امامِ صحافت کی سالگرہ پر آبروئے صحافت کے
Apr 04, 2015

برادرم شاہد رشید نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے فورم پر امام صحافت مجید نظامی کی سالگرہ منانے کی روایت کو ان کی زندگی کے بعد بھی برقرار رکھا ہے تو ان کے بعد از حیات منعقد ہونے والی ان کی پہلی سالگرہ کی تقریب یادگار اور شاہکار بن گئی کہ اس تقریب میں مجید نظامی سے وابستہ یادوں کے دبستاں کھلتے گئے اور ان کی جرا¿ت و پامردی سے منسوب واقعات ان کے دوست احباب اور رفقاءکاران کی زبان سے ادا ہوتے سنہری تاریخ کا حصہ بنتے گئے۔ محترم مجید نظامی اپنی زندگی میں اپنی سالگرہ کی تقریب کے اہتمام کے لئے ہمیشہ کسر نفسی سے کام لیا کرتے تھے مگر شاہد رشید نے 20 سال قبل اس روایت کا آغاز کیا اور پھر ہر سال 3 اپریل کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم پر آبروئے صحافت کی سالگرہ کا پوری آبرومندی کے ساتھ اہتمام ہونے لگا۔ مجید نظامی ہر سال اس تقریب میں شمولیت سے گریز کی کوشش کرتے مگر شاہد رشید بالاصرار انہیں تقریب میں لے آتے۔ ان کے بقول صرف 2013ءمیں محترم مجید نظامی نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور تقریب میں شمولیت سے گریز میں کامیاب رہے مگر گزشتہ سال 2014ءکو شاہد رشید نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور مجید نظامی اپنی سالگرہ کی تقریب میں شریک ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ آج آپ اپنی من مانی کر لو۔ شاید قدرت نے انہیں پیشگی آگاہ کر دیا تھا کہ اس جہانِ فانی میں یہ سال ان کی زندگی کا آخری سال ہے۔ آج وہ زندہ سلامت اپنی سالگرہ کی تقریب میں شریک ہیں تو اگلے سال ان کی سالگرہ کی تقریب ان کی یادوں کے ساتھ منسوب ہو گی۔ گزشتہ روز امام صحافت کے 87ویں میں یوم ولادت کی خوشی کی تقریب میں بھی سب کی آنکھیں نم تھیں مگر ان کے مشن پر کاربند رہنے کا جذبہ بھی موجزن تھا۔ باتوں سے باتیں نکلتی رہیں، کڑیوں سے کڑیاں ملتی گئیں اور تاریخ رقم ہوتی گئی۔ اس تقریب کی صدارتی نشست پر محترم مجید نظامی کے دیرینہ رفیق کار سابق صدر مملکت اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کے جانشین محمد رفیق تارڑ صاحب جلوہ افروز تھے اور سٹیج پر مجید نظامی کے ہر پل کے ساتھی اور راز داں جسٹس میاں آفتاب فرخ بھی موجود تھے تو میرے ذہن میں بھی ان دو شخصیات کے حوالے سے مجید نظامی سے وابستہ یادوں کے در وا ہو گئے۔ سو میں نے اس موقع کو ہی غنیمت سمجھا کہ اپنے ساتھ وابستہ محترم مجید نظامی کی ورکر دوستی کی مثالیں ان شخصیات ہی کو گواہ بنا کر تاریخ میں ریکارڈ کرا دوں۔

