استعفے، دفعہ 6 اور مقدرات کی سیاہی
Oct 27, 2014

دو ماہ قبل جب تحریک انصاف کے ارکان قومی و پنجاب اسمبلی کی جانب سے متعلقہ سپیکر کے نام پر اپنے استعفے لکھ کر اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائے گئے تو اس کے اگلے ہی روز  میں نے وقت ٹی وی کے پروگرام میں اس رائے کا اظہار کر دیا تھا کہ سپیکر کو مخاطب کر کے اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھجوائے گئے استعفے متعلقہ سپیکر کی ٹیبل پر آتے ہی ازخود منظور ہو چکے ہیں اور متعلقہ ارکان کی نشستیں خالی ہو چکی ہیں۔ چنانچہ ان استعفوں کے حوالے سے گذشتہ دو ماہ کے دوران جو کچھ بھی ہوا ہے، سیاست ہوئی ہے اور آئین کی دفعہ 64 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آئین کی دفعہ 64 شق ون میں صراحت کے ساتھ یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کا کوئی رکن (قومی اسمبلی) سپیکر قومی اسمبلی کے نام اور رکن (سینیٹ) چیئرمین سینٹ کے نام اپنی رکنیت سے استعفیٰ لکھ کر بھجوا دیتا ہے تو اسی وقت اس کی رکنیت ختم اور سیٹ خالی ہو جاتی ہے، اس میں سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کے متعلقہ رکن کے استعفے کے بارے میں یہ اطمینان حاصل کرنے کا کوئی تذکرہ موجود نہیں کہ آیا متعلقہ رکن نے اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنی رضا مندی سے استعفیٰ دیا ہے، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے اختیارات کی متعلقہ آئینی دفعات میں بھی ایسی کوئی شق موجود نہیں جس میں انہیں مستعفی ہونے والے اپنے ہائوس کے کسی رکن کے استعفے کے حوالے سے اپنی مکمل تسلی کرنے کا اختیار ودیعت کیا گیا ہو۔ پی ٹی آئی کے جن ارکان نے اپنی پارٹی کے چیئرمین کو مخاطب کر کے اسمبلی سیکرٹریٹ میں استعفے جمع کرائے یقیناً ان استعفوں کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں مگر جو استعفے سپیکر قومی اور صوبائی اسمبلی کو مخاطب کر کے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائے گئے ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی دو رائے موجود نہیں کہ وہ ٹنڈر ہوتے ہی منظور ہو چکے ہیں اور متعلقہ اسمبلیوں میں ان کی نشستیں خالی ہیں جن پر اب تک ضمنی انتخابات کا نہ ہونا بھی صریحاً آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے اور اب تو پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر آئین  کی دفعہ 64 کی شق 2 بھی لاگو ہو چکی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی رکن بغیر کسی رخصت کی درخواست کے مسلسل 40 روز تک ہائوس میں موجود نہ ہو تو ہائوس اس کی سیٹ خالی قرار دے سکتا ہے۔ پھر جناب قوم کو کیوں بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ آپ نے پہلے موصولہ استعفوں پر متعلقہ ارکان کا معاملہ ضمنی انتخاب کے لئے الیکشن کمشن کو نہ بھجوا کر آئین کی دفعہ 64 شق ون کی خلاف ورزی کی اور ابھی تک ان ارکان کی سیٹ خالی قرار نہ دے کر آپ اب دفعہ 64 شق بی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں تو اس آئینی خلاف ورزی پر کیوں نہ آپ کے خلاف بھی آئین کی دفعہ 6 کی عملداری کا تقاضہ کیا جائے۔ میں نے تو گذشتہ روز وقت ٹی وی کے لائیو پروگرام ’’نیوز لائونج‘‘ میں یہ تقاضا کر دیا ہے اب آئین کی عملداری کرانے والے جانیں۔

