پریشر گروپوں کے ہاتھوں میڈیا کی درگت۔ آخر کب تک؟
Dec 17, 2014

سقوط ڈھاکہ کی المناک تاریخ سے ایک روز قبل لاہور میں پی ٹی آئی کی خرمستیوں اور عوام پر تشدد کے واقعات کو مکتی باہنی کی 16 دسمبر1971ء تک کی سرگرمیوں سے تعبیر کرتے ہوئے لوگ آج سراپا سوال تھے کہ عمران خاں کو آج ملک کے دولخت ہونے کی المناک  تاریخ 16 دسمبر پر اس سانحہ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر کوئی تقریب منعقد کرانے کا کیوں خیال نہیں آیا۔ اس سوال کا جواب تو عمران خاں کے نئے پاکستان والے ایجنڈے میں ہی شامل ہے جس کی تعبیر وہ خدانخواستہ پرانے (باقی ماندہ) پاکستان کو سقوط ڈھاکہ جیسے کسی دوسرے المئے سے دوچار کرانے والے حالات پیدا کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے اس ایجنڈے کو بھی جنرل نیازی کی دشمن فوج کے کمانڈر کے سامنے پستول پھینک کر سرنڈر کرنے والی حرکت ہی کی طرح قابل نفرین سمجھا جاتا رہے گا۔

مجھے آج پی ٹی آئی کے کارکنوں کے صرف اس اتھرے پن کا جائزہ لینا ہے جس کے نظارے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ان کارکنوں کے ہاتھوں ایک خاتون اینکر سمیت پی ٹی آئی کے دھرنوں اور مظاہروں کی کوریج کے پیشہ وارانہ فرائض ادا کرنے والے متعدد صحافیوں کی درگت بننے کی شکل میں پوری قوم نے دیکھے۔ سیاسی پریشر گروپوں کے ہاتھوں صحافیوں اور میڈیا پرسنز کی کمبختی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اپنی صحافتی زندگی کے 40,35 سال کے دوران مجھے خود بھی کئی بار ایسے مراحل سے گزرنا پڑا ہے اور ہماری صحافت کی تاریخ بھی ایسے تلخ واقعات سے بھری پڑی ہے مگر بدتمیزی کا جو کلچر عمران خاں کی قیادت میں پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر فروغ دیا جا رہا ہے اس کا انجام صریحاً خانہ جنگی والا نظر آ رہا ہے۔ اس لئے سوسائٹی کو اس ممکنہ افسوسناک انجام سے بچانے کے لئے ہر شعبہ زندگی کی شخصیات بشمول صحافی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

