"پاکپتن دے پیاریا، عشق تیرے نے موہ لئی مَیں"
Apr 18, 2015

میرے پاکپتنی گرائیں راجا نیرّ نے کل ہانپتے ہوئے میرے دفتر میں دھاوا بولا اور بلا تمہید ’’سوچ دا پتن‘‘ نامی ایک کتاب میرے آگے دھر دی، ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر کیا کہ ہفتہ 18اپریل کو پاکپتن میں اس کتاب کی رونمائی کی تقریب ہو رہی ہے جس کی صدارت بھی آپ نے کرنی ہے، یا خدا اتنی جلد بازی اتنی بے تابی! ہمارے لاڈلے راجا نیرّ کے احکام بس ایسے ہی چلا کرتے ہیں۔ کتاب کے ساتھ تقریب رونمائی کا دعوت نامہ بھی موجود تھا جس میں تقریب رونمائی کے ساتھ ساتھ پنجابی مشاعرے کا بھی ’’سدّا‘‘ دیا گیا۔ اس دعوت نامے میں درج ’’اچیچے پروہنوں‘‘ اور شعرا کرام سمیت دوسرے متوقع شرکاء کے نام پڑھ کر ماضی کی ساری تلخ و شیریں یادیں نگاہوں کے آگے گھومنے لگیں اور پھر چار دہائیوں پر محیط ان یادوں کی بہاریں لگ گئیں۔ دفتری مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد ’’سوچ دا پتن‘‘ کی ورق گردانی شروع کی تو یادوں کے مزید انبار لگتے گئے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ فریدیہ کالج کے پروفیسر نوید عاجز کی مرتب کردہ اس کتاب میں پنجابی زبان کے پہلے صوفی بزرگ شاعر بابا فرید گنج شکر اور آفاقی کتاب ہیر وارث شاہ کے خالق وارث شاہ ہی نہیں، شہرِ فرید (پاکپتن) کے 35دیگر پنجابی شعراء کو بھی ڈھونڈ کر انہیں ان کے کلام اور شجرہ نسب سمیت کتاب کے 176صفحات میں سمو دیا گیا ہے۔ ان میں اپنے ہم عصر بعض شعراء اور اس سے پہلے کے کچھ شاعر حضرات کے نام تو یقیناً بہت مانوس ہیں مگر بعض شعراء کرام جن سے پہلے میری یاداللہ نہیں تھی، کے اشعار پڑھ کر میں ان کی گہرائی میں کھوتا چلا گیا۔ کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں شہرِ فرید کی دھرتی نے اپنے ماتھے کا جھومر بنائی ہوئی ہیں۔ نوید عاجز صاحب اس سے پہلے اپنی مرتب کردہ کتاب ’’شہرِ فرید کے شاعر‘‘ کے ذریعے پاکپتن کی زرخیز دھرتی پر اگنے والی اردو شاعری کی پرتیں بھی کھول چکے ہیں جس میں انہوں نے ایک سو کے قریب نایاب گوہر کھنگال کر ان سے ملک کے ادبی اور علمی حلقوں کو روشناس کرایا۔ سو میرے جیسا ’’گواچا‘‘ شاعر بھی ان کتابوں کے ذریعے انہوں نے تلاش کر لیا ہے۔ ’’سوچ دا پتن‘‘ پر جو سیر حاصل تبصرہ خود راجا نیر نے کتاب کے دیباچے میں کیا ہے وہ اتنا جامع ہے کہ اس میں گرہ لگانا بھی زیادتی ہو گی۔ مجھے تو بس اس کتاب کی ورق گردانی سے یادوں کے سمندر میں غوطے لگانے کا جو موقع ملا ہے، میں اس پر ہی نوید عاجز اور راجا نیر کا شکریہ ادا کرتے کرتے تھک جائوں گا۔ شہرِ فرید کی بزرگ ہستی سخی غلام قادر کے فرزند ارجمند پیر سید امیر حیدر امام گیلانی المعروف چن پیر کے تحریک پاکستان میں نمایاں اور لازوال کردار کے تذکرے تو والد گرامی چودھری محمد اکرم کی زبانی سنا کرتا تھا کہ وہ بھی ان کی جدوجہد کے شریک سفر ہوا کرتے تھے۔ چن پیر آل انڈیا مسلم لیگ منٹگمری کے صدر تھے اور قیام پاکستان کے لئے قائداعظم کا دم بھر رہے تھے۔ تقسیم ہند کے لئے تشکیل پانے والے بائونڈری کمشن میں پاکپتن کے معروف وکیل سید محمد شاہ جو نامور قانون دان سید افضل حیدر اور معروف سرجن سید ظفر حیدر کے والد گرامی ہیں، اس بائونڈری کمشن کے رکن نامزد ہوئے جنہوں نے فاضلکا اور منٹگمری کے درمیان پاکستان اور بھارت کی حدود کا تعین کیا اور ریونیو ملازم کی حیثیت سے والد گرامی چودھری محمد اکرم فیتہ لگا کر ان کی معاونت کرتے رہے۔ اس طرح ضلع منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کی پاکستان میں شمولیت ممکن ہوئی۔ نوید عاجز صاحب نے چن پیر جو قیام پاکستان کے بعد نوعمری میں ہی انتقال کر گئے تھے، کی والدہ ماجدہ مخدومہ وزیر بیگم کو پنجابی زبان کی سکہ بند شاعرہ کے طور پر روشناس کرا کے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ مجھے اپنی کم علمی پر دکھ ہوا کہ ان کا پنجابی کلام تو سید افضل حیدر نے اپنی کتاب ’’ذکر سخیاں‘‘ میں بھی شامل کیا ہوا ہے مگر میری نظر سے محو ہوتا رہا۔ ان کی نظم ’’سخی چن پیر دا وچھوڑا‘‘ پڑھ کر مجھے مامتا اپنے لاڈلے کے لئے کلکاریاں بھرتی اور پھر اس کی جدائی پر ’’ڈھائیں‘‘ مار کے روتی نظر آئی

