’’اپنے عشّاق کی خبر لینا‘‘
Jul 31, 2015

اپنے پیارے شاعر دوست اشرف جاوید کے نوعمر انجینئر بیٹے سالک کے اچانک انتقال کی خبر سنی تو کانوں کو یقین نہ آیا۔ اشرف جاوید اس فقرے کے ذریعے دل کو تسلی دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ شائد اسے ہم سے بچھڑنے کی جلدی تھی۔ ہم تو اس کی شادی کے لئے اس کی رضامندی لے رہے تھے مگر اس نے ہمیں اپنی خوشیوں کے اہتمام کی مہلت ہی نہیں دی۔ ہاں بس عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے۔ میں خود چھوٹے بھائی کے انتقال کے باعث اس سانحہ سے گزرا ہوں تو سالک نے اپنے والد کو داغِ مفارقت دے کر میرے زخم بھی ہرے کر دئیے اور سانحہ یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس اے کے ابتدائی مراحل ہی اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوئے۔ ڈاکٹر آخری وقت تک غمزدہ والدین کو یہی تسلی دیتے رہے کہ یہ مرض جتنی جلدی حملہ آور ہوتا ہے، اتنی ہی جلدی واپس بھی چلا جاتا ہے اس لئے آپ اپنے بیٹے کی صحت کے معاملہ میں خاطر جمع رکھیں۔ مگر سالک نے اپنی زندگی کی آخری ہچکی لے کر یہ ساری تسلیاں جھوٹی ثابت کر دیں۔ میرا چھوٹا بھائی رفیق ہیپاٹائٹس سی کی آخری سٹیج تک آ پہنچا تھا مگر اپنی ہنستی بستی صحت مندانہ زندگی کے باعث اسے اس کی خبر ہی نہ ہو سکی۔ ماہ رمضان کے دوسرے عشرے میں اسے اعصابی تنائو کی شکائت محسوس ہوئی۔ معمول کی میڈیسن لی اور مطمئن ہو گیا۔ دو روز بعد تکلیف بڑھی تو پاکپتن کے ہسپتال میں آ گیا۔ وہاں سے میرے کہنے پر لاہور روانہ ہوا تو اس پر زندگی سے مایوسی والے کوئی آثار نہیں تھے۔ راستہ بھر اپنے بیٹے رضوان اور دوست سے باتیں کرتا رہا مگر لاہور کی حدود میں داخل ہوتے ہی اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے اس نے اپنی زندگی کی آخری ہچکی لی اور مجھے اپنی زندگی میں آخری ملاقات کی بھی مہلت نہ دی۔ دو روز پہلے ہمارے صحافی دوست ندیم علوی کو بھی اچانک بیٹھے بیٹھے ہیپاٹائٹس نے نگل لیا۔

بے شک موت برحق ہے اور اس کا وقت بھی معین ہے۔ کس مقام پر روح نے جسدِ خاکی کا ساتھ چھوڑ نا ہے، قدرت نے اس فیصلے میں بھی کروفر والے انسان کو بے بس رکھا ہوا ہے، بس کوئی نہ کوئی بہانہ بن جاتا ہے۔ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا اور قضا
اسے اپنے ساتھ لے جاتی ہے

لائی حیات، آئے، قضا لے چلی، چلے
اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

