کرۂ ارض پر مخلوقات کی ناپیدی کا اہتمام
Jun 23, 2015

کراچی کے لوگوں پر تو ایک قسم کی اچانک افتاد ٹوٹی ہے۔ ساحل سمندر پر ہونے کے ناطے یہ شہر حبس زدہ تو ہمیشہ سے رہا ہے مگر سخت گرمی برداشت کرنے کے اس شہر کے باسی کبھی عادی نہیں ہوئے کیونکہ سخت گرمی میں بھی کراچی کا درجہ حرارت 40کا ہندسہ کبھی عبور نہیں کر پاتا تھا۔ متحدہ عرب امارات بھی سمندری آب و ہوا کے غلبے میں ہمہ وقت حبس آلود رہتا ہے جہاں سردی کا موسم ایک خواب نظر آتا ہے مگر گرمی کی حدت وہاں بلا کی ہوتی ہے اور ابوظہبی، دوبئی، شارجہ، العین کا درجہ حرارت اکثر اوقات 48 سے 50ڈگری سنٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے اس طرح وہاں آباد مقامی اور غیر مقامی باشندے اتنی حدت والی گرمی برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان دنوں بھی یو اے ای سخت گرمی کی لپیٹ میں ہے اور اس سخت موسم میں ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھے جا رہے ہیں جن کا دورانہ ساڑھے 16اور 17 گھنٹے تک کا بن جاتا ہے۔ میں نے خود بھی یو اے ای کے ایسے موسم کا مشاہدہ کیا ہوا ہے اور اب ابوظہبی میں مقیم اپنے بیٹے اور بہو کی وساطت سے وہاں کے موسم کی سختیوں کی داستانیں سننے کو مل جاتی ہیں مگر 50 ڈگری سنٹی گریڈ تک کی حدت کے باوجود وہاں صرف گرمی کے باعث انسانی اموات واقع نہیں ہوتیں۔ مگر کراچی میں تو گرمی کی حدت نے عملاً محشر بپا کر دیا ہے۔ اس شہر کے جو باسی 40ڈگری سنٹی گریڈ تک کی حدت بھی برداشت کرنے کے عادی نہیں قدرت نے اب کی بار انہیں 50 ڈگری کو چھونے والی گرمی کی حدت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور ان کے لئے مزید حشر سامانی کا اہتمام بجلی کی لوڈشیڈنگ نے کر دیا ہے۔ سو کراچی کے نڈھال، بے حال عوام جان سے گزر رہے ہیں اور حکمرانوں کے گلیوں، بازاروں اور شاہراہوں میں وسیع پیمانے پر ’’سیاپے‘‘ کی فضا مستحکم بنا رہے ہیں۔ صرف گرمی کی حدت برداشت نہ کرنے والے کراچی کے دو سو کے لگ بھگ باشندے دو روز کے اندر اندر جان کی بازی ہار چکے ہیں جو بذات خود ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ چونکہ ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر حکمرانوں کے لتّے لینا ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے اور اس میں حکمرانوں کی بے تدبیریوں کا عمل دخل ہوتا بھی ہے مگر ہمیں کبھی کبھار مسائل کے گھمبیر ہونے پر اپنے لائف سٹائل کا بھی جائزہ لے لینا چاہئے۔ اگر آج سے 30,40 سال پہلے والے ماحول کا موجودہ ماحول سے موازنہ کیا جائے تو ہمیں حکومتی بے تدبیریوں سے ہٹ کر اپنی زندگی کے چلن سے زیادہ مسائل لاحق ہوتے نظر آئیں گے مگر ہمارے پختہ ہونے والے سیاسی کلچر اور معاشرتی رہن سہن میں کوئی اپنی خامیوں کی خود ہی نشاندہی کرکے اپنی اصلاح کا کبھی نہیں سوچے گا۔ اگر ہم نے اپنی معاشرت میں 30,40سال پہلے والا صبر کا مادہ برقرار رکھا ہوتا اور قوتِ برداشت میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہونے دیا ہوتا تو یو اے ای کے باشندوں کی طرح کراچی کے عوام بھی 40 ڈگری سنٹی گریڈ سے اوپر جانے والے درجہ حرارت کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے مگر کراچی کے عوام پر تو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے افتاد پر افتاد ٹوٹ رہی ہے جو آئے روز کی ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی، بلوئوں اور دنگا فساد میں انسانی خون کی ندیاں بہتی دیکھ رہے ہیں اور اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔اب قدرت کی طرف سے بھی گرمی کی حدت میں یکایک اضافے سے ان پر ایک نئی افتاد ٹوٹ پڑی ہے۔ اس پر وہ حکمرانوں کو کوسنے دینے میں بھی حق بجانب ہیں کہ انہیں انسانوں کے مرنے کی بھلا پرواہ ہی کہاں ہے۔ ان کی مفاہمتی سیاست کے دستر خوانوں پر تو من و سلویٰ میں کبھی کوئی کمی نہیں آتی۔ کسی انسانی مسئلہ پر سیاست کا بازار گرم ہوتا ہے تو اس میں بھی اقتداری بھائیوالوں کی ہی پانچوں گھی میں رہتی ہیں۔ سو مسئلے برقرار رہیں گے اور الجھتے گھمبیر بنتے رہیں گے تو ان کے بل بوتے پر ان کی عوام کو سنہرے خواب دکھانے والی لیپا پوتی کی سیاست بھی چلتی رہے گی اس لئے تو حکمران طبقات عوام کے مسائل حل کرنے میں کبھی سنجیدہ نہیں ہوئے، اگر تھوڑی بہت دردمندی ہوتی عوام کے ساتھ تو ملک میں تو انائی کا بحران پیدا ہی کیوں ہونے دیا جاتا۔ قدرت نے ہمیں پانی کے بے پناہ وسائل دے رکھے ہیں جنہیں بروئے کار لا کر ہائیڈل بجلی کے منصوبوں کے جال بچھائے جا سکتے تھے اور ملک کو بجلی برآمد کرنے کے قابل بنایا جا سکتا تھا مگر حکمران طبقات میں موجود مفاد پرستوں نے کالاباغ ڈیم کو شجر ممنوعہ بنا دیا۔ چلیں یہ تو متنازعہ ہو گیا۔ ہائیڈل بجلی کے دوسرے منصوبے بھی بن سکتے تھے مگر تھرمل اور رینٹل پاور کے منصوبوں میں حکمران طبقات کو اپنے لئے نظر آنے والے ’’شیر خرموں‘‘ انہیں اب تک ہائیڈل بجلی کے حصول و فروغ سے بھٹکائے رکھا ہوا ہے۔ تو آج بھگتیں جناب۔ اب کراچی کے سخت موسم سے ہونے والی انسانی ہلاکتوں سے بھی لوڈشیڈنگ بڑھانے کا قصور آپ کے گلے پڑ رہا ہے اور اس شورا شوری میں قدرت کی جانب سے ہونے والے موسمی تغیر و تبدل کے ممکنہ نقصانات پر کسی کی توجہ نہیں جا رہی۔

