بدبختوں کے قصور کا دینِ اسلام پر ملبہ
Nov 07, 2014

قصور تو کوٹ رادھا کشن کے اس بد بخت بھٹہ مالک کا ہے جس نے شہزاد اور شمع کو اپنے پانچ لاکھ روپے کے ایڈوانس کی وصولی کی خاطر کمرے میں بند کیا اور مشتعل کئے گئے لوگوں کو ان پر حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کیا۔ قصور تو کوٹ رادھاکشن کی اس نااہل، کرپٹ، بے بصیرت اور بے عمل پولیس کا ہے جسے شہزاد اور شمع کے حوالے سے مقدس اوراق کی مبینہ توہین کی پیر کے روز ہی اطلاع مل گئی تھی اور علاقے کے کچھ لوگوں نے شہزاد اور شمع کے خلاف اس واقعہ کی رپورٹ بھی متعلقہ پولیس تھانے میں درج کرا دی تھی مگر پولیس نے ان کے خلاف باضابطہ طور پر ایف آئی آر درج کرنے اور ان کی گرفتاری عمل میں لانے کی زحمت ہی گوارا نہ کی۔ اگر پولیس پیر کے روز ہی ان دونوں میاں بیوی کو حراست میں لے لیتی اور جوڈیشل لاک اپ میں رکھ لیتی تو منگل کے روز انہیں مشتعل لوگوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ جلانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ اسی طرح قصور تو ان بھونپو مولوی حضرات کا ہے جنہوں نے ”کتا تمہارا کان کاٹ لے گیا ہے“ کے مصداق بلاتحقیق شہزاد اور شمع پر قرآن مجید کے مقدس اوراق کی بے حرمتی کے الزام پر نہ صرف صاد کر لیا بلکہ اپنی جاگیر بنائی گئی مساجد میں باقاعدہ لاﺅڈ سپیکر کے ذریعے اشتعال انگیز اعلانات بھی کرتے رہے۔ ان سارے بدبختوں نے اپنی عاقبت نااندیشی سے ایسی فضا بنائی جو شہزاد مسیح اور اس کی بیوی شمع کے بھٹے میں زندہ جلائے جانے پر منتج ہوئی، یقیناً اس گھناﺅنے جرم کے ہر سفاک کردار کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا ضروری ہے تاکہ آئندہ کسی بھی جگہ پر ایسے کسی واقعہ کا اعادہ نہ ہو سکے مگر اس ساری انسانی بدبختی اور بداعمالی میں دین اسلام کا کیا قصور ہے کہ پورے سوشل میڈیا پر اور مغرب زدہ این جی اوز کی جانب سے امن و آشتی، رواداری اور اخوت و محبت کا درس دینے والے اس مذہب کی بھد اُڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی، دل کا غبار یوں نکالا جا رہا ہے جیسے ان ہرزہ سراﺅں کو دینِ اسلام کے خلاف اپنی ذہنی تسکین کا باعث بننے والے زہریلے پراپیگنڈے کے لئے ایسے ہی کسی موقع کی تلاش ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے دوست ایک سینئر صحافی کا یہ تبصرہ پڑھ کر تو مجھے ان کے ذہنی زعف کا گمان گزرا کہ آج دو انسان زندہ جلا دئیے گئے، اسلام تیرا کیا گیا (نعوذباللہ)۔ سوشل میڈیا پر ایک یہ سوال بھی تضحیک آمیز لہجے میں پوچھا جا رہا ہے کہ ”سُنا ہے پاکستان میں مسلمانوں نے عیسائی میاں بیوی کو زندہ جلا دیا ہے، کیا یہ درست ہے؟“ اور ایسے ہی موقع پر بیرونی فنڈوں پر پلنے اور اپنی ڈونر ایجنسیوں کے پاکستان اور اسلام دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھانے والی ہماری این جی اوز کو توہینِ رسالت کے قانون کی بھد اُڑانے، اسے ظالمانہ قرار دینے اور اسے بیک قلم چاک کرنے کا جلسوں، جلوسوں کی شکل میں تقاضہ کرنے کا نادر موقع ملتا ہے جس کے عوض یقیناً ان کے فنڈز میں اضافہ ہوتا ہے اس لئے جہاں کسی کو توہین قرآن یا توہینِ رسالت کے محض الزام پر بلاتحقیق مجرم گردانتے ہوئے ماورائے قانون و عدالت سزا دینا گھناﺅنا اور ناقابلِ معافی جرم ہے، اسی طرح انسانی خصلتوں اور بداعمالیوں کی غمازی کرنے والے ایسے جرائم کی آڑ میں دینِ اسلام کی توہین اور خاتم النبین، رحمة لّلعالمین حضرت نبی آخرالزمان کی شان میں گستاخی بھی قابل گردن زدنی گھناﺅنا جرم ہے۔
