نابیناﺅں کی ”دبڑ کُٹ“ ، لیکن یہ چیزے دیگر است ۔
Dec 05, 2014

بھلا یہ عذر گناہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے کہ صدرِِ مملکت کے لگے ہوئے روٹ کو کلیئر رکھنے کے لئے نابینا مظاہرین کو راستے سے ہٹانا ضروری تھا اور بھلا یہ منطق جرم کی نوعیت کم کر سکتی ہے کہ نابیناﺅں پر لاٹھی چارج نہیں کیا گیا، انہیں صرف دھکیل کر پیچھے ہٹایا گیا ہے۔ ارے یہ ظلم تو معذروں کے عالمی دن کے موقع پر ہُوا ہے اور ہم نے بے بس و لاچار نابیناﺅں کو پولیس تشدد کی بھینٹ چڑھا کر دنیا بھر میں اپنی رسوائی کا اہتمام کر لیا ہے۔ بی بی مریم نواز کو تو یہ ظلم اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی ہمت نہیں ہو پا رہی اور ان کا یہ زعم ہے کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ملک میں موجود ہوتے تو نابیناﺅں پر تشدد کے مجرم اسی وقت کیفر کردار کو پہنچ جاتے، گویا وہ ملک میں نہ ہوں تو ان کی حکومت نہیں ہوتی۔ مگر میرا تجسّس یہ ہے کہ جو حکومت سانحہ¿ ماڈل ٹاﺅن کے باعث پہلے ہی دفاعی پوزیشن پر آ چکی ہے اور ہر حکومت مخالف جلسے جلوس اور مظاہرے کے دوران اس سانحہ کی صدا کے بازگشت گونجتی نظر آتی ہے کیا وہ اتنی بے پرواہ اور سنگدل ہو سکتی ہے کہ نابیناﺅں پر پولیس تشدد میں بھی اس کی رضامندی شامل ہو۔ اگر میرے اس استفسار پر سوالیہ نشان لگتا ہے تو پھر یقیناً کھوج لگایا جانا چاہئے کہ بیٹھے بٹھائے ملک اور حکومت کی دنیا بھر میں رسوائی کا باعث بننے والے اس افسوسناک واقعہ کے اصل مقاصد اور محرکات کیا ہیں۔

نابیناﺅں کو دھکیلنے، کھینچنے اور ان کی دُرگت بنانے والے جو پولیس اہلکار ٹی وی سکرینوں کے ذریعے پہچانے گئے انہیں حکومت نے معطل کر دیا اور بس۔ یہ معطلی سزا نہیں، ان سفاکوں کے لئے تمغے ہیں جو اس محکمہ میں اپنے ماتھے پر سجانے والے ہی عزت دار ٹھہرتے ہیں، ایسے معاملات میں عابد باکسر کے فخریہ اعترافات یقیناً لوگوں کے ذہنوں سے ابھی محو نہیں ہوئے ہوں گے۔ پھر بس عذر گناہ پر ہی تکیہ کر لیا؟ ارے کتنا ظلم ہے۔ اسی روز نابیناﺅں کی قومی کرکٹ ٹیم نے بلائینڈ کرکٹ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا سے اپنا میچ جیتنے کی خوشخبری قوم کو سُنائی اور اپنے جائز حقوق کے لئے پُرامن احتجاجی مارچ کرنے والے نابیناﺅں میں قومی بلائینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق قابلِ فخر کپتان عبدالرزاق بھی شامل تھے جنہوں نے قوم کو دو بار ورلڈ بلائینڈ کرکٹ کپ کی جیت کا تحفہ دیا ہوا ہے اور پھر کیا یہ معصوم و بے گناہ انسان خود پر ظلم ڈھایا جاتا بھلا دیکھ بھی سکتے ہیں؟ مجھے اس سے آگے ابھی ایک سطر بھی نہیں لکھنی، سوشل میڈیا پر چلنے والی ڈاکٹر اختر شمار کی غزل نے میرے سانس روک لئے ہیں، سب سے پہلے یہ غزل میں آپ کے ساتھ شیئر کروں گا، ملاحظہ فرمائیے