ویسے تو اس وقت پوری دنیا موسمی تغیر و تبدل کی لپیٹ میں ہے۔ جس میں گرم موسم کا دورانیہ بتدریج کم اور سرد موسم کا دورانیہ سرعت کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ یقیناً اس کے اثرات زمین پر اگنے والی فصلوں، پھلوں اور دوسری اجناس کے علاوہ انسانی رویوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ اجناس کی استعداد گھٹ رہی ہے تو انسانوں کی ہیجانی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ اس موسمی تغیر و تبدل میں بھی یقیناً قدرت کی کوئی نہ کوئی حکمت کار فرما ہو گی مگر ہم مشیت ایزدی کو جانچنے، تسلیم کرنے کی بجائے ہر افتاد پر لٹھ لے کر حکمرانوں کے پیچھے پڑنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ کبھی مشیت ایزدی کا جائزہ لے کر خود کو سرد گرم موسموں کا دفاع کرنے کے لئے بھی تیار کر لیں مگر ہم اس کی جانب کبھی نہیںآئیں گے کیونکہ موسموں کے تغیر و تبدل کے ذریعہ کرہ ارض پر انسانی بوجھ کم کرنا مشیت ایزدی ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کی انسانی ذہن میں سوچ ڈالی ہی کیوں جائے گی۔

ابھی کل ہی تین امریکی یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق سے تیار کی گئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں اس امر کا واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ قدرت نے موسموں کو ناہموار کرکے کرۂ ارض پر موجود مخلوقات (بشمول انسانی مخلوق) کو ناپید کرنے کا اہتمام کر دیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق جو ظاہر ہے امریکہ کی تین مستند یونیورسٹیوں سٹینفورڈ، پرنسٹن اور برکلے کے عالی دماغوں نے باہم مل کر کی ہے، کارخانہ قدرت کی اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ دنیا میں ریڑھ کی ہڈی والے جاندار 114گنا زیادہ تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک رپورٹ گزشتہ سال ڈیوک یونیورسٹی نے جاری کی تھی جس کی اب موجودہ رپورٹ کے ذریعے توثیق کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ سے یہ جان کر تو انسانی جبینوں پر خوف کی تریڑیاں پڑ جانی چاہئیں کہ مخلوق کی وسیع پیمانے پر ناپیدی کا عمل اب چھٹے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ محققین کے مطابق ایسا آخری مرحلہ ساڑھے چھ کروڑ سال قبل پیش آیا تھا جب کرۂ ارض پر ڈائنوسار کا وجود ختم ہو گیا تھا۔ اس کا سبب بھی ایک بڑے شہابئے کے زمین سے ٹکرانے کا بتایا گیا۔ اب ایسے اسباب تو قدرت دنیا کے کونے کونے پر رکھے گئے ایٹم بموں کے ذریعے خود ہمارے اپنے انسانی ہاتھوں سے پیدا کر رہی ہے۔ پھر قربِ قیامت کی جو نشانیاں صحیفۂ آسمانی قرآن مجید میں پہلے ہی بتا دی گئی ہیں، ہمارے انسانی افعال و اعمال کیا ان نشانیوں کو اجاگر کرکے قیامت کے آثار خود ہی نہیں دکھا رہے۔ بھئی حکومتوں کو رگیدنے کے کلچر کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوڑئیے کہ اس میں رنگینی زیست کی رمق نظر آتی ہے مگر اپنی اپنی ٹیڑھی کل درست کرنے کی جانب بھی تو تھوڑی سی توجہ دے لیجئے۔ مشیت ایزدی کے تو اپنے تقاضے ہیں جنہیں پورا ہونے سے روکنا انسانی ذہن رسا سے ماورا ہے۔ بس کارخانہ قدرت پر قدرت ہی انسان کے بس میں نہیں ورنہ تو انسان کے ہاتھوں کب کی قیامت ڈھائی جا چکی ہوتی۔ اے بندۂ ناتواں، اب ہی کچھ چارہ کر لے۔ کرۂ ارض پر انسانی مخلوق کے ناپید ہونے کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر بھی انسانی کروفر میں کمی نہیں آ رہی تو کیا اس کرۂ ارض کو الٹانے میں کوئی دیر لگے گی؟ بس ’’کن‘‘ کا اشارہ چاہئے ’’فیکون‘‘ والا انجام دیکھنے کے لئے ہم میں سے کون موجود ہو گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com