’’پَو پھٹے کا وقفہ‘‘
Feb 24, 2015

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک لطیفہ بہت داد پا رہا ہے جو بھارتی پنجاب کی کسی سردارنی سے منسوب ہے۔ یہ خاتون اپنے شوہر کی میّت پر بَین کر رہی تھی ’’وے تُوں اوتھے ٹُر گیا ایں جتھے بتّی نہ پانی، وے تُوں اوتھے ٹُر گیا ایں جتّھے روٹی نہ بوٹی‘‘ اس کے پاس بیٹھے بیٹے نے ماں کے یہ بَین سُن کر بے ساختہ اس سے پوچھا کہ ابّا کِتے پاکستان تے نہیں ٹُر گیا۔ اس لطیفے میں ہمارے لئے ہنسنے کا مقام ہے یا رونے کا؟ مگر ہمارے پیارے وطن پاکستان کے حالات تو فی الواقع ایسے ہی بنے ہوئے ہیں اس لئے سرداروں اور خانوں کے لطیفوں کی طرح اب پاکستان کے لطیفے بھی مرغوب نظر آتے ہیں۔ جنہوں نے اس ملکِ خداداد کو بے چارگی کی اس حالت تک پہنچایا ہے، ان کے لچھن دیکھ کر اور بھی رونا آتا ہے مگر کس کس کا رونا روئیں، یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا پڑا نظر آتا ہے اور دُکھ تو اس بات کا ہے کہ سدھار کی باتیں کرنے والوں کی اپنی صفوں میں سدھار نہیں، وہی سارے کے سارے حکمران اشرافیہ طبقات یُوں بھی ہیں اور یُوں بھی کے مصداق انقلاب اور تبدیلی کی داعی پارٹیوں کے پائیدانوں کے ساتھ بھی چپکے نظر آتے ہیں۔ ہم دل کی تسلّی کو کہہ لیں کہ خدا خیر کرے مگر خیر کے لئے کوئی تحرکّ ہی نہیں ہو گا تو یہ خیر قہر بن کر ہی ٹوٹے گی۔ اگر اقتدار کے ایوانوں میں انقلاب کی فیوض و برکات اپنے آنگنوں میں ہی سمیٹ کر رکھنی ہیں جس کے لئے اقتدار کی لائین میں لگی قیادتوں کی بھی مکمل تیاری ہے تو پھر راندۂ درگاہ خلقِ خدا ماہر القادری کے اس شعر کو ہی اپنے اُٹھائے ہاتھوں کی دعا بنائے گی کہ

قیامت بھیج دے کچھ روز پہلے
اگر کٹتا نہیں وقتِ غلامی

کاش کہ ان حکمران طبقات کے چھجّوں میں سے بچی ہوئی امید کی کوئی کرن موجود ہوتی تو دستِ دعا اٹھاتے ہوئے احمد ندیم قاسمی کی یہ امید افزا نظم وردِ زبان رہتی کہ 

راستہ نہیں ملتا، منجمد اندھیرا ہے
پھر بھی باوقار انسان اس یقیں پہ زندہ ہے
برف پگھلنے میں پَو پھٹے کا وقفہ ہے
اس کے بعد سورج کو کون روک سکتا ہے

مگر یہاں تو سورج کو روکنے والے کئی انسان اپنے تئیں خدا بنے بیٹھے ہیں جنہیں خلقِ خدا کے دکھوں اور ان کی زندگی کی کٹھنائیوں سے کوئی سروکار ہی نہیں کہ یہ ساری کٹھنائیاں ان کی ذاتی حصول جاہ و حشمت کی حرص و ہوس کی ہی تو پیدا کردہ ہیں۔ آج اگر بے بس عوام الناس آبرومندی کے ساتھ زندگی گزارنا تو کجا، زندگی کا چلن ہی بھول گئے ہیں جن پر روزگار، تھانہ کچہری اور صحت، تعلیم سمیت اچھے مقدرات کے تمام دروازے بند ہیں اور وہ ’’عمر بھر رینگتے رہنے کی سزا ہے جینا‘‘ کی مثال بنے زندہ درگور ہو رہے ہیں تو ان کے مقدر کی یہ سیاہی ان سارے حکمران اشرافیہ طبقات ہی کی تو پھیلائی گئی ہے جنہیں اپنے سوا کسی کا مفاد، مفاد ہی نظر نہیں آتا۔

