بے آئینی من مانی
Apr 14, 2015

پچھلے ہفتے دستور کا احترام کرنے والی دنیا کے ساتھ کھڑے ہو کر ہم نے یوم دستور منایا تو دل یہ سوچتے سوچتے ڈوبنے لگا کر ہمیں بھلا دستور کے تقاضوں سے کیا سروکار ہے کہ ہم نے تو بے دستوری کو ہی اپنا دستور بنا رکھا ہے۔ اگر اسلام آباد کی ایک اہم شاہراہ کو شاہراہ دستور کا نام دے کر ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ ہمارا شمار بھی دستور کا احترام کرنے والی اقوام میں ہو گیا ہے تو ہم اپنے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کوئی نہیں کر سکتے اور پھر یوم دستور عین اس وقت منایا گیا جب پارلیمنٹ میں نان ممبرز کو ممبرز کی نشستوں پر بٹھا کر اور انہیں ہائوس کی کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت دے کر دستور کی دھجیاں بکھیری جا رہی تھیں۔ بھائی صاحب۔ یہ دستور بھی ہم نے کیا موم کی ناک بنا لی ہے کہ اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر ہم  دستور کے تقدس کے احترام کی نادر مثالیں قائم کرتے ہیں۔ جنرل ایوب کے فرد واحد والے دستور کو تو حبیب جالب نے یہ کہہ کر چیلنج کیا تھا کہ …

ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو
میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا

مگر تقدس مآب متفقہ 73ء کے دستور کے دستور بنانے والوں کے ہاتھوں ہی جو بخئے ادھڑے ہیں اس کی روشنی میں کس منہ سے ہم یوم دستور مناتے ہوئے اپنی جڑت دستور کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں…

کعبے کس منہ سے جائو گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

ہمیں تو دستور کی حکمرانی کے لئے قائم ہونے والے اس ملک خداداد میں ابتدائی 9 سال تک دستور کی نعمتوں سے سرفراز ہونے کا کوئی موقع ہی نہیں مل پایا تھا اور جمہور کی حکمرانی میں 56ء کا دستور اپنی رونمائی کے جلوے دکھانے سے پہلے ہی ایوب خاں کے جرنیلی شب خون کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پھر اس جرنیل نے 62ء کے آئین کے ذریعے اپنے ماورائے آئین اقتدار کو آئینی اقتدار کے قالب میں ڈھالنے کا ڈھونگ رچایا اور 69ء میں اپنے اس دستور کا گلہ بھی اپنے ہاتھوں گھونٹ کر جرنیلی اقتدار کی مالا اپنے پیٹی بند بھائی یحیٰی خاں کے گلے میں ڈال دی اور پھر انہی کے دور ہزیمت نے ہمیں سقوط ڈھاکہ کا منحوس دن دکھایا جس کے بعد بچے کھچے پاکستان میں عبوری آئین کا سہارا لے کر بھٹو نے خود کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا کر دکھایا جس سے ان کی آمرانہ سوچ میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی تھی مگر 73ء کے متفقہ دستور کے وہی خالق گردانے گئے۔ ایک غیر دستوری اسمبلی اور حکومت کے ہاتھوں دستور کی تخلیق کا کارنامہ۔بھئی ہم اس سرزمین بے آئین پر ایسے ہی کارناموں کے تمغے تو سجا کے بیٹھے ہیں۔ آج تک کوئی تجسس نہیں ہوتا کہ 71ء کے انتخابات کا مینڈیٹ تو مشرقی اور مغربی سارے پاکستان کے لئے تھا۔ اس کا مشرقی  اور بڑا بازو کٹنے کے بعد بھلا اس مینڈیٹ کی کیا قانونی حیثیت رہی تھی کہ اس کی بنیاد پر سارے پاکستان کے مینڈیٹ کو ٹوٹے ہوئے پاکستان پر لاگو کرکے اپنے اقتدار کی راہ نکالی جاتی۔ پاکستان ٹوٹنے کے ساتھ تو یہ مینڈیٹ بھی چکنا چور ہو گیا تھا اور باقی ماندہ پاکستان میں اقتدار کی بساط بچھانے کے لئے ازسرنو انتخابات ضروری ہو گئے تھے مگر ’’ادھر ہم‘‘ والے جوش نے ہر ناجائز کو جائز قرار دے ڈالا۔ بغیر نئے مینڈیٹ کے اسمبلی بھی تشکیل پا گئی اور اقتدار کا سنگھاسن بھی سج گیا اور پھر اسی اسمبلی کے ہاتھوں 73ء کے متفقہ آئین کی تشکیل کا کارنامہ بھی سرانجام پایا۔ کیا ہم آج بھی یہ سوال نہیں اٹھا سکتے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بغیر انتخابات کے تشکیل دی گئی پارلیمنٹ کی کیا آئینی حیثیت تھی اور اس پارلیمنٹ کے منظور کئے گئے متفقہ دستور پاکستان کی کیا آئینی حیثیت ہے۔

