یہ گھڑی محشر کی ہے
Nov 04, 2014

میرے اوسان خطا ہو چکے ہیں، گذشتہ 14 سال سے اپنی دھرتی پر جاری دہشت گردی کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لیتا ہوں تو بیان کی گئی ساری تھیوریاں باطل نظر آتی ہیں۔ مقاصد تو یہی تھے کہ اس دہشت گردی کا ناطہ دین اسلام کے ساتھ جوڑ کر اور اس کا ٹانکا فرقہ واریت کے ساتھ لگا کر ہیر پھیر سے جیسے تیسے گھما کر مسلم اُمہ کو نکّو بنایا جائے مگر واہگہ بارڈر کے سانحہ نے ایسی تمام عالمی اور علاقائی سازشوں کا پردہ چاک کر دیا ہے اور اب اصل سازش بے نقاب ہُوا ہی چاہتی ہے جو اسلام اور مسلم اُمہ کو اس کے ہاتھوں تباہ کرانے کے تانوں بانوں کے ساتھ تیار کی گئی ہے۔ چیچن مسلمانوں کے کشت و خون سے افغان مجاہدین کی کارروائیوں تک اور پھر القاعدہ کے بنائے گئے ہیولا سے عرب ریاستوں میں بادشاہتوں اور شخصی آمریتوں کے خاتمہ کے نام پر مسلمانوں کے بے دریغ بہائے گئے خون کی ندیاں اور دریا بننے تک اور طالبان گروپوں کے انسانیت کے خلاف مظالم سے داعش کی سفاکی تک سب تانے بانے، ساری کڑیاں، تمام کہانیاں مسلمانوں کے مصطفوی اور حسینی جذبہ¿ جہاد کے ساتھ جوڑ کر مسلم اُمہ کو مطعون، مغلوب اور مقہور ٹھہرانے اور اسے عبرت کا نشان بنانے کی سازش کی گئی، کہیں مسلمانوں کے خلاف فرقہ واریت پر مبنی منافرتیں فروغ دے کر مسلم اُمہ کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی اور کہیں دینِ اسلام کے فلسفہ¿ جہاد کو انسانوں کے قتل عام کے ساتھ منسوب کر کے اس جذبے کی جزا پر منتج ہونے والی عملداری کو مسلم اُمہ کے لئے سزا میں تبدیل کرنے کی راہیں نکالی گئیں مگر سانحہ¿ واہگہ بارڈر نے خطا ہونے والے ”اوسانوں“ کے چودہ طبق روشن کر دئیے ہیں اور اب صرف ایک ہی تصور، ایک ہی فلسفہ ایک ہی سازش کارفرما نظر آتی ہے جو اتحادِ اُمت کے لئے مسلم اُمہ کی قیادت کے اہل نظر آنے والی مملکت خداداد پاکستان کو صفحہ¿ ہستی سے مٹانے کی ہے۔

