واہ مخدوم رکن الدین ’’جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے‘‘
Mar 24, 2015

اگر شرافت، شائستگی اور اصولوں کی سیاست کا تذکرہ کیا جائے تو مخدوم رکن الدین پر نظر ٹِک جاتی ہے۔ کوئی ان کا ثانی نظر آتا ہے نہ متبادل مگر یہ کیا ہوا کہ ہمارا یہ مرنجاں مرنج پیارا دوست سیاسی گوشہ نشینی اختیار کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے چپ چاپ اس دنیا سے بھی رخصت ہو گیا اور ہمیں اس کی میت کو کندھا دینے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ کہیں میڈیا پر اس دبنگ سیاسی شخصیت کی موت کی کوئی سنگل کالم خبر بھی نظر سے نہیں گزری۔ کسی ٹی وی چینل نے شائستگی کی سیاست کی امین اس شخصیت پر کوئی ’’پیکج‘‘ تیار کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی، گزشتہ روز اپنے شفیق بزرگ سید انور قدوائی کے کالم کے ذریعے مخدوم رکن الدین کے اس جہانِ فانی سے چل بسنے کی خبر ملی تو دل جیسے مٹھی میں آ گیا۔ کیا شاندار اور جاندار سیاسی روایات کے امین تھے مخدوم رکن الدین

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

انہوں نے تو اپنے دوستوں پر توڑی جانے والی اس قیامت کی بھی کسی کو خبر نہ ہونے دی اور 18مارچ کی شام ہوٹل سے گاڑی ڈرائیو کرکے گھر واپس آتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور خاموشی کے ساتھ راہی ملک عدم ہو گئے۔ ارے یہ کیسا جانے کا انداز ہے

