ٹھنڈے دل سے سوچئے اور سازش کو پرکھئے
Mar 17, 2015

یوحنا آباد لاہور کے سانحہ کے قابل مذمت اور اس سانحہ میں ملوث بدبختوں کے لائق نفرین ہونے پر تو کوئی دورائے ہو ہی نہیں سکتی مگر اس سانحہ کی بنیاد پر دنیا میں اقلیتوں کے حقوق کے عدم تحفظ کے حوالے سے جس فراوانی کے ساتھ پاکستان کو رگیدنے کا شوق پورا کیا جا رہا ہے اور جس جوش کے ساتھ دین اسلام کو مذہبی جنونیت کے ساتھ جوڑنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔ ذرا جذباتیت سے ہٹ کر ٹھنڈے دل کے ساتھ اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اپریشن ضرب عضب اور اب کراچی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہوئے غور کیجئے اور سوچئے کہ سانحہ یوحناآباد کی سازش کہیں دہشت گردی کے خلاف بالخصوص کراچی اپریشن میں منظر عام پر آنے والے اصل حقائق سے دنیا کی توجہ ہٹانے اور پاکستان پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے معاملہ میں ناکام ترین ریاست کا لیبل لگوانے کے لئے تو نہیں تیار کی گئی۔

ایسے المناک سانحوں پر جب عوام بالخصوص متاثرین کے جذبات مشتعل ہوں تو اصل حقائق کا جائزہ لینے کی بات کرنا بھی بہت دشوار ہوتا ہے کیونکہ کوئی ایسی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہوتا جبکہ ایسا جذباتی ماحول پیدا کرنا ہی سازشی منصوبہ بندی کا حصہ ہوتا ہے اس لئے میں دست بستہ گزارش کروں گا کہ سانحہ یوحناآباد کے پس پردہ محرکات اور پیش منظر کا جائزہ لے کر ہی کوئی رائے اور نتیجہ اخذ کیجئے اور براہ کرم جذبات کو قابو میں رکھئے۔ اس سانحہ کے پس پردہ ایسا کوئی محرک موجود نہیں جس سے مذہبی جنونیت کا شکار انتہا پسندوں کو اس بنیاد پر مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر سفاکانہ دہشت گردی کا موقع ملا ہو۔

پاکستان تو چھوڑ، دنیا کے کسی بھی حصہ میں حال ہی میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا شائبہ بھی ملتا ہو۔ سوائے دو ماہ قبل کے فرانس کے جریدے کے دفتر میں دہشت گردی کے بعد وہاں کی مساجد پر حملوں اور اس جریدے کی انتظامیہ کی جانب سے گستاخانہ خاکے اور کارٹون شائع کرنے کا سلسلہ برقرار رکھنے کے اعلان کے اور کوئی واقعہ دنیا کے کسی کونے میں ایسا نہیں ہوا جو انتہا پسند مسلمانوں کی جانب سے کسی خوفناک ردعمل کا باعث بن سکتا ہو۔ اس کے برعکس مسیحی برادری تو اپنے مذہبی تہوار ایسٹر کی خوشیاں دوبالا کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ اس موقع پر اتوار کے روز یوحناآباد کے گرجا گھروں میں دعائیہ تقریب میں شریک مسیحیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انہیں انتہا پسندانہ رجحانات کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف برانگیخت اور مشتعل کرنے کی سوچی سمجھی سازش نظر آتی ہے۔ اب اس سانحہ کے پیش منظر کا جائزہ لیجئے تو گھنائونی سازش کی کڑیاں باہم ملتی نظر آتی ہیں۔

عزیزآباد کراچی میں ایم کیو ایم سندھ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے دوران وہاں سے برآمد ہونے والے اسلحہ کی نوعیت اور حراست میں لئے گئے سزا یافتہ جرائم پیشہ افراد کی زبان سے دوران تفتیش سامنے آنے والے حقائق ملک میں دہشت گردی کی لعنت کے فروغ پانے کی اصل وجوہات کی تہ تک لے جا رہے تھے چنانچہ اس دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے بننے والے سازگار ماحول میں پاکستان میں امن و سلامتی کی ضمانت ملتی نظر آرہی تھی۔ بھلا ان ملک دشمنوں کو پاکستان کا امن و سلامتی کی جانب واپس لوٹنا گوارا ہو سکتا ہے جو اس ملک کی سالمیت ختم کرنے کے درپے ہیںاور اس مقصد کے تحت ہی وہ یہاں کسی نہ کسی طریقے سے عدم استحکام کی فضا قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

