گورنر پنجاب کا پچھتاوا، بھونچال اور آفٹر شاکس
Oct 16, 2014

زیرک سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے اسلام آبادی میں دھرنا بازوں  کی جتن سے پکائی ’’کھیر‘‘ بالاہتمام دھرنا بازوں کی پلیٹوں اور شکموں میں جانے سے پہلے ہی ان کے لئے بدہضمی کی علامت بنا دی تھی چنانچہ آج جاوید ہاشمی کی اس کاوش سے اسلام آباد کے عمرانی اور قادری دھرنوں کے ٹینٹ اکھڑ چکے ہیں اور مسلسل دو ماہ تک اتھل پتھل ایجنڈے پر عمل پیرا رہنے والے اس دھرنے کے شرکا تتر بتر ہو چکے  ہیں۔ یہ سوال علامہ قادری کے لئے ضرور کسی کفارے کا تقاضہ کرتا رہے گا کہ اپنے اس عہد کی پاسداری میں کہ دھرنے کے مقاصد پورے کئے بغیر یعنی جمہوریت اور اس سے وابستہ جابر اور غاصب حکمرانوں کے خلاف انقلاب لائے بغیر واپس  آئیں تو انہیں قتل کر دیا جائے، وہ اپنے قتل کا اہتمام کئے بغیر دھرنے سے کیوں واپس لوٹ آئے ہیں مگر اب تیزی سے ابھرتا ہوا یہ نیا سوال پوری قوم کے لئے سوہان روح بن رہا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی کی جانب سے جمہوریت اور حکومت کے خلاف ناکام بنائی گئی دھرنے بازوں کی سازش کے بعد حکمران طبقات کے ذہنوں میں پختہ ہونے والا برتری کا زعم اس جھٹکے سے ختم ہوا ہے یا مزید راسخ ہو گیا  ہے۔ میرے خیال میں اس معاملہ میں گورنر پنجاب چودھری سرور کی گواہی زیادہ مصدقہ ہے جنہوں نے گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں برتری کے زعم میں مبتلا حکمرانوں کا مزہ اسی طرح کرکرا کیا ہے جیسے مخدوم جاوید ہاشمی نے دھرنا بازوں کی صفوں میں سے نکل کر ان کے ماورائے آئین اقتداری سہانے سپنوں کو عین اس وقت چکنا چور کیا جب وہ اقتداری کھیر پر جھپٹا مارنے کے لئے بس جست بھرنے ہی والے تھے۔ گورنر چودھری سرور کو تو خود حکمران مسلم لیگ ن کے قائدین نے ضد کرکے انہیں پاکستان میں اہم کردار کی ادائیگی پر قائل کیا تھا جس کے پیچھے حکمرانوں کا مفاد یہی وابستہ تھا کہ چودھری سرور اوورسیز پاکستانیوں کو متحرک کرکے انہیں اپنی رقوم پاکستان بھجوانے پر آمادہ کر سکتے ہیں جس سے سابقہ حکمرانوں کے خالی کئے گئے زرمبادلہ کے ذخائر کو بھرا اور قومی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اگر چودھری سرور نے اپنی اصلی ارض وطن کی خدمت کے جذبہ کے تحت اپنی برطانوی  شہریت ترک کرنے کی بھی قربانی دی اور گورنر پنجاب بن کر ملک و قوم کے لئے کچھ کر گزرنے کا ارادہ باندھا تو حکمرانوں کو ان کے اس جذبے کی قدر کرنی چاہئے تھی، انہیں محض نمائشی گورنر نہیں بنانا چاہئے تھا اور ان کے جذبے اور قربانی کا احترام کرتے ہوئے کم از کم ان کی سفارشات کو عملی جامہ پہناتے رہنا چاہئے تھا مگر حکمرانوں کے ذہنوں میں راسخ ہونے والے برتری کے زعم نے جس کے باعث انہیں راندۂ درگاہ مقہور  عوام الناس تو ویسے ہی کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں، چودھری سرور کی ایک نہ چلنے دی۔ محترم اثر چوہان کی مہربانی سے میری چودھری سرور سے جو چند ملاقاتیں ہوئیں  ان میں بھی مجھے  وہ عوام کے گوناں گوں مسائل کے حل بالخصوص معاشرے کے بے وسیلہ بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے معاملہ میں وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتے نظر آئے۔ وہ اپنی جانب سے وزیراعلی پنجاب اور متعلقہ محکموں کو سفارشات بھجواتے جن کا احترام انہیں ردی کی ٹوکری کی نذر کرکے ملحوظ خاطر رکھا جاتا۔ آج چودھری سرور نے باقاعدہ ایک ٹی وی انٹرویو میںگورنر پنجاب کا منصب قبول کرنے کی غلطی پر جس پچھتاوے کا اظہار کیا ہے یہ ان کا آج کا نہیں بلکہ گورنر کا منصب سنبھالنے کے ابتدائی دنوں کا پچھتاوا ہے جس کا اظہار وہ پہلے بھی اپنے خاص دوستوں کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ پھر ان کی ڈیفنس لاہور میں کرائے کا گھر لینے کی خبریں زیر گردش آئیں تو مجھے یقین سا آنے لگا کہ حکمران مسلم لیگ کے قائدین  کے ذہنوں میں موجود برتری کے زعم کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں اور منظرعام پر آنے والے ان دھرنوں کے پس پردہ محرکات کے جھٹکوں نے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور جاوید ہاشمی کی بروقت بغاوت اور پارلیمنٹ کے اتحاد سے غیر مؤثر ہونے والے ان جھٹکوں کو وہ اپنی کسی ذاتی کاوش کی کامیابی سے تعبیر کر کے اپنے تئیں خوش اور مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں اور برتری کے زعم سے جان چھڑانے کے بجائے اسے لبادہ بنا کر اوڑھ لیا ہے۔ اقتداری رعونت ایسی ہے کہ بے وسیلہ عام انسانوں (خلقِ خدا) کو دھتکارنا ہی اس رعونت کی تسکین کا ذریعہ ٹھہرا ہے۔

