’’تحریک بحالی ٔ جمہوریت‘‘
Jul 24, 2015

سید افضل حیدر کی کتاب ’’تحریک بحالی ٔ جمہوریت‘‘ کی اشاعت کی اطلاع تو مجھے مہینہ پہلے مل گئی تھی جبکہ اس کتاب کے لئے قلم و قرطاس کا رشتہ جوڑنے کے مراحل میں بھی شاہ صاحب کا میرے ساتھ مشاورت کا سلسلہ قائم رہا۔ مجھے اس کتاب کی اشاعت کا برادر مکرم سید انور قدوائی کے کالم کے ذریعے علم ہوا تو میں نے کتاب کے ناشر اپنے دیرینہ دوست فرخ سہیل گوئندی سے کتاب نہ بھجوانے کا شکوہ کیا۔ پھر ایک تقریب میں ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے اپنا شکوہ دہرایا جس پر انہوں نے مجھے اگلے روز کتاب بھجوانے کا وعدہ کیا مگر وہ اگلا روز بھی ایک ہفتے پر پھیل گیا۔ اس دوران آپا مہ ناز رفیع کی جانب سے ان کی خود نوشت ’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں‘‘ کا تحفہ مل چکا تھا۔ دل میں ٹھانی کہ سید افضل حیدر کی کتاب ملے گی تو ان دونوں کتابوں پر ایک ہی بھرپور کالم لکھ دوں گا مگر ایک ہی نشست میں مہ ناز آپا کی کتاب پڑھنے کا موقع مل گیا تو اس کتاب پر تبصرے کو موخر کرنا میرے لئے ممکن نہ رہا۔ جسٹس سید افضل حیدر کی کتاب ہاتھ لگنے کا ابھی کوئی موقع بھی نہیں بن رہا تھا سو مہ ناز آپا کی کتاب پر تبصرہ ہو گیا۔ جب سید افضل حیدر کی کتاب موصول ہوئی اور ساتھ ہی شاہ صاحب نے بذریعہ فون یہ کتاب موصول ہونے کی مجھ سے رسید بھی لے لی تو اس کے اگلے ہی روز مجھے چھوٹے بھائی کے اچانک انتقال کا صدمہ اٹھانا پڑا چنانچہ اس کتاب کی پہلے روز کی ورق گردانی سے آگے کی نوبت نہ آ سکی۔ چونکہ سحری کے لئے جلد اٹھنے کی عادت ابھی برقرار ہے اس لئے آج صبح سحری کے وقت آنکھ کھلی تو میز پر پڑی شاہ صاحب کی کتاب پر نظر پڑ گئی اور پھر چار سو صفحات پر محیط اس کتاب کے آخری صفحے تک اس کتاب کا مطالعہ ہو گیا جس سے یادوں کے کئی بند دریچے بھی وا ہوئے۔ بعض واقعات کے حوالے سے میری ناقص معلومات بھی درست ہو گئیں اور کئی واقعات میں عملاً اپنی موجودگی اور شرکت کی یادیں بھی تازہ ہو گئیں۔ جولائی 77ء میں ضیاء کے مارشل لاء کے نفاذ سے 1981ء میں ایم آر ڈی کی تشکیل تک اور پھر 1988ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے قیام تک کا زمانہ جمہوری معاشرت و اقدار اور آئین و قانون کی عملداری کے لئے سیاسی کارکنوں کی صبر آزما اور کٹھن جدوجہد کا زمانہ تھا۔ اس سارے عرصہ میں میں نے جہاں پی این اے کی تحریک میں بھٹو کی جیل بھگتی وہیں ایک اخبار نویس کی حیثیت سے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران سیاسی کارکنوں کی اس کٹھن جدوجہد کا عینی شاہد اور بعض معاملات میں رازداں اور رفیق کار بھی رہا، سو اس دور کے جن سیاسی لیڈروں، کارکنوں، نمائندہ وکلا اور دوسرے احباب سے تعلقِ خاطر قائم ہوا وہ آج تک اسی طرح برقرار ہے۔ اسی تعلق خاطر کی پاسداری میں آج ہمارے دیرینہ رفیق سابق ’’جیو‘‘ اور حال ’’دنیا‘‘ والے افتخار احمد نے ایم آرڈی سے وابستہ یادیں تازہ کرنے کے لئے ایک خصوصی نشست کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اس نشست کا احوال انشاء اللہ اگلے کالم میں بیان ہو گا۔ سرِدست سید افضل حیدر کی کتاب تحریک بحالی جمہوریت پر نگاہیں جمی ہیں جو یقیناً پاکستان کے سیاسی اتحادوں کی تشکیل کے پس پردہ محرکات اور ان تحریکوں کے دوران سیاسی کارکنوں کی کٹھنائیوں سے معمور جدوجہد کی ایک مستند گواہی ہے۔

