ماہِ صیام کی فضیلتیں مگر ہمارے پلّے ہے کیا؟
Jun 19, 2015

آج رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے کا آغاز ہو رہا ہے جس میں خالقِ کائنات خداوند کریم نے اپنی بے حساب رحمتوں کے نزول کی نوید سنا رکھی ہے۔ یہ رحمتیں سمیٹنے اور نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے تو بندگانِ خدا اور امتِ رسولﷺ کے صبر و استقامت، بندگی، ایمان و ایقان اور دیانت و امانت کا امتحان بھی اسی مہینے ہوتا ہے۔ اگر خالق کائنات نے امتِ محمدی کو بھٹکانے والے شیطانِ مردود کو اس بابرکت مہینے میں بند رکھنے کا اہتمام فرمایا ہے تو شیطان کے بھٹکاوے میں آنے والوں کو درحقیقت راہِ راست پر آنے کا اس مقدس مہینے کے دوران موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ہم نے خداوند کریم کی برکتوں، فضیلتوں اور رحمتوں کو امتِ محمدی کے ناطے بس اپنے تک ہی محدود و مخصوص کر رکھا ہے جبکہ ربِ کائنات کا فلسفہ حیات و کائنات ہی کچھ اور ہے۔ اگر ربِ کائنات نے پیغمبر اسلام محمد مصطفی کو رحمت اللعالمین بنا کر اس کائنات پر مبعوث فرمایا ہے تو ربِ کائنات کی اس کائنات میں محمدِ عربی کل عالم کے پیغمبر ہیں۔ اسی لئے انہیں نبیوں کے امام کے منصب سے سرفراز کیا گیا ہے۔ ربِ کائنات کے اس فلسفہ حیات و کائنات کے ماتحت تو کل کائنات نے محمد عربی کے دین اسلام کی چھتری کے نیچے سمانا اور آسودگی حاصل کرنا ہے مگر ہم نے تو رحمت اللعالمین کے اس دین اسلام پر اپنی اپنی اجارہ داریاں قائم کرکے اسے تفرقہ بازی کی نذر کر دیا ہے اور امتِ محمدی کے لئے بھی یکساں چھاﺅں دینے والا شجرِ سایہ دار نہیں رہنے دیا۔

خداوند کریم کا تو یہ واضح ارشاد ہے کہ اس کے پاس روزہ دار کی بھوک نہیں، تقویٰ اور استقامت آئے گی تو آج ماہ صیام کے پہلے روزے سے ہی کیوں نہ عہد کر لیا جائے کہ خدا کی دی گئی نعمت روزے کو اپنے تقویٰ کی بنیاد مضبوط کرنے کے لئے بروئے کار لانا ہے اور امتِ محمدی کی حیثیت سے دنیا میں امن و آشتی، صلہ رحمی اور بھائی چارے کی مثال بے مثال بن کر محمدِ عربی کے دین اسلام کو سربلند و سرخرو کرنا ہے مگر

وائے ناکامی، متاع کاررواں جاتا رہا
کاررواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

ہم تو فضیلتوں، برکتوں والے اس مہینے کے دوران جھوٹ، ہیرا پھیری، ناجائز منافع خوری، لوٹ مار، چھینا جھپٹی، ریاکاری اور دھوکہ دہی میں خود کو دنیا میں بے مثال ثابت کرنے کی کوششوں میں مگن رہتے ہیں، پھر ہم خدا کی رحمتوں کے بجائے کیوں نہ قہرِ خداوندی کے مستحق ٹھہریں۔ ہمارے مقابلے میں غیر مسلم، ملحد، مشرک معاشرے کی جھلک دیکھ لیں۔ ان معاشروں میں عمومی حالات میں بھی مسلمان مشکوک اور مقہور بنا دئیے گئے ہیں مگر بالخصوص ماہ صیام کے دوران اور مسلمانوں کے دوسرے مذہبی تہواروں کے موقع پر ان ملحد اور مشرک معاشروں میں بھی مسلمانوں کے ساتھ روزہ دار کی حیثیت سے خصوصی نرمی اور رعائت اختیار کی جاتی ہے۔ یورپی دنیا میں گزشتہ روز ہی ماہ صیام کا آغاز ہو گیا تھا۔ ہماری قلم قبیلہ کی ایک مہربان و مشفق شخصیت ڈاکٹر سمانہ ذیشان دنیا دنیا اور ملکوں ملکوں گھومتی پھرتی رہتی ہیں۔ ان دنوں فرانس میں مقیم ہیں۔ گزشتہ روز ان کا ”فیس بک“ پر چشم کشا پیغام موصول ہوا جسے پڑھ کر میرے چہرے پر عرقِ انفعال کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ میں یہ پیغام آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ لکھتی ہیں ”میں اس وقت فرانس میں ہوں جہاں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے جریدے چارلی ایبڈو پر حملے کے بعد مسلم کمیونٹی کے لئے حالات انتہائی کشیدہ اور سنگین ہیں مگر ان حالات میں بھی آج وہاں ماہ صیام کا آغاز ہوا ہے تو یہی کشیدہ ماحول مسلمانوں کے لئے یکدم صلہ رحمی والا ماحول بن گیا ہے۔ فرانس کی تمام مارکیٹوں میںسحری اور افطاری کی خریداری کے لئے سبزیوں، فروٹ اور دوسری روزمرہ استعمال کی اشیاءمیں مسلم کمیونٹی کے لئے نرخوں میں دس سے پچاس فیصد تک ڈسکاﺅنٹ دے دیا گیا ہے جبکہ افطاری کے وقت فرانس کے گورے بچے ککیز، کینڈیز، ڈبل روٹی اور دیگر اشیائے خوردنی کے پیکٹ ہاتھوں میں لئے گلیوں بازاروں میں گھومتے مسلمان روزہ داروں کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ہر گزرنے والے سے یہی سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ روزہ دار مسلمان ہیں اور جو بھی ہاں کہتا ہے وہ اس کے ہاتھ میں اشیائے خوردنی کے پیکٹ تھما دیتے ہیں۔ یہ بچے مسلم کمیونٹی کے گھروں کے باہر بھی افطاری کے وقت اپنے ہاتھوں میں اشیائے خوردنی کے پیکٹ لئے گھومتے نظر آتے ہیں۔ آج میں پہلے روزے کے دن یونیورسٹی آئی تو وہاں میرے غیر مسلم کلاس فیلوز نے بطور خاص میرے لئے افطاری اور ڈنر کا اہتمام کیا۔ فرانس میں میں دوسرے ماہ صیام کی برکتیں سمیٹ رہی ہوں اور یہاں ماہ صیام کے دوران مسلم کمیونٹی کو دی جانے والی خصوصی رعایات کا اپنے ملک میں گزارے ماہ صیام کے ساتھ موازنہ کرتی ہوں تو مجھے اپنے آپ سے بھی شرم محسوس ہونے لگتی ہے“