صورت تینڈی من وچہ وَسدی
تینڈی یاد کلیجہ کھَسدی
لائیوئی وچھوڑے نے روگ پرانا
تَیں بِن دِسدا دیس بیگانہ

بابا فرید کے اشلوکوں اور پیر وارث شاہ کی ہیر وارث شاہ میں سموئے گئے سچے موتیوں کے ساتھ مخدومہ وزیر بیگم کی سوز و گداز سے مزین شاعری نے ’’سوچ دا پتن‘‘ کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ یادوں کا جھکڑ چلا تو والد صاحب کی حکیم موسیٰ امرتسری کے بڑے بھائی حکیم شمس الدین اور راجا نیر کے والد پاکپتن کے سکہ بند شاعر لطیف ادیب کے ساتھ تواتر سے ہونے والی نشستیں بھی آنکھوں میں گھوم گئیں۔ اکثر نشستیں پیر کریاں میں ہمارے گھر کی بیٹھک میں ہوا کرتی تھیں۔  ان نشستوں کی یادیں سموئے ہی مجھے ایک دو بار نسبت روڈ لاہور کے پچھواڑے حکیم موسیٰ امرتسری کے مطب میں ان سے ملاقاتوں کا شرف بھی حاصل ہوا۔ ادب و حکمت کے کیا خوب دن تھے وہ بھی۔ کتاب میں موجود فرید فرخ کے نام پر تو بچپن کی یادوں کے انبار لگ گئے۔ معروف اینکر عائشہ بخش کے چچا فرید فرخ اور میں پرائمری سے یونیورسٹی لاء کالج تک ایک دوسرے کے سنگی رہے۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال سے ہوتے ہوئے فرید فرخ مجھ سے پہلے لاہور آ گئے تھے اور جب 1974ء میں لاء کی تعلیم کے لئے مجھے بھی لاہور آنا پڑا تو فرید فرخ نے 18ڈی ظہور سٹریٹ ساندہ خورد لاہور کا اپنا کمرہ میرے حوالے کرکے مجھے چھت فراہم کی، گورنمنٹ پرائمری سکول غلہ منڈی پاکپتن کا یادگار زمانہ بھی نگاہوں میں گھومنے لگا ۔ رائو جمیل ہاشم اور حکیم یٰسین حسرت بھی ہمارے کلاس فیلو تھے اور کلاس کے اندر اکثر فرید فرخ، رائو جمیل ہاشم اور حکیم یٰسین حسرت میں کشتی کا مقابلہ ہوتا رہتا تھا۔ حکیم یٰسین حسرت کو عمر میں بڑے ہونے کے ناطے ہم ’’کُھنڈ‘‘ کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے۔ ’’سوچ دا پتن‘‘ میں فرید فرخ کی نظم ’’پاکستان دی فریاد‘‘ زیر مطالعہ آئی تو بچپن میں ان کی زبانی سنی گئی ان کی پنجابی شاعری بھی چوکڑیاں بھرتی نظر آئی۔ فرید فرخ نے بیرون ملک سفارتکاری میں عمر گزار دی ہے اور ہائی کمشنر کے منصب سے ریٹائر ہو کر اب اسلام آباد کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔ میں نے اپنی پنجابی شاعری کی پہلی کتاب ’’سوچ سمندر‘‘ کو شہرِ فرید سے منسوب کرکے برصغیر کے معروف قوال میاں دینا کی گائی قوالی کا ایک شعر درج کیا تھا کہ

