تبدیلی کلچر کی چند جھلکیاں
Sep 23, 2014

الطاف بھائی اپنی روایتی گھن گرج کے ساتھ اپنے عمران بھائی کو کراچی میں ان کے کامیاب جلسہ کی پیشگی مبارک دے رہے تھے تومیرے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل گئے کہ اب عمران اپنے اس جلسہ میں اپنی اسلام آباد دھرنے والی بازاری زبان درازی سے پرہیز کریں گے ورنہ وہ ”اوئے الطاف سُن لو“ کی بڑھک لگا کر اپنے جلسے کے پھیکے رنگ میں سرخی کی آمیزش کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔ مزارِ قائد پر عمران خان کے جلسے کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف نے بھی ”تحریک انصاف، متحدہ مُک مکا جلسہ“ کی اصطلاح استعمال کی اور عمرانی سیاست کے دوسرے ناقدین بھی اس جلسہ کا اسی تناظر میں جائزہ لے رہے ہیں مگر جلسے کے شرکاءکی تعداد نے عمران کی اسلام آباد دھرنے میں دفن ہوتی سیاست کو نئی زندگی ضرور بخش دی ہے۔ ایجنسیوں کی رپورٹوں سے لے کر ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی آزاد رپورٹوں تک میں اس جلسہ کے شرکاءکی تعداد ایک لاکھ سے تین لاکھ تک ظاہر کی گئی ہے جو دھرنوں والی ایجنسیوں کی سیاست کے ہر روز کسی نئے حوالے سے بے نقاب ہونے کے باوجود کسی حکومت مخالف سیاسی جلسے کی خاصی حوصلہ افزا تعداد ہے چنانچہ عمران کو بھی اپنی تقریر میں یہ سوال اٹھانے کا موقع مل گیا کہ ہمارے اسلام آباد کے دھرنوں کے بارے جو لوگ یہ تبصرے کر رہے ہیں کہ یہ فوج کی زیر سرپرستی چل رہے ہیں تو آپ جلسے کے شرکاءہاتھ اٹھا کر انہیں جواب دیں کہ آپ کو بھی یہاں فوج والے لائے ہیں یا آپ نئے پاکستان کے لئے رضا کارانہ طور پر اس جلسے میں آئے ہیں؟ مگر بھائی صاحب! ہونہار بلاول کی اس بات پر بھی کان دھریں کہ جلسے کی طاقت اور ووٹ کی طاقت میں بڑا فرق ہے، اقتدار جلسے کی طاقت سے نہیں ووٹ کی طاقت سے حاصل ہوتا ہے، جلسے تو 19، 20 کے فرق کے ساتھ سب کے بڑے ہو جاتے ہیں، اسی کراچی شہر میں الطاف بھائی کی ٹیلی فونک کال پر پلک جھپکتے میں جم غفیر کا اہتمام ہو جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی باقاعدہ چیلنج کر کے اسی کراچی میں عمران سے بڑا نہیںتو اس کے برابر والا جلسہ کر دکھایا تھا۔ جماعت اسلامی نے گذشتہ ماہ اسی کراچی شہر میں یوم یکجہتی فلسطین کے حوالے سے عملاً لاکھوں کی ریلی نکال کر دکھائی، ابھی کل ہی امیر جماعت اسلامی سراج الحق پشاور میں عمران کے مقابل ایک پُرہجوم جلسے سے خطاب کرتے نظر آ رہے تھے۔ میاں نواز شریف نے دو ماہ قبل لاڑکانہ میں انہونی دکھاتے ہوئے اپنے جلسے کی ملین والی پوزیشن بنا لی تھی۔ حمزہ شہباز نے بھی دھرنا سیاست کے مقابل لاہور میں مال روڈ پر ہزاروں کا عوامی شو دکھا دیا تھا۔

ماضی میں اپوزیشن کی طویل ترین تحریک ایم آر ڈی کی رہی ہے جو 1981ءسے شروع ہوئی اور پوری ثابت قدمی اور تسلسل کے ساتھ 1988ءتک جاری رہی، اس تحریک کے دوران مارشل لاءکی سختیوں، قلعہ بندیوں اور کوڑوں کی فوری سزاﺅں سے پیدا ہونے والی خوف و ہراس کی فضا کے باوجود باغ بیرون موچی گیٹ کی گراﺅنڈ، لیاقت باغ راولپنڈی، دھوبی گھاٹ گراﺅنڈ فیصل آباد، کراچی اور ملک کے دوسرے شہروں میں ہزاروں کے جوشیلے اجتماع ہوتے رہے۔ پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلاوطنی ترک کرنے کے بعد 10 اپریل 1986ءکے مینار پاکستان لاہور والے جلسے کا تو آج تک کسی سیاسی پارٹی اور اس کے لیڈر کی جانب سے توڑ نہیں ہو سکا۔ علی الصبح اڑھائی بجے لاہور ائر پورٹ کے باہر انسانی سروں کا ہجوم اکٹھا ہونا شروع ہوا اور پھر ائر پورٹ سے مینار پاکستان تک رات کے 9 بجے تک انسانی سر ہی سر نظر آتے تھے۔ آپ موازنہ اپوزیشن کی سیاست کے آج والے حالات کے ساتھ کریں تو ایم آر ڈی کی تحریک والے اپوزیشن کی سیاست کے جذبے کی داد دئیے بغیر نہیں رہا جا سکے گا۔ میں نے اس پوری تحریک کی کوریج کرتے ہوئے ریاستی جبر کے کئی دلدوز مناظر کا مشاہدہ بھی کیا ہوا ہے اور خود بھی قدم قدم پر زندگی کو لاحق ہونے والے خطرات کا سامنا کرتا رہا ہوں، اس لئے مجھے اپوزیشن کی سیاست کے حوالے سے عمران اور قاری کی دھرنا سیاست انتہائی بودی نظر آتی ہے اوراب اس باسہولت سیاست سے وابستہ سازشی تھیوریاں بڑے بڑے نامی گرامیوں کی زبانوں سے بے نقاب ہونا شروع ہوئی ہیں تو عمران کے کراچی کے لاکھوں والے جلسے کی کیا وقعت رہ گئی ہے، ان سازشی تھیوریوں کے پس پردہ کرداروں میں سے ایک کی مقررہ میعاد ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرمنٹ کنفرم ہونے کے بعد دیکھیں دھرنوں کی سیاست کا کیا رنگ جمتا ہے۔ اگر مسلح افواج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ کو بھی سازشی تھیوریوں کے سارے پس منظر کا علم ہے جبکہ مخدوم جاوید ہاشمی پہلے ہی لنکا ڈھکا چکے ہیں اور لرزتی دیواروں کو مزید دھکے دئیے چلے جا رہے ہیں تو عمران و قادری کی دھرنا سیاست کا بھرم ویسے ہی چکنا چُور ہو چکا ہے اس لئے عمران اپنے کراچی کے جلسے میں متحدہ سے ”متھّا“ لگاتے تو ان کی بے لاگ سیاست کا کوئی رنگ نظر آتا مگر الطاف بھائی نے تو انہیں کامیاب جلسے کی پیشگی مبارکباد دے کر ان کی اصولی، بے لاگ سیاست کا پہلے ہی ”شفاف چہرہ“ دکھا دیا تھا سو اس جلسہ کے شرکاءکی تعداد کیا معنی رکھتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جلسہ نے عمرانی سیاست کے کس پہلو کو اُجاگر کیا اور عوام کو کیا پیغام دیا ہے۔ پی آئی اے کے دو الگ الگ واقعات نے تو انگڑائی لیتے نئے پاکستان کی جھلک دکھا دی ہے جو لاقانونیت، اٹھائی گیری اور ہر ناجائز بات کو بزور منوانے کے کلچر میں قائداعظم کے پاکستان کی ٹوٹ پھوٹ کی بنیاد رکھتے نظر آتے ہیں۔پی آئی اے کی ایک پرواز میں ہونے والی تاخیر کا سبب ایک سابق اور دوسری موجودہ حکومتی شخصیت کو قرار دے کر جہاز کے دوسرے مسافروں کی جانب سے انہیں زبردستی آف لوڈ کر دیا گیا تو عمران و قادری کو اس لاقانونیت اور زور زبردستی میں ”تبدیلی آ گئی ہے“ کی جھلک نظر آئی، اب لندن سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی پرواز کا کپتان اور دوسرا عملہ ”مالا مال“ پایا گیا جو ان کی استعداد سے کہیں باہر والے ہیر پھیر کا عکاس تھا مگر اس ہیر پھیر کو جائز بنانے کے لئے زور زبردستی والے عمرانی کلچر کے باعث مانچسٹر جانے والی پرواز کو اس کے پائلٹ اور کو پائلٹ نے اُڑان ہی نہ بھرنے دی، پھر پی آئی اے کا سارا سٹاف ہڑتال کی دھمکی دیتا نظر آیا تو لندن والی پرواز کے عملے کی کالا دھن سمیٹنے والی لاقانونیت کو قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جائز قرار دلا دیا گیا۔ تو جناب کراچی کے جلسے اور دھرنا سیاست کا یہی پیغام ہے کہ زور زبردستی کر کے قاعدے قانون کی مت مار دو، کسی کی ایک نہ چلنے دو اور گرد اتنی اڑاﺅ کہ کسی کا بھی دامن اور چہرہ اُجلا نظر نہ آئے اور پھر اسی گند میں اپنے لُچ تلتے رہو۔ ارے بھائی صاحب! اس لُچہ گیری کا انجام تو قائداعظم کے پاکستان کو انتشار کے حوالے کرنے والا نظر آ رہا ہے۔ پھر قوم کے ووٹ کا انتظار کیجئے، اسے ایسے لُچہ گیری کلچر کی ضرورت ہو گی تو اپنے ووٹ کی طاقت سے آپ کے سر پر تاچ سجا دے گی۔ اگر آپ کے انقلاب اور تبدیلی کے تصور میں قوم کے ووٹ کی بھی کوئی حیثیت نہیں تو پھر آپ کے چہروں کے ماسک نوچے جانے کی نوبت بھی اب آیا ہی چاہتی ہے۔ جناب خاطر جمع رکھئے!
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com