آہ نوابزادہ، واہ نوابزادہ
Sep 29, 2014

بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خاں کے خاندانی اور سیاسی جانشین فی الواقع زندہ ہوتے تو وہ ان کی گیارہویں برسی پر ان کے سیاسی ورثہ کو سنبھالے رکھنے کی زندہ مثال بنے نظر آتے مگر یہ کیا قیامت ہے کہ لاہور والے ان کے ڈیرے 32 نکلسن روڈ کو اُجاڑنے کے بعد ان کی جمہوری پارٹی کا بھی کہیں نام و نشان نہیں رہنے دیا گیا۔ ان کی برسی کے حوالے سے اخبارات میں جو سنگل کالم خبر شائع ہوئی اس کے ذریعے ان کے آبائی شہر خان گڑھ سے یہ اطلاع ملی کہ وہاں نوابزادہ مرحوم کے لئے قرآن خوانی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لاہور میں نوابزادہ صاحب کے ایک دیرینہ رفیق کار مارٹن جاوید مائیکل نے پاکستان نیشنل کرسچن پارٹی کے پلیٹ فارم پر نوابزادہ مرحوم کے لئے تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا، مجھے بھی انہوں نے اس ریفرنس کے لئے یاد فرمایا مگر رائیگاں ہوتے وقت میں زندگی کو اتنے کام یاد آنے لگتے ہیں کہ اصل کام محو ہو جاتے ہیں۔ اس تقریب میں شرکت سے محرومی کا قلق رہے گا مگر میرا قلق نوابزادہ مرحوم کے سیاسی ورثے کو اُجڑتا دیکھ کر ایک خلش بن چکا ہے۔ برادرم منیر احمد خاں نے نوابزادہ صاحب کی گیارہویں برسی پر ان سے وابستہ یادوں کو اپنے تعزیتی مضمون کے ذریعے تازہ کیا تو نوابزادہ صاحب کی دائمی اپوزیشن والی سیاست سے وابستہ میری بھی کئی یادیں ازخود تازہ ہو گئیں۔ میرؔ کے اس شعر کے مصداق کہ