پاکپتن دے پیاریا
عشق تیرے نے موہ لئی میں

آہ یہ من موہنے والا عشق ایسا ظالم ہے کہ کبھی سرد نہیں ہو پایا۔ فرید فرخ کا نام دیکھ کر اس نے جھنجھوڑا تو ظہور حسین ظہور اور محمد علی فریدی پر نظریں جماتے 70ء کی دہائی کی یادوں میںکھو گیا۔ ظہور جیسا من موہنا شاعر شائد ہی اس دھرتی پر پیدا ہو گا۔ کیا تکلم تھا، کیا لہجہ تھا، کیا سوز اور کیا گداز تھا، مائیک کے سامنے آ کر تان لگاتے تو پوری محفل کو دنیا و مافیہا سے پرے لے جاتے۔ ہندوستان متحدہ رہتا تو شِوکمار بٹالوی ان کے آ گے پانی بھرتا نظر آتا۔ تحت اللفظ کلام سنانے میں  ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کے ساتھ نیاز مندی دوستی میں بدلی تو گاڑھی چھننے لگی۔ وہ پیپلز پارٹی کے جیالے بھی تھے۔ 77ء کی انتخابی مہم اور پھر پی این اے کی تحریک کے دوران وہ پیپلز پارٹی کے جلسوں کی رونق بڑھایا کرتے تھے اور ان کے مدمقابل محمد علی فریدی پی این اے کے جلسوں کی جان ہوا کرتے تھے۔ اس دور میں ، میں نے بھی اپنی ایک پنجابی نظم ’’بھٹو راما‘‘ پیش کی تھی جس کا ایک بند حاضر خدمت ہے

میں کَیدو بن کے آواں گا
ہیراں نوں زہر پلاواں گا
میں ڈھک کے پُنو خاناں نوں
سَسیاں نوں تَھلیں رُلاواں گا
سب مکراں دا سلطان آں میں
ازلاں تو بھٹو خان آں میں

اس سے پہلے 1974ء میں قومی شاعر حفیظ جالندھری میری اردو نظم ’’بھٹو جئے ہزاروں سال‘‘ پر اپنے چار صفحات پر مشتمل مراسلہ میں میری ہمت بندھا چکے تھے۔ اس کا بھی ایک بند ملاحظہ فرمائیں

ایک معزز کا فرمان
ہم کو دے گا یہ انسان
روٹی کپڑا اور مکان
یہ منہ اور مسور کی دال
بھٹو جئے ہزاروں سال

میں نے اپنی ایسی جذباتی شاعری دانستاً اپنے مجموعہ کلام میں شامل نہیں کی مگر آج ’’سوچ دا پتن‘‘ میری اس شاعری کو بھی یادوں کے جھروکے سے باہر لے آئی ہے۔ میں نے پی این اے کی تحریک کے دوران بھٹو کی قید بھگتی تو ظہور حسین ظہور ضیائی آمریت کے قیدی بنے اور اس دور آمریت کے ناطے ہمارے دکھ بھی سانجھے ہو گئے۔ کتاب میں موجود بے شمار نویکلے شاعروں نے دل کو گرما دیاہے۔ ان کا تذکرہ کسی دوسری نشست میں۔ بس توقیر محمود کے اس شعرپر نگاہ جم گئی ہے

پِیڑاںپا کے میرے پلّے
وَنڈے اوہنے سُکھ برابر

نوید عاجز صاحب، میں شرمندہ ہوں کہ دفتری مصروفیت کے باعث آج آپ کی تقریب رونمائی میں شریک نہیں ہو پائوں گا، محمد علی فریدی صاحب آپ کے بس میں ہیں تو انہیں قابو کرکے میری جگہ صدارتی نشست پر رونق افروز کر دیجئے۔ یار زندہ، صحبت باقی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com