مردُودوں کی سفاکی اور کُھلتے حقائق
Dec 19, 2014

معصوم پھولوں پر مُردودوں کی سفاکی کی داستانیں سُن کر دل بیٹھنے لگتا ہے، کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اُف خدایا، ایسے ظالم بھی اس بدنصیب دھرتی پر موجود ہیں جو اپنے سفلی جذبات کی تسکین کے لئے ننھے دھڑکتے دلوں کو بند کرنے کے لئے انسانیت سے گری ہوئی حرکات کرتے رہے۔ ان مُردودوںکی گولیوں سے زخمی ہونے اور بچ نکلنے والے کچھ معصوم پھول اپنی زبانی اپنی آنکھوں کے سامنے بیتے واقعات بیان کر رہے ہیں تو مُردودوں کی سفاکی کا کرب اور بھی زیادہ شدت سے محسوس ہو رہا ہے۔ ارے توبہ، یہ مُردود ایک معصوم بچے کے ہاتھ میں بندوق تھما کر اسے حکم دیتے ہیں کہ جان بچانا چاہتے ہو تو اپنے سامنے کھڑے اپنے ساتھی بچوں پر اس بندوق سے فائر کھول دو۔ اس بچے کے دل پر کیا گزری ہو گی اس وقت اور پھر ان مُردودوں نے معصوم بچوں کی ایک پیاری ٹیچر کو ان کی آنکھوں کے سامنے زندہ جلا کر بھسم کر دیا۔ سکول کے ایک سکیورٹی اہلکار کی بیوی کو بھی ننھے دھڑکتے دل والے معصوموں کے سامنے زندہ جلا ڈالا اور سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی کو بھی بھون ڈالا جو سکول پر دہشت گردی کی توڑی گئی قیامت کی اپنے معصوم طلبہ کے والدین کو فون پر اطلاع دے رہی تھیں۔ یا خدا ایسے سفاک جلاد بھی اس دھرتی کا بوجھ بنے ہیں جنہوں نے محض چُھونے سے مرجھانے والی معصوم کلیوں کو ان کے اساتذہ اور ساتھی بچوں کے سامنے بے دردی سے ذبح کر دیا۔ پشاور ملٹری پبلک سکول کے مرکزی ہال کو معصوم بچوں کے خون کے دریا میں تبدیل کر کے دوسرے کلاس رومز میں بیٹھے طلبہ پر بھی فائر کھول دئیے، انہیں قطاروں میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھونتے رہے، سروں پر نشانے باندھ کر فائر کھولتے رہے۔ توبہ یا اللہ توبہ۔ اس المناک سانحہ پر تو کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول اور ان کے عزیز و اقربا پر یزیدیوں کی سفاکی بھی شرما جائے۔ اگر اس سفاکی پر پوری دنیا میں انسانیت رو رہی ہے تو ذرا سوچئے کہ ان مُردودوں کا اصل ایجنڈہ کیا ہے اور کس کی معاونت و سرپرستی میں وہ انسانیت کے رونے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ باتیں تو اب ساری کُھل رہی ہیں۔ پشاور کی قیامت صغریٰ کے روز ہی ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم باجوہ نے اپنی پریس بریفنگ میں کھل کر بیان کر دیا تھا کہ پشاور کی دہشت گردی میں کون لوگ شریک تھے، کہاں سے آئے تھے اور انہیں کس نے بھجوایا تھا، ہمیں اس کا سب علم ہو چکا ہے۔ پھر اگلے روز وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آٰئی کو کابل بھجوایا تو اس دہشت گردی کے پس پردہ محرکات کی کچھ پرتیں اور بھی کھل گئیں اور پھر عمران خان نے چار ماہ سے جاری حکومت مخالف دھرنا ختم کرتے ہوئے کور کمانڈر پشاور کا حوالہ دے کر اپنے دھرنائی ساتھیوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ پشاور دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے تو دہشت گردی کے محرکات کی گتھیاں سلجھانے کا کام اور بھی آسان ہو گیا جبکہ رہی سہی کسر دہشت گردی کی جنگ ہم پر مسلط کرنے والے سابق جرنیلی آمر مشرف نے سی این این  کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں نکال دی ہے جنہوں نے عملاً یہ گواہی دے دی ہے کہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ مُلا فضل اللہ کو سپورٹ کر رہی ہے اور امریکی سی آئی اے کو اس کا علم ہے۔ ہمارا دشمن تو ننگا ہو کر ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔ میں نے دو روز قبل وقت ٹی وی کے پروگرام نیوز لائونج کی ہوسٹ انیقہ نثار کے استفسار پر اسی پروگرام میں کہا تھا کہ پشاور دہشت گردی کے پس پردہ محرکات میں بھارتی ہاتھوں کا ملوث ہونا خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا اس لئے مودی کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کر کے ان سے پشاور دہشت گردی پر ہمدردی کے اظہار سے ہمیں بھارت کے معاملہ پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہئے۔

ہماری سیکورٹی ایجنسیاں یہ کُھرا تو بہر صورت نکال چکی ہیں کہ پشاور دہشت گردی میں ملک کے اڑھائی تین سو نونہالوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے سفاک دہشت گرد افغانستان سے سرحد عبور کر کے آئے تھے اور واردات کے دوران بھی انہیں افغانستان میں موجود مُلا فضل اللہ سے ہدایات مل رہی تھیں۔ آپ کرزئی دور کا جائزہ لیں تو پاکستان کی سالمیت کے خلاف افغان سرزمین پر بھارتی ’’را‘‘ اور فوجی کمانڈروں کی جانب سے  دہشت گردوں کی تربیت کر کے پاکستان کی سالمیت کے خلاف پھیلائی گئی سازشیں منظر عام پر پڑی نظر آتی ہیں۔ اس کرزئی نے جو نیٹو فورسز کو پاکستان پر فضائی اور زمینی حملے کرنے کی ترغیب دیتے رہے، بھارت کو افغانستان کے غیر معروف شہروں میں درجن بھر قونصل خانے قائم کرنے کی اجازت دی جہاں بھارتی فوجی کمانڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ یہی بھارتی قونصل خانے افغان فوجیوں کی تربیت کے نام پر دہشت گردوں کی تربیت کرتے رہے جنہوں نے جتھہ بند ہو کر پاکستان میں داخل ہونے اور چیک پوسٹوں پر حملے کرنے کا سلسلہ کرزئی کے دور میں ہی شروع کیا تھا۔ اسی دور میں کراچی، کوئٹہ اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارتی اسلحہ کے استعمال کے شواہد ملے تو پھر اب کوئی بات بھلا ڈھکی چھپی رہ گئی ہے۔ موجودہ بھارتی حکمران مودی جتنی دیدہ دلیری کے ساتھ کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھائے جا رہے ہیں اور ہر قسم کا جدید اور روایتی اسلحہ خرید بھی رہے ہیں اور خود بنانے کا اہتمام بھی کر رہے ہیں، اس سے تو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں ہی پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی اپنے تئیں منصوبہ بندی کئے بیٹھے ہیں۔ تو پھر جناب وزیراعظم! آپ نے دہشت گردوں کے صفایا کے لئے بے دھڑک پالیسی طے کر لی ہے جس سے آپ نے آل پارٹیز کانفرنس میں سارے قومی سیاسی قائدین کو بھی آگاہ کر دیا ہے تو اب لگے ہاتھوں ان دہشت گردوں کے اصل سرپرست بھارت کے بارے میں بھی بے لاگ، بے خوف اور جرأت مندانہ پالیسی طے کر لیں۔ آزمائش کے یہ مراحل ہمارے لئے فیصلہ کن مراحل ہیں۔ آپ کو پوری قوم کی ہی نہیں دنیا بھر کی تائید حاصل ہو چکی ہے، آپ سارے مکروہ اور ملعون چہروں کو بے نقاب کریں اور انہیں ٹھکانے لگانے کا بندوبست کریں اور یاد رکھئے کہ آپ کے پاس بھی اور وطن عزیز پاکستان کے پاس بھی یہ آخری موقع ہے۔ پھر سوچ رکھئے کہ ہم یہ موقع ضائع کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں بھلا؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com