انقلاب، تبدیلی، خواب، عذاب! بھئی کچھ چارہ کر لو
Feb 09, 2015

ات ہو رہی تھی معاشرتی سدھار کی، آخر کون سا نسخہ مجرب ہو سکتا ہے جو ہر قسم کے سماجی جرائم اور اخلاق باختگی کی علامت بنے اس بے ڈھب معاشرے کو صحیح سمت کی جانب گامزن کر پائے، جواب میں سوائے مایوسی کے کچھ نظر نہیں آ رہا کہ جن کی ذمہ داری معاشرتی سدھار میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کرنے اور معاون بننے کی ہے وہی معاشرتی بگاڑ میں اضافہ کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈالنے میں مگن نظر آتے ہیں۔ نظام کی اصلاح ہر کسی کا مطمع¿ نظر تو ہے مگر اصلاح، انقلاب اور تبدیلی کے سارے نعرے فیشنی اور کھوکھلے نظر آتے ہیں کہ ان نعروں کے بل بوتے پر اپنی سیاست چمکانے کا موقع تو ملتا رہتا ہے مگر بقول حبیب جالب 

کہاں بدلے ہیں دن فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

ایک طبقہ ہے جو حکومت میں ہو، اقتدار کے ایوانوں میں چوکڑیاں بھر رہا ہو یا اپوزیشن کی صفوں میں عام آدمی کے ساتھ ہمدردی جتاتا نظر آتا ہو، وہ مجاز منتخب اور قانونی و آئینی فورموں پر صرف اپنے مفادات اور نام نہاد حقوق کے لئے ایکا کئے بیٹھا ہوتا ہے جسے عام آدمی کے مسائل اور مفادات سے اس لئے سروکار نہیں ہوتا کہ اسے ان مسائل کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ ناانصافی کے لفظ پر سیاست چمکانا بھی اسی حکمران اشرافیہ طبقہ کا وطیرہ ہے جو اپوزیشن میں بھی عدل گستری کے لتّے لیتا ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں بھی اپنی پھیلائی گئی ناانصافیوں کا ملبہ عدلیہ پر ڈال کر اپنے تئیں عوام میں سرخرو ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

ہم کچھ دوست گذشتہ روز معاشرے کے بے انصاف اور غیر متوازن بنائے جانے کے محرکات کا جائزہ لے رہے تھے اس کے جس بھی پہلو کو کھنگالئے اس معاشرے کے مستقبل کے حوالے سے سوائے مایوسی کے اور کچھ نظر نہیں آتا، لے دے کے اصلاح احوال کے لئے ایران جیسے خونیں انقلاب سے توقع باندھی جائے تو ہمارے دینی اور سیاسی قائدین کی موجودہ فصل میں سے کوئی ایک بوٹا ایسا ہے بھلا جو امام خمینی کے قالب میں ڈھلا نظر آئے، یہاں تو انقلاب اور تبدیلی والوں سمیت سب اپنے اپنے مفادات کے اسیر نظر آتے ہیں، صرف اپنے اقتدار کی جوت جگائے بیٹھے ہیں جس کے لئے وہ آمریت سمیت کوئی بھی ایسا نظام قبول کرنے کو تیار نظر آتے ہیں جس میں ان کے اقتدار کی شیرینی کی راہ نکل سکتی ہو۔ ارے بھائی جائزہ تو لیجئے، بے وسیلہ عام آدمی کے ساتھ قدم قدم پر ہونے والی بے انصافیوں کا۔ انہیں چکمہ دیا جاتا ہے کہ سلطانی¿ جمہور (عوام کی حکمرانی) میں ہی ان کی بے قدری اور بے وقعتی ختم ہو سکتی ہے اور انہیں ان کی دہلیز پر آسان رسائی کے ساتھ انصاف حاصل ہو سکتا ہے مگر سلطانی¿ جمہور کو ہی عوام کے لئے سب سے بڑے استحصالی نظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جمہوریت (سلطانی¿ جمہور) کی تعریف انگریزی زبان میں تو یہی کی جاتی ہے کہ

"Democracy by the People, for the People, of the People"