محترم مجید نظامی کے بارے میں یہ عمومی تاثر تھا کہ وہ ورکر دوست نہیں ہیں جبکہ ان کی سرپرستی میں پیشہ صحافت میں گزارے اپنے 33 سال کے عرصے کے دوران میرے مشاہدات اس تاثر سے قطعی متضاد رہے۔ اس تقریب میں مَیں نے اپنی ذات سے منسوب صرف دو واقعات سنائے جو مجید نظامی کی ورکر دوستی کا شاہکار ہیں اور ان کے آبروئے صحافت ہونے کی دلیل۔ 1986ءمیں مَیں نے باچا خان خاندان کی بھارت کے ساتھ وفاداری کے حوالے سے کالم لکھا جو محترم مجید نظامی نے خود ایڈٹ کر کے اشاعت کے لئے دیا۔ اس کالم کی اشاعت کے بعد خان عبدالولی خان نے نوائے وقت کو دس کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا جو اس دور میں کسی اخباری ادارے کے خلاف ہرجانے کا سب سے بڑا کیس تھا۔ مجید نظامی صاحب نے نوٹس موصول کرنے کے بعد مجھے طلب کیا اور فرمانے لگے کہ ہم دو سطر کی معذرت شائع کر کے اس نوٹس سے خلاصی پا سکتے ہیں مگر چونکہ آپ نے کوئی غلط بات تحریر نہیں کی جس پر میں مطمئن بھی ہوں تو پھر ہم معافی کیوں مانگیں، ہم نے اس کیس کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوئے کہ آپ کے پائے استقلال میں بھی کوئی لغزش پیدا نہیں ہونی چاہئے۔ ان کی جگہ کوئی دوسرا ایڈیٹر اور مالک ہوتا تو دس کروڑ ہرجانے کے نوٹس پر وہ اپنے متعلقہ کارکن کو کھڑے پاﺅں نکال باہر پھینکتا جیسا کہ بعض اخباری مالکان کی جانب سے ایسا کیا بھی جاتا رہا ہے مگر مجید نظامی نے اصولوں کی صحافت میں مرعوب، مرغوب اور خوفزدہ ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے ولی خان کے نوٹس کا جواب بھجوا دیا اور یہ پیغام دیا کہ ہم عدالت میں اس کیس کا دفاع کریں گے چنانچہ ولی خان نے پشاور کی سول کورٹ میں دس کروڑ ہرجانے کا دعویٰ ائر کر دیا۔ بھلا پشاور کی کسی ماتحت عدالت کی یہ مجال ہو سکتی تھی کہ وہ ولی خان کے دائر کردہ کیس میں میرٹ پر انصاف کی عملداری کی مقتاضی ہوتی۔ سول کورٹ نے نوائے وقت کے خلاف دس کروڑ کی ڈگری جاری کر دی جبکہ پشاور کی سیشن کورٹ نے بھی نوائے وقت کے خلاف اس فیصلے کی توثیق کر دی مگر مجید نظامی کسی غلط بات پر کمپرومائیز نہ کرنے کے اصول پر کاربند رہے اور نوائے وقت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گی۔ اسی دوران 1988ءکے انتخابات سے قبل آئی جے آئی تشکیل پائی اور ولی خان بھی میاں نواز شریف کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس اتحاد کا حصہ بن گئے اس ہمراہی کے دوران میاں نواز شریف نے نوائے وقت کے خلاف دائر کیس کے حوالے سے ازخود ولی خان سے بات کی اور انہیں کیس واپس لینے پر قائل کیا۔ اگر ولی خان یہ کیس واپس نہ لیتے تو مجید نظامی سپریم کورٹ تک یہ کیس لڑنے کی تیاری کر چکے تھے جبکہ ولی خان کے کیس واپس لینے سے مجید نظامی کی آبرومندانہ صحافت ہی کی جیت ہوئی۔

اس سے زیادہ آزمائش والا مرحلہ 1990ءمیں درپیش ہوا جب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں بے نظیر بھٹو کی حکومت اور اسمبلیوں کی تحلیل کے خلاف آئینی رٹ درخواست اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد رفیق تارڑ کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے روبرو زیر سماعت تھی۔ غلام مصطفی جتوئی نگران وزیراعظم تھے۔ ہائیکورٹ رپورٹر کی حیثیت سے میں نوائے وقت میں اس کیس کی کوریج کر رہا تھا۔ ایک دن دوران سماعت بنچ کے ایک فاضل رکن نے جو بعد ازاں خود بھی چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوئے، ریمارکس دئیے کہ نگران وزیراعظم صرف روزمرہ کے معاملات نمٹانے کے مجاز ہیں، انہیں کسی پالیسی معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے کا ہرگز اختیار نہیں۔ اگلے روز نوائے وقت سمیت تمام قومی اخبارات میں یہ خبر لیڈ سٹوری کے طور پر شائع ہوئی۔ چونکہ اس کیس کی روزانہ سماعت ہو رہی تھی اس لئے اگلے روز کی کارروائی کے دوران متذکرہ خبر کے حوالے سے فاضل بنچ کا مزاج برہم نظر آیا اور بطور خاص مجھ پر کرم فرمائی کرتے ہوئے عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا جس کی پی ٹی وی نے تزک و احتشام کے ساتھ خبر ٹیلی کاسٹ کی۔ صرف اس پر ہی اکتفا نہ کیا گیا بلکہ نوائے وقت سمیت پانچ قومی اخبارات کے ایڈیٹرز، پرنٹرز، پبلشرز اور متعلقہ رپورٹرز کو اظہار وجوہ کے نوٹس بھی جاری کر دئیے گئے کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ نوٹس موصول ہونے کے بعد مجید نظامی صاحب نے مجھے طلب کیا اور اپنی جانب سے یہ اطمینان حاصل کیا کہ خبر کے مندرجات بالکل درست ہیں۔ میں نے اس تصدیق کی تو انہوں نے فرمایا کہ ٹھیک ہے ہم اس کیس کا دفاع کریں گے۔ عدالتی موڈ کو دیکھ کر دوسرے اخباری اداروں کے مالکان اور ایڈیٹران کے پسینے چھوٹ رہے تھے اور وہ غیر مشروط معافی مانگ کر خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑنے پر آمادہ ہو چکے تھے جس کے لئے کہیں انہیں پیغام بھی ملا تھا کہ ایسا کر لو تو عدالت سے خلاصی ہو جائے گی۔ محترم مجید نظامی نے اپنے دیرینہ رفیق میاں آفتاب فرخ کو اس کیس کے دفاع کی ذمہ داری سونپی جو خود بھی دبنگ جج رہے ہیں اور فوجداری مقدمات میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ مقررہ تاریخ سماعت پر رپورٹروں کے ساتھ محترم مجید نظامی اور دوسرے اخبارات کے ایڈیٹران بھی بطور مدعا علیہان کمرہ¿ عدالت میں موجود تھے اور ان کے وکلاءکی یہ کوشش تھی کہ نوائے وقت کے وکیل اپنے دلائل کا آغاز کریں تاکہ معافی مانگنے کا بوجھ نوائے وقت پر ہی پڑے جبکہ نوائے وقت معافی مانگنے نہیں، اس کیس کا دفاع کرنے آیا تھا۔ میاں آفتاب فرخ نے نکتہ آفرینیوں کے ساتھ اپنے دلائل کو آگے بڑھانا شروع کیا تو عدالت کی جانب سے ان سے استفسار کیا گیا کہ وہ اپنے مو¿کل کی جانب سے معافی نامہ پیش کر رہے ہیں یا کیس کا دفاع کرنے آئے ہیں؟ میاں آفتاب فرخ نے قانونی جنگ کے اس عدالتی وار کو برداشت کیا اور دلائل کا سلسلہ ٹوٹنے نہ دیا۔ اسی دوران مجید نظامی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور فاضل بنچ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں آپ مجھے اس کا موقع دیں۔ پہلے سے کشیدہ عدالتی ماحول میں جناب مجید نظامی کے کھڑے ہو کر عدالت سے مخاطب ہونے سے ماحول اور بھی کشیدہ ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ بنچ کی جانب سے جناب مجید نظامی کو نشست پر بیٹھنے کے لئے کہا جاتا، انہوں نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمیں تو توہین عدالت کے نوٹس بھجوا دئیے ہیں مگر کمرہ عدالت میں نصب اپنے ساﺅنڈ سسٹم پر کوئی توجہ نہیں دی جو اتنا خراب ہے کہ آپ کی زبان سے ادا ہونے والا کوئی لفظ ٹھیک طرح سے سنائی نہیں دے رہا۔ اگر اس ساﺅنڈ سسٹم کے ہوتے ہوئے ہمارے رپورٹر عدالتی کارروائی کے حوالے سے کوئی غلط بات لکھ دیں تو آپ توہین عدالت کے نوٹس بھیج دیتے ہیں، پہلے آپ اپنا ساﺅنڈ سسٹم تو ٹھیک کرائیں۔ ان کی اس بات پر پورے کمرہ¿ عدالت پر سناٹا طاری ہو گیا اور دوسرے مدعا علیہان کے چہروں پر یہ سوچ کر ہَوائیاں اُڑنے لگیں کہ آج ہمیں سزا ہو کر رہے گی۔ بنچ کے فاضل ارکان بھی شش و پنج میں پڑ گئے اور پھر اُٹھ کر چیمبر میں چلے گئے، جس کے بعد کھسر پُھسر اور چہ مگوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تاہم آدھ گھنٹے بعد کیس کے اگلے روز کے لئے التوا کا حکمنامہ چیمبر سے ہی موصول ہو گیا اور اگلے روز فاضل بنچ نے توہین عدالت کے نوٹس واپس لینے کے احکام صادر کر دئیے۔ محترم مجید نظامی نے مجھے بُلایا اور انگریزی میں مخاطب ہوئے

"You are the author of this whole story, so maintain this Pride"

یقیناً یہ ان کی ورکر دوستی کی نادر مثال تھی۔ میں نے گذشتہ روز کی تقریب میں تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر محترم رفیق تارڑ سے اس سوال کے ساتھ یہ واقعہ بیان کیا کہ اس کیس میں اخباری مالکان اور ایڈیٹروں کو توہین عدالت کے نوٹسوں کا پس منظر اس وقت کے نگران وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی کے فاضل عدالت کے ساتھ خفگی کے اظہار کا نظر آتا تھا جس کے بارے میں سرکاری وکلاءچہ مگوئیاں کرتے پائے جاتے تھے۔ اگر یہ تاثر درست تھا تو عدالتی عملداری کے حوالے سے اس سے زیادہ افسوسناک اور کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ محترم رفیق تارڑ نے اپنے صدارتی خطبے میں کمال عظمت سے اس کا جواب دیا اور کہا کہ آسی صاحب نے 25 سال پرانے اس واقعہ کو چھیڑ کر مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے مگر میں اس پیرانہ سالی میں حاضرین مجلس کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ عدالت پر اس کیس کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی دباﺅ نہیں تھا۔ اگر ہم پر کوئی دباﺅ ہوتا تو ہم اگلے ہی روز توہین عدالت کے نوٹس واپس کیوں لیتے۔ بہرحال تاریخ کا حصہ بنا یہ واقعہ بھی مجید نظامی کی بے باکی اور حق بات پر اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا ثبوت ہے۔ ایسے بے شمار واقعات ان کی ذات کے ساتھ منسوب ہیں جن کا میں خود بھی شاہد ہوں۔ ان کے یہی اصول صحافت کی آبرو کی ضمانت بنے ہیں اور آج ہم بھی فخر سے سر بلند کر کے آبروئے صحافت کے ساتھ اپنی نیاز مندی کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ وہ حاکمانِ وقت کو چیلنج کرتے ہوئے خدا کے حضور بھی سرخرو ہوئے ہیں اور ہمیں بھی اس امام صحافت کے مقتدی ہونے پر ناز ہے۔ ان سے وابستہ یادوں کے دیپ جلتے رہیں گے تو صحافت کی آبرو بھی قائم رہے گی۔ انشاءاللہ!
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com