ڈاکٹر سمانہ اس موازنے میں اپنی ارض وطن پر بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے چال چلن کا جو نقشہ کھینچ رہی ہیں وہ ہمارے لئے سوائے ندامت و شرمندگی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ حکومتوں کی جانب سے تو لیپا پوتی کے طور پر رمضان پیکج کے تحت سستے رمضان بازاروں اور یوٹیلٹی سٹورز پر عام مارکیٹوں سے سستی اشیاءفراہم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے مگر یہ سارے اعلانات بس زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہتے ہیں اور فی الحقیقت ہمارے تاجر، دکاندار، کاروباری طبقات اور خوانچہ فروش تک رحمتوں، فضیلتوں والے اس مقدس مہینے کو اپنی ناجائز منافع خوری، لوٹ مار اور ساری غیر معیاری اشیاءفروخت کرنے کا وسیلہ بنا لیتے ہیں جیسے اس مہینے کی فضیلت منافع خوری اور لوٹ مار کی شکل میں ہی ان پر اتاری گئی ہو۔ میں نے سمانہ ذیشان کے حوالے سے فرانس کی تو ایک مثال پیش کی ہے جبکہ ماہ صیام کے دوران یورپی غیر مسلم دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ اسلامی اخوت و بھائی چارے والی ایسی مثالیں آپ کو جابجا نظر آئیں گی۔ عوامی سطح پر بھی اور حکومتی سطح پر بھی۔ ہمارے دشمن پڑوسی ملک بھارت میں بھی اگرچہ مسلمانوں پر بالعموم عرصہ حیات تنگ ہے مگر وہاں ماہ صیام گزار کر آنے والے کئی عینی شاہدین بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ ماہ صیام کے دوران پورے بھارت میں مسلمانوں کو مارکیٹوں میں خصوصی رعائتیں دی جاتی ہیں۔ اور تو اور حج کے سیزن میں خود بھارتی حکومت اپنی جدہ کی پرواز کے لئے کرایوں میں نمایاں کمی کر دیتی ہے۔ تو بھائی صاحب اس مقدس مہینے کے دوران ہمیں اپنے مجموعی رویوں کا کیوں جائزہ نہیں لینا چاہئے کہ ہم نے جھوٹ، ہیرا پھیری، دھوکہ دہی، لوٹ مار میں اور فرقہ بندیوں میں ایک دوسرے کا خون بہانے میں دنیا پر سبقت لے جانے کی ہی کیوں ٹھانی ہوئی ہے؟ اس ریاکاری کو پال کر ہم ماہ رمضان میں خداوند کریم کی جانب سے شیطان مردود کو بند رکھنے پر طمانیت کا اظہار کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اعمال دیکھ کر شرم سے ہی ڈوب مرنا چاہئے کہ ہم تو ربِ کائنات اور محمدِ عربی کے ذریعے ودیعت کئے گئے اس کے امن و آشتی اور صلہ رحمی کے ضامن دینِ اسلام کے ساتھ بھی دھوکہ دہی سے نہیں ہچکچاتے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ اس بابرکت مہینہ کو ہمارے لئے رحمت و بخشش اور معافی کا مہینہ بنا دے مگر ہمارے پلّے ہے کیا؟

پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com