’’یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے‘‘
Jul 21, 2015

اب کی بار ماہ صیام بہت درس دے گیا ہے۔ دنیا کی بے ثباتی کا، کارخانۂ قدرت میں متبادلات کا، حیاتِ فانی کی حیثیت و اہمیت کا اور زندگی کی تلخیوں، کٹھنائیوں، گہرائیوں کا صبر و استقامت کے ساتھ سامنا کرنے کا۔ چھوٹا بھائی رفیق 17ویں روزے کو چلتا پھرتا رفاقت توڑ گیا۔ ہیپاٹائٹس کی آخری سٹیج پر تھا۔ بظاہر خوش و خرم مگر اندر سے کٹا پھٹا، 6جولائی کی سحری کو طبیعت اچانک بگڑی، بھائی اور بیٹے، اسے پاکپتن کے ہسپتال میں لے آئے مگر طبیعت سنبھلتی نظر نہ آئی، چھوٹے بھائی نوید نے فون پر اس کی اطلاع دی تو میں نے کہا کہ اسے فوراً لاہور لے آئیں۔ مجھے صورتحال کی سنگینی کا علم نہیں تھا۔ روٹین کے مطابق آفس آیا۔ وقت ٹی وی کے صبح کے پروگرام نیوز لائونج میں شریک ہوا۔ پروگرام کے بعد نوید سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ رفیق کو لاہور روانہ کیا جا چکا ہے۔ میں نے اس وقت میو ہسپتال میں فوری علاج معالجہ کا ضروری انتظام کرایا اور خود بھی ہسپتال روانہ ہو گیا۔ ابھی راستے میں ہی تھا کہ بھتیجے رضوان کا فون آ گیا۔ رندھے ہوئے لہجے میں کہنے لگا کہ ابو کی نبض ڈوب رہی ہے۔ باتیں کرتے کرتے اچانک خاموش ہو گئے ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے آئو، میں وہیں پر ہوں۔ دس منٹ بعد رضوان نے پھر رابطہ کیا اور بتایا کہ ہم ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر آ گئے ہیں مگر ابو ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو چکے ہیں۔ میں بھاگ کر باہر آ گیا۔ رفیق گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر محسوس ہوا کہ رضوان کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ وہ تو زندہ سلامت ہے، شائد بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی ہے۔ میں نے اس کی نبض ٹٹولی تو گمان ہوا کہ نبض چل رہی ہے۔ میں نے فوراً رضوان کو سٹریچر لانے کا کہا۔ سٹریچر آیا تو رضوان اور اس کے ساتھ آئے رفیق کے دوست نے سہارا دے کر رفیق کو باہر نکالا اور سٹریچر پر لٹا دیا۔ مجھے ابھی تک رفیق میں زندگی کی رمق نظر آ رہی تھی۔ میو ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر امجد صاحب نے پہلے ہی ایمرجنسی وارڈ میں فوری طبی امداد کا انتظام کرایا ہوا تھا۔ ایمرجنسی کے آئی سی یو میں ڈاکٹر وں نے رفیق کے منہ پر آکسیجن کا ماسک چڑھا دیا۔ دل کی دھڑکن کا ربط بحال کرنے کے لئے چھاتی کو زور زور سے دبایا اور اس ایکسرسائز کی چند ساعتوں کے بعد یہ دلخراش اطلاع فراہم کر دی کہ ہسپتال آنے سے آدھ گھنٹہ قبل ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔ بس یہ اس حیات فانی کی حیثیت و اہمیت ہے۔ اتنی بے ثبات کہ بھروسہ کرو تو جھٹکا لگا دے۔ ارے کس برتے پر اکڑفوں کر رہے ہو اور پھر قدرت اپنی حقانیت بھی تو ایسے ہی تسلیم کراتی ہے۔ پھر ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ

جائے گا جب یہاں سے، کچھ بھی نہ پاس ہو گا
دو گز کفن کا ٹکڑا تیرا لباس ہو گا

بھائی کو منوں مٹی تلے دبا کر خالی ہاتھ گھر واپس لوٹ آئے۔ اگلے روز رسم قل کی تقریب میں قرآن خوانی جاری تھی کہ بہو جویریہ ہسپتال پہنچ گئی۔ ایک گھنٹے بعد اطلاع آ گئی کہ کارخانہ قدرت کے مالک خداوند کریم نے پوتے کی نعمت سے مالامال کر دیا ہے

یہ سب اسی کا فیض ہے
اس ہاتھ لے، اس ہاتھ دے

اور اب کی عید بھی خدا کے حضور دعائوں میں گزری۔ پاکپتن میں دوست احباب، عزیز و اقارب دعائوں کے لئے آتے رہے۔ بھائی کی رحلت کا دکھ اور پوتے کی ولادت کی خوشی

