قومی مفاہمت توبہ توبہ خدا خدا کیجئے!
Mar 14, 2015

جب مفاہمت کی سیاست کو ہی اپنی مجبوری بنا لیا گیا ہے تو پھر سیاسی پریشر گروپوں کی کم از کم بلیک میلنگ کی سیاست سے تو خلاصی پا لی جاتی مگر    

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا


سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب نے قومی مفاہمت کے نام پر منفاقانہ مفاہمتی مفاداتی سیاست کا وہ جلوہ دکھایا ہے کہ قومی مفاہمت کی بات کرنے والے ہمارے سیاسی قائدین کو دن میں تارے نظر آ گئے ہیں۔ میری دانست میں جس کا میں گزشتہ کالم میں بھی اظہار کر چکا ہوں، وزیراعظم نواز شریف اس مایوسی کے بعد کہ وہ چیئرمین سینٹ کے لئے اپنا امیدوار کسی صورت منتخب نہیں کرا سکتے، قومی مفاہمت کا ڈھکوسلہ بروئے کار لا کر پیپلز پارٹی کے امیدوار رضا ربانی کو Adoptکرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اگر وہ اس نام نہاد قومی مفاہمت کا سہارا نہ لیتے اور کان کو ہاتھ الٹا کرکے پکڑنے کے بجائے سیدھے سبھائو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے صرف پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کر لیتے تو ان دونوں جماعتوں کو کم از کم سیاسی پریشر گروپوں کی بلیک میلنگ سے تو خلاصی مل جاتی۔ مگر میاں نواز شریف نے چیئرمین سینٹ پر مفاہمت کرکے اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے بھی اپوزیشن کو اپنا امیدوار لانے کے لئے دانہ ڈال کر پریشر گروپوں کی بلیک میلنگ کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا چنانچہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی روائتی بلیک میلنگ کی سیاست کا کھیل کھیلتے ہوئے زیرک سیاستدانوں کو بھی تگنی کا کا ناچ نچا دیا اور سیاست میں قومی مفاہمت کے جذبے کو جھاگ بنا دیا۔


اگر وزیراعظم خلوص دل کے ساتھ قومی مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہئے تو ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کا مرحلہ اس کے لئے نادر موقع تھا۔ وہ تحریک انصاف کا امیدوار اڈاپٹ کرکے قومی مفاہمت کے لئے اپنا خلوص بھی منوا لیتے اور تحریک انصاف کی جارحانہ سیاست میں بھی نرمی کا عنصر شامل کرا لیتے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ راستہ اختیار کرنے سے انہیں مولانا فضل الرحمان نے ہی روکا ہو گا جو بیک وقت انہیں بھی نمبرز گیم کی سیاست میں اپنی اہمیت کا احساس دلائے جا رہے تھے اور اپنے تئیں مدبر سیاستدان آصف زرداری صاحب کو بھی چکمہ دے رہے تھے۔ اسی تناظر میں میرا  آج بھی یہی گمان ہے کہ سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری باہم اتحاد کر لیتے تو اپنی مشترکہ واضح عددی اکثریت کی بنیاد پر کم از کم مولانا فضل الرحمن کے چکموں اور بلیک میلنگ سے باہر نکل آتے۔ اب میاں نواز شریف نے اپنے بلوچ قوم پرست اتحادیوں کی ناراضگی بھی مول لی اور اپنی قومی مفاہمت والی سیاست پر بھی … … لگوا لیا جبکہ مولانا فضل الرحمان کی شیر خرما سیاست مزید مستحکم ہو گئی ہے جنہوں نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے مولانا عبدالغفور حیدری کو  گھسیڑ کر اس انتخابی مرحلے میں عمران کی شمولیت پر آمادگی کو ناکام بنایا اور  انہیں پھر قومی مفاہمت کی سیاست سے دھکیل کر پیچھے ہٹا دیا۔