پھر بھی زندگی کی تگ و دو تو جاری رہتی ہے اور اپنے پیاروں کے جانے کا صدمہ تو فطری ہے۔ زندگی کی ناپائیداری کا یقین ہے۔ پھر بھی یقین نہیں آتا۔ اس بے یقینی میں بھی زندگی کی تگ و دو کا عمل شروع ہوتا ہے تو پھر اس تگ و دو میں کوئی دانستہ یا نادانستہ کوتاہی کیوں ہو۔ کم از کم انسان کی تسلی تو رہے کہ اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسی فلسفہ کے تحت مختلف امراض کی تشخیص اور پھر علاج معالجہ کے طریقے ایجاد ہوئے ہیں۔ یقیناً مرض الموت کا تو کوئی علاج نہیں مگر بہتر تشخیص اور بہتر علاج سے کسی مرض کے مرض الموت تک آنے کا راستہ بڑھایا تو جا سکتا ہے۔
یہی میرا آج کا تجسس ہے کہ ہم سسٹم کے جھمیلوں اور سیاسی بکھیڑوں میں الجھے ان سنگین انسانی مسائل پر توجہ ہی نہیں دیتے جو بے دریغ انسانی جانوں سے کھیلنے کی نوبت لا رہے ہیں۔ ان میں انسانی صحت سے متعلق مسائل سب سے اہم اور سب سے سنگین ہیں مگر بدقسمتی سے کبھی تحقیق کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی کہ جان لیوا ثابت ہونے والے انسانی امراض میں یکایک اضافہ کیوں ہونے لگا ہے۔ پہلے دل کا عارضہ، کینسر اور نروس بریک ڈائون امراء کا عارضہ سمجھا جاتا تھا اور اسی حساب سے ان عارضوں کا علاج بھی مہنگا قرار پایا مگر اب ہماری سوسائٹی کا ہر تیسرا چوتھا آدمی اور نابالغ بچے تک امراء کے لئے مخصوص ان عارضوں کا شکار ہو رہے ہیں اور اب ہیپا ٹائٹس (یرقان) کا مرض اتنا پھیل گیا ہے کہ کسی گھرانے کا کوئی فرد اس سے محفوظ نظر نہیں آ رہا۔ اس مرض کی اب تک کی تشخیص یہی ہے کہ اس کے اے اوربی والے مراحل تک یہ مرض جان لیوا نہیں بنتا مگر ’’سی‘‘ کی سٹیج میں آ کر یہ جان لیوا ہو جاتا ہے مگر اس میں بھی یہ مرض ناقابل علاج قرار نہیں پایا اور بھارت یا چین میں جگر کی ٹرانسپلانٹیشن کے ذریعے آخری سٹیج پر بھی اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹرانسپلانٹیشن کا سوا ڈیڑھ کروڑ کا خرچہ برداشت کرنے کی کون استطاعت رکھتا ہے۔ یہی معاملہ سرطان اور دل کے عارضوں کے مہنگے ترین علاج کا ہے اور اب یہ سارے امراض عام ہو رہے ہیں تو مہنگے علاج کے پیش نظر عوام الناس کے ان امراض سے بچائو کی کیا تدابیر ہو سکتی ہیں؟ کیا ہمیں انسانی صحت سے متعلق ان معاملات کو موضوع بحث نہیں بنانا چاہئے؟ مگر ہمارے کتنے حکمران، کتنے سیاستدان، کتنے بیوروکریٹ، کتنے میڈیا والے حتیٰ کہ کتنے طبی ماہرین ایسے ہیںجو صحت سے متعلق مسائل کو زیر بحث لانے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ اگر آج اشرف جاوید کا جواں سال بیٹا ہیپاٹائٹس اے کے ابتدائی مراحل میں بھی جانبر نہیں ہو سکا تو بھلے لوگو کیا اس مرض کے بارے میں ازسر نو تحقیق کرنا ضروری نہیں ہو گیا اور پھر اس مرض کے اسباب کا کھوج لگانا اور بھی ضروری نہیں ہو گیا؟ تاکہ ان اسباب کا ہی تدارک کرکے بے بس انسانوں کو اس موذی مرض کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔ بھئی ذرا اپنی اپنی سیاسی دکانداریوں سے ہٹ کر سلطانی جمہور کا چکمہ دینے والے منتخب ایوانوں میں راندۂ درگاہ جمہور کے ان مسائل کی جانب بھی توجہ دی جائے جو ان کی جانوں کی بازی ہارنے کی نوبت لا رہے ہیں۔

اب تک جو ایک عام فہم طبی تحقیق سامنے آئی ہے اس کے مطابق ناقص پانی اور ملاوٹ والی غیر معیاری ناقص خوراک لوگوں کو ہیپاٹائٹس اور سرطان کے جان لیوا امراض کی جانب دھکیل رہی ہے، انسان بے بس ہیں اور وہ مجبوراًً یہی زہر کھائے پئے چلے جا رہے ہیں۔ اس وقت لاہور اور کراچی کے شہروں کے زیر استعمال پانی کے بارے میں جو سروے ہوا ہے جس کی سرکاری لیبارٹریوں سے تصدیق کی گئی ہے اس کے مطابق اس زیر استعمال پانی کا 98 فیصد پینے کے قابل ہی نہیں ہے اور یہ مشروب صحت کی بجائے عملاً مشروب موت بن چکا ہے مگر کیا ان ’’ہوشیار باش‘‘ رپورٹوں کے بعد حکومتیں، حکمران،سیاستدان اور حفظان صحت سے متعلقہ ادارے ٹس سے مس بھی ہوئے؟ ہائو ہُو والے دھرنوں اور ان کے توڑ کی لاابالی اور بے مقصد سیاست میں راندۂ درگاہ عوام الناس کے اصل مسائل کی جانب بھلا توجہ ہی کس کی جائے گی۔ ان مسائل نے جس ذہنی تنائو کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے وہ عام عوراض کے بھی جان لیوا بننے کی نوبت لا رہی ہے مگر مہنگے مہنگے علاج کی توفیق و استطاعت رکھنے والے حکمران اشرافیہ طبقات کو ان عوامی مسائل سے ادراک کی بھلا کیونکر توفیق ہو سکتی ہے۔ ارے …

اپنے عشّاق کی خبر لینا
پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں

سسّی کا شہر بھنبھور لٹ رہا ہو اور سسّی بے خبر ہو تو پھر قیامت ہی ٹوٹے گی۔ اس سے پہلے کہ ’’موسم گل‘‘ کے آتے آتے کتنے ہی گریبان چاک ہونے کا اہتمام ہو جائے۔ اپنے ’’عشّاق‘‘ کی خبر لے لیجئے۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com