30 نومبر کے دو منڈوے اور یادِ ماضی
Nov 30, 2014

آنے والے دو دنوں میں قومی سیاست میں دو اہم معاملات ہونے والے ہیں تو یادشِ بخیر ایسے معاملات کے ماضی کے مناظر بھی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے ہیں۔ ایک عمران کی دھرنا سیاست کا معاملہ ہے جو کل 30 نومبر کو دیکھیں کیا گُل کھلاتا ہے اور دوسرا اسی روز 30 نومبر کا پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کا معاملہ ہے جس میں پارٹی کے چیئرمین بلاول کی عدم شرکت کی تصدیق اس کنونشن کے منتظم اور پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے خود ہی کر دی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!“

میں اکثر اپنے کالموں میں جرنیلی آمر ضیاءالحق کے دور والی ایم آر ڈی کی تحریک بحالی جمہوریت کے دوران حکومت مخالف سیاسی قائدین اور کارکنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ کرتا ہوں۔ یہ تحریک 1981ءسے بینظیر بھٹو کے اقتدار کی منزل آنے تک مسلسل آٹھ برس تک جاری رہی جس میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہروں، دھرنوں، جلوسوں، جلسوں اور ان کی پاداش میں ایم آر ڈی کے کارکنوں کی گرفتاریوں، لاٹھی، گولی، آنسو گیس اور اس کے ساتھ ساتھ ضیاءحمایت تحریک کے جوابی پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بھی اتنے ہی عرصے پر محیط رہا ہے۔ مجھے عمران خاں اور طاہرالقادری کی دھرنا سیاست سے کوئی عناد نہیں مگر اس سیاست میں حکومتی مظالم کا جس شدت کے ساتھ تذکرہ کیا جاتا ہے اس کے باوجود دھرنا سیاست کو کوئی گزند نہیں پہنچی تو انہیں ایم آر ڈی دور والی حکومتی سختیوں کی یاد دلانا تو ضروری بن جاتا ہے۔ میں نے چونکہ ایم آرڈی کی پوری تحریک کا خود مشاہدہ کیا ہوا ہے اور اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ان حکومتی سختیوں کو بھگتا بھی ہوا ہے اس لئے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسے حکومتی ہتھکنڈوں کی موجودگی میں عمران اور طاہر القادری کی دھرنا سیاست کا پنپنا اور تین ساڑھے تین ماہ تک پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنے کا برقرار رہنا تو کجا، ان کے ایسی سیاست کے آغاز پر ہی چھکے چھوٹ جاتے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بیڈن روڈ پر ایم آر ڈی کا سارے کا سارا احتجاجی جلوس مظاہرین سمیت ہائی جیک اور پلک جھپکتے میں منظر سے غائب ہوتے دیکھا ہے۔ اسی طرح ایک بار ملک قاسم مرحوم اور میاں خورشید محمود قصوری احتجاجی پروگرام کے شیڈول سے ایک گھنٹہ قبل پولیس کے حصار سے بچتے بچاتے مسجد نیلا گنبد میں داخل ہوئے تو میں بھی ان کے ہمراہ تھا، مگر مسجد میں موجود ضیاالحق کے حامیوں نے انہیں پہچان کر ان کا ناطقہ تنگ کر دیا اور انہیں دھکیلتے ہوئے مسجد سے باہر نکال دیا، اس کے بعد پولیس نے مسجد نیلا گنبد کے باہر ایم آرڈی کے کارکنوں کا بھرکس نکال دیا۔ ایسا ہی ایک واقعہ آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہے جب جی پی او چوک سے مسجد شہداءکی جانب آنے والے ایم آر ڈی کے جلوس پر ضیاءحمایت تحریک کے لوگوں نے ڈنڈوں، راڈوں اور پتھروں سے دھاوا بول دیا، اس وقت جان بچانے کے لئے ایم آر ڈی کے کچھ قائدین فین روڈ سے آگے ایک بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھ کر اس کے اپر فلور پر چلے گئے، میں خود بھی اسی طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوا مگر بلوائیوں نے شعلے نکالتی لکڑیاں اپر فلور پر پھینک کر ہمیں زندہ جلانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ حنیف رامے تو ایک جلتی لکڑی کی زد میں آنے سے بمشکل تمام بچ پائے تھے۔ اور پھر 1986ءمیں باغ بیرون موچی گیٹ اور لوہاری گیٹ کے باہر ایم آر ڈی کے کارکنوں پر جس وحشیانہ انداز میں سیدھے فائر کئے گئے وہ عمران خان اور علامہ قادری کی احتجاجی تحریک کے تصور سے بھی باہر ہیں، اس فائرنگ سے ایم آر ڈی کے آٹھ کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔ اس فائرنگ سے اپنے سر کے اوپر سے گزرتی ہوئی گولیوں کا تصور کر کے آج بھی میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اعتزاز احسن اور میں ایک رکشے میں بیٹھ کر برانڈرتھ روڈ کے تنگ علاقے سے گزرتے ہوئے باغ بیرون موچی گیٹ تک آئے تھے جہاں پہنچتے ہی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو کون کہاں گیا، کسی کو کچھ خبر نہ ہو سکی۔ اسی طرح اگر بھٹو مرحوم کی سول آمریت میں پی این اے کی حکومت مخالف تحریک کے دوران سیاسی کارکنوں پر مسلسل تین ماہ تک ہونے والے تشدد اور لاٹھی گولی کا عشر عشیر بھی عمران خان اور طاہر القادری کو بھگتنا پڑتا تو انہیں لگ پتہ جاتا کہ حکومت مخالف تحریک کیسے چلائی جاتی ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری کو تو سیاسی اودھم مچانے کے لئے فی الواقع صابر یا بے بس حکمرانوں سے واسطہ پڑا ہے ورنہ اس اکڑ فوں کے ساتھ عمران کا 30 نومبر کی تڑیاں لگانا انہیں چَھٹی کا دودھ یاد کرا دیتا۔