یہ کیا تماشہ ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو جو اختیار حاصل ہی نہیں وہ اسے اپنا اختیار تصور کر کے پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان کو باور کرا رہے ہیں کہ آپ فلاں تاریخ تک اپنے استعفے کی تصدیق کے لئے میرے چیمبر میں حاضر ہوں ورنہ میں آپ کا استعفی مسترد کر دوں گا۔ کیا آئین پاکستان کی کتاب ان کے چیمبر میں موجود نہیں، اگر نہیں ہے تو مجھے حکم دیں میں انہیں بذریعہ کورئیر بھجوا دیتا ہوں مگر آئین کی عملداری کی باتیں کرتے ہوئے آئین کا مذاق مت اڑائیں۔ دو ماہ سے جاری استعفوں کی اس سیاست میں نقصان تو بے چارے جاوید ہاشمی کا ہی ہوا ہے جنہوں نے قومی اسمبلی کے فورم پر آ کر مخدوم شاہ محمود قریشی جیسی مناققت سے کام نہ لیا اور اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا جس کے ساتھ ہی ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہو گئی اور پھر ضمنی انتخاب میں انہیں شکست کا دھبہ بھی اپنے دامن پر لگانا پڑا۔ تکنیکی طور پر ان کی رکنیت بھی دیگر مستعفی ارکان کی طرح اسی دن ختم ہو گئی تھی جس روز انہوں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اگر آئین کی دفعہ 64 (1) ان کی ذات پر اسی وقت سے لاگو ہو گئی تو پھر دیگر کے معاملہ میں کیوں سیاست کھیلی جا رہی ہے۔ کیا محض اس دھڑکے پر مستعفی ارکان کی نشستیں خالی قرار دینے کا اعلان نہیں کیا گیا کہ ان کے ضمنی انتخابات میں بھی کہیں جاوید ہاشمی والے نتائج سامنے نہ آ جائیں۔ مگر جناب آپ خود کو اس دھڑکے سے بچاتے بچاتے آئین کی دفعہ 6 کے شکنجے میں آ رہے ہیں۔ پہلے والا آپ کا دھڑکا تو باطل بھی ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ سانگلہ ہل کے ضمنی انتخاب میں ثابت ہوا مگر آئین کی صریحاً خلاف ورزی آپ کو بچنے نہیں دے گی۔ سو آپ اپنے حصولِ اطمینان کے چکر سے نکلیں پی ٹی آئی کو استعفوں پر مزید سیاست کرنے کا موقع نہ دیں، وہ اپنے بھجوائے گئے استعفوں کی تصدیق کے لئے بدھ کے روز اجتماعی طور پر سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آنے کا اعلان کر رہے ہیں تو ان سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کس حیثیت میں سپیکرز چیمبر میں آنا چاہتے ہیں۔ یقیناً وزیٹرز کی حیثیت سے ان کے سپیکرز چیمبر میں آنے میں کوئی قباحت نہیں مگر وہ خود کو رکن اسمبلی ظاہر کر کے سپیکر کے پاس آئیں گے تو وہ بھی آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ اس لئے اب استعفوں کی سیاست کا باب ہر دو جانب سے مستقل طور پر بند کر دیا جانا چاہئے اور ان عوام کو ریلیف دینے کی سیاست کا آغاز ہونا چاہئے جن پر پنجاب اسمبلی ہی نہیں نئے پاکستان والوں کی خیبر پی کے اسمبلی میں بھی ان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والے ارکان کو ہی فوقیت دی جا رہی ہے اور ان کی تنخواہوں میں ہزار فیصد اضافے کے بل پر حکومتی اور اپوزیشن بنچوں میں یکسوئی نظر آتی ہے۔ ’’سٹیٹس کو‘‘ والی ایسی منافقت کی سیاست میں آپ نئے پاکستان اور انقلاب کی بات کرتے ہیں تو آپ کے چہروں پر پھٹکار پڑی نظر آتی ہے اس لئے اب راندۂ درگاہ عوام کو ان کی معصومیت اور پے در پے غلطیوں پر معاف کر دیجئے۔ وہ تو آج بھی اسی سوراخ سے ڈسے جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں جس سے ہر ایرے غیرے، نتھو خیرے نے ان کے جذبات کے کھیلتے ہوئے انہیں ڈسا اور راندۂ درگاہ بنایا ہُوا ہے۔ یہ راندۂ درگاہ عوام جب تک

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

والی سوچ سے خود کو باہر نہیں نکالیں گے اور مفاداتی سیاست کے لئے یکسو ہونے والوں کے خلاف یکسو نہیں ہوں گے، کوئی انقلاب اور کوئی نیا پاکستان ان کا مقدر بدلنے کی ضمانت نہیں بن پائے گا۔ ہم جرنیلی آمروں کو ان کے ماورائے آئین اقدامات پر معاف کرنے کو تیار نہیں تو ماورائے آئین اقدامات اٹھانے اور اس کا سوچنے والے سویلینز کو بھی کیوں معاف کیا جائے۔ اب عذاب، عتاب اور ثواب میں کوئی تمیز نہیں ہونی چاہئے ورنہ مقدارات کی سیاہی اور بھی گہری ہوتی جائے گی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com