آنکھوں والوں نے کل دیکھا نابینوں پر لاٹھی چارج
کیسا یہ قانون ہے اندھا، نابینوں پر لاٹھی چارج
بھگیاڑوں نے پہن رکھی تھی جیسے پُلس کی یونیفارم
ورنہ یہ کیسے ہو سکتا تھا نابینوں پر لاٹھی چارج
جانے کیوں اس ظلم پہ ہم تم سارے کے سارے ہیں خاموش
کیسے کیا ہے ہم نے گوارا، نابینوں پر لاٹھی چارج
میرے دیس میں کمزوروں کا کوئی نہیں پُرسانِ حال
قائداعظم! دیکھ تماشا، نابینوں پر لاٹھی چارج

تو حضور اب آگے بڑھئے، پُلس کی وردی پہنے ان ”بگھیاڑوں“ کو پہچانئے، سانحہ¿ ماڈل ٹاﺅن میں بھی پولیس کی وردی میں سفاکانہ فائرنگ کرتی ایسی مخلوق پہچانی گئی تھی، میں نے وقت ٹی وی پر انیقہ نثار کے ایک ٹاک شو میں اس مخلوق کی طرف اشارہ کیا تو میرے ساتھ شریک گفتگو پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل نے جو ماشاءاللہ ریٹائرڈ بریگیڈئر بھی ہیں، وقفے کے دوران مجھے کہا کہ آپ کُھل کر اس مخلوق کا نام لیں اور میں بھی نام لیتا ہوں مگر پروگرام کے باقی حصے کے دوران انہیں اس ”مخلوق“ کا نام لینے کی توفیق نہ ہوئی جبکہ میرا اشارہ ہی کافی تھا۔ پھر جناب اب نابیناﺅں پر لاٹھی چارج نہیں ہوا تو ان کی ”دبڑ کُٹ“ کرنے والی مخلوق ہی کو پہچان لیجئے، آپ نے چہرے پہچان کر جن کی معطلیاں کی ہیں ان کی پولیس کے روایتی طریقہ کار کے مطابق تفتیش کر لیں اور کسی عابد باکسر جیسے مشاق کی ڈیوٹی لگا دیں۔ وہ ان کی زبان سے اُگلوا لے گا کہ ان کے ذہنوں میں نابیناﺅں کی ”دبڑ کُٹ“ کا ایجنڈہ کن کار سازوں کی طرف ڈالا گیا تھا تاکہ اس ایکشن پر حکومت کی سفاکی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اس سے قومی مفاد کے تحت ملک اور عوام کی خلاصی کرانے کا جواز نکالا جا سکے۔ ذرا تحقیق کیجئے، عمران خان کے پلان سی اور ڈی کے کیا کیا نکات ہیں، پھر کچھ نہ چھپائیے قوم کو اصل حقائق سے بے دھڑک آگاہ کیجئے۔ آخر قومی مفاد کے کسی منصوبے سے قوم کو آگاہ بھی تو ہونا چاہئے، آپ بس ایسے واقعات پر افسوس اور تاسف کا اظہار کرتے رہے اور سب کچھ جان کر بھی کچھ نہ جاننے والا منہ بنا کر بیٹھے رہے تو کیا آپ اپنے دوسرے گال کو تھپڑ سے بچا پائیں گے؟ اگر نہیں تو کم از کم اپنا ذہن مطمئن اور قوم کا ذہن صاف تو کر دیجئے۔

مجھے بہر صورت ”پُلس“ کی وکالت تو ہرگز نہیں کرنی باوجود اس کے کہ سی سی پی او لاہور امین وینس صاحب اور میرے دیرینہ تعلقدار ایس پی سی آئی اے عمر ورک صاحب مجھے پولیس کلچر کی اصلاح کی اپنی طلسماتی منصوبہ بندی کی جھلکیاں دکھا چکے ہیں مگر درویش پنجابی شاعر عبیر ابوزری کا یہ شعر مجھے پولیس کلچر کا منظرنامہ دکھاتا رہتا ہے کہ

پُلس نوں آکھاں رشوت خور تے فَیدہ کی
پِچّھوں کردا پھراں ٹکور تے فَیدہ کی

اور پھر ہمارے ”ظالم“ ظریف شاعر خالد مسعود نے تو اپنے اس شعر میں پولیس کلچر کا تماشہ ہی لگا دیا ہے کہ

جس رستے پر ڈاکو شاکُو کُھل کُھلا کر لُوٹیں
اس سے اِک دو گز پر آگے پُلس کا ناکہ ہوتا ہے

مگر آپ خدارا معصوم نابیناﺅں کی ”دبڑ کُٹ“ کو اس پولیس کلچر میں ہرگز گڈمڈ نہ کیجئے کیونکہ یہ ”چیزے دیگر است“
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com