اگر کسی احتجاج کو ملک اور عوام کے لئے مصیبت نہ بنایا جائے تو ضیاءجیسی ننگی جرنیلی آمریت میں بھی ایسے احتجاج کو قابل قبول بنایا جا سکتا ہے جس طرح ہمارے دیرینہ دوست جے سالک اور علی احمد کرد ضیاءآمریت کے دوران احتجاج کا منفرد انداز اختیار کر کے اپنے انفرادی دھرنوں اور مظاہروں کو قابل قبول بنا لیا کرتے تھے۔ جے سالک کا خود کو بوری میں لپیٹ کر آنا، فیصل چوک میں بیٹھ کر سر پر راکھ ڈالنا اور علی احمد کرد کا لاہور چڑیا کے باہر خود کو پنجرے میں ڈال کر مارشل لاءکے خلاف احتجاج کرنا آج بھی یاد ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری بھی 30 نومبر کو پُرامن گزار کر اس کے بعد احتجاجی سیاست کا ایسا چلن اختیار کریں تو اس سے عوام کا دل بھی بہلتا رہے گا اور حکمرانوں کو بھی اپنے اعمال پر شرم محسوس ہوتی رہے گی۔ پچھلے دنوں سابق صدر زرداری صاحب کے دستِ راست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے سندھ کے کسی ڈی سی آف کے سامنے انفرادی دھرنا دے کر ایسی خوشگوار احتجاجی سیاست کا راستہ دکھایا ہے تو جناب عمران و قادری بھی کبھی کسی کرپٹ سرکاری محکمے کے سربراہ کے دفتر کے باہر خود کو پنجرے میں بند کرکے بیٹھ جائیں۔ ان کا یہ احتجاج ان کی تین ماہ سے زیادہ عرصہ سے جاری دھما چوکڑی سے زیادہ پُرتاثیر ثابت ہو گا۔ دیکھیںکل 30 نومبر کو ان کی پٹاری سے کیا سانپ نکلتا ہے ”پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!“

اور پھر کل 30 نومبر کو بلاول ہاﺅس لاہور میں مرحوم بھٹو پارٹی کے تاسیسی کنونشن کا منڈوا لگ رہا ہے جس کے انعقاد سے پہلے ہی باپ بیٹے نے اپنے اختلافات اتنے بڑھا لئے ہیں کہ اس کنونشن میں بلاول کی عدم شرکت کے باعث پارٹی چیئرمین کی خالی کرسی پر بادل نخواستہ شریک چیئرمیں والدِ گرامی کو بیٹھنا پڑے گا ”باپ رے باپ“ ایک تو لاہور کے آخری کونے میں بحریہ ٹاﺅن کے بنکر میں بنائے گئے بلاول ہاﺅس میں تاسیسی کنونشن کا انعقاد جہاں ”نکّھد“ پارٹی کارکن تو کجا کوئی چڑیا بھی پَر نہیں مار سکتی اور پھر شیرازہ بندی سے پہلے ہی پارٹی قیادت پر سنگین اختلافات ”توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے۔“ ایک وہ کیا زمانہ تھا کہ اس پارٹی کا تاسیسی کنونشن قذافی کلچرل کمپلکس کی کھلی گراﺅنڈ میں ہُوا کرتا تھا جس میں ڈھول کی تھاپ پر جیالیوں کی لُڈی اور ڈانس اور معظم علی معظم کے ”بھٹو دے نعرے وجن گے“ کے الاپ کے ساتھ پُرجوش آمد کا سلسلہ جاری رہتا۔ رانا شوکت محمود، قاضی غیاث الدین جانباز، ڈاکٹر ضیااللہ بنگش، ممتاز کاہلوں، ملک مشتاق اعوان، اسلم گل، سیٹھ بشیر، چودھری غلام عباس، چاچا غلام رسول، فرخ مرغوب اور پھر اس سے تھوڑی سی اوپر کی سطح پر شیخ رفیق احمد، جہانگیر بدر وغیرہم کے بی بی محترمہ کی آمد پر دمکتے چہرے آج بھی آنکھوں کے آگے گھومتے نظر آتے ہیں ”اب وہ رعنائی خیال کہاں“ مجبور حکمرانوں کے دور میں بے ہنگم دھرنا سیاست کے مقابل بلاول ہاﺅس کے بنکر میں مقید سابق مقبول عوامی جماعت کا بے اثر تاسیسی کنونشن جمہوریت کی حفاظت کے لئے کتنا سودمند ہو سکتا ہے اس کا جواب سابق بھٹو پارٹی کی موجودہ زرداری قیادت ہی دے سکتی ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com