۔80ء کی دہائی والے اپوزیشن اتحاد ایم آرڈی کی جرنیلی آمر ضیاء الحق کے ساتھ تقریباً آٹھ برس تک مڈبھیڑ رہی جس کے دوران ایم آرڈی کے کارکنوں پر ریاستی تشدد کا کوئی ایسا حربہ نہیں ہو گا جو آزمایا نہ گیا ہو۔ اس حوالے سے ایم آرڈی کے کارکنوں کے جذبات بھی مشتعل رہتے تھے۔  اس وقت نجی الیکٹرانک میڈیا کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا جبکہ سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) کے لئے ایم آر ڈی کی کوریج شجر ممنوعہ تھی چنانچہ پرنٹ میڈیا (جس میں نوائے وقت کو زیادہ اہمیت حاصل تھی) ایم آرڈی کے قائدین اور کارکنوں کی توجہ کا مرکز بنا رہتا تھا اور مناسب کوریج نہ ہونے کا شکوہ کبھی کبھی جارحانہ انداز میں بھی ہوتا رہتا تھا۔ مجھے اس دور کے باغ بیرون موچی گیٹ لاہور والے ایم آرڈی کے ایک جلسہ میں ایسی ہی تلخ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جو گزشتہ روز چیئرنگ کراس میں  پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے بالخصوص ایک ٹی وی چینل جیو کے کارکنوں کے لئے بنائی گئی۔ ایم آرڈی کے اس جلسے کا ہجوم بہت زیادہ مشتعل تھا میڈیا کے لئے اسی ہجوم کے درمیان سٹیج کے سامنے ٹریکٹر ٹرالیاں جوڑ کر جگہ بنائی گئی تھی۔ ایم آرڈی کے سیکرٹری جنرل ملک قاسم مرحوم تقریر کے لئے ڈائس پر آئے تو کارکنوں کے جذبات دیکھ کر خود بھی جذباتی ہو گئے اور سیدھا میری جانب انگلی کا اشارہ کرتے اور مجھے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سیکھو سعید آسی آج اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ ہمارے ساتھ عوام کی کتنی اکثریت موجود ہے۔ کل یہ نہ لکھنا کہ عوام ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔ ان کے یہ فقرہ ادا کرنے کی دیر تھی کہ ایم آرڈی کے مشتعل ہجوم نے مخالفانہ جذباتی نعرے لگاتے ہوئے پریس لائونج کی جانب بڑھنا شروع کر دیا۔ ملک قاسم نے پھر یہی الفاظ جنگ کے انجم رشید کا نام لیتے ہوئے دہرائے تو ایم آرڈی کے جذباتی کارکنوں کا پریس کے خلاف اشتعال اور بھی بڑھ گیا جبکہ ہم ان کے درمیان قطعی غیر محفوظ اور ان کے رحم و کرم پر تھے۔ اگر وہ ہم پر پل پڑتے تو لازماً ہماری تکہ بوٹی کر دیتے۔ ملک قاسم نے بھی اس ماحول کو بھانپ لیا چنانچہ انہوں نے دوران تقریر تقریباً دھاڑتے ہوئے ایم آرڈی کے کارکنوں سے کہا کہ خبردار جو آپ نے میڈیا کی جانب ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔ ایم آرڈی کے سارے مرکزی قائدین بشمول میر غوث بخش بزنجو‘ ملک غلام مصطفیٰ جتوئی‘ بیگم نسیم ولی خاں‘ خواجہ خیرالدین بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہمارے لئے ڈھال بن گئے چنانچہ ایم آرڈی کے کسی کارکن کو ہماری جانب بڑھنے کی جرات نہ ہوئی مگر گزشتہ روز تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اپنی قیادت کی جانب سے بھی کھلی چھوٹ ملی نظر آتی تھی چنانچہ انہوں نے سہیل وڑائچ کو بھی دھکیل کر باہر نکال دیا۔ وقت ٹی وی کے کیمرہ مین کو تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہ کیا۔ امین حفیظ اور احمد فراز کی درگت بنانے سے بھی نہ چوکے اور ثناء مرزا کے خاتون ہونے کے تقدس کا بھی احترام نہ کیا۔ مجھے میڈیا کے ساتھ بدتمیزی کے ان واقعات پر عاصمہ جہانگیر کا یہ ردعمل بہت اچھا لگا کہ اصل تربیت کی تو خود عمران خاں کو ضرورت ہے جو انتہائی عامیانہ لب و لہجے میں ہر ایک کو چیلنج کرتے پھرتے ہیں۔ وہ خود سدھریں گے تو ان کے کارکنوں میں سدھار پیدا ہو گا۔ عمران خاں کی چیئرنگ کراس والی تقریر سے تو ایسا کوئی عندیہ نہیں ملتا کہ انہیں خود کو سدھارنے کا کوئی احساس ہو گیا ہے۔ پھر میڈیا کو کیا کرنا چاہئے۔ جب پی ٹی آئی کے سارے قائدین اس زعم کا شکار ہیں کہ ہماری کوریج میڈیا کی مجبوری ہے تو میڈیا تنظیموں کو ایکا کرکے عمران خاں اور ان کے ساتھیوں کو کم از کم اس زعم سے تو باہر نکال لینا چاہئے۔ بے شک میڈیا نے ہر قسم کے نامساعد‘ حوصلہ شکن اور کٹھن حالات کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنے فرائض منصبی ادا کرنے ہوتے ہیں اور قوم کی آنکھ بننا ہوتا ہے جس میں قوم کو وہی کچھ دکھایا جانا مقصود ہوتا ہے جو اصل میں ہوتا ہے۔ میڈیا کا  یہی کردار حکمرانوں اور ان طبقات بشمول سیاستدانوں کو بھی وارا نہیں کھاتا جن کا اصل چہرہ قوم کے سامنے آ رہا ہوتا ہے۔ نوائے وقت نے تو ایسے بہت سے کٹھن مراحل بھگتے ہوئے ہیں۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ 1984ء میں اسلامی جمعیت طلبہ نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نوائے وقت کے آفس پر دن دہاڑے حملہ کر دیا تھا۔ اس وقت جمعیت کے کارکنوں نے نوائے وقت کے ایڈیٹوریل‘ میگزین‘ رپورٹنگ اور نیوز کے شعبہ میں گھس کر سٹاف کو ہراساں بھی کیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور ہماری ساتھی خاتون رپورٹر زبیدہ خانم کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی جبکہ اس وقت شعبہ ایڈیٹوریل میں ڈپٹی ایڈیٹر بشیر احمد ارشد مرحوم‘ مدیر سرراہے وقار انبالوی مرحوم‘ سلیم تابانی مرحوم بھی اپنی بزرگی کے باوجود جمعیت کے کارکنوں کی بدتمیزی سے نہ بچ پائے۔ اسی طرح نوائے وقت کراچی آفس میں ایک تنظیم کی طرف سے 80ء کی دہائی میں ہی کرایا گیا خودکش حملہ ہمارے لئے ایک المناک داستان بن چکا ہے جس میں نوائے وقت سٹاف کے چار کارکنوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا۔ ایسی ہی غنڈہ گردی کا سامنا ایک بار نوائے وقت لاہور آفس کو ڈاکٹر طاہرالقادری کے مشتعل کارکنوں کی جانب سے کرنا پڑا جب ڈاکٹر صاحب ایک جلوس کی شکل میں چیئرنگ کراس لاہور آئے اور تقریر کرتے ہوئے نوائے وقت کو ’’حکم‘‘ دیا کہ ان کی تقریر کی کل لیڈ سٹوری بنائی جائے۔ ان کے مشتعل کارکن ان کے اس حکم کی تعمیل کرانے نوائے وقت کے آفس میں بھی آ گئے مگر نوائے وقت نے علامہ صاحب کے مظاہرے کو اتنی ہی کوریج دی جتنی کوریج کے وہ مستحق تھے۔ یہ سارے واقعات بیان کرنے کا میرا یہی مقصد ہے کہ میڈیا کو بھی اب ایسے حکومتی‘ غیر حکومتی پریشر گروپوں کا زعم توڑنے کے لئے ایکا کرنا چاہئے۔ اگر سارا میڈیا یکسو ہو کر پی ٹی آئی کی فسطائی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کر دے اور اس کے راہ راست پر آنے تک اس کے بارے میں کوئی ایک لفظ بھی نہ چھاپے نہ دکھائے تو اس کی قیادت کا زعم ٹوٹتے کوئی دیر نہیں لگے گی۔ میں اپنے اسی تجسس پر یہ کالم ختم کر رہا ہوں اور فیصلہ میڈیا تنظیموں پر چھوڑتا ہوں کہ ہم آخر کب تک سیاسی پریشر گروپوں کے ہاتھوں یرغمال بنتے رہیں گے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com