شورِ محشر اٹھا ہے تو اب محشر بھی اٹھا دیں
Mar 21, 2015

اگر قومی مفاہمت کے ڈھکوسلے کے تحت ایک دوسرے کو سہولت دینے کی منافقانہ سیاست نہ کی گئی ہوتی تو چار سال قبل کے سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قرآن مجید سر پر اٹھا کر میڈیا کے روبرو دیئے گئے بیان کو ہی کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے مجرمان کے خلاف ایف آئی آر بنایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے سندھ میں اس وقت کے اقتدار میں شریک تینوں جماعتوں پیپلز پارٹی‘ ایم کیو ایم متحدہ  اور اے این پی میں موجود عسکری ونگز اور ان کی اس وقت تک کی بھیانک سرگرمیوں کا ٹھوس ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ بھانڈہ پھوڑا تھا مگر بات کچھ ایسی ہی تھی کہ

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے‘ بہت لادوانہ تھے

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے اس بیان کی روشنی میں ہی اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری نے کراچی کی بدامنی کا اپنے ازخود اختیارات کے تحت نوٹس لیا اور پھر دو ہفتے تک کراچی میں بیٹھ کر اس شہر بے مثال کو لگائے گئے درد کی دوا  ڈھونڈتے رہے اور ٹارگٹ کلرز ان کے حوصلے پست کرنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر آٹھ دس انسانی لاشیں گراتے رہے چنانچہ سپریم کورٹ کو بھی اس درد اور کراچی کے پیچیدہ مرض کا علاج سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ختم کرانے میں  ہی نظر آیا مگر سہولتوں کی سیاست نے یہ غضب ڈھایا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو جبراً مستعفی  ہو کر ملک سے باہر جانا پڑا اور حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر فیصل رضا عابدی لٹھ لے کر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر چڑھ دوڑے۔ بشری خامیاں اور کمزوریاں کس میں نہیں ہوتیں۔ یقیناً ذوالفقار مرزا اور جسٹس افتخار محمد چودھری بھی اس سے مبرا نہیں ہوں گے مگر کراچی کی خون آشا میاں  روکنے کے لئے ان کی درد مندانہ باتوں کی جانب تھوڑا سا دھیان دے لیا جاتا اور سندھ کی حکمران جماعتوں کے عسکری ونگز کا قلع قمع کر دیا گیا ہوتا تو جناب! درد کے اس تجویز کردہ علاج سے گریز کرکے چار سال سے  اب تک کے عرصے میں جو سینکڑوں بے گناہ  انسان ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کی بھینٹ چڑھ کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں‘ اب لگے ہاتھوں ان کے خون ناحق کی ذمہ داری بھی تو کسی پر ڈالی جانی چاہئے۔ آئین پاکستان نے تو ریاست کو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار اور ضامن بنایا ہے مگر والیان ریاست خود ہی شہریوں کی جان ومال کے در پے ہوں اور ایک دوسرے کو سہولت دینے کا راستہ اختیار کرکے ایک دوسرے کے جرائم کی پردہ پوشی کر رہے ہوں تو بے رحمی کے ساتھ گاجر مولی کی طرح کاٹے جانے والے شہریوں کے  لواحقین اس بے بسی کا اظہار کرتے ہی نظر آئیں گے کہ

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

اگر حقائق و شواہد سامنے آنے کے باوجود شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ریاست کی ذمہ داری میں معاون بننے والے ریاستی اداروں بشمول حکمرانوں نے ریاست کی یہ ذمہ داری پوری نہیں کی اور نہتے بے گناہ انسانوں کو ظالم قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا ہے تو اب تک بہنے والے خون ناحق کے چھینٹوں سے قاتلوں کے ایسے سارے سہولت کاروں کے دامن بھی تو رنگے ہوئے ہیں۔ خدا کی پناہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کی ایک فیکٹری میں فیکٹری مالک کو محض بھتہ دینے  سے انکار پر فیکٹری کے تین سو کے قریب مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ریاستی ذمہ داری میں معاون بننے والے تمام متعلقہ اداروں بشمول حکمرانوں کو دو سال قبل کے اس ننگ انسانیت واقعہ کے سارے شواہد اور حقائق کا علم ہو گیا تھا اور اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی نے اسی وقت حقائق کا کھوج لگا کر رپورٹ مرتب کر لی تھی مگر ذمہ داروں کی جانب سے کارروائی سے گریز کیا جاتا رہا۔ کیوں؟ شائد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار ریاستی اداروں کو شہریوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کرنے کا اختیار مل گیا تھا اس لئے دانستہ طور پر دوا کو لادوا بنایا جاتا رہا۔ اب شورِ محشر اٹھا ہے تو کن کن زبانوں سے کیسے کیسے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کا مطمع نظر ہوتا تو لندن میں عمران فاروق کے بہیمانہ قتل کے محرکات اور کردار بھی بے نقاب ہو چکے تھے۔ عمیر قریشی اور صولت مرزا اس وقت بھی دستیاب ہو سکتے تھے اور ’’کہاں قاتل بدلتے ہیں‘‘ والی ذہنیت بھی سہولت کی سیاست کے سہارے اپنے کندھے اچکاتی ریاستی رٹ اور حکومتی گورننس کا مذاق اڑاتی نظر آتی تھی۔ آج پیپلز پارٹی کے دل میں متحدہ کے ساتھ ہمدردی کا درد ایسے ہی تو نہیں جاگا ہے۔ کراچی کے موجودہ بے لاگ اور بلاامتیاز اپریشن کے کچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہوئے اور اس اپریشن کے باعث سہولتوں کی منافقانہ سیاست کی گرہیں کمزور پڑتی نظر آئی ہیں تو پیپلز پارٹی والوں کو بھی پھندہ اپنی گردن کی جانب بڑھتا محسوس ہوا ہے سو اب سہولتوں کی سیاست میں بے لاگ اپریشن پر گند اچھالنا اور اس پر سیاسی انتقامی کارروائی کا ٹھپہ لگانا ٹھہرا ہے۔ ذوالفقار مرزا نے چار سال  قبل حکمران پیپلز پارٹی سمیت سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کی سفاکانہ وارداتوں کے خلاف اپنے بیان کی شکل میں جو ایف آئی آر کٹوائی تھی وہ متحدہ کے عمیر قریشی اور صولت مرزا کے ساتھ ساتھ اب پیپلز پارٹی کے عزیر بلوچ کے ذریعے پیپلز پارٹی والوں کا بھی ’’کھرا‘‘ نکلوا چکی ہے۔ اگر اب فی الواقع سہولتوں کی منافقانہ سیاست کے بت توڑنا ٹھہر چکا ہے تو جناب

’’کہاں تک بچو گے، کہاں تک بچائیں
ہزاروں ہیں پھندے، انہیں کھینچ لائیں‘‘

آپ براہ کرم صولت مرزا کو سہولت مرزا نہ بنائیں۔ بس قانون کی عملداری اور انصاف کا بول بالا کر دیں۔ اڑائی جانے والی گرد کی پرواہ نہ کریں اور ہر مجرم کو چاہے وہ کسی بھی بھیس میں چھپا ہو، قانون کے بے رحم شکنجے کے سامنے لاتے جائیں۔ عسکری ونگ پالنے والی سیاسی جماعتوں کے گھنائونے جرائم کی در و دیوار تک گواہی دیں گے۔ شور محشر اٹھا ہے تو اب محشر بھی اٹھا دیں۔ ورنہ لادوا ہوتا درد ریاستی اجتماعی موت کی نوبت ہی لائے گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com