جب کراچی اپریشن کے ذریعے ان ملک دشمنوں کے پاکستان میں موجود آلہ کار بے نقاب ہو رہے ہوں اور  اس تناظر میں پوری دنیا کو دہشت گردی کے پس پردہ اصل مقاصد سے آگاہی ہو رہی ہو تو ان ملک دشمنوں کو مذہبی جنونیت  کی بہتان تراشی کے لئے مددگار ہونے والے یوحناآباد جیسے کسی سانحہ کی ہی ضرورت تھی۔ چنانچہ آج یوحنا آباد کے سانحہ پر  ایک بار پھر پاکستانی اقلیتوں کے غیر محفوظ ہونے کے دنیا بھر میں جاری پراپیگنڈہ سے کراچی اپریشن کے حقائق پس پردہ جاتے نظر آ رہے ہیں تو سانحہ یوحناآباد کے منصوبہ سازوں کی یہی کامیابی ہے۔ آپ اس سارے معاملے میں بھارت کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں جہاں مذہبی بنیادوں پر مسلمان اقلیتوں کے خلاف ہندو انتہا پسندانہ گروپوں کے جارحانہ اظہار سے دنیا میں اس نام نہاد سیکولر ریاست کی قلعی کھل رہی ہے اور اس کے برعکس دہشت گردی کے معاملہ میں پاکستان کی مظلومیت اجاگر ہو رہی ہے تو اس کی سالمیت ختم کرنے کی سازشوں میں شریک منصوبہ سازوں کو یوحناآباد جیسا کوئی سانحہ ہی درکار تھا۔ اس لئے میری عام فہم رائے یہی ہے کہ سانحہ یوحناآباد میں کسی مذہبی جنونیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

جب اس وطن عزیز میں خود مسلمان اکثریت گھنائونی دہشت گردی کی ایسی وارداتوں سے محفوظ نہیں اور مساجد، بزرگوں کے مزارات اور مختلف مکاتب فکر کے مسلمانوں کی دوسری عبادتگاہوں سمیت کوئی بھی پبلک مقام گھنائونی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہا تو محض  مسیحی برادری کے خلاف دہشت گردی ہی  قابل نفرین کیوں ٹھہری۔ دہشت گردی کے دوسرے سفاکانہ واقعات کو بھی اسی نظر سے دیکھ لیا جائے اور پھر سانحہ یوحناآباد کے ردعمل میں دو باریش افراد کو مشکوک سمجھ کر زندہ جلانے اور سرکاری و نجی املاک کی توڑ پھوڑ کرنے اور مسلمانوں کے خلاف غیر مسلم اقلیتوں کے جذبات بھڑکانے کے جو مناظر سامنے آ رہے ہیں ان کا بھی ذرا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے لیجئے۔ کہیں یہ سارا معاملہ پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہناتا تو نظر نہیں آرہا۔ یہ بجا کہ مختلف وجوہ پر پاکستانی قوم کے جذبات اکثر اوقات مشتعل رہتے ہیں جن میں حکومتی بے تدبیریوں کا بھی عمل دخل ہوتا ہے مگر ان جذبات کو تیل چھڑک اور تیلی  لگا کر مزید بھڑکانے والے شواہد کو بھی ہرگز نظر انداز نہ کیجئے۔ کہیں ہماری نااتفاقیوں سے دشمن کی سازشوں کے تحت ہمیں ملک کی سالمیت سے محرومی کا صدمہ نہ اٹھانا پڑ جائے۔ دشمن تو بغلیں بجا رہا ہے۔ ہم نادانستگی میں خود کو دشمن کے لئے تر نوالہ بنانے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں؟ آج ٹھنڈے دل سے سوچئے تو کل کی ہزیمت سے بچ پائیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com