’’اے کشتۂ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا‘‘
May 05, 2015

معاف کیجئے۔ آپ مجھے کھلی چھوٹ دے رہے ہیں کہ میں آپ کو اذیت پہنچانے اور راندۂ درگاہ بنانے والی آپ کی شان میں ہر گستاخی کروں اور پھر بس پوپلے منہ کے ساتھ ہلکی سی سوری کرکے معاملہ رفع دفع کر لوں ’’مٹی پائو‘‘۔ اے بھائی صاحب اب اس منافقت کا وقت نہیں ہے۔ وہ تو اب اپنے ماں باپ ’’را‘‘ کو اپنا دشمن کہنے پر بھی آ گئے ہیں۔ مگر ذرا ان کے ذہن تو کھنگال کر دیکھئے۔ حالات سازگار ہونے بعد کیا وہ آج کے مصلحتاً بنائے جانے والے اپنے اچھے چال چلن پر قائم رہ پائیں گے۔ میاں محمد بخش زندگی کے تجربات کا نچوڑ حکمت کی یہ بات ایسے ہی تو نہیں کہہ گئے کہ

نیچاں دی اشنائی کولوں
فیض کسے نہ پایا
کِکّر تے انگور چڑھایا
ہر گوشہ زخمایا

تو جناب آزمودہ را آزمودن نیست۔ اب ملک کی سلامتی کا سوچئے۔ اس کے تقدس کی پاسداری کیجئے۔ اس کے اداروں کی تکریم کرنا سکھائیے اور اس کے لئے آئین کے تقاضے نبھائیے۔ آخر کہیں تو حدِ فاصل مقرر ہونی ہے۔ Enough is Enoughبھائی صاحب! اب واقعی لگام کھینچنے کا وقت ہے اس لئے اب پہلے والی منافقانہ مفاہمانہ سیاست نہیں چلے گی۔ اگر ایک پارٹی کا ہیڈ ہی آئین کی 63جی کے ایک ایک لفظ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ پاکستان بنانے کے ’’جرم‘‘ کو معاف کر رہا ہے نہ بانیان پاکستان کو تسلیم کر رہا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی نگہبان افواج پاکستان کے خلاف گلا پھاڑ کر ایسی ہرزہ سرائی کر رہا ہے جو سیدھا سیدھا اس ادارے کی تضحیک و توہین کے زمرے میں آتا ہے اور پھر دشمن ملک کی اس ایجنسی سے کمک طلب کرتا ہے جس کا ایجنڈہ ہی اس وطن عزیز کی سلامتی کو ختم کرنے کا ہے تو پھر جناب رعائت کی گنجائش کہاں سے نکل سکتی ہے۔ کیا بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے’’را‘‘ کی بات تو تفننِ طبع کے طور پر کی تھی۔ اور بس یہ کہنے سے نقصان کی تلافی ہو جاتی ہے کہ اگر میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں آپ سے سوری کہتا ہوں۔ ارے واہ یہ سوری کا لفظ استعمال کرنے کی ترکیب بھی کوئی آپ سے سیکھے اور اب تو ان کی رابطہ کمیٹی نے کراچی اور لندن میں مشترکہ طور پر سر جوڑ کر یہ گواہی بھی دے دی ہے کہ ’’را‘‘ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ تو پھر جناب اس گواہی کو ہی بنیاد بنا لیجئے۔ بے شک ایس ایس پی رائو انوار نے پریس کانفرنس کرکے اختیارات سے تجاوز کیا ہو گا مگر انہوں نے زیر حراست ملزموں سے جو اقبالی بیانات دلوائے۔ اگر یہ ملزم بھائی صاحبان ہی کے گروہ کے ہیں جن کے بارے میں کراچی اور لندن ہی کے ایکے کے ساتھ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ وہ ہمارے ہی ہیں تو اب محض ’’مٹی پائو‘‘ کا معاملہ نہیں ہے۔ ان کے اعترافی بیانات کو کھنگالئے۔ اگر ان کی بیان کردہ ساری کہانی درست ہے تو اب معافی کی کوئی گنجائش نہیں کہ ان ملزموں نے تو ’’را‘‘ سے تربیت پانے والے بھائی صاحبان کا سارا نیٹ ورک کھول کر بیان کر دیا ہے۔ اگر اب خود رابطہ کمیٹی گواہی دے رہی ہے کہ ’’را‘‘ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہی ہے تو اس کے تربیت یافتہ بھائی صاحبان کے کارندوں نے کس چیز کی تربیت حاصل کی ہے۔ اگر ان کارندوں کے اعترافی بیان کے بعد لیڈر بھائی اسی ’’را‘‘ کو پکارتے ہیں کہ ہماری مدد کو آئو، ایک بار کھل کر ہمارا ساتھ دو، پھر دیکھتے ہیں کہ دریائے سندھ میں کس کے خون کی ندیاں بہتی ہیں تو کیا اب محض اس لطیفے پر طمانیت قلب حاصل کر لی جائے کہ یہ بات تو میں نے ازراہ تفنن کہی تھی۔ آپ کسی کی ماں بہن کو غلیظ گالیاں دیں اور پھر کہیں کہ بھائی میں تو مذاق کر رہا ہوں تو کیا آپ کے ذہن کا علاج نہیں ہونا چاہئے۔ پھر جناب اتنی مکروہات و مغلظات سننے کے بعد بھی جناب وزیراعظم اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ الطاف بھائی نے اپنے کئے پر معافی مانگ لی ہے تو اب آئندہ کے لئے انہیں احتیاط کرنی چاہئے۔ پرویز رشید بھی یہ گرہ لگانے کا شوق پورا کرتے ہیں کہ معافی مانگنے کے بعد معاملہ ختم ہو گیا اور پھر پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ شانِ بے نیازی کے ساتھ یہ فتویٰ جاری کرتے ہیں کہ الطاف بھائی کی معافی کے بعد اس ایشو پر مزید کوئی بحث نہیں ہونی چاہئے تو جناب

’’حیراں ہوں، دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں‘‘

آپ مٹی ڈالیں گے، معاملہ ٹھپ کریں گے، بات آگے نہیں بڑھائیں گے تو درحقیقت برائی کو تسلیم کرکے اسے آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کریں گے۔ اس لئے اب معافی نہیں، قانون اور آئین کی عملداری کی ضرورت ہے۔ آئین کی دفعہ 63جی کا آپ سے تقاضہ ہے کہ اس میں جس جس کے خلاف ہرزہ سرائی کو جرم تسلیم کیا گیا ہے اگر ایسی ہی ہرزہ سرائی بارہا کرتے ہوئے نظریہ پاکستان کو بھی رگیدا گیا ہے اور افواج پاکستان کی بھی بھد اڑائی گئی ہے تو کیا محض سوری کا لفظ اس گھنائونے جرم کی تلافی بن سکتا ہے۔ اگر منافقانہ مفاہمانہ سیاست کے تابع آپ اس ایشو پر بھی باہم متفق ہیں اور مٹی پائو کا فلسفہ بگھار رہے ہیں تو آئین کی اس شق کو آئین کتاب سے نکال دیں۔ مگر اب مصلحت نہیں چلے گی جناب، کیونکہ یہ ملک کی سلامتی کا سوال ہے۔ اگر کوئی ملک کی سلامتی کے درپے کسی بیرونی ایجنسی کو اپنی مدد کے لئے پکار رہا ہے تو محض ’’کہا، سنا معاف؟‘‘

اے کشتہ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com