ویسے تو عمران خاں کا ڈپٹی چیئرمین کے لئے اپنا امیدوار لانا ان کی اپنی اصولی سیاست کی نفی تھی جو گزشتہ چھ ماہ سے اپنے ووٹروں کو قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں نمائندگی سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اسمبلیوں میں موجود رہ کر اپوزیشن کی سیاست کرتے تو سسٹم کی اصلاح کے اپنے منشور کو کسی نہ کسی مرحلے پر عملی جامہ پہنانے کی راہ بھی ہموار کر لیتے مگر انہوں نے اپنی وضح کی نرالی سیاست اپنائی کہ جس نظام کے ماتحت منتخب ہو کر وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آئے تھے اس نظام کو رگیدتے لتاڑتے اور تضحیک کا نشانہ بھی بنائے رہے اور اسی نظام کے تحت قائم خیبر پی کے اسمبلی کے زور پر’’ سٹیٹس کو‘‘ والی سیاست کا حصہ بھی بنے رہے۔ جبکہ اب سینٹ کے انتخابات میں اسی نظام کے ماتحت سے حصہ لینے کے بعد ان کے دل میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا انتخاب لڑنے کا سودا بھی سما گیا۔ اگر انہوں نے ہیر پھیر سے اسی نظام کو قبول کئے رکھنا تھا تو پھر وہ خود کو پورے نظام کا حصہ بنائے رکھتے۔ اس سے کم از کم قومی سیاست میں ان کے عمل دخل کا راستہ تو ہموار رہتا۔ اب ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کے بعد وہ کس منہ سے سسٹم کو ٹھکرانے والی سیاست پر کاربند رہ سکیں گے۔ انہوں نے تو جو حماقت کی سو کی مگر میاں نواز شریف نے بھی سیاسی غلطوں کے اعادہ کی روائت آگے بڑھانے میں کمال درجے کی مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ جب عمران خاں کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے اپنا امیدوار لانے کی آمادگی کا عندیہ ملا تو میاں نواز شریف کو ان کی جارحانہ سیاست سے اپنے اقتدار کو بچانے کا نادر موقع مل گیا تھا۔ وہ عمران خاں کے امیدوار کے سر پر ہاتھ رکھتے جس کے لئے ان کے قومی پرست اتحادی پہلے ہی آمادہ تھے تو آصف علی زرداری کو بھی چاہے بادل نخواستہ ہی سہی، قومی مفاہمت کے نام پر عمران خان کا امیدوار قبول کرنا پڑتا۔ مگر مولانا فضل الرحمان کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر انہوں نے قومی مفاہمت کی سیاست کا بستر خود ہی گول کر دیا ہے اگر میاں نواز شریف کے قوم پرست اتحادیوں محمود خاں اچکزئی اور میر حاصل بزنجو نے عمران خاں کے امیدوار کو ووٹ دے کر مولانا فضل الرحمان کی بلیک میلنگ کی سیاست کو دھچکا لگایا ہے تو میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری باہم مل کر اس سیاست کو ہلکا سا دھکا لگاتے اور ایسی حریصانہ سیاست کی بساط الٹا دیتے۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر ان کے قومی مفاہمت والی سیاست کے ڈھکوسلے پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔ وہ خود ہی اس منافقانہ مفاداتی سیاست کو اوڑھے رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ایسی مفاداتی سیاست میں ہی ان کے حولے مانڈوں کا اہتمام ممکن ہوتا ہے۔ جمہور کی سلطانی ان کے مکر و فریب سے ہی تو خراب ہوئی ہے۔ پھر عوام (جمہور)کے پاس زہر کو تریاق سمجھ کر پینے کے سوا اور کون سا راستہ بچا ہے   


آپ تے پیویں بُکاں شربت
سانُوں گھٹ گھٹ زہر پلاویں


بھئی ایسی قومی مفاہمت پر تو ’’توبہ توبہ خدا خدا کیجئے‘‘

    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com