گلگت بلتستان اور آئینی پھندہ
Feb 21, 2015

میرے لئے یہ تصور کرنا خاصا دشوار ہے کہ ایک قانون دان ہونے کے ناطے برجیس طاہرصاحب آئین پاکستان کی دفعات بالخصوص گورنر کے تقرر سے متعلق آئینی شقوں سے نابلد ہوں گے۔ بالفرضِ محال انہوں نے خود آئین پاکستان کا مطالعہ نہ کیا ہو تو حکومت کے پاس تنخواہ دار آئینی ماہرین کی ٹیم ہمہ وقت موجود ہوتی ہے جو کسی بھی صوبے کے گورنر کے تقرر کے لئے آئین کی دفعہ 101 شق (1) (2) میں موجود شرائط سے مجاز اتھارٹی کو آگاہ کرتی ہو گی، تو کیا  پھر برجیس طاہر صاحب کے اس بیان کو ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کے کھاتے میں شمار کر لیا جائے کہ گورنر کے تقرر کے لئے کسی شخص کا متعلقہ صوبے کا شہری ہونا ضروری نہیں۔ برجیس طاہر صاحب آئین پاکستان کی کتاب کھول کر اس کے چیپٹر ون میں دفعہ (2) 101 کا مطالعہ فرمائیں۔ ان کی سہولت کے لئے شق 2 کے انگریزی کے الفاظ یہاں درج کر رہا ہوں۔

"A PERSON SHALL NOT BE APPOINTED A GOVERNOR UNLESS HE IS QUALIFIED TO BE ELECTED AS A MEMBER OF THE NATIONAL ASSEMBLY AND IS NOT LEES THAN THIRTY FIVE YEARS OF AGE AND IS A REGISTERED VOTER AND RESIDENT OF THE PROVINCE CONCERNED"

شق (2) کے ان دوٹوک الفاظ میں تو کسی کٹ حجتی کی گنجائش بھی نہیں نکلتی اور برجیس طاہر صاحب پر یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اس شق کے تحت گورنر کے لئے متعلقہ صوبے کا رہائشی ہی نہیں، رجسٹرڈ ووٹر ہونا بھی ضروری ہے۔ تو پھر گلگت بلتستان کے لئے بطور گورنر آپ کا تقرر آئین پاکستان کی اس شق کو آئین کی کتاب سے اسی طرح نکال کر عمل میں لایا گیا ہو گا جیسے جرنیلی آمر ضیاالحق دعویٰ کیا کرتے تھے کہ آئین کاغذ کے چند ٹکڑوں پر ہی تو مشتمل ہے جسے میں کسی بھی وقت پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتا ہوں۔

شاید اس بارے میں میری معلومات ناقص ہوں گی کہ برجیس طاہر صاحب کے تقرر سے پہلے گورنر گلگت بلتستان کا عہدہ آئین کی دفعہ 101 کی شقوں (3) (4) کے تقاضے کے تحت باضابطہ طور پر خالی ہو چکا تھا یا نہیں، شق (4) کا تقاضہ تو اس لئے پورا نہیں ہوا کہ برجیس طاہر صاحب کے پیشرو گورنر کرم شاہ خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے گورنر کے منصب سے قطعاً استعفیٰ نہیں دیا جبکہ شق (3) کے تقاضے کے مطابق برجیس طاہر صاحب کی گورنر کے منصب پر نامزدگی تک میڈیا پر ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں تھی کہ صدر مملکت نے کرم شاہ صاحب کو گورنر گلگت بلتستان کے منصب سے فارغ کر دیا ہے۔

مجھے تو گلگت بلتستان کی ملک کے نئے صوبے کی حیثیت سے تشکیل پر ہی اعتراض تھا جس کا اظہار میں نے انہی سطور پر اپنے ایک کالم میں کیا تھا کیونکہ سابق حکمران پیپلز پارٹی نے یہ انتظامی اقدام آئین کی دفعہ 239 کے قطعاً منافی اٹھایا تھا جس کی شق (4) اس امر کا پابند بناتی ہے کہ کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی (اس کے اندر سے نئے صوبے کی تشکیل) کے لئے قومی اسمبلی میں اس وقت تک آئینی ترمیمی بل پیش نہیں کیا جا سکتا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے اس کے لئے قرارداد منظور نہ کرے۔ گلگت بلتستان چونکہ وفاق کے زیر کنٹرول علاقے میں شامل ہے، جس کا الگ پس منظر ہے اور آگے چل کر میں اس پر بحث کروں گا، آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت وفاق کے زیر کنٹرول کسی علاقے کو باقاعدہ صوبے کا درجہ دیا جا سکتا ہے اس لئے گلگت بلتستان کو صوبے کے قالب میں ڈھالنا آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی تھا کیونکہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ ایک وفاق اور چار صوبوں پر مشتمل ہے جس میں کوئی نیا صوبہ آئین کی دفعہ 239(4) پر عمل پیرا ہو کر ہی شامل کیا جا سکتا ہو۔ اس واضح آئینی صورت حال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان کو ملک کے پانچویں صوبے کا درجے دے کر آئین پاکستان کو کند چُھری کے ساتھ ذبح کیا تھا ورنہ کسی نئے صوبے کی تشکیل اتنی آسان ہوتی تو پیپلز پارٹی اپنے اسی دور حکومت میں پنجاب میں سے صوبہ جنوبی پنجاب اور ایم کیو ایم متحدہ سندھ میں سے جناح پور اور خیبر پی کے میں سے ہزارہ صوبہ نکلوانے کا شوق پورا کر چکی ہوتی۔

