میرا آپ سے کیا جھگڑا ہے؟
Apr 07, 2015

میں اس بحث میں ہرگز نہیں جاﺅں گا کہ عمران خاں اپنی دھرنا تحریک کے دوران موجودہ منتخب ایوانوں کے بارے میں کیا کہتے رہے اور پی ٹی آئی کے ارکان کو اسمبلیوں سے مستعفی کرانے کے بعد اسمبلیوں میں نہ جانے کے کس موقف پر کس بنیاد پر ڈٹے رہے۔ سیاست میں تو بہت کچھ ہوتا ہے اور بہت کچھ چلتا ہے جس میں منافقت بھی ہوتی ہے اور مفاد پرستیوں کے تابع مفاہمت بھی ہوتی ہے جسے کبھی قومی مفاہمت کے چکمے ”این آر او“ کا لیبل لگا کر پوِتّر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی میثاقِ جمہوریت (سی او ڈی) کی کٹ حجتی سے جمہوریت کے قیام، استحکام اور دوام کا نعرہ لگا کر فروغ دیا جاتا ہے اور کبھی کل کے حریفوں کے آج حلیف بننے کے جواز میں اس ڈھکوسلے کو مجرب نسخہ بنایا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ آج پی ٹی آئی کے ارکان کے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں واپس آنے پر وسیع تر قومی مفاد کے جعلی دلفریب نعرے کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے اور سیاست کاری کے اس کھیل میں شائد عمران خاں کو یہ کہنے کا بھی حق حاصل ہے کہ آج اسمبلیوں میں جانے کے باوجود وہ ان اسمبلیوں کے بارے میں اپنے موقف پر قائم ہیں اور کہنے کو تو پانی میں مدھانی ڈال کر بات کہیں سے کہیں پہنچائی اور پھیلائی جا سکتی ہے مگر میں سیاست کے گند میں لتھڑے عمرانی قواعد و ضوابط کے باوصف آج صرف اس بات کو موضوع بحث بنانا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں پر پی ٹی آئی ہی نہیں، حکومت کی جانب سے بھی آئین پاکستان کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے اور اسی حوالے سے میں سوال اٹھانا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی والے آج کس حیثیت میں پارلیمنٹ کے اندر براجمان ہوئے ہیں اور ان کی موجودگی میں پارلیمنٹ کی کارروائی کی کیا قانونی اور آئینی حیثیت ہے۔

سات ماہ قبل جب دھرنا تحریک کے ابتدائی مراحل میں ہی پی ٹی آئی نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں (اس وقت سینٹ میں اس پارٹی کی کوئی نشست نہیں تھی) سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے کے اعلان کے اگلے روز ہی پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اور ماسوائے خیبر پی کے اسمبلی، اس کے ارکان صوبائی اسمبلی نے باقاعدہ طور پر اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے استعفے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکروں کی میز تک پہنچا دئیے تو میں نے اسی روز وقت ٹی وی کے ایک خصوصی لائیو ٹاک شو میں آئین کی دفعہ 64کا حوالہ دے کر عرض کیا تھا کہ سپیکرز سیکرٹریٹ کو یہ استعفے وصول ہوتے ہی ازخود منظور ہو چکے ہیں اور آئینی تقاضے کے تحت الیکشن کمشن ان خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے میں یہاں آئین کی دفعہ 64شق ایک اور دو کو من و عن پیش کر رہا ہوں۔

64-Vacation of seats (1) A Member of Majlis-e-Shoora (Parliament) may, by writing under his hand addressed to the Speaker or as the case may be, the chairman resign his seat, and there upon his seat shall be Vacant.
(2)- A house may declare the seat of a member vacant if, without leave of the house, he remains absent for forty consecutive days of its sitting.