کہاں وہ قربتیں اتنی
اب اتنے فاصلے جاناں

مخدوم صاحب سے میری نیازمندی کا آغاز 1977ء میں روزنامہ آزاد سے ہوا۔ اس اخبار کا یہ نیا دور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد بی این اے کی ایک اہم جماعت تحریک استقلال کے ترجمان کی حیثیت سے شروع ہوا تھا۔ میں اس اخبار کے ساتھ بطور سٹاف رپورٹر وابستہ ہوا تو اپنی ’’بِیٹ‘‘ کی مناسبت سے تحریک استقلال کے قائدین اور عہدیداروں سے بھی روابط کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ چنانچہ مجھے بطور خاص ملک حامد سرفراز، میاں محمود علی قصوری، ملک حیدر عثمان، آصف فصیح الدین وردگ اور منیر احمد خاں جیسے دوستوں کا گلدستہ بھی دستیاب ہو گیا۔ گرائیں ہونے کے ناطے سید منظور علی گیلانی سے پہلے سے یاداللہ تھی جبکہ بلوچستان کے خدائے نور، پشاور کے سید منیر شاہ، کراچی کے مشیر احمد پیش امام، احمد میاں سومرو بھی دوستوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ اسی ہمسفری میں ہی چودھری اعتزاز احسن، خورشید محمود قصوری، بیگم مہناز رفیع اور حبیب جالب کے ساتھ بھی محفلیں سجنے لگیں۔ پھر تحریک استقلال کے نوجوان لیڈر منیر احمد خاں نے تحریک استقلال کی قیادتوں کے ساتھ اخبار نویسوں کی نشستوں کا اہتمام کرانا شروع کیا تو ان نشستوں کے ذریعے مخدوم رکن الدین اور میاں منظور احمد وٹو بھی بزم دوستاں میں رنگ بھرتے نظر آئے۔ ان نشستوں کے ذریعے مخدوم رکن الدین کے ساتھ زیادہ ذہنی ہم آہنگی ہو گئی جو رحیم یار خاں کی سیاست کا چمکتا ستارہ تھے اور بلا کے وضعدار تھے۔ ان کے خاندان سے مخدوم شہاب الدین اور مخدوم الطاف احمد پیپلز پارٹی کے ہم قدم تھے جبکہ مخدوم رکن الدین اصولی سیاست کا دامن تھامے تحریک استقلال کے ساتھ ہی وابستہ رہے۔ 1988ء میں بزم دوستاں کے اس گلدستہ میں سے آصف فصیح الدین وردگ، ملک حیدر عثمان اور منیر احمد خاں جست بھر کر میاں نواز شریف کی مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ ہو گئے مگر مخدوم رکن الدین تحریک استقلال میں ثابت قدم رہے۔ وہ اس پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اہم رکن تھے اور شامی روڈ لاہور کینٹ پر اپنے گھر میں اکثر اپنے دوستوں کے لئے ’’ہمہ یاراں جنت‘‘ جیسی محفلیں سجایا کرتے تھے۔ جاگیردار ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے اردگرد کے ماحول میں کہیں بھی جاگیردارانہ سوچ حاوی نہ ہونے دی اور اردو، انگریزی ادب اور تاریخ کا وسیع مطالعہ ہونے کے باعث دلیل اور منطق کے ذریعے اپنی باتوں میں وزن ڈالتے اور میٹھے، دھیمے لہجے میں ان کے اختلاف رائے میں بھی عجیب طرح کا کیف محسوس ہوتا۔ مجھے ان کے تحریک استقلال کو خیرباد کہنے اور پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر آنے کا سارا پس منظر تو یاد نہیں۔ ان کے ایسے تمام معاملات کے برادرم منیر احمد خاں زیادہ شاہد ہیں اس لئے تاریخی حقائق کو درست رکھنا بھی ان کی ذمہ داری ہے البتہ ان کا پیپلز پارٹی میں شمولیت والا دن مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں آفس میں بیٹھا تھا کہ ان کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ بات کرنے سے پہلے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہنے لگے آج میں اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کر رہا ہوں۔ فاروق لغاری نے مجھے قائل کرتے کرتے گھائل کر دیا ہے اس لئے میں آج پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنے والا ہوں مگر میں نے فاروق لغاری سے کہا ہے کہ یہ اعلان میں اپنے دوست سعید آسی کی موجودگی کے بغیر نہیں کروں گا۔ وہ آپ کو لینے آپ کے دفتر آ رہے ہیں ۔مجھے ان کی اس بات پر کچھ پریشانی اور حیرت بھی ہوئی۔ فاروق لغاری صاحب کے ساتھ میری ان دنوں خاصی ٹینشن چل رہی تھی اور اس ٹینشن کے پس منظر کا بھی بشمول مخدوم رکن الدین بہت سے دوستوں کو علم تھا۔ ہوا یوں کہ جب محترمہ بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری سے شادی ہوئی تو اگلے روز میں نے انہیں نوائے وقت میں اپنے کالم کے ذریعے بینظیر زرداری کے لقب سے نوازا، مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ فاروق لغاری میری اس بات پر سیخ پا ہوں گے مگر اسی روز جب میں پیپلز پارٹی کے ایک اجلاس کی کوریج کے سلسلہ میں ان کے گھر واقع ایف سی سی گلبرگ میں گیا تو وہ تقریباً چیخنے کے انداز میں مجھ سے مخاطب ہوئے کہ آپ نے بھٹو خاندان میں توڑ پھوڑ کی شرارت کی ہے۔ اس پر میں نے بھی انہیں بھری محفل میں کھری کھری سنا دیں اور وہاں سے واپس آ گیا۔ جس کے بعد فاروق لغاری سے میری یا میرے ساتھ فاروق لغاری کی کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی کشیدگی کے ماحول میں جب مخدوم رکن الدین نے مجھے بتایا کہ فاروق لغاری آپ کو لینے آپ کے آفس میں آ رہے ہیں تو یہ میرے لئے اچنبھے کی بات تھی مگر فاروق لغاری میرے پاس آئے اور پھر خوشگوار موڈ میں گپ شپ کرتے ہوئے مجھے مخدوم رکن الدین کے گھر لے آئے جہاں ان کے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے اعلان کی رسم ادا ہونے والی تھی۔ ان کی پیپلز پارٹی میں شمولیت مجھے صرف اس ناطے سے یاد رہے گی کہ اس واقعہ نے میری اور سردار فاروق لغاری کی باہمی کشیدگی بھی ختم کرا دی تھی۔ پھر سردار فاروق لغاری نے صدر مملکت بننے کے بعد اپنی اسی لیڈر بینظیر بھٹو کو جن کے بارے میں میرے ’’بینظیر زرداری‘‘ لکھنے پر وہ سیخ پا ہوئے تھے، جس طرح راندہ درگاہ کیا، مجھے اس منظر کے سامنے آتے ہی ہنسی آنے لگتی ہے جس میں وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ اپنی وفاداری جتانے کے لئے مجھ پر سیخ پا ہوتے نظر آتے ہیں۔ مخدوم رکن الدین نے اس دنیا سے کوچ کرتے ہوئے بے رحم سیاست کے کیسے کیسے مناظر کی یاد تازہ کر دی ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے اصولی اختلافات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وابستہ ہوئے اور پھر اپنے بیٹوں کی مشرف دور میں اقتداری سیاست میں شمولیت کے باوجود اصولی سیاست کی آبیاری کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہی وابستہ رہے۔ سیاسی گوشہ نشینی اختیار کر لی مگر وضعداری، شائستگی، شرافت اور اصولوں کی سیاست کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا ؎ حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com