 یہی وہ راندۂ درگاہ جمہور ہے جو اس سلطانی جمہور کے زندہ وجود کی علامت ہے جسے دھرنوں کے جھٹکوں اور اس کے پس پردہ ماورائے آئین اقدام کی سازشوں سے بچانے کے لئے پارلیمان میں تمام جمہوری بزر جمہروں کا اکٹھ ہوا تھا، اس جمہور کا برتری کے زعم والے اقتداری طبقات کے ہاتھوں جو حشر ہوتا ہے اسے دیکھ کر ہی گورنر چوہدری سرور تڑپ رہے ہیں۔ رعونت دیکھئے کہ دھرنائی جھٹکوں کے باوجود بے ڈھنگی چال کو درست کرنے کا خیال نہیں آیا اور راندۂ درگاہ عوام کو خود سے فاصلے پر رکھنے کا جو کلچر وزیروں، مشیروں اور ارکان اسمبلی تک نے اپنا رکھا تھا اسے بریک لگا کر عوام کو اپنے قریب کرنے کا ابھی تک سوچا ہی نہیں گیا۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ چھوٹے موٹے وزیروں مشیروں نے بھی عوام پر اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں اور اپنے موبائل فون اپنے خاص اہلکاروں کے ہاتھوں میں تھما رکھے ہیں جو اول تو عوام الناس کی کوئی فون کال سُننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور کبھی کوئی کال اٹنڈ ہو جاتی ہے تو کال کرنے والے کو دو ٹکے کا جواب ملتا ہے کہ ’’صاحب‘‘ تو کسی دوسری جگہ پر مصروف ہیں جہاں ان تک فون نہیں پہنچایا جا سکتا۔ نتیجتاً عوام الناس اپنے روٹی روزگار کے اور دوسرے گھمبیر مسائل کے حل کے معاملہ میں اقتداری طبقات سے مایوس ہی نہیں، برافروختہ ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ مجھے اس رعونت والے کلچر کی خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید حتیٰ کہ نکّے وزیر رانا مشہود احمد خاں کے درباروں میں بھی فراوانی نظر آئی مگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے انپے تئیں مطمئن ہو بیٹھنا اس عوامی اضطراب سے رعونت والے اقتداری طبقات کو بھلا بچا پائے گا جو میاں شہباز شریف کے اپنے بقول رائے ونڈ اور بنی گالہ والوں سمیت سب کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔

گورنر پنجاب کے گزشتہ روز کے انٹرویو سے تو یہی عندیہ ملتا ہے کہ وہ اقتدار کے نمائشی ایوانوں سے خود کو باہر لے جانے کا تہیہ کئے بیٹھے ہیں۔ اس کے بعد وہ اقتدار کے ان ایوانوں کا جو حشر اٹھائیں گے اس کے لئے اپنے تئیں مطمئن بیٹھنے بارعونت حکمران طبقات کو ابھی سے سوچ رکھنا چاہئے۔ کبھی کبھی کسی بھونچال کے آفٹر شاکس بھی سب کچھ تہس نہس کر جاتے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com