میں پہلے بھی ان سطور میں معاشرے کے بگاڑے گئے توازن پر اس حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکا ہوں کہ خلقِ خدا کے لئے بے انصافیوں کا مجموعہ بنے معاشرے کی بقا کا جواز ختم ہو جاتا ہے مگر ہمارے حکمران طبقات ہیں کہ معاشرے کی بقاء کا جواز ختم کرنے میں ہی زور لگا رہے ہیں۔ تو بھائی صاحب پھر کیڑے مکوڑے انسان اپنی بقا کے جتن میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کیوں جناب! آپ نے سلطانیٔ جمہور کے منتخب جمہوری ایوانوں میں عام آدمی (عوام الناس) کی حقیقی نمائندگی ناممکنات میں شامل کر دی ہے اور انہیں بے انصافیوں کے دوزخ کی جانب دھکیل دیا ہے تو حکمران اشرافیہ کے اس ایکے کے خلاف آپ اس اطمینان قلب کے ساتھ نہ بیٹھے رہیے کہ یہ مجبور و مقہور عوام الناس کبھی انگڑائی لینے کی جرأت نہیں کر پائیں گے۔ شاید اب کسمپرسوں کے ہاتھوں سارے عالیجائوں کے دامن تار تار ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے کہ سینٹ کے آنے والے انتخابات میں کروڑوں کی بولیوں اور طبقاتی مفادات کے لئے حکومتی اور اپوزیشن صفوں میں ہونے والے گٹھ جوڑ نے Have,s not کے انگڑائی لینے کا خود ہی اہتمام کر دیا ہے۔ آپ اوپر اوپر سے سینیٹ انتخابات کی اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور سیکرٹ بیلٹ کے طریقہ کار کو اوپن بیلٹ کے طریقہ کار میں تبدیل کرنے کا ڈھکوسلہ دے کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور فی الحقیقت ٹکٹوں کی تقسیم کے مراحل میں بے وسیلہ عام آدمی کے لئے ایوان بالا میں داخلے کے سارے کھڑکیاں دروازے بند کر چکے ہیں تو اوپن بیلٹ سے بھی عام آدمی کو کیا فرق پڑے گا کیونکہ ان میں منتخب ہو کر تو آپ کے ٹکٹ یافتگان نے ہی بیٹھنا ہے جو سارے کے سارے طبقاتی کش مکش میں صرف آپ کے طبقے کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ اور اس سلطانیٔ جمہور میں عام آدمی کی کسمپرسی کا اندازہ لگانا ہے تو آج نوائے وقت کے صفحہ آخر پر شائع ہونے والی ایک سنگل کالم خبر ملاحظہ فرما لیں کہ موٹر وے پولیس میں 700 خالی اسامیوں کے لئے 40 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، ان کی ہرممکن چھان پھٹک اور اپنی پسند کا میرٹ لاگو کرنے کے باوجود 16 ہزار امیدوار ان ملازمتوں کے لئے اہل قرار پائے ہیں مگر اسامیاں 700 ہیں، باقی 15 ہزار 3 سو اہل امیدوار کدھر جائیں گے۔ کیا آپ عوام کے اس کرب کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے خاندانوں کے ایسے لاکھوں اہل بچے بچیاں کسی سرکاری ملازمت کے ہر اشتہار پر حصول ملازمت کی آس میں پبلک سروس کمشن اور این ٹی ایس کی بھاری فیسوں کی ادائیگی کر کے بعد از تعلیم بھی والدین پر بوجھ بنتی ہیں مگر ہر ادارے میں ایک دو اسامیوں کے لئے دئیے گئے اشتہار پر ہزاروں درخواستیں موصول ہو جاتی ہیں جن میں ’’حقدار‘‘ کی سلیکشن کا فارمولہ پہلے ہی طے ہوتا ہے۔ طبقاتی مفادات کے تحفظ والے ایسے فارمولوں نے ہی تو اس معاشرے کو غیر متوازن بنا کر اس کی بقاء کا جواز ختم کیا ہے۔ پھر سوچ لیجئے، "HAVE,S NOT" نے تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اپنی بقاء کا کوئی نہ کوئی تردد کرنا ہے۔ آپ اس تردد (انگڑائی) کا خود ہی اہتمام کر رہے ہیں تو انالحق کا نعرہ بلند ہونے میں اب پَو پھٹے کا وقفہ ہی رہ گیا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com