سید افضل حیدر سے ویسے تو ’’گرائیں‘‘ ہونے کے ناطے بہت پہلے سے یاد اللہ تھی کیونکہ میرے والد مرحوم چودھری محمد اکرم ان کے والد اور پاکستان کے معروف وکیل سید محمد شاہ کے بائونڈری کمشن میں پاکستان کے لئے حد بندی کے کردار کے حوالے سے اکثر قصے سنایا کرتے تھے کیونکہ والد صاحب ریونیو ملازم کی حیثیت سے حد بندی کے اس عمل میں ان کے شریک کار تھے۔ سید افضل حیدر اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر سید ظفر حیدر مستقل طور پر لاہور ہی میں مقیم ہو گئے اور یہیں پر اپنی جدوجہد اور کاوشوںسے رفعتیں پائیں۔ سید افضل حیدر سے میرا جو پہلا عملی رابطہ ہوا وہ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس میاں فضل محمود کی عدالت میں زیر سماعت حبس بے جا کے ایک کیس کے حوالے سے تھا۔ یہ کیس ایک مِصری رقاصہ اور جمناسٹ صہیرا کی والدہ نے گجرات کی معروف جوڑا فیملی کے خلاف دائر کیا تھا جس میں سرور جوڑا کے بیٹے پر صہیرا کے اغوا کا الزام عائد کیا گیا۔ اس کیس میں سید افضل حیدر ملزم پارٹی کے وکیل تھے جنہوں نے کیس کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی فاضل جج سے درخواست کی کہ کمرہ عدالت میں موجود تمام صحافیوں کو باہر نکال دیا جائے کیونکہ یہ ایک معزز خاندان کے خلاف کیس ہے۔اگر اس کیس کی اخبارات میں خبریں آئیں گی تو اس سے معزز خاندان کی رسوائی ہو گی۔ فاضل جج نے ان کے اس موقف سے اتفاق نہ کیا اور اس استدعا کو آزادی صحافت کے تقاضوں کے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا جبکہ سید افضل حیدر کے اس موقف کے حوالے سے میرے ذہن میں بھی ان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر پیدا نہ ہوا مگر پھر یہی کیس ان کے ساتھ دوستانہ مراسم کی بھی بنیاد بن گیا جو آج کے دن تک قائم ہیں۔ ان مراسم میں ان کا انسانیت دوستی اور ورکرز نوازی والا جو خوشگوار تاثر پیدا ہوا وہ ہر اگلے دن مستحکم ہوتا چلا گیا۔

ضیاء کے مارشل لا کے بعد جبر کا ایسا ماحول قائم ہوا کہ حالات پر کڑھنے والے کسی دردمند کے لئے کسی فورم پر مافی الضمیر کے اظہار کا کوئی یارا نہ رہا۔ اختلاف رائے پر قلعہ بندی، کوڑے، پھانسی ضیاء آمریت کا خاصہ بن گیا تھا۔ اس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ہی وہ واحد پلیٹ فارم تھا جہاں پر ضیاء آمریت چیلنج ہوتی رہتی تھی۔ اس ناطے سے ہائیکورٹ بار کا فورم ان پروفیشنل وکلا کا مرکز بن گیا جو کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے مگر ملک میں جرنیلی آمریت کے خاتمہ، عدلیہ کی آزادی، آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے دل میں درد رکھتے تھے۔ اسی ناطے سے بار کے ہر الیکشن میں پروفیشنل گروپ کے نامزد امیدوار ہی کامیاب ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ 1978ء سے عامر رضا اے خاں کی کامیابی سے شروع ہوا اور پھر خلیل الرحمان خاں، چودھری محمد عارف، عابد حسن منٹو، سید افضل حیدر، حامد خاں، ملک سعید حسن، چودھری خالد محمود،کے ایم اے صمدانی، کاظم خاں کے صدر منتخب ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ یہی پروفیشنل گروپ بعدازاں حامد خاں گروپ میں تبدیل ہوا اور پھر میاں عبدالستار نجم کے انتخاب پر اس گروپ میں دارڑیں پڑنا شروع ہوئیں اور بیگم عاصمہ جہانگیر اور سردار لطیف کھوسہ نے اس گروپ سے باہر نکل کر اپنا ایک الگ گروپ بنا لیا جو آج بار پالیٹکس میں پروفیشنل (حامد خاں) گروپ پر حاوی ہو چکا ہے۔ بہرحال اس گروپ میں کبھی جیالا پن نہیں رہا اور اس نے آبرومندی کے ساتھ بار کے پلیٹ فارم کو آئین و قانون کی سربلندی، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کا مرکز بنائے رکھا۔ 