آج بھی ”امپائر“ کی انگلی
Jul 28, 2015

منظم انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے تشکیل دلائے گئے جوڈیشل کمشن پر اعتماد کا اظہار کرنے اور اس کی رپورٹ کو ہر صورت تسلیم کرنے کے وعدے کے باوجود آج عمران خاں اور ان کی ٹیم کے لوگ اسی کمشن کی رپورٹ پر حسب عادت کیڑے نکالنے اور دھاندلیوں کے الزامات من و عن دہرانے میں مصروف ہیں تو امپائر کی انگلی کی نشاندہی والی حکومت مخالف عمرانی تحریک کے پس پردہ مقاصد پھر سسٹم کی بقا کے لئے فکرمند حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر رہے ہیں۔ کیا ہمیں امپائر کی انگلی کے اشاروں پر ناچنے والی حکومت مخالف تحریکوں سے کبھی نجات مل پائے گی۔ میں نے گزشتہ روز وقت ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں بھی پروگرام کے میزبان احتشام الرحمان کے ساتھ اس معاملہ میں اپنے جذبات شیئر کئے اور اس سے پہلے ہمارے دیرینہ دوست معروف اینکرافتخار احمد نے ایم آرڈی کی تحریک سے وابستہ یادیں تازہ کرنے کے لئے ”ہمہ یاراں بہشت“ والی ایک مختصر نشست کا اہتمام کیا تو اس میں بھی عابد حسن منٹو، سید افضل حیدر، احسان وائیں، سید منظور علی گیلانی، نواز گوندل، راجہ ذوالقرنین، سید ممتاز احمد اور میرے سمیت تمام دوستوں کا یہی تجسس رہا کہ ہمیں سسٹم کو استحکام پہنچانے والی خالص پاکستانی اور سچی کھری سیاست کب دستیاب ہو گی۔ ایسی سیاست جس میں اپنے اقتدار کے جھولے جھولنے اور ذاتی مفادات کی شیرینی کے چندٹکڑے لینے کے لئے امپائر کی انگلی کے دھاگے کے ساتھ بندھے سرخوشی کا اظہار کرنے اور جمہوریتوں کی اکھاڑ پچھاڑ کے لئے اپنے کندھے فراہم کرنے والے کوتاہ قامت سیاستدانوں سے ملک و قوم کو خلاصی ملے گی۔ اگر ایوب خان سے اب تک کے دور کی حکومت مخالف تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سی او پی، پی این اے، پی ڈی اے، پی ڈی ایف سے لے کر نواز شریف کے ٹرین مارچ اور عدلیہ بحالی تحریک والے لانگ مارچ پھر پاکستان عوامی اتحاد اور اب عمران خاں اور طاہرالقادری کے لانگ مارچ اور دھرنا تحریک تک سب میں ”امپائر“ کی انگلی کی کارفرمائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ صرف ایم آر ڈی وہ واحد حکومت مخالف تحریک ہے جو ”امپائر“ کی خواہش کے برعکس اس کا قائم کردہ سیاسی ”سٹیٹس کو“ توڑنے اور خالصتاً جمہوریت کی بحالی کے لئے ممدومعاون بننے کے لئے چلائی گئی جس نے ضیاءکی ننگی جرنیلی آمریت کو 1981ءسے 1988ءمیں سول جمہوری اقتدار کی راہ ہموار ہونے تک صبر و استقامت کے ساتھ چیلنج کئے رکھا۔ مشرف کی جرنیلی آمریت کو چیلنج کرنے کے لئے بھی اپوزیشن اتحاد اے آرڈی تشکیل پایا تھا مگر اس کی پیٹھ میں چھرا خود میاں نواز شریف نے اس تحریک کی بدولت عوامی دباﺅ بڑھا کر اپنی اور اپنے خاندان کی بحفاظت جلاوطنی کی راہ نکالنے کی صورت میں اس اپوزیشن تحریک کے ایک سال بعد ہی گھونپ دیا تھا۔ چنانچہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں واحد حکومت مخالف تحریک ایم آرڈی (تحریک بحالی جمہوریت) ہے جس نے فوجی آمریت کو تسلسل کے ساتھ چیلنج کرنے والی یادگار داستانیں رقم کی ہیں۔ میں نے چونکہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلہ میں اس پوری تحریک کی کوریج کی ہوئی ہے اور اس ناطے سے میری اس تحریک کے ساتھ عملی اور قلمی وابستگی بھی رہی ہے جس کی راہ میں آنے والی متعدد کٹھنائیوں کا خود میں نے سامنا بھی کیا ہوا ہے اس لئے میں یہ گواہی دینے کی پوزیشن میں ہوں کہ ایم آرڈی کے کارکنوں جیسا جذبہ کسی حکومت مخالف تحریک میں نہ پہلے تھا، نہ اب نظر آتا ہے نہ آئندہ ایسی جذبے والی کسی عوامی تحریک کی کوئی صورت بن سکتی ہے کہ کھونٹے سے بندھی امپائر کی انگلی پر ناچتی سیاست تو اب ساری اقدار کا جنازہ ہی نکال چکی ہے۔ ایم آرڈی کی تحریک کے حوالے سے کچھ مشاہدات سید افضل حیدر اور بیگم مہ ناز رفیع نے اپنی حالیہ آنے والی کتابوں میں بیان کئے ہیں، کچھ مشاہدات کا میں خود بھی تذکرہ کر چکا ہوں اور کچھ مشاہدات کی افتخار احمد کی منعقد کردہ نشست میں یاد تازہ ہوئی تو ایم آرڈی کے کارکنوں کی تعظیم و تکریم اور بھی بڑھ گئی، کیا منفرد انداز ہوتا تھا اس تحریک کو چلانے کا، اس اپوزیشن اتحاد کی کنوینر شپ ہر ماہ تبدیلی ہوتی مگر ڈسپلن اور باہمی اتحاد پہلے سے بھی بڑھ جاتا۔ اس تحریک کا مرکز لاہور ہی تھا اور جب ایم آرڈی کے پلیٹ فارم پر روزانہ گرفتاریاں دینے کا پروگرام بنا جو 1983ءسے 1986ءتک تسلسل کے ساتھ چلا تو اس میں بلاشبہ ہزاروں کارکنوں اور قائدین کی منفرد انداز کی گرفتاریاں تاریخ کے ریکارڈ پر آئیں۔ ایم آرڈی کے ایک کنوینر فتحیاب علی خاں کی گرفتاری کا ایک واقعہ سید افضل حیدر نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ میں چونکہ اس واقعہ میں خود شریک تھا اس لئے مجھے اس گرفتاری کے عمل کو یاد کرکے ”امپائر“ کی انگلیوں کو متحرک کرنے والی ایجنسیوں کی کارکردگی پر ہنسی بھی آتی ہے۔ چونکہ گرفتاریوں کی تحریک لاہور میں جاری تھی اس لئے فتحیاب علی خاں کو بھی گرفتاری دینے کے لئے لاہور آنا پڑا جن سے ایجنسیوں والے شناسا نہیں تھے۔ اس وقت حکومتی ایجنسیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ ایم آرڈی کے متعلقہ قائدین اور کارکنوں کے گرفتاری دینے سے پہلے ہی ان کو گھر یا دوسرے ٹھکانے سے گرفتار کر لیا جائے تاکہ گرفتاری کے وقت جرنیلی آمریت کی جو ”کِٹ“ لگتی ہے اس کی نوبت نہ آنے دی جائے مگر اس تحریک کی یہی خاصیت تھی کہ ایم آرڈی کے کسی بھی قائد اور کارکن نے حکومتی ایجنسیوں کی یہ حکمت عملی کامیاب نہ ہونے دی اور ان کی ہر حکمت عملی کو ناکام بنا کر وہ گرفتاری کے مقام ریگل چوک، لکشمی چوک، نیلا گنبد، انارکلی، بیرون لوہاری گیٹ، چوک بھاٹی گیٹ، جی پی او چوک اور دوسرے مقامات پر پہنچ کر ضیاءآمریت کے خلاف نعرے لگاتے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کرتے رہے۔ ان مراحل میں سلیمان تاثیر، ملک حاکمین خان، ملک حامدسرفراز، رانا شوکت محمود، سید منظور علی گیلانی، رانا ذوالقرنین، لیاقت وڑائچ حتیٰ کہ سردار فاروق لغاری کی لکشمی چوک والی گرفتاری کا انداز بھی منفرد رہا۔ فتحیاب علی خاں بھی اپنی گرفتاری کا منفرد انداز اختیار کرنا چاہتے تھے جن کی گرفتاری کا مقام ریگل چوک مقرر تھا۔ وہ کراچی سے ایک دن پہلے لاہور آ گئے اور پی ٹی وی کی نیوز کاسٹر اپنی بہن کے گھر پنج محل روڈ پر قیام پذیر ہوئے۔ اس گھر میں میری ان سے پہلے بھی کئی نشستیں ہو چکی تھیں۔ اس روز بھی انہوں نے یاد فرمایا اور ہم نے گرفتاری سے ایک روز پہلے ہی اس منفرد انداز کی گرفتاری کی حکمت عملی طے کی جس کے مطابق میں فتحیاب علی خاں کی گرفتاری کے مقرر وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل ان کی بہن کے گھر آ گیا اور پھر ہم دونوںآدھ گھنٹہ بعد وہاں سے پیدل ہی ریگل چوک کی جانب روانہ ہو گئے۔ راستے بھر ایجنسیوں کے انتہائی کڑے پہرے لگے ہوئے تھے تاکہ فتحیاب علی خاں کے ریگل چوک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں اچک لیا جائے مگر ہم اہلکاروں کے بیچ میں سے شان بے نیازی کا مظاہرہ کرتے گپ شپ لگاتے ریگل چوک آئے اور چوک کے درمیان ایک معروف ٹی سٹال میں بیٹھ گئے۔ گرفتاری کے لئے ابھی ایک گھنٹہ پڑا تھا جبکہ ٹی سٹال پر بھی لوگ تبصرے کرتے پائے گئے کہ آج فتحیاب علی خاں کی گرفتاری ہے، دیکھتے ہیں وہ کیسے آتے ہیں۔ ہم اس عرصہ میں باہر کے ماحول کا جائزہ لیتے رہے اور جب گرفتاری کا وقت آیا تو فتحیاب علی خاں میرے ساتھ ٹی سٹال سے باہر نکلے اور ریگل چوک کے عین درمیان پہنچ کر ضیا آمریت مردہ بادہ کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ ایجنسیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہرگز یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہی فتحیاب علی خاں ہیں جو ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گرفتاری کے لئے ان کے درمیان آن پہنچے ہیں۔ جب انہیں یقین ہوا یا کہیں سے مصدقہ اطلاع ملی تو پھر لاتوں، گھونسوں، لاٹھیوں، آنسوگیس کی بہاریں لگ گئیں اور پولیس اہلکار فتحیاب علی خاں کو عملاً گھیسٹ کر پولیس وین میں ڈالتے اپنی خفت مٹاتے نظر آئے۔ اسی طرح تحریک استقلال کی کنوینر شپ کے دوران اس کی تمام مرکزی قیادتوں کی گرفتاری کے بعد نفیس صدیقی اس جماعت کی جانب سے ایم آرڈی کے کنوینر بنے تو ان کا روزانہ بی بی سی پر انٹرویو آنے لگا۔ ایجنسیوں والے حیران تھے کہ یہ حضرت چھپے کہاں ہوئے ہیں۔ وہ بھی پورا ایک مہینہ لکشمی چوک لاہور میں فلمساز چودھری اکرم کے دفتر میں مقیم رہے جہاں تحریک استقلال پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات چودھری صفدر علی بندیشہ کا فلم ڈسٹری بیوشن کا ذاتی دفتر بھی تھا۔ نفیس صدیقی نے اس دفتر میں ڈیرے لگائے اور وہیں سے روزانہ بی بی سی سے رابطہ کرکے ایم آرڈی کی سرگرمیاں نشر کرواتے رہے مگر ایجنسی والوں کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہو سکی، اس تحریک کے دوران چوک بیڈن روڈ سے پولیس نے ایم آرڈی کا ایک پورا جلوس اغوا کرکے غائب کر دیا تھا۔ یہ واقعہ بھی بی بی سی کی لیڈ سٹوری بنا اور مشہور ہوا۔ اس تحریک میں عوامی انقلابی شاعر حبیب جالب اور خواتین محاذ عمل (ویف) کی عہدیداروں عاصمہ جہانگیر، شیریں مسعود، طاہرہ مظہر علی خاں کے احتجاج کے منفرد انداز بھی اس تحریک کو جِلا بخشتے رہے۔ بھئی آج ایسی بے لوث تحریک کا ماحول بنا کر تو دیکھو، امپائر کی انگلی کے کس بل خود ہی نکل جائیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com