’’پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں‘‘
Nov 14, 2014

آج آفس آتے ہوئے سی این جی سٹیشنوں پر دو دو فرلانگ لمبی لگی ہوئی گاڑیوں کی قطاریں دیکھیں تو دل کو جھٹکا سا لگا، ہم نے اپنے معاشرے کی حالت کیا بنا دی ہے۔ پٹرول سے 20، 25 روپے لٹر سستی سی این جی کے حصول کی خاطر گھنٹوں فیول جلا کر اپنی باری کے انتظار کی کوفت اور روزمرہ کے معمولات گڑبڑانے والی اذیت برداشت کر لی جاتی ہے مگر نسبتاً سستے کی خریداری کی ذہنی آسودگی کی خاطر دوسرے نقصانات اٹھانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔ پنجاب میں 15 نومبر سے چار ماہ کے لئے سی این جی سٹیشن بند ہو رہے ہیں تو اب باقی ماندہ دو دنوں میں پنجاب کے ہر سی این جی سیٹشن پر ہمیں یہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ جس نے لاکھوں روپے کی گاڑی خریدنے کی سکت حاصل کر لی، اس میں سی این جی سے 20، 25 روپے لٹر مہنگا پٹرول ڈالوانے کی سکت بھی ہو گی مگر نسبتاً سستی خریداری نے ہمارے ذہن اور کلچر بدل کر رکھ دئیے ہیں۔ ہماری حکومتوں نے تو خیر سے کبھی عوام کے مسائل کی خبر ہی نہیں رکھنی اور کبھی ان کی فلاح کا سوچنا ہی نہیں ہے کیونکہ انہیں اپنی گوناں گوں سہولتوں کی وافر موجودگی اور اپنے قارون کے خزانوں کے باعث ہر چیز اپنی دسترس میں رکھتے ہوئے عام آدمی کے مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل کا ادراک ہو ہی نہیں سکتا، اسی لئے وہ آنکھیں بند کر کے اور ذہن مائوف رکھ کر ہر وہ فیصلہ کر جاتے ہیں جو عوامی اضطراب میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ پنجاب کو چار ماہ کے لئے سی این جی سے محروم رکھنا اور گیس پر چلنے والی فیکٹریوں اور ملوں کی بندش کی نوبت لانا کوئی کم اذیت تو نہیں مگر حکمرانوں نے بلا سوچے سمجھے یہ فیصلہ اسی لئے کر لیا کہ ان میں عوامی مسائل کو سمجھنے کا شعور اور ادراک ہی نہیں ہے۔ سو ہم سب نے مل جُل کر اس معاشرے کی وہ درگت بنائی ہے کہ شرفِ انسانیت بھی پناہ مانگتی نظر آتی ہے۔ امریکہ اور عرب امارات میں طویل قیام کے بعد وطن واپس لوٹ کر ہمارے بھائی سابق سینٹر طارق چوہدری کو اب یہاں کا ماحول اور معاشرہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا۔ گذشتہ روز ان کے ساتھ نشست ہوئی تو وہ کافر امریکی معاشرے کے رطب اللسان نظر آئے۔ 20 سال پہلے کے اور اب کے امریکی معاشرے کا موازنہ کرتے ہوئے وہ امریکی عوام کے رویوں، سوچ اور رہن سہن میں نمایاں تبدیلی کو کسی معجزے سے تعبیر کر رہے تھے۔ میں نے تو نہ 20 سال پہلے والے امریکی معاشرے کا مشاہدہ کیا ہوا ہے نہ مجھے اب کے امریکی معاشرے کے مشاہدے کا موقع ملا ہے اس لئے جیسے پہلے میں اپنی بہن طیبہ ضیاء کے کالموں میں امریکی معاشرے کی دکھائی جانے والی جھلک پر صاد کر لیا کرتا تھا اب اسی طرح مجھے برادر طارق چودھری کی زبانی دکھائی گئی امریکی معاشرے کی جھلک میں بھی اصلیت کا ہی گمان گزرا ہے جن کے بقول 20 سال پہلے کے امریکی معاشرے میں ہر عمر کے امریکی کھلنڈرے شراب میں دھت گلیوں، بازاروں، چواہوں اور دورانِ سفر بسوں میں اوندھے پڑے دکھائی دیتے تھے اور سر بازار موج مستی، ڈانس اور ہائو ہو  کی محفلیں سجانے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے تھے اسی امریکی معاشرے میں آج عوام کا یہ سارا کھلنڈرا پن کافور ہو چکا ہے، سو آج کوئی امریکی باشندہ کہیں بھی سرِ بازار ڈانس کرتا اور شراب کے نشے میں دھت اوندھا پڑا نظر نہیں آتا۔ طارق چودھری صاحب کا گمان ہے کہ امریکی معاشرے میں یہ مثبت تبدیلی اوباما کی ڈسپلن اور شائستگی والی حکمرانی کے باعث پیدا ہوئی ہے مگر عوام خود رضا کارانہ طور پر ایسے ڈسپلن کو اپنے اوپر اوڑھتے ہیں تو ہی شائستگی والا مہذب معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ عرب امارات کے ڈسپلن کا مشاہدہ تو میں نے خود بھی کیا ہوا ہے اور میں حیران ہوتا ہوں کہ جو پاکستانی باشندے اس ڈسپلن کو اوڑھ کر وہاں ازخود ٹریفک سگنلز اور دوسرے ٹریفک قوانین کی رضا کارانہ طور پر پابندی کرتے ہیں اور کہیں بھی، کسی کے ساتھ بھی جگا گیری کرتے نظر نہیں آتے، وہ پاکستان واپس لوٹتے ہی ایک دم وحشی کیوں بن جاتے ہیں اور عرب امارات میں تھپکیاں دے کر سلایا گیا ان کا جانور پن ملک واپس آتے ہی کیوں سر اُٹھانے لگتا ہے؟ اس لئے کہ ہم نے مل جُل کر اپنے معاشرے کا حلیہ ہی ایسا بنا رکھا ہے جس میں حکمرانوں کے اپنے لچھن ہیں اور مختلف درجات میں پڑے عوام کے اپنے رنگ ڈھنگ ہیں، ہمارے پاس بھی سارے قاعدے قانون موجود ہیں، ان قوانین کو لاگو کرنے اور کسی قانون کی خلاف ورزی پر سزا دینے والی مجاز اتھارٹیز بھی قائم دائم ہیں مگر آئین میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کی تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی قانونی پابندی کے باوجود حکمرانوں نے عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری نہ کرنے  اور انہیں انسانی حقوق سے محروم رکھنے کا ہی عہد کیا ہوتا ہے، سو عوام بھی خود کو اس کلچر میں ڈھال کر اپنی زندگی کی بقا اور معاشرے میں اپنا شملہ اونچا رکھنے کی پڑی ہوئی لت کی خاطر اٹھائی گیری، بڑھک ماری، سینہ زوری اور دھونس دھاندلی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں جبکہ شائستگی والے ڈسپلن کے اثر و نفوذ کے ذمہ دار ریاستی ادارے بشمول پولیس اور دوسری سکیورٹی ایجنسیاں شرفِ انسانیت کے وہ پرخچے اڑاتی ہیں کہ اس میں ہر ایک کے لئے ہر بُرائی اختیار کرنے کا راستہ نکل آتا ہے۔ پولیس کا معاملہ تو اتنا دگرگوں ہے کہ کوئی شریف آدمی کسی معاملے میںداد رسی  کے لئے پولیس تھانے پہنچ کر وہاں سے چور، ڈاکو، راہزن اور بدقماش کا لیبل لگوائے بغیر واپس نہیں آ سکتا جبکہ حقیقی چور، ڈاکو، قاتل اور بدقماش اپنے اپنے جرائم کی نوعیت کے حساب سے سینکڑوں، ہزاروں یا لاکھوں کے نذرانے دے کر اسی پولیس سے شریف ابنِ شریف کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں بھی کوئی دقت محسوس نہیں کرتے۔ پھر ایسے ماحول اور معاشرے میں ہی تو کوٹ رادھاکشن جیسے سانحات ہوتے ہیں اور کسی بھی پوش، معروف، غیر معروف علاقے میں کرائے کے مکانوں کی صورت میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو محفوظ ٹھکانے مل جاتے ہیں۔ طارق چوہدری صاحب نے اس حوالے سے خمینی کے انقلاب کے بعد کے ایران والے معاشرے کی مثال دی کہ ان کے ایک دوست ایران میں قیام کے دوران اپنے ایک پرانے ایرانی دوست سے ملاقات کے لئے سابقہ معمولات کے مطابق دفتر خارجہ کو اطلاع دئیے بغیر ان کے گھر پہنچ گئے تو اس گھر میں کوئی اور صاحب موجود تھے جنہوں نے انہیں  دیکھتے ہی ایرانی پولیس کو اطلاع کر دی اور پھر یکایک پولیس کا دستہ وہاں پہنچ گیا۔ انہیں  حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی پھر ان کے  مطلوبہ دوست کو بلوایا گیا اور ان کی تصدیق کے بعد ان کی  جان چھوڑی گئی۔ ان کے بقول ایران میں ایسی تصدیق ہر  نووارد باشندے اور کرائے پر گھر لینے والے ہر شخص سے کی جاتی ہے تبھی تو وہاں دہشت گردوں اور بدقماشوں کو نکیل ڈالی جا سکی ہے۔

