اتھل پتھل سازشی تھیوریوں کو آخری جھٹکا
Oct 31, 2014

سسٹم کو تاراج کرنے والی اُچھل کود کے سارے مناظر اب ایک ایک کر کے آنکھوں سے محو ہوتے جا رہے ہیں، سازشی تھیوریاں ایسی تھیں اور اتنے اعتماد سے بیان کی جاتی تھیں کہ کھڑے کھڑے بندے کے پائوں کے نیچے سے زمین سرک جاتی تھی، ان سازشی تھیوریوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر پلک جھپکنے میں حکومت کے دھڑن تختہ کا نتیجہ اخذ کرنے والے بھی کمال کرتے رہے۔ یہ سازشی تھیوریاں جن کے ذہن رسا کی دریافت تھیں ان کے اصل مقاصد کیا تھے اور کیا ہیں، یہ کسی کو بتائے گئے نہ بتائے جائیں گے مگر ’’لائی لگوں‘‘ کی خوش فہمیاں برقرار رکھنا بھی ایک حکمت ہے جو ہر کسی پر نہیں کھولی جا سکتی ورنہ طبلے کی تھاپ پر ڈلوالی جانے والی دھمال بے تاثیر ہو سکتی ہے، اگست سے اب تک ڈلوائی گئی اس دھمال میں دنیا کو کیسے کیسے مناظر دکھائے گئے، اب یہ دھمال سسکیاں لے رہی ہے تو بھی اسے سازشی تھیوری کی آخری کڑی کے ساتھ باندھ کر برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی مگر آج یہ آخری کڑی بھی کرچی کرچی ہو گئی ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آئین، قانون اور انصاف کی عملداری کے ہوتے ہوئے انصاف کے ایوانوں میں ہی اس سازشی تھیوری کا جمع تفریق کے سوال والا ٹھوس جواب کیسے نکالا جا سکتا ہے مگر اتنے اعتماد سے بات کی جاتی جیسے سب کچھ پہلے سے طے کیا جا چکا ہے اور جو طے کیا جا چکا ہے وہی ہونا ہے، مگر چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم عدالتِ عظمیٰ کے فل بنچ نے سازشی تھیوری کی آخری کڑی کے حوالے سے مئی 2013ء کے انتخابات کالعدم قرار دلانے کے لئے دائر کی گئی دونوں آئینی درخواستیں مسترد کر کے خوش فہموں کی اُچھل کود کے اس آخری اہتمام کی گردن بھی دبوچ لی ہے۔ اس کیس کے حوالے سے ایک بار تو میری ایک حضرت سے باقاعدہ تکرار ہو گئی تھی، میرا ذہن اس سازشی تھیوری کے اخذ کئے جانے والے نتائج کو تسلیم کرنے کو قطعاً تیار نہیں تھا، بھلا سپریم کورٹ پورے انتخابات کو کس قانون اور کسی اتھارٹی کے تحت کالعدم قرار دے سکتی ہے مگر خوش فہم حضرات مُصر تھے کہ آپ دیکھتے رہ جائیں گے اور ایسا ہی ہو جائے گا۔ یہ کیس انتخابی دھاندلیوں کا وہی کیس تھا جو کسی سازشی تھیوری کے تحت عمران خان کے دماغ میں ڈال کر ان کے ذریعے افراتفری کا ماحول گرمایا گیا، انتخابی دھاندلیوں کا معاملہ کسی ایک حلقے سے متعلق ہو یا زیادہ حلقوں کا ہو اس کے لئے دادرسی کا مجاز فورم الیکشن کمشن کے تشکیل کردہ انتخابی ٹربیونل ہی ہوتے ہیں اور وہ بھی کسی ایک یا زیادہ حلقوں میں انتخابی دھاندلی ثابت ہونے پر پورے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے مجاز نہیں ہوتے جبکہ سپریم کورٹ تو سرے سے اس دادرسی کا مجاز فورم ہی نہیں مگر دھما چوکڑی ایسی تھی کہ بس سپریم کورٹ کے فیصلہ صادر ہونے کی دیر ہے آپ اپنی آنکھوں سے حکومت کا بوریا بستر گول ہوتا دیکھیں گے۔ ایسی منطق اور تاویلیں پیش کر کے کسی انقلابی ایجنڈے اور نئے پاکستان کے مجہول تصور کے ساتھ آئین، قانون اور  انصاف کی عملداری کی گرہ ڈالی جائے تو اس سے بڑا مذاق اور  کیا ہو سکتا ہے مگر پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ مذاق اب تک جاری ہے۔ اب سپریم کورٹ نے یہ رولنگ دے کر خوش فہموں کے عزائم پر اوس ڈال دی ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن سے متعلق درخواست پر سماعت کی مجاز نہیں اور نہ ہی انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کرانا ہمارا کام ہے، تو دیکھیں اب کون سی نئی سازشی تھیوری سامنے لا کر اتھل پتھل ایجنڈے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ایجنڈے کے ’’کارسازوں‘‘ کا مخدوم جاوید ہاشمی نے بیچ چوراہے میں بھانڈہ پھوڑا تھا تو حکومت کو اسی وقت سُکھ کا سانس میسر آ گیا تھا، اگلے روز جاوید ہاشمی نے اتھل پتھل ایجنڈے کی کڑیوں میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ناصر الملک کا نام بھی لے دیا جو عمران خان کی زبان سے ہی انہوں نے سُنا ہوا تھا، دل کو جھٹکا لگا کہ کیا ایسی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔ ایک چیف الیکشن کمشنر (فخرو بھائی) جو اپنا ہی تجویز و تائید کردہ تھا، اس لئے راندۂ درگاہ ٹھہرا کہ ان کی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات میں مرضی کے نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے مگر دوسرے چیف الیکشن کمشنر (قائم مقام) کے ساتھ کسی سازشی تھیوری کو مرضی کے نتائج کے حصول کی خاطر منسلک کر دیا گیا، یہی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر چیف جسٹس سپریم کورٹ کے منصب پر فائز ہوئے تو مخدوم جاوید ہاشمی کی زبان پر ان کا نام آتے ہی ذہن گڑبڑانے لگا کہ انتخابات کالعدم قرار دلانے کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کے لئے انہی فاضل چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ قائم ہو چکا تھا مگر دل ہرگز یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ انصاف کی عملداری میں کوئی گھن چکر بھی ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر میری خوش فہموں کے ساتھ تکرار بھی ہوتی رہی سو میں مطمئن ہوں کہ انصاف کی عملداری میں ’’رفوگری‘‘ کے متمنیوں کو آج اپنی سازشی تھیوری کی آخری کڑی کی جانب سے بھی کورا جواب مل گیا ہے۔ علامہ قادری کا حکومت کے ساتھ کوئی معاملہ طے ہوا ہے یا نہیں اس کا جائزہ ان کی باڈی لینگوئج سے لیا جا سکتا ہے کہ دھرنا ختم کرتے وقت انہوں نے اپنے فتووں کی پٹاری میں سے ایک پُرزہ نکال کر فتویٰ صادر کیا کہ اللہ میاں موجودہ حکمرانوں کو برقرار رکھوانا چاہتے ہیں اور پھر جستیں بھرتے کینیڈا جا پہنچنے کے بعد انہوں نے دوسرا فتویٰ بھی صادر فرما دیا کہ مغربی ممالک بھی موجودہ حکومت کے خاتمہ کے حق میں نہیں ہیں، یہ تو اب سازشی تھیوریوں کے کارسازوں کے لئے پچھتاوے کا مقام ہو گا کہ انہوں نے جس ’’پتّے‘‘ پر تکیہ کیا وہی انہیں جسم جھلسانے والی ہَوا دیتا نظر آ رہا ہے۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد جان کنی کی کیفیت میں آئے نئے پاکستان کے دھرنے کی بھی جان نکل جائے گی، سو اب تک کی سازشی تھیوریوں کا خاتمہ بالخیر ہو گیا ہے۔ اس کے بعد کس شکل اور کس انداز میں نئی سازشی تھیوریوں کا جال پھینکا جاتا ہے، اس سے جمہوریت کے تحفظ کے دعوے داروں کو ضرور آگاہ اور ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ پہلے والی غلطیوں اور ان سے حاصل ہونے والی ناکامیوں کا جائزہ لے کر ہی نئی سازشی تھیوریوں کے تانے بانے بُنے جائیں گے جو پہلے سے زیادہ مضبوط اور مدلل  ہو سکتے ہیں اور اللہ بھلا کرے ایسی تمام سازشی تھیوریوں کے اسباب سلطانی جمہور کے چکمے میں شخصی حکمرانی کو راسخ کرنے والے ہمارے موجودہ حکمران طبقات کے اپنے پیدا کردہ ہیں اور افسوس اس امر کا ہے کہ اب تک کی سازشی تھیوریوں سے ان تھیوریوں کے موقع پر طشت ازبام ہونے کے باعث ڈسے جانے سے بچ نکلنے کے بعد بھی ان حکمران طبقات کو عقل نہیں آئی اور وہ اسے اپنی کسی حکمت عملی کی کامیابی سے تعبیر کر کے اپنی پہلے والی رعونت اور راندۂ درگاہ عوام کے ساتھ حقارت و نفرت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جو آج بھی تمام بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں سے محروم ہیں، جن پر آج بھی ملازمتوں کے دورازے بند ہیں، جنہیں آج بھی یوٹیلٹی بلوں سمیت ہر چیز کی مہنگائی کی مار ماری جا رہی ہے جو آج بھی فوری اور سستے انصاف کو ترس رہے ہیں، جن کے لئے آج بھی اپنے بچوں بچیوں کے تعلیمی اور شادی بیاہ کے اخراجات پورے کرنے والی عیاشی ایک ڈرائونا خواب بنی ہوئی ہے، جو آج بھی تھانے کچہریوں میں شرفِ انسانیت کی رسوائی کی داستان بنے بیٹھے ہیں اور جو آج بھی سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولتیں نہ ملنے پر ایڑیاں رگڑتے مر رہے ہیں۔ اس کے برعکس حکمران اشرافیہ طبقات کی ذاتی عیاشیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور ان کی ذات سے منسوب ہوتی اخلاقی اور مالی کرپشن کی داستانیں بھی ان کی کارستانیوں کے آگے بند باندھنے کا باعث نہیں بن رہیں تو یہی وہ معاملات ہیں جو ایک سے دوسری سازشی تھیوری کے تانے بانے بُننے کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ سو اگلی سازشی تھیوری سے ان حکمران طبقات کو بچ نکلنے کا کوئی موقع مل پائے گا یا نہیں، یہ انہی کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے اور انہیں سوچ رکھنا چاہئے کہ آسمانوں سے من و سلویٰ صرف ایک بار ہی اترا کرتا ہے، بار بار نہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com