1983ء میں سید افضل حیدر بار کے صدر منتخب ہوئے تو اس وقت اپوزیشن اتحاد ایم آرڈی ( تحریک بحالی جمہوریت)کی جدوجہد عروج پر تھی۔ پہلے بار کے پلیٹ فارم پر آل پاکستان لائرز کنونشن منعقد کرکے جرنیلی آمریت کے خلاف وکلاء اتحاد کا مظاہرہ کیا جاتا تھا جبکہ سید افضل حیدر نے ایم آرڈی کے سرکردہ قائدین کو بھی بار کے پلیٹ فارم پر مدعو کرنا شروع کر دیا۔ اس پر انہیں جن کٹھنائیوں کا سامنا کرنا پڑا وہ انہوں نے اپنی کتاب میں قلمبند بھی کی ہیں اور میں ان کا عینی شاہد بھی ہوں۔ انہوں نے اپنے انتخاب میں عبدالرشید قریشی کے مدمقابل آنے کے پس منظراور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے بار کے صحن میں بوہڑ کے درخت کے نیچے ان کے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا جو واقعہ بیان کیا اس سے میری یادداشت بھی تازہ ہو گئی۔ جب پرویز صالح اور دوسرے سیاسی کارکن رہا ہو کر جیل سے سیدھے ان کے ہڑتالی کیمپ میں آئے تو وہ منظر دیدنی تھا اور اتنا جذباتی ماحول بن گیا تھا کہ چودھری اعتزاز احسن نے جو سید افضل حیدر کے بڑے سپورٹر تھے، بار کے فورم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ماحول نے خود انہیں اتنا جذباتی کر دیا تھا کہ وہ عبدالرشید قریشی کی حمائت کا اعلان کرنے کا سوچنے لگے تاہم پروفیشنل گروپ کے ساتھ وابستگی نے انہیں اس اعلان سے روکے رکھا۔ میری افضل حیدر صاحب کے ساتھ اس دور میں ہم آہنگی اس لئے بھی زیادہ ہو گئی کہ 1984ء میں لاہور پریس کلب کا سیکرٹری منتخب ہونے کے بعد میں نے بھی پریس کلب کے فورم پر ’’تجزیہ‘‘ پروگرام کی شکل میں ضیاء آمریت سے پیدا ہونے والے گھٹن کے ماحول میں کتھارسس کا موقع فراہم کیا اور گرفتاری سے بچنے والے ایم آرڈی کے قائدین کو اس پروگرام میں مدعو کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ اکثر اوقات ایسا ہوتا کہ یہ قائدین صبح ہائیکورٹ بار جاتے اور سہ پہر کو لاہور پریس کلب کے ’’تجزیہ‘‘ پروگرام میں شریک ہو جاتے جس کے لئے میں اور سید افضل حیدر باہم رابطے میں رہتے۔ اکثر اوقات ہم باہمی مشاورت سے ہی ایم آرڈی کے قائدین کو اپنے اپنے پلیٹ فارم پر مدعو کیا کرتے تھے۔ اس طرح غوث بخش بزنجو، بیگم نسیم ولی خاں، نوابزادہ نصراللہ خاں، سید اقبال حیدر، خواجہ خیرالدین، فتحیاب علی خاں سمیت ایم آرڈی کے متعدد قائدین یکے بعد دیگرے لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور پریس کلب کے پلیٹ فارم پر آتے رہے۔ اس وقت ایم آرڈی کے اجلاسوں کے لئے سردار فاروق لغاری، سید فیصل صالح حیات، رانا شوکت محمود، ملک قاسم، چودھری اعتزاز احسن، خورشید قصوری، میر محمد اکرم اور سید افضل حیدر کی اقامت گاہیں اور 32نکلسن روڈ والا نوابزادہ نصراللہ خاں کا آفس مختص ہوتا تھا جبکہ پبلک جلسے کے لئے باغ بیرون موچی گیٹ اور چھوٹے موٹے جلسوں کے لئے ٹمپل روڈ والا کسان ہال اور شیخ رفیق کے گھر کے سامنے فرید کوٹ پارک کام آتا۔ ان سے منسوب بے شمار واقعات کی یادیں امڈی پڑی ہیں جو ایک کالم میں نہیں سموئی جا سکتیں۔ سید افضل حیدر نے کتاب میں متعدد سیاسی شخصیات کے خاکے بھی پیش کئے ہیں، اس پر بھی اپنی رائے کا اظہار کروں گا مگر کسی دوسری نشست میں۔ سرِدست جن جن خواتین و حضرات کے ہاتھوں ’’تحریک بحالی ٔ جمہوریت‘‘ لگ چکی ہے، وہ اس کا مطالعہ ضرور کریں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com