میں حکومتی پارٹی اور پی ٹی آئی کے آئینی اور قانونی ماہرین کی اہلیت اور صلاحیت کو ہرگز چیلنج نہیں کر رہا۔ بڑے بڑے عالی دماغ ان پارٹیوں میں موجود ہیں معروف قانون دان اور پی ٹی آئی کے نائب صدر حامد خاں تو پنجاب یونیورسٹی لاءکالج میں میرے استاد بھی رہے ہیں۔ ان سب عالی دماغوں کو آئین کی دفعہ 64کی دونوں شقوں پر مکمل عبور حاصل ہو گا جن کے الفاظ اور معانی و مفہوم میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ جس کی شق (1)مکمل طور پر واضح کر رہی ہے کہ مجلس شوریٰ کا کوئی رکن اپنے دستخطوں کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینٹ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دے گا تو اسی وقت اس کی سیٹ خالی ہو جائے گی۔ اس کے لئے لفظ "Shall be vacant"استعمال کیا گیا ہے جو کسی ابہام سے بالاتر ہے۔ اسی طرح آئین کی دفعہ 64 شق (2) کے تحت پارلیمنٹ کا کوئی رکن بغیر باضابطہ رخصت کے اپنے ہاﺅس سے مسلسل 40روز تک غیر حاضر رہے تو ہاﺅس اس کی نشست خالی قرار دے سکتا ہے۔ اس شق کے تحت ہاﺅس کو صوابدیدی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مسلسل 40روز تک غائب رہنے والے اپنے کسی رکن کی نشست خالی قرار دے یا اسے تنبیہ کرکے آئندہ کے لئے ہاﺅس میں حاضری کا پابند بنائے۔ مگر شق (1) میں ہاﺅس (سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینٹ) کو ایسا کوئی صوابدیدی اختیار نہیں دیا گیا اور متعلقہ رکن کے دستخطوں کے ساتھ استعفیٰ موصول ہوتے ہی اس کی نشست خالی ہو جاتی ہے۔

پی ٹی آئی کے ارکان کے دستخطوں کے ساتھ استعفے وصول کرنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے متعلقہ ارکان کے خود موجود ہونے کی شرط کا جو جواز نکالا وہ سب سیاست تھی۔ ایک دوسرے کو سہولت دینے والی منافقانہ مفاہمانہ سیاست۔ جبکہ اس سیاست میں آئین کو اسی طرح توڑا موڑا جاتا رہا جیسے جرنیلی آمر ضیاءالحق نے ایک موقع پر آئین پر پھبتی کسی تھی کہ آئین کاغذ کے چند ٹکڑے ہی تو ہیں جنہیں میں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں۔ اگر سپیکر قومی اسمبلی نے اس بھونڈی تاویل پر استعفوں کی منظوری کا اعلان نہ کرنے کا غیر آئینی قدم اٹھایا اور حکومتی بنچوں کی جانب سے مسلسل چھ ماہ تک اس پر مفاداتی سیاست کی جاتی رہی تو آج پی ٹی آئی کے سربراہ اور اس کے دوسرے ارکان نے بھی اپنے استعفے ٹنڈر کرنے کے باوجود پارلیمنٹ کے اندر ارکان کے لئے مخصوص نشستوں پر بیٹھ کر آئین پاکستان کو اپنے ہاتھ کا کھلونا بنایا ہے۔ تو حضور والا! ایسے رویوں، ایسے ذہن اور ایسی سوچ کے حامل ارکان پارلیمنٹ سے آئین کے تحفظ اور سسٹم کی بقاءکے لئے کوئی کردار ادا کرنے کی بھلا کیسے توقع کی جا سکتی ہے۔ اصولوں کی سیاست تو اس سسٹم کے ساتھ بندھے ریاکاروں کے ہاتھوں ویسے ہی راندہ درگاہ ہو چکی ہے اس لئے پارلیمنٹ کے گزشتہ روز کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی کے لوگوں کے استعفوں کے حوالے سے ایوان میں ان کی موجودگی پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے وقت سپیکر قومی اسمبلی اس کٹ حجتی کا مظاہرہ کر رہے تھے کہ ”جب تک کوئی رکن انفرادی طور پر میرے حضور پیش ہو کر اپنا استعفیٰ نہیں دے گا، میں قانوناً اس کا استعفیٰ منظور نہیں کروں گا“ تو جناب ان کی زبان کون روک سکتا ہے کہ وہ تو ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ کے زعم میں گرفتار ہوئے بیٹھے ہیں۔

جس مقصد کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ ہم تو خود تقاضہ کرتے رہے ہیں کہ یمن پر سعودی عرب کی حمائت میں فوج کشی کا یکطرفہ طور پر فیصلہ کرنے سے گریز کیا جائے اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لا کر ہاﺅس کی اجتماعی رائے کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔ یقیناً قومی مفاد سے متعلق کسی معاملہ پر فیصلہ کرنے کا یہی مناسب طریقہ اور مناسب فورم ہے۔ مگر بھائی صاحب پی ٹی آئی کے لوگوں نے کس حیثیت میں ہاﺅس کی اس کارروائی میں حصہ لیا۔ یہی میرا تجسس اور آئین کی پاسداری کا تقاضہ ہے۔ اگر یہ سب غلط ہوا ہے تو پارلیمنٹ میں اہم ترین ایشو پر منظور کی جانے والی قرارداد کی کیا قانونی اور آئینی حیثیت ہو گی؟ آپ ڈھٹائی سے گریز کرتے ہوئے قاعدے قانون کے تحت قوم کو اس پر مطمئن کر دیجئے، میرا آپ سے کیا جھگڑا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com