عاشورہ محرم مسلم اُمہ کے لئے کرب و بلا اور غم و اندوہ کی علامت بن کر آتا ہے۔ میدان کربلا میں دو سے دس محرم تک حسینی قافلے پر توڑے گئے مظالم جن کے باعث انسانیت تا ابد شرمندہ رہے گی، مسلم اُمہ کی صفوں میں تفریق و تکذیب کے لئے تیار کی گئی سازش کا ہی شاخسانہ ہیں اور ان مظالم کو ہی بنیاد بنا کر دینِ اسلام کو تفرقہ بازی اور اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹنے والی سفاکی کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ اس ناطے سے ہی دنیا میں جہاں بھی اور جس نوعیت کی بھی دہشت گردی کی کوئی واردات ہوتی ہے‘ اس کا ملبہ مسلمانوں پر ڈالنے اور اس کا ٹانکا دینِ اسلام کے ساتھ جوڑنے میں کوئی تامل نہیں کیا جاتا۔ اس عاشورہ محرم کے دوران بھی دھڑکا یہی لگا تھا کہ اب ہماری سرزمین پر فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہَوا دینے کے لئے زیادہ زور لگایا جائے گا تاکہ امریکی نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد اس خطے کو فرقہ ورانہ دہشت گردی کی جانب دھکیل کر نیٹو بالخصوص امریکی افواج کے 12 سالہ بیکار قیام پر اس کی افادیت کی ملمع کاری کی جا سکے۔ محرم کا ماہ مقدس شروع ہونے سے پہلے کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کے ساتھ پے در پے ہونے والی دہشت گردی اور پھر کراچی میں ایک جید عالمِ دین کے سانحہ¿ قتل پر منتج ہونے والی دہشت گردی سے ملک کی فضاﺅں پر آسیب کے سائے مسلط ہوتے نظر آتے تھے اور ہر کلمہ گو کی زبان دعاگو تھی کہ اس بار کا عاشورہ محرم خیر و عافیت کے ساتھ گزر جائے۔ چونکہ انہی دنوں میں شمالی وزیرستان کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی میں بھی دہشت گردوں کے خلاف شدت کے ساتھ اپریشن کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اس لئے اس اپریشن کے ردعمل کے لبادے میں عاشورہ محرم کے کسی بھی دن کو قتل و غارت گری کے ساتھ منسوب کرنے میں آسانی ہو سکتی تھی جس سے فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہَوا دینے کے مقاصد بھی پورے کئے جا سکتے تھے۔ چنانچہ اسی خطرے کو فوکس کر کے ملکی ایجنسیوں کی جانب سے حفاظتی انتظامات کی حکمت عملی طے کی گئی جو کامیاب بھی رہی اور کسی مذہبی اجتماع میں ماضی جیسا کوئی سانحہ نہ ہو سکا، شاید حفاظتی انتظامات کی اس سختی نے ہی پاکستان کی سالمیت کے درپے بیرونی منصوبہ سازوں کو واہگہ بارڈر میں پرچم اتارنے کی تقریب کے موقع پر پبلک مقام کو تخریب کے لئے استعمال کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا کیونکہ ہماری ایجنسیاں اس گھناﺅنی سازش کی اطلاعات پا کر بھی اس خطرے سے غافل رہیں اور منصوبہ ساز اپنا کام دکھا گئے۔

دہشت گردی کے کسی واقعہ کے رونما ہوتے ہی طالبان کے کسی گروپ کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے معاملہ کو میں پہلے بھی مشکوک سمجھتا تھا جبکہ اب واہگہ بارڈر کی سفاکانہ دہشت گردی کی بیک وقت تین انتہا پسند تنظمیوں کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے سے میرے شکوک و شبہات کو اور بھی تقویت مل گئی ہے۔ پہلے تو اس سفاکانہ اور ننگِ انسانیت دہشت گردی کی کڑیاں عاشورہ محرم کے ناطے سے فرقہ واریت کے ساتھ ملانے میں منصوبہ سازوں کو ہونے والی ناکامی نے فرقہ واریت کی بنیاد پر مسلم اُمہ میں پروان چڑھائی جانے والی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے اور پھر بیک وقت تین تنظیموں کی جانب سے اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کئے جانے سے اس خطہ میں جاری دہشت گردی کے اصل محرکات بھی اجاگر ہو گئے ہیں کہ اس دہشت گردی کا اصل مقصد پاکستان کو کمزور بنا کر توڑنے کا ہے اور یہ مقصد کس کا ہو سکتا ہے؟ بھلا یہ کوئی ڈھکا چھپا معاملہ ہے؟ بھارت کی مودی سرکار کی اقتدار سنبھالنے سے اب تک کی سرگرمیوں کا جائزہ لیجئے، واہگہ بارڈر دہشت گردی کے پس پردہ محرکات کا کھوج لگانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی، پھر جائزہ لیجئے کہ جو بیرونی قوتیں بیک وقت یا یکے بعد دیگرے بھارت کی جنگی صلاحیتیں بڑھانے کے لئے اس کے ساتھ معاہدے پر معاہدہ کر رہی ہیں، یہ ساری وہی قوتیں ہیں جو مسلم اُمہ کے اتحاد اور سلامتی کے درپے ہیں اور اسے اس کے ہاتھوں ہی صفحہ¿ ہستی سے مٹانے کے تانے بانے بُن رہی ہیں۔ سو آج کرب و بلا میں ڈوبے یومِ عاشور پر اپنی صف بندی کا سوچیں اور طاغوت کی سازشیں ناکام بنانے کا کوئی چارہ کر لیں۔ دشمن آج واہگہ بارڈر کی قومی تزک و احتشام والی پریڈ کو رکوانے میں تو ناکام رہا ہے مگر ہماری غفلت سے فائدہ اٹھا کر وہ کل کو ہمیں ہمارے ہی ہاتھوں موت کی نیند سُلا سکتا ہے۔ سو

یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصہ¿ محشر میں ہے
پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com