یہی مٹی تیری زندگی میں تیرے پائوں کے نیچے رہ کر تجھے دنیا میں چلنے اور ثابت قدم رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے اور جب تیری روح تیرے جسم کا ساتھ چھوڑتی ہے تو یہی مٹی تجھے اپنے اندر سما کر تیرے لئے عافیت بن جاتی ہے)
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com