یوم عاشور پر کوٹ رادھا کشن کے اندوہناک سانحہ پر جتنے بھی ٹی وی ٹاک شو ہوئے ان میں شریک علماءکرام نے اس سانحہ میں مسیحی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے مرتکب تمام افراد کو کیفر کردار کو پہنچانے کا تقاضا کیا، مگر اس کے برعکس مسیحی نمائندگان ہی نہیں این جی اوز کے مسلمان عہدے داروں کی جانب سے بھی توہین رسالت کے جرم سے متعلق آئین کی دفعہ 195 سی کو یکسر ختم کرنے کا تقاضہ کیا جاتا رہا اور یہ تقاضہ ابھی تک جاری ہے جس میں کوئی دانش ہے نہ حکمت کہ اس قانون کو یکسر ختم کرانے کی نیت توہینِ رسالت کی کھلی چھوٹ دینے اور اسے بطور کلچر پروان چڑھانے کی ہے۔ کیا مسلمانوں کی اب تک کی پوری تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مصدقہ مثال موجود ہے کہ کسی مسلمان نے دانستہ طور پر کسی غیر مذہب کے نبی اور ان پر نازل ہونے والی کسی الہامی کتاب کی توہین کی ہو جبکہ تمام انبیائؑ کرام کو برحق تسلیم کرتے ہوئے ان پر ایمان لانا اور ان پر نازل ہونے والی الہامی کتب کے تقدس و احترام کے تقاضے بروئے کار لانا مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اس لئے وہ کسی بھی پیغمبر اور کسی بھی الہامی کتاب کی نادانستہ توہین کا بھی تصور نہیں کر سکتے۔ حضرت نبی آخرالزمان حضرت محمد تو خاتم النبیّن اور اس ناطے سے نبیوں کے سردار ہیں جنہیں ذاتِ باری تعالیٰ نے رحمة لّلعالمین بنا کر اس کائنات پر مبعوث فرمایا اور انہیں ارض و سما کی سرداری سونپی اس لئے ان کی شان میں گستاخی اور ان پر نازل ہونے والی آخری الہامی کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ذاتِ باری تعالیٰ کو کیسے قبول ہو سکتی ہے۔ ایسی گستاخیوں کے سدباب کے لئے ہی توہینِ رسالت کے قانون کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ جرنیلی آمر ضیاالحق کے دور میں اس قانون کے نفاذ کا پس منظر توہینِ رسالت کے پے در پے ہونے والے واقعات تھے۔ بے شک یہ قانون ضیاالحق کے دور میں لاگو ہوا مگر بے وجہ کے ناقدین کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس قانون کے نفاذ سے قبل جسٹس تنزیل الرحمان کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت میں اس کی ایک ایک شق پر سیر حاصل بحث ہوئی تھی جو مہینوں پر محیط تھی اور نامور آئینی اور قانونی ماہرین کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے جید علماءکرام نے عدالت کے روبرو کئی کئی گھنٹے کے دلائل میں ان شقوں کا جائزہ لے کر ان کے فوری نفاذ کا تقاضہ کیا تھا۔ بطور کورٹ رپورٹر میں نے خود اس کیس کی رپورٹنگ کی ہوئی ہے اس لئے توہینِ رسالت کے اس قانون کے جامع اور مستند ہونے کے حوالے سے میرے پاس کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، ڈاکٹر طاہر القادری بھی اس کیس میں پیش ہو کر توہینِ رسالت کے قانون کی جامع اور بھرپور وکالت کر چکے ہیں اس لئے اب جب اس قانون کے خلاف اُٹھنے والی آوازوں پر ڈاکٹر طاہر القادری مجھے خاموش نظر آتے ہیں تو مجھے اس کا انتہائی دُکھ ہوتا ہے اور پھر یہ قانون تو تمام انبیاءاور تمام مقدس الہامی کتابوں کے تقدس کا متقاضی ہے، اسے صرف حضرت نبی آخر الزمان اور قرآن مجید کے ساتھ نتھی کر کے زہریلا پراپیگنڈہ کرنا ویسے ہی دین اسلام کے خلاف بُغض و عناد کی چُغلی کھاتا ہے۔ پھر اس قانون میں موجود قذف کی شق کسی پر توہینِ رسالت یا توہین قرآن کا جھوٹا الزام لگانے والے کو توہینِ رسالت کے جرم کی سزا جتنا ہی مستوجب سزا ٹھہراتی ہے اس لئے تقاضہ اس قانون کو ختم کرنے کا نہیں اس پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کا کیا جانا چاہئے کیونکہ خرابی قانون میں نہیں اس کے صحیح معنوں میں نفاذ سے روگردانی میں ہے۔ کیا کوٹ رادھاکشن کے کیس کو اس معاملہ میں ٹیسٹ کیس بنایا جا سکتا ہے؟ اقلیتوں کے نمائندگان اور این جی اوز کے کرتا دھرتا خواتین و حضرات بھی مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیں تو کسی بدبخت کی جانب سے مذہب کے نام پر کسی سے ذاتی انتقام لینے اور اس کے لئے توہینِ رسالت کے قانون کو سہارا بنانے کی جرا¿ت نہ ہو۔ آج آپ خلوص دل سے قدم بڑھائیے تو کل کو آپ کو مذاہب کے نام پر پیدا کی جانے والی نفرتوں کی خلیج پاٹنے میں کوئی دقت نہیں ہو گی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com