گزر رہا ہے عجب کشمکش میں دیدہ و دل

بھئی سمجھو تو یہی حیات و کائنات کا پیغام ہے۔ دل لگا کر نہ بیٹھ جائو کہ یہ جا دل لگانے کی نہیں ہے۔ کچھ کر سکتے ہو تو کر جائو اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے۔ اپنے اردگرد دیکھ لیا کرو کہ انسانوں کے کتنے دکھ ہیں۔ انسانیت کتنی دکھی ہے۔ دامے، درمے، سخنے کسی کے دکھ بانٹ لو گے تو یہی وسیلہ ہے آپ کی عاقبت کی بہتری کا۔

ماہ صیام کے 27ویں روزے برادرم نورالہدیٰ نے اصرار کرکے غزالی ایجوکیشن ٹرٹسٹ کی افطاری میں شریک کر لیا اور میرے اصرار پر برادر مکرم ڈاکٹر اجمل نیازی بھی افطاری میں شریک ہو گئے۔ افطاری کے بعد سید عامر محمود کی زیر نگرانی قائم اس ادارے کے حوالے سے رسمی بریفنگ دی گئی۔ مجھے ایسے فلاحی اداروں پر ہمیشہ رشک رہا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے دکھی انسانیت کی خدمت پر مامور رہتے ہیں۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا نام تو میں نے بہت سن رکھا تھا مگر اس کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک کا مجھے علم نہیں تھا۔ مجھے یہ جان کر دلی مسرت ہوئی کہ 20 سال قبل 1995ء میں اپنے سفر کا آغاز کرنے والا یہ مشن آج پنجاب، خیبر پی کے اور بلوچستان کے مجموعی 35اضلاع کے وسائل سے محروم اور پسماندہ علاقوں میں 634سکول قائم کرکے وہاں جہالت کی تاریکیوں کو علم کے اجالے میں بدل رہا ہے ان تعلیمی اداروں میں کم وسیلہ اور سفید پوش خاندانوں کے 70ہزار سے زائد طلبہ و طالبات اس وقت جدید تقاضوں کے مطابق زیور تعلیم سے آراستہ کئے جا رہے ہیں اور ان میں سے 42ہزار سے زائد طلبہ و طالبات مکمل طور پر ٹرسٹ کے خرچے پر کتابوں اور یونیفارم سمیت اپنی تعلیم کے مراحل طے کر رہے ہیں۔ تعلیم کے اس سفر میں یتیموں اور خصوصی بچوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں بطور خاص اقلیتی برادری (ہندوئوں) کے لئے ایک الگ تعلیمی سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ مجھے اس ٹرسٹ کے جذبے کو دیکھ کر شادباغ والے محمدی آئی ٹرسٹ اور ہمت ٹرسٹ کی ہمت سے بھی کافی حوصلہ ملا جس کے کرتا دھرتا حاجی محمد شفیق جنجوعہ اور ان کے صاحبزادے ندیم احمد نے سیلاب اور زلزلہ جیسی قدرتی آفات کے دوران متاثرہ لوگوں کے پاس دامے درمے پہنچ کر ان کی ہمت بندھانے کا بے لوث فریضہ ادا کرتے کرتے پنجاب اور خیبر پی کے کے پسماندہ ترین علاقوں میں اپنے تعلیمی نیٹ ورک کا جال بھی بچھا دیا ہے۔ عید کے روز مجھے عید مبارک کا ایک ایس ایم ایس غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی جانب سے آیا یہ عید مبارک اس ادارے کے زیر انتظام چلنے والے 634 سکولوں کے 70ہزار طلبہ و طالبات اور پانچ ہزار اساتذہ اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کی جانب سے تھی ۔ اس عید مبارک میں مجھے اپنے نومولود پوتے سانول شہباز کا مستقبل دمکتا ہوا نظر آیا۔ اگلے روز ہمت ٹرسٹ کے ندیم احمد نے فون کیا تو بھائی رفیق کی رحلت کا صدمہ دوچند ہو گیا۔ ندیم صاحب نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ ان کی بہن کا عمرہ کی ادائیگی کے لئے مدینہ منورہ سے مکہ شریف آتے ہوئے راستے میں ٹریفک حادثے میں انتقال ہو گیا ہے جبکہ ان کا بہنوئی اور بھانجا موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ مقدس سرزمین پر رمضان کے بابرکت مہینے میں عمرہ کی ادائیگی کے دوران خدا کے حضور سے بلاوا آنا بھی سعادت کی بات ہے

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے

مگر اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر طبیعت کی سرگرانی، وہ حکم ربی ہے اور یہ فطری عمل ہے۔ بس ہمیں اپنی عاقبت ہی یاد نہیں رہتی۔ انا لِلّہ و انا الیہ راجعون۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com