اور آج لاہور ۔ خدا خیر کرے
Dec 15, 2014

آج لاہور کی باری ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی بڑھتی تشویش حکمرانوں کو کچھ کر گزرنے کا درس دے رہی ہے مگر حکمران محتاط ہونے کے ساتھ ساتھ خوفزدہ بھی ہیں۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق دھرنوں اور مظاہروں کی سیاست سے تین ماہ کے دوران ملکی معیشت کو دس ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے مگر اس سیاست کا تسلسل ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ پھر آج لاہور میں کیا ہونے والا ہے، آپ ایک طرف کل باضابطہ مذاکرات کی میز سجانے جا رہے ہیں اور اس سے ایک دن پہلے آپ لاہور میں افراتفری کا ہر داﺅ پیچ لگانا اور آزمانا چاہتے ہیں تو حضور آپ ہائیکورٹ کی تشویش بھی تو ختم کیجئے جو حکومت کو اپنی رٹ کی کمزوری پر مطعون کر کے امن و امان ہر صورت بحال کرنے اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کا تقاضہ کر رہی ہے اور حکومت ہے کہ نہ پائے رفتن، نہ جانے ماندن کی تصویر بنی بیٹھی ہے گویا

بول پئے تاں مار دین گے
نہ بولے تے مر جاواں گے

ارے توبہ، یہ معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا، آخر کوئی تو اس گتھی کو سُلجھائے آ کر۔ بھئی سب کو احساس ہے کہ دھرنا سیاست نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ اس احساس کا اظہار بھی کہیں ڈھکے چھپے اور کہیں واشگاف الفاظ میں ہو رہا ہے۔ جمہوریت کو ممکنہ نقصان کی بات بھی ہوتی ہے، ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا بھی دھڑکا لگایا جاتا ہے مگر اتنی نقصان دہ سیاست کو روکنے کا چارہ حکومت نہیں کر پا رہی جیسے کسی نے اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ دئیے ہوئے ہیں اور دھرنا سیاست کو الزام تراشی کے شور شرابے میں پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کر دیا ہُوا ہے جس کے لئے حکومت کو کوئی ایسا ڈروا دیا گیا نظر آتا ہے کہ اس جانب دیکھا تو پتھر کے ہو جاﺅ گے۔ ذرا سوچئے جناب، آخر یہ معاملہ کیا ہے صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں، مگر اس سیاست میں چھپنے والی کوئی چیز اب رہ تو نہیں گئی۔ میں نے ایک گذشتہ کالم میں عمران خان اور طاہر القادری کی سیاست کے پیچھے مصروفِ کار کچھ ہاتھوں کی نشاندہی کی تھی جس پر کئی احباب نے مجھے ان ہاتھوں کے ڈراوے دے کر باز آنے کی نصیحت کی مگر سپریم کورٹ کے بعد اب لاہور ہائیکورٹ بھی بار بار حکومت کو جھنجوڑ رہی ہے کہ ملکی اور قومی مفادات کے خلاف جاری افراتفری کی سیاست کو روکنے کے لئے اس کی رٹ کہاں مر گئی ہے اور وہ کیوں اس سیاست کے ہاتھوں مزید انسانوں کی لاشیں گرنے اور ملکی معیشت کی مزید جڑیں ہلانے کا موقع فراہم کر رہی ہے، تو پھر بھائی صاحب ان ”ہاتھوں“ سے پوچھنے میں کیا مضائقہ ہے کہ سسٹم اور ملک کے نقصان کا موجب بننے والی اس سیاست سے آپ کا کیا مفاد وابستہ ہے، یہ ہاتھ تو ملک کے تحفظ و نگہبانی کے ہاتھ ہیں پھر یہ ملک کو نقصان پہنچانے والی سیاست کے سر پر دستِ شققت کیسے بن گئے۔ تھوڑی سی ہمت کیجئے اور پوچھ تاچھ کر اس کا نتارا کر لیجئے، اس سیاست کا اب تک کا معاملہ سب کے سامنے ہے۔ شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے تسلسل کے ساتھ جاری جارحانہ دھرنوں کا نقصان عوامی جمہوریہ چین کے صدر کے دورہ¿ اسلام آباد کی منسوخی کی صورت میں سامنے آیا۔ دوسرے ممالک کے سفارتکاروں کا ناطقہ بھی تنگ ہوا، لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوئے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو دھرنا بازوں سے شاہراہ دستور خالی کرانے کا حکم دیا، حکومت کی جانب سے تھوڑی سی ہلچل ہوئی تو امپائر کی انگلی اُٹھنے کی باتیں ہونے لگیں جس کے کور کمانڈرز میٹنگ کے بعد معنی خیز ردعمل نے حکومت کی اور ”پُھوک“ نکال دی، اگر عین اس وقت پر جاوید ہاشمی بھانڈہ نہ پھوڑتے اور پھر پوری پارلیمنٹ یکسو ہو کر اپنے تحفظ کے لئے کھڑی نہ ہوئی ہوتی تو امپائر کی انگلی اُٹھنے میں بس پلک جھپکنے کی دیر ہی باقی رہ گئی تھی، مگر کمال ہے شاہراہ دستور دھرنا بازوں سے پھر بھی خالی نہ کرائی جا سکی حالانکہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ان دھرنوں کا دم خم بھی گزرتا جا رہا تھا۔ اس وقت بھی دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ یہ دھرنے کس کے حصار کے اندر موج مستیاں کر رہے ہیں مگر پولیس اور دوسری سول سکیورٹی فورسز کو اس جانب پَر مارنے کی اجازت بھی نہ مل پائی، پھر عمرانی دھرنے کے ساتھ ساتھ سی، ڈی افراتفری پلان کا بھی اعلان ہو گیا جو سول نافرمانی کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان تھا مگر حکومت کے ہاتھ بندھے رہے، اس ڈر اور خوف میں ہی فیصل آباد خانہ جنگی کا ملبہ حکومت نے خود پر ڈلوا لیا اور ملک کو نقصان پہنچانے والی افراتفری کی سیاست کی دھاک اور بھی بیٹھ گئی۔ کراچی میں مارکیٹیں تو بند کرا دی گئیں مگر فیصل آباد والے مقاصد حاصل نہ ہو پائے چنانچہ ”بیک فٹ“ پر آئی اس افراتفری سیاست کو اب لاہور میں دوبارہ پاﺅں پر کھڑا کرنے کی پالیسی بنی ہے، خدا خیر کرے آج لاہور میں اس پالیسی کو ہی عملی جامہ پہنایا جانا ہے تاکہ 18 دسمبر کو پاکستان بند کرنے کے پلان سی کا آخری مرحلہ مقاصد کے حصول کے ساتھ پلان ڈی میں داخل کیا جا سکے، پھر یہ مذاکرات کی یہ بیکار ایکسر سائز کرانے کی کیا ضرورت ہے۔ تو جناب آج ذرا پوچھ ہی لیجئے، سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا، حکومت کوئی جواب نہ دے پائی، اب ہائیکورٹ بھی سارا ملبہ حکومت پر ہی ڈال رہی ہے۔ پھر یا تو حکومت دل جگرے کا مظاہرہ کر کے ہائیکورٹ کے روبرو اصل کہانی کھول دے یا ہائیکورٹ خود ان ”چھپے“ ہوئے واضح ہاتھوں کو بُلا کر ان کے ملکی اور قومی مفادات جان لے۔ اگر یہ سیاست فی الواقع قومی مفادات کی ترجمانی کرنے والی سیاست ہے جس کا آج لاہور بند کرنے کی تحریک سے کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے گا تو پھر اس قومی مفاد سے پوری قوم کو بھی آگاہ کیا جانا چاہئے تاکہ وہ اسے قومی مفاد کے منافی سیاست سمجھ کر گھر بیٹھنے کے بجائے گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو کے لئے سڑکوں پر آ کر قومی مفادات کی حامل اس سیاست کی مکمل اور اعلانیہ معاون بن جائے۔ آخر کسی نے تو بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنی ہے تو آج بسم اللہ کیجئے۔ عدالتی ازخود اختیارات والی کارروائی کو بروئے کار لائیے اور قوم کو ہیجان و خلجان سے نجات دلائیے۔ نظریہ ضرورت تو عدلیہ بحالی تحریک نے دفن کر دیا تھا مگر اب پھر چھانٹے مار کر اس نظریے کو زندہ کرنے کے جتن ہو رہے ہیں کیونکہ یہ نظریہ موجود ہو گا تو ماورائے آئین اقدام کو پھر بروئے کار لانے کا راستہ کھل پائے گا جس میں جمہوریت کی لپیٹی بساط کو نظریہ ضرورت کا تڑکا لگا کر ہی آئندہ ایک دو دہائیوں تک لپیٹے رکھنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ پھر اگر یہی قومی مفاد ہے تو اس سے قوم کو بے خبر رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا قوم نے یہ عذاب پہلے نہیں سہہ رکھے؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com