’’لوٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر، کیا کیجئے‘‘
Nov 12, 2014

ایک توموصوف نے اپنے حق میں تھرڈ امپائر کی انگلی اٹھوانے کے تجسس میں جوڈیشل کمیشن کے لئے پہلے سے موجود حکومتی تجویز پر تکیہ کرتے ہوئے اس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کو نمائندگی دینے کا تقاضہ کرکے غالبؔ کے اس شعر کے قالب میں خود کو ڈھالا کہ

کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

اور پھر جب ان کی اس حریصانہ تجویز پر ان کے بخئے ادھیڑے جانے کا عمل شروع ہوا تو عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق پہلے انہوں نے اس تجویز کا ملبہ حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کے دوران جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی حکومتی تجویز کے ساتھ خود حکومت نے کمیشن میں متذکرہ خفیہ ایجنسیوں کی شمولیت قبول کی تھی۔ اگر فی الواقع ایسا تھا تو عالی جناب کے لئے اس سے زیادہ بہتر موقع اور کیا ہوسکتا تھا کہ وہ اس حکومتی تجویز پر صاد کرتے ہوئے اپنے دھرنے کی کامیابی کا کریڈٹ لیتے اور منزل پاتے۔ اب دھرنے کے تین ماہ ختم ہونے پر وہ اس حکومتی تجویز کو جوڈیشل کمیشنمیں خفیہ ایجنسیوں کی نمائندگی کی پخ لگا کر قبول کررہے ہیں تو اس سے ایک تو دھرنوں کی سیاست کے لئے ان کا مؤقف کمزور کرنے کا انہیں دھچکا لگا ہے اور دوسرے غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے ان کی حصول اقتدار کی خواہش بھی امڈی پڑی نظر آئی ہے۔ اب اس امڈی خواہش نے ان کے لئے ’’شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے‘‘ والی کیفیت بنائی تو عذر گناہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے جووضاحتیں فرمائیں، اس سے عالی جناب کی آئین و قانون شناسی اور سیاسی بصیرت کا بھانڈہ بھی پھوٹ گیا۔ بھلا حکومت اپنے پروں پرکیوں پانی پڑنے دے گی۔ اس لئے وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور پرویز رشید نے جھٹ پٹ پریس کانفرنس کا اہتمام کرکے ان کے لتے لینے شروع کردیئے اور آئینی ماہرین تو جوڈیشل کمیشن میں ایجنسیوں کے عمل دخل والی ان کی تجویز پر گویا لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑگئے۔ کوئی ایک بھی پائے کا ایسا آئینی ماہر میڈیا پر آکر ان کی اس تجویز کا دفاع کرتا نظر نہیں آیا حتیٰ کہ ان کی اپنی پارٹی میںموجود ایک معروف قانون دان اور لیڈر وکیل بھی ان کی اس تجویز کو احمقانہ قرار دینے پر مجبور ہوگئے۔

کل عالی جناب نے پینترا بدلتے ہوئے اپنی اس تجویز کو آئین کی دفعات 184(3) اور 190 کا سہارا دینے کی کوشش کی تو اپنی بصیرت کا معاملہ اور بھی خراب کر بیٹھے، میں نے 1973ء کے آئین میں موجود ان دفعات کو کھنگالا تو میرے لئے سر پیٹنے کی نوبت ہی آگئی۔ آئین کی دفعہ 184 سپریم کورٹ کے ان صوابدیدی اختیارات کے متعلق ہے جو وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ کے تحت ازخود استعمال کرتی ہے جس پر بالعموم حکمرانوں کو تکلیف ہواکرتی ہے اور جس کی بنیاد پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آج بھی ’’حضرت‘‘ عمران خان کی ہر تنقید کی زد میں ہیں۔ اس کی شق تین میں سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ آئین کے انسانی حقوق سے متعلق چیپٹر ایک پارٹ 2کے تقاضوں کے تحت مفاد عامہ کے کسی معاملہ کی انکوائری کا حکم دے سکتی ہے۔ اس میں ایک تو جوڈیشل کمشن کی ازخود تشکیل سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں ہے جس کے لئے وہ حکومت کو ہدایت دے سکتی ہے اور پھر عمران خان نے اس آئینی شق میں سے نہ جانے یہ نتیجہ کہاں سے اخذ کر لیا کہ جوڈیشل کمشن میں سپریم کورٹ خفیہ ایجنسیوں کو نمائندگی دینے کی پابند ہے۔ یہ تجویز سراسر عمران خان کے ذہن کی اختراع اور قطعی ماورائے آئین ہے جس کے بارے میں سینئر آئینی ماہرین بھی سر پیٹ رہے ہیں تو سپریم کورٹ سے یہ کیسے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ خود بھی کوئی ماورائے آئین قدم اٹھائے گی یا اس کا حکم دے گی۔ اگر عالیجناب اس آئینی شق کی اپنی پارٹی میں موجود سینئر آئینی ماہرین حامد خان اور احمد اویس سے تشریح کرا لیتے تو انہیں اپنے وضاحتی بیان کی شکل میں مزید خفت نہ اٹھانا پڑتی۔ یہی معاملہ آئین کی دفعہ 190کے حوالے سے ان کی وضاحت کا ہے کیونکہ یہ آئینی دفعہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے سے متعلق ہے جس میں سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ حکومتی مشینری، اس کے تمام اداروں اور افواج پاکستان سمیت ہر اتھارٹی کو اپنے کسی بھی فیصلہ پر عملدرآمد کرانے کا پابند بنا سکتی ہے۔ اگر اس حوالے سے سپریم کورٹ کسی خفیہ ایجنسی کو پابند کرتی ہے تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ سپریم کورٹ کے اس اختیار کے تحت جوڈیشل کمشن میں خفیہ ایجنسیوں  کو بھی نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ اصغر خان کے کیس میں خفیہ ایجنسیوں کے سول اور سیاسی معاملات میں عمل دخل کو آئین و قانون متجاوز قرار دے چکی ہے جس کی بنیاد پر خود عمران خان کو شریف برادران اور بعض دوسرے سیاستدانوں کو رگڑے لگانے کا موقع ملا ہے تو وہ یہ کیسے توقع رکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنے ہی اس فیصلہ کے منافی اقدام اٹھاتے ہوئے جوڈیشل کمشن میں خفیہ ایجنسیوں کی نمائندگی قبول کر لے گی۔

عمران خان کی سیاست کی مصیبت تو یہی ہے کہ وہ مبینہ دھاندلی کے خلاف دھونس اور دھاندلی کے ذریعے عدلیہ، الیکشن کمشن، سیاستدانوں اور میڈیا سے اپنی مرضی کے نتائج لینا چاہتے ہیں اور جو انہیں ان کی مرضی کا نتیجہ دیتا نظر نہیں آتا وہ ان کی زبانی کرپٹ، بکا ہوا اور راندہ درگاہ ٹھہرتا ہے مگر حضور! دھن، دھونس، دھاندلی کے بل بوتے پر یہ جگا گیری کب تک چل سکتی ہے۔ آپ اسے تبدیلی کی سیاست کا نام دیتے ہیں جبکہ یہ طرزعمل کھینچ کھانچ کر بھی سیاست کے کسی خانے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ میں بالعموم عمران خان اور طاہر القادری کی سیاست پر قلم اٹھانے سے گریز کرتا ہوں کیونکہ ان کی اڑائی جانے والی دھول سے خود کو بچانے میں ہی عافیت ہے مگر ماحول کو پراگندہ کرنے والی ان دونوں حضرات کی ڈھٹائی پر

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com