آج ہمیں تو جرمنی سے بھی یہ طعنہ مل گیا ہے کہ پہلے اپنے آپ کو سنوارو، دہشت گردی سے پاک معاشرہ تشکیل دو اور پھر ہمارے ساتھ تجارت کرو مگر کیا موجودہ کلچر میں ہم دہشت گردوں اور بدقماشوں کو نکیل ڈال سکتے ہیں؟ اس کے لئے ہمیں خمینی جیسے انقلاب کے ذریعے ایران والا کلچر اور معاشرہ تشکیل دینا ہو گا۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی، انقلاب کی ضرورت کا احساس ہوا تو لامحالہ ذہن میں عمران خان اور طاہر القادری کے انقلابی نعروں اور دعوئوں کے کوندے لپکنے لگے، اپنے معاشرے کو امریکہ، عرب امارات اور ایران والے معاشرے کے قالب میں ڈھالنے کے لئے ہمیں یقیناً انقلاب کی ضرورت ہے مگر عمران اور قادری کے ساتھ تو سارے وہی طبقات  موجود ہیں جن کے خلاف سلطانیٔ جمہور کی خاطر عوام کو انقلاب لانا ہے۔ خمینی جیسا انقلاب جس میں لُچر پن نہیں، تُوتکار نہیں، دھونس نہیں، جھوٹ کی وکالت نہیں، سچائی، شرافت اور شرفِ انسانیت کی تقدیس کو بنیاد بننا ہے۔ ہم ایسا انقلاب کہاں سے درآمد کر سکتے ہیں، اس قحط الرجال میں یاخدا ہمارے لئے بھی کوئی خیمنی بھیج دے ورنہ ہم 68 سال سے اپنی بے لوث اور دیانتدار قیادت کے لئے ٹامک ٹوئیاں تو مار ہی رہے ہیں

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر ایک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com