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی

جنہوں نے نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی صحبت میں چند لمحات گزارے ہوئے ہیں، اس وضعدار، مرنجاں مرنج شخصیت کی سیاسی اور نجی زندگی میں شائستگی، اصول پرستی اور بذلہ سنجی کی وہ گواہی دئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اپنی جوانی کے احراری نوابزادہ نصراللہ خاں کارزار سیاست کی سیاحی کرتے کرتے عملاً سیاسی مکتب کا مقامِ بلند حاصل کر چکے تھے جو اپوزیشن کی سیاست میں زیادہ آسودگی محسوس کرتے مگر ان کے اپوزیشن کے ہر عہد کا ہر حکمران ان سے نیاز مندی رکھنا اپنے لئے سعادت سمجھتا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ان کے حکومتی حلیف کے ناطے پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ اور پنجاب حکومت میں اپنے بیٹے نوابزادہ منصور علی خاں کی وزارت کے سوا ان کے دامن پر حکومتی مراعات کا کوئی چھینٹا نظر نہیں آئے گا۔ بھٹو مرحوم کی حکومت کا تختہ اُلٹانے پر منتج ہونے والی پی این اے کی تحریک کا صلہ جماعت اسلامی کی طرح نوابزادہ مرحوم کی جمہوری پارٹی نے بھی وفاقی کابینہ میں دو وزارتوں کے حصول کی صورت میں اٹھایا جس کے لئے نوابزادہ صاحب کی نظر انتخاب اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل چودھری محمد ارشد اور ملتان کے انصاری صاحب پر پڑی مگر پھر انہیں اپنی اپوزیشن کی سیاست والی لذت نے گھیرا اور 9 ماہ بعد انہوں نے اپنے وزراء ضیاء کی کابینہ سے باہر نکلوا لئے اور پھر اسی ضیاء کے خلاف پیپلز پارٹی، تحریک استقلال، اے این پی، پی این پی، این این پی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر اپوزیشن اتحاد ایم آر ڈی کی بنیاد رکھی اور آٹھ سال تک تسلسل کے ساتھ ضیاء آمریت کا طبلہ بجاتے رہے۔ اس عرصہ کے دوران وہ اور اصغر خان اپنے گھروں میں طویل نظر بندی والے سود و زیاں کے کئی مراحل سے بھی گزرے۔ 1988ء  میں ان کی ایم آر ڈی والی سیاسی حلیف بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو ان کی سیاست کے ساتھ اصولی اختلافات کے پیش نظر انہوں نے اپوزیشن اتحاد آئی جے آئی کی بنیاد رکھوا دی، پھر 1990ء میں ان کے آئی جے آئی والے سیاسی حلیف میاں نواز شریف کو وفاقی اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو نوابزادہ صاحب نے اقتدار سے فارغ کی جانے والی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اپوزیشن اتحاد پی ڈی اے کی بنیاد رکھ دی اور جب بے نظیر بھٹو 1993ء میں دوبارہ اقتدار میں آئیں تو وہ نوابزادہ صاحب کی اپوزیشن کی سیاست سے پھر نہ بچ پائیں۔ چنانچہ نوابزادہ صاحب نے پہلے ان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایف کا منظر بنایا اور پھر ان کے اقتدار کو کمبائنڈ اپوزیشن الائنس کے جھٹکے لگائے جس میں میاں نواز شریف ان کے شریک سفر ہوئے اور جب نواز شریف کو 1996ء کے انتخابات میں جست لگا کر پھر اقتدار کی مسند کو چھونے کا موقع ملا تو نوابزادہ صاحب کی اپوزیشن کی ترنگ انہیں نواز شریف کے اقتدار کے خلاف اپوزیشن اتحاد اے آر ڈی کی تشکیل کی راہ پر لے آئی۔ یہی وہ اتحاد ہے جس میں نواز شریف کو بھی 1999ء میں اقتدار سے اپنی جبری رخصت کے بعد شمولیت اختیار کرنا پڑی۔ اپوزیشن کی سیاست کے اس سے پہلے اور بعد کے کئی مراحل میں بھی نوابزادہ نصراللہ خاں کی سیاسی بصیرتوں کے جلوے نظر آتے رہے اور لندن میں ایم آر ڈی کے میثاق جمہوریت سے اے پی ڈی ایم کی تشکیل تک سیاسی اُفق پر نوابزادہ صاحب کا تذکرہ بہت نمایاں انداز میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے سیاست میں پیپلز پارٹی کے جیالا کلچر کو تو بہت بھگتا تھا مگر بدتمیزی والے جس کلچر کی بنیاد عمران خان اور طاہر القادری نے رکھی ہے اگر نوابزادہ صاحب آج زندہ ہوتے تو اس کلچر کو کبھی قبول نہ کرتے مگر ان کی زندگی کے بعد ان کے صاحبزادگان نے ان کی سیاسی بساط کی لٹیا ہی ڈبو دی ہے جس سے کم از کم یہ پیغام تو ضرور ملتا ہے کہ کسی خاندان میں سیاسی ورثے کو سنبھالنے کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ تو نوابزادہ نصراللہ خاں جیسی بلند قد کاٹھ والی بھاری بھرکم سیاست بھی اپنی جانشینی کی سیاسی نابلوغیت کی بھینٹ چڑھ کر سپرد خاک ہو جاتی ہے، نوابزادہ منصور علی خاں نے نوابزادہ صاحب کے انتقال کے بعد ان کی سیاسی وراثت کے ساتھ یہی سلوک کیا۔  پہلے ان کی سیاسی ورثے کو 32 نکلسن روڈ سے نکال کر ماڈل ٹائون کے کسی ویران گوشے میں لے آئے اور پھر اسے خاں گڑھ لے جا کر کچھ عرصہ تھپکیاں دیتے، سلاتے رہے اور پھر اسے ملتان لے جا کر عمران خان کے سونامی کی نذر کر دیا۔ گذشتہ سال نوابزادہ صاحب کی برسی کے موقع پر ان کے سیکرٹری جنرل چوہدری محمد ارشد اور ان کے ایک دیرینہ کارکن محمد حسین کے دل میں ترنگ اُٹھی اور انہوں نے پی ڈی پی کے احیا کا اعلان کیا مگر پھر یہ اعلان بھی عملی شکل اختیار کئے بغیر کہیں دفن ہو گیا۔ مجھے ان کے سیاسی محل کے اس طرح اجڑنے کا بہت دکھ ہے کیونکہ میری نوابزادہ صاحب کے ساتھ دیرینہ نیاز مندی رہی ہے۔ میری نیاز مندی سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خاں کے علاوہ کلاسیکل شاعر نصراللہ خاں ناصر کے ساتھ بھی رہی۔ برادرم سہیل وڑائچ کی ایک افطار پارٹی میں نوابزادہ صاحب نے فرمائش کر کے میری ایک پنجابی غزل دوبارہ سُنی اور اس شعر پر بے ساختہ داد دی کہ

سارے بیٹھے کچیائی پئے ٹالدے نیں
محفل دے وِچ بولن نوں ہن جی نئیں کردا

وہ آزردہ ہوتے تو ایک استاد شاعر کے یہ اشعار دُہراتے نظر آتے کہ

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے
زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے
رسن و دار اِدھر، کاکل و رخسار اُدھر
دل بتا تیرا کدھر جانے کو جی چاہے ہے

آہ نوابزادہ، واہ نوابزادہ 

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com