مگر ہمارے جمہوری سلطانوں نے اپنے رویوں، فیصلوں، اقدامات اور پالیسیوں سے ڈیمو کریسی کو عوام کے لئے شجر ممنوعہ بنا دیا ہے چنانچہ ہماری جمہوریت کی انگریزی زبان والی تعریف عملاً اس قالب میں ڈھل چکی ہے کہ

"Democracy buy the People, far the People, off the People"

یعنی یہ وہ جمہوریت ہے جس میں جمہور (عوام الناس) کی مجبوریوں کو خرید کر انہیں اپنے لئے کٹھ پتلی بنایا جاتا ہے، انہیں اقتدار سے دھکیل کر دور کر دیا جاتا ہے اور ان کے دماغ ماﺅف کر دئیے جاتے ہیں تاکہ جمہوری سلطان (اشرافیہ حکمران) کے اللوں تللوں، ہوس زر، اقربا پروری اور من مانیوں کا وہ جائزہ لینے کے بھی اہل نہ رہیں۔

ہم دوستوں کو تشویش لاحق ہو رہی تھی بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز پر۔ آج لاہور میں ہی نہیں، ملک کا کوئی بھی علاقہ راہزنوں، جیب کتروں، ڈاکوﺅں، قاتلوں کی دستبرد سے محفوظ نہیں، خواتین کا گھروں سے نکل کر بازاروں، پارکوں میں جانا ہی محال ہو چکا ہے جنہیں دن دیہاڑے کسی نہ کسی گلی کی نکڑ، کشادہ سڑکوں، سروس روڈز، مارکیٹوں یا سستے ماڈل بازاروں میں سرعام اور پوری دیدہ دلیری کے ساتھ لوٹ لیا جاتا ہے، ان کے پرس چھین لئے جاتے ہیں، ان کی جیبوں سے موبائل فون اور نقدی نکال لی جاتی ہے، ان کے ہاتھوں اور کانوں کے طلائی زیورات اتار لئے جاتے ہیں اور یہ ایک دن کا واقعہ نہیں، روزمرہ کا معمول ہے مگر ان کی گرفت کرنے والی کوئی ریاستی مشینری کہیں نظر نہیں آتی۔ ذرا جائزہ لیجئے کہ اس سماجی بے راہروی اور دوسری معاشرتی برائیوں کے کیا محرکات ہو سکتے ہیں تو معاشرے میں پھیلتا ہوا بے روزگاری کا ناسُور آنکھوں کا کانٹا بن جاتا ہے۔ حکمرانوں نے تو سرکاری اداروں میں پڑھے لکھے ٹیلنٹڈ نوجوانوں کے لئے روزگار کے دروازے عملاً بند کر دئیے ہوئے ہیں، اب تو این ٹی ایس اور سروس کمشن کے میرٹ والے ڈھکوسلے بھی طشت ازبام ہونے لگے ہیں کہ وہاں بھی میرٹ اوپر سے آنے والی فہرستوں پر ہی لاگو ہو تا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں ملازمت کے حصول کے لئے ہی نہیں، کسی اچھے منصب کے حصول کے لئے بھی ادارہ جاتی ہیڈز کی جانب سے کھلے عام بولیاں لگائی جاتی ہیں جس کے پیچھے کسی نہ کسی اقتداری نامی گرامی کا سکہ چل رہا ہوتا ہے۔ پھر آپ بخوبی اندازہ لگا لیجئے کہ غریب اور متوسط خاندانوں میں جو بچے اور بچیاں اپنے والدین کے صبر و قناعت کا پھل اعلیٰ تعلیم کی شکل میں کاٹ کر اپنے اچھے سہانے مستقبل کی آس لگاتے ہیں مگر ملازمت کے حصول کے مراحل میں وہ میرٹ کے ڈھکوسلے کی زد میں آ کر دھتکار دئیے جاتے ہیں، ان کی مایوسیاں ان کے ذہنوں میں کتنے خلفشار پیدا کرتی ہوں گی جبکہ یہی بے روزگاری بھوک بڑھنے کا باعث بن رہی ہے۔ آپ سنجیدگی کے ساتھ سروے کرا لیجئے، ہمارے معاشرے میں پھیلتے ہوئے سٹریٹ کرائمز کا پس منظر آپ کو حکمرانوں کی پھیلائی گئی بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی غربت ہی نظر آئے گی، پھر نزلہ بر عضوِ ضعیف کے مصداق کمبختی پولیس کی آتی ہے جس کے بارے میں یہ تصور راسخ ہو چکا ہے کہ وہ بالعموم جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ملی ہوتی ہے اور ان کی سرپرستی کرتی ہے، اس تصور کے تحت ہی پولیس تھانوں کا کلچر عوام (شریف آدمی) کے لئے خوف کی علامت بن چکا ہے مگر پولیس افسران کی بات سُنیں تو مسائل میں گھرے اس محکمے سے زیادہ کوئی مظلوم نظر نہیں آئے گا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف تو بہت دعوے اور اعلانات فرماتے ہیں کہ انہوں نے محکمہ پولیس کو ہر قسم کے وسائل سے مالا مال کر دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پولیس کے پاس اتنی نفری ہی نہیں کہ بڑھتے سٹریٹ کرائمز کے سدباب کے لئے ہر شہر کی گلی کی نکڑ پر یا پارکوں، بازاروں میں پولیس اہلکاروں کی مستقل ڈیوٹی لگائی جا سکے۔ اس حوصلہ شکن ماحول میں بھی گذشتہ روز سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس اور ڈی آئی جی اپریشنز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف عوام کے ساتھ پولیس دوستی کو پروموٹ کر رہے ہیں تو ان کی اس خیال آفرینی کی داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ گذشتہ روز یہ دونوں حضرات میرے غریب خانے پر تشریف لائے جن کے لئے میں نے سبزہ زار ویلفیئر سوسائٹی اور ویلفیئر فیڈریشن کے زیر اہتمام ایک کھلی کچہری کا انتظام کیا تاکہ پولیس اور پبلک اپنا اپنا کتھارسس کر سکیں۔ کیپٹن امین وینس کی باتیں بہت لبھانے والی تھیں جو ہر پولیس تھانے میں ایڈمن افسر بٹھا کر عوام کا پولیس سے خوف دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس حوالے سے پولیس کلچر میں ایک مثبت تبدیلی کی جھلک نظر آئی ہے۔ سی سی پی او کے بقول پولیس والے بھی عوام ہی کا حصہ ہیں جو عام گھرانوں سے آ کر اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام ہی کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، اس لئے اگر اس محکمے میں صرف لاہور میں عوام کی حفاظت کرتے ہوئے ساڑھے تین سو پولیس کے جوانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں تو عوام کو خود ان قربانیوں پر فخر کرنا چاہئے، یقیناً دل لبھانے والی ایسی بے شمار باتیں کی جا سکتی ہیں مگر زمینی حقائق دوسری تصویر دکھاتے ہیں تو دماغ گڑبڑانے لگاتا ہے، کیا پولیس کلچر کا پیدا کردہ یہ خوف عوام کے دلوں سے ایسی دل لبھانے والی باتوں کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے جس کا اظہار گذشتہ روز کی تقریب کے بعد میرے کچھ احباب نے میرے ساتھ اپنے جذبات شیئر کرتے ہوئے کیا۔ ان احباب کا یہ تجسس عوام کے لئے خوف کی علامت بنے اس پولیس کلچر کی ہی عکاسی ہے کہ ”آخر آپ کے گھر اتنا بھاری پولیس چھاپہ، خیریت تو تھی؟“ جس معاشرے میں پولیس کا کسی گھر میں جانا سماجی میل جول کے بجائے خوف کی علامت بنا نظر آئے وہاں پولیس کے عوام دوست تصور کو کیسے غالب کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً یہ سارے اس سسٹم کے شاخسانے ہیں جسے مفاد پرست حکمران اشرافیہ طبقات نے عوام الناس کے لئے راندہ¿ درگاہ بنا دیا ہے۔ بھئی کچھ چارہ کر لو کہ یہ سسٹم، یہ معاشرہ اب اپنی بقا کا جواز کھو رہا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com