یہ طرفہ تماشا ہے کہ جرنیلی آمروں کے مسلط کئے گئے مارشل لائوں کو تو پہلے نظریہ ضرورت کے تحت عدالتوں اور پھر ان جرنیلی آمروں ہی کے ہاتھوں تشکیل پانے والی اسمبلیوں میں آئینی تحفظ فراہم کیا جاتا رہا مگر سقوط ڈھاکہ کے بعد ماورائے آئین اقدام کے تحت تشکیل دی گئی پارلیمنٹ اور حکومت کو آئینی تحفظ دینے کی نہ اس پارلیمنٹ نے ضرورت محسوس کی اور نہ ہی 73ء کے آئین میں ایسی کوئی شق ڈالی گئی جس کے تحت 71ء کے بعد کے حالات کو غیر معمولی قرار دے کر بغیر انتخابات کے ہی پارلیمنٹ اور حکومت تشکیل دینے کے عمل کو آئینی تحفظ فراہم کیا جا سکتا۔ آج ہمیں آئین کی دفعہ 64 کی شق ایک اور شق دو بہت کچوکے لگا رہی ہے کہ ان دونوں شقوں کے ماتحت اسمبلی کی رکنیت کھو دینے والے پی ٹی آئی کے ارکان کس حیثیت میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہو کر اس کی کارروائی کا حصہ بنے ہیں جبکہ ہائوس میں ان کی حیثیت تو ایک اجنبی کی ہے مگر میں آج  آئینی بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھا رہا ہوں کہ 71ء کی اسمبلی کس آئینی شق کے تحت تشکیل پائی اور اس میں بیٹھے ہوئے لوگ کس آئینی شق ے تحت رکن اسمبلی قرار پائے تھے۔ بھئی ہم اجنبیوں کے ہاتھوں متفقہ آئین تشکیل دلا سکتے ہیں تو آج اجنبیوں کی معاونت سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والی محض ایک قرارداد پر معترض کیوں ہیں؟

میں بذات خود تو آئین کی پاسداری کا قائل ہوں اور متقاضی بھی مگر جنہوں نے آئین کی پاسداری قائم کرنی ہے وہ آئین کو اپنے لئے موم کی ناک بنائے رکھیں تو ہمیں یوم دستور منانے سے بھی بھلا کون روک سکتا ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے تو کمال ہی کر دیا کہ اسی سپیکر قومی اسمبلی کو ہائوس میں موجود پی ٹی آئی کے لوگوں کی حیثیت کے تعین کے لئے مراسلہ بھجوا دیا جنہوں نے اپنی ذات کو آئین کا درجہ دے کر پہلے ہی دفعہ 64کی شقوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ان کی ناجائز رکنیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہوئی ہے۔ اگر کسی ستم ظریف نے ’’ذاتِ شریف‘‘ کے بارے میں یہ سوال اٹھا دیا تو ان کے پلے کیا رہ جائے گا کہ آئین کی کس شق کے تحت وزیراعظم نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر انہیں چیف جسٹس کے منصب پر بحال کرنے کا حکم  صادر کیا تھا جبکہ انہوں نے وزراتِ عظمیٰ کا ابھی حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔ ہم آئین کی پاسداری کے کس کس تقاضے کی پامالی کا ذکر کریں۔ آئین کا تقاضہ حکومتوں کو مقررہ میعاد کے اندر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا پابند بناتا ہے مگر یہ تقاضہ آئین کے اس تقاضے سے انحراف کرکے نبھایا جاتا ہے اور اس آئین شکنی پر کوئی خوف بھی محسوس نہیں کیا جاتا۔ آئین کے تقاضے کے تحت اردو زبان کو پندرہ سال قبل سرکاری زبان کے قالب میں ڈھل جانا چاہئے  تھا۔ بیچاری فاطمہ قمر نے دہائی دیتے ہوئے کوئی قانونی، آئینی، عدالتی اور پارلیمانی فورم نہیں چھوڑا مگر ہم نے تو من مانی بے آئینی کرتے ہوئے یوم دستور منانے کی رسمیں نبھانی ہیں۔ کسی آئینی شق میں ہمیں ان من مانیوں سے روکنے کی کوئی طاقت ہے تو وہ اس کا مظاہرہ کرکے دیکھ لے ۔ وہ شاہراہ دستور پر ٹکریں مارتی ہی نظر آئے گی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com