مجھے گلگت بلتستان کو صوبے کے قالب میں ڈھالنا کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو خود ہی دفن کرنے کے مترادف نظر آیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی رو سے شمالی علاقہ جات بشمول گلگت بلتستان وادیٔ کشمیر کا حصہ ہیں جسے پاکستان نے شروع دن ہی سے اپنے اصولی مؤقف کے تحت متنازعہ قرار دے رکھا ہے اور عالمی فورموں پر ہم اس بات کی ہی وکالت کرتے ہیں کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیر کے عوام نے خود کرنا ہے جس کے لئے اقوام متحدہ نے کشمیریوں کا استصواب کا حق تسلیم کر رکھا ہے، اس اصولی مؤقف کے تحت ہی آزاد کشمیر کو صوبے کا درجہ نہیں دیا گیا اور اس کی آزاد حیثیت برقرار رکھی گئی ہے جس کا اپنا آئین، اپنے قوانین، اپنی قانون ساز اسمبلی، اپنی سپریم کورٹ اور وزیراعظم کی سربراہی میں اپنی حکومت ہے۔ اس اصولی مؤقف کے تحت ہی ہم مقبوضہ کشمیر کو باضابطہ ریاست کا درجہ دینے کے بھارتی اقدام کو تقسیم ہند کے ایجنڈے اور یو این قراردادوں کے منافی قرار دیتے ہیں اور کشمیریوں کے استصواب کے حق کا تقاضہ کرتے ہیں۔ اگر ہم نے خود ہی وادیٔ کشمیر کے سپریم کورٹ سے تسلیم شدہ ایک علاقے کو صوبے کا درجہ دے دیا ہے تو کشمیر ایشو پر ہمارے اور بھارت کے مؤقف میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ میری دانست کے مطابق سابق حکمران پیپلز پارٹی نے دانستہ طور پر یہ فارمولا لاگو کر کے کہ ’’مقبوضہ کشمیر بھارت کا اور آزاد کشمیر پاکستان کا‘‘ ، کشمیر پر پاکستان کے کلیم سے دستکش ہونے کی سازش کی تھی، ورنہ آئینی، اصولی اور اخلاقی طور پر وادیٔ کشمیر کے کسی علاقے کو پاکستان کے صوبے کا درجہ دینے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ پیپلز پارٹی نے تو اپنے دور میں اس حوالے سے آئینِ پاکستان پر کلہاڑا مارا اور کشمیریوں کی جدوجہد کو سبوتاژ کیا جبکہ اب مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئینی تقاضے کے قطعی برعکس ایک غیر مقامی باشندے کو گورنر گلگت، بلتستان کے منصب پر فائر کر کے آئین کی کتاب پر آرا چلا دیا ہے۔ یہ اقتداری پارٹیاں ملک، آئین، اس کے تحت قائم سسٹم اور اس میں آباد عوام (جمہور) کے ساتھ کتنی مخلص ہیں اس کا اندازہ گلگت اور بلتستان کی صورت حال ہی سے لگا لیں۔ تو جناب! آئین کی دفعہ 6 جرنیلی آمروں کے ماورائے آئین اقدامات پر ہی تو لاگو نہیں ہوتی۔ اپنے آئینی ماہرین کی ٹیم بٹھائیے اور گلگت بلتستان کی  بطور صوبہ تشکیل سے اس کے غیر مقامی گورنر کے تقرر تک کے معاملات کا آئین کی دفعات 239(4) اور 101(2) کی روشنی میں جائزہ لیجئے۔ اس عمل میں آپ کو آئین کی دفعہ 6 دستک دیتی نظر آئے تو خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ یہ آئینی پھندہ کس کس کے لئے تیار ہوا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com