انا مارنے کا انداز ۔ میں صدقے جائوں
Sep 04, 2014

بات وہ ساری انائیں ختم کرنے، تحمل و بُردباری اختیار کرنے، آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی پاسداری کرنے، اس کے احترام کے تقاضے ملحوظ خاطر رکھنے اور پارلیمنٹ ہائوس، پی ٹی وی اور پولیس حکام پر حملہ آور ہونے والوں سے اپنے اور اپنی پارٹی کے اختلافات کی کر رہے تھے اور انا ختم کرنے کی اپنی بات (جو ان کے اپنے بقول اس مقدس ایوان میں کہی گئی ہر بات تاریخ کا حصہ ہوتی ہے) کی لاج یوں رکھ رہے تھے کہ تقریر ختم کرتے ہی وہ پی  ٹی آئی کے تمام ارکان سمیت ہائوس سے باہر چلے گئے۔ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ انہوں نے یوں کیا کہ بزرگ پارلیمنٹرین محمود خان اچکزئی ان کا نام لے کر انہیں واپس بلواتے رہے مگر وہ سُنی اَن سُنی کر کے منتخب ایوان کے بیرونی دروازے کی جانب ہی بڑھتے گئے اور پھر آئین، پارلیمنٹ، جمہوریت کا احترام اور پاسداری یوں ملحوظ خاطر رکھی کہ منتخب ایوان سے باہر نکلتے ہی وہ اس انقلابی ہجوم میں واپس جا بیٹھے جس سے چند لمحے قبل خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری اسی مقدس ایوان پارلیمنٹ، آئین اور جمہوریت کے بخئے ادھیڑ رہے تھے اور ان کی زبان سے حسب معمول ادا ہونے والی صلواتوں کی پُھلجڑیاں پارلیمنٹ اور اس میں بیٹھے تمام ارکان کے چہروں پر ’’حرام خور‘‘ کا لیبل لگا رہی تھیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب کی پون گھنٹے کی جذباتی تقریر ان کے قول و فعل کے تضاد کا شاہکار نظر آتی تھی جبکہ ان میں ظرف اتنا بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی پارٹی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی طرح ہائوس کا شکریہ ادا کر کے سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے گئے اپنے استعفے کی بنیاد پر یہ اعلان کر پاتے کہ وہ مستعفی ہو چکے ہیں اس لئے وہ آج سے اسمبلی کے ممبر نہیں رہے۔

بے شک وزیراعظم نواز شریف نے بھی مخدوم شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران ہائوس میں موجود نہ رہ کر کم ظرفی کا مظاہرہ کیا اور اپنی انا کو تسکین پہنچائی مگر انائوں کی پرورش کے عملی مظاہرے تو دوطرفہ ہیں، اگر مرزا غالب کے اس شعر کی روشنی میں اپنے دلوں کی کدورتیں نکال لی جائیں تو آج بھی بات بن سکتی ہے کہ

ضد کی ہے اور بات مگر خُو بُری نہیں
بھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کئے

ارے صاحب! یہاں تو پرورش ہی ضد اور انا کی ہو رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی خود تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ پانچ مذاکراتی نشستوں میں حکومت ہمارے تمام تقاضے تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکی تھی ان کی ناں کا لفظ صرف وزیراعظم کے استعفے پر اٹک گیا اور اس پر بھی حکومتی ٹیم نے جواب کے لئے اگلے روز تک کی مہلت طلب کی، پھر آپ ہائوس کو یہ بھی تو بتا کر جاتے کہ سیاسی جمود توڑنے کے لئے ہونے والی اس پیشرفت کے باوجود ’’پیٹ‘‘ اور ’’پی ٹی آئی‘‘ کو دھرنا پارلیمنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس کے اندر لے جانے کی مجبوری کیوں لاحق ہوئی، اسی ایک نکتے پر تو مخدوم جاوید ہاشمی عمران خان سے ناراض ہو کر دھرنا سیاست کے اصل مقاصد سے پردہ اٹھا رہے ہیں اور انہوں نے وہ ’’مجبوری‘‘ بھی بے نقاب کر دی ہے جس نے دھرنا سیاست کو پارلیمنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دی تھی۔ شاہ محمود قریشی صاحب نے بھی پارلیمنٹ ہائوس، وزیراعظم ہائوس اور پی ٹی وی پر حملہ آور ہونے، آئین اور پارلیمنٹ کو تسلیم نہ کرنے اور اس کے بخئے ادھیڑنے کی سیاست سے اپنے اور اپنی پارٹی قیادت کے اختلاف رائے کا تذکرہ کرتے ہوئے اس پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کی کہ جب علامہ قادری نے اپنے دھرنے کو پارلیمنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس کی جانب بڑھانے کا اعلان کیا تو عمران خان بہت مضطرب ہوئے اور مجھے فکرمندی سے کہا کہ اس سے ہم اب تک اپنا حاصل کیا ہوا سب کچھ کھو بیٹھیں گے، انہی کے بقول پھر عمران خان نے انہیں طاہر القادری کے پاس بھیجا کہ انہیں آگے بڑھنے سے روکا جائے۔ انہوں نے قادری کے کنٹینر  میں جا کر ان کی منت سماجت کی کہ وہ سارا سفر کھوٹا نہ کریں اور اپنے ورکرز کو پارلیمنٹ ہائوس کی جانب بڑھنے سے روکیں، انہی کے بقول علامہ قادری نے انہیں جواب دیا کہ اب ان کے کارکنوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اس لئے وہ انہیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتے۔ شاہ محمود قریشی کی تصدیق کے ساتھ ڈاکٹر  قادری کے یہ الفاظ بھی مقدس ایوان کی وساطت سے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اور پھر شاہ محمود قریشی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے عوامی تحریک کے کارکنوں سے 45 منٹ تک خطاب کرتے ہوئے خود ان کی منت سماجت کی کہ وہ آگے نہ بڑھیں مگر انہیں اس کے جواب میں ہوٹنگ اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر آپ کی اور بقول آپ کے، عمران خان کی آئین اور پارلیمنٹ کے تقدس  کی پاسداری کرنے کی باتیں درست ہیں اور آپ نے علامہ قادری اور ان کے کارکنوں کی جانب سے اس پارلیمنٹ اور آئین کو ملیا میٹ کرنے کے عزائم دیکھ لئے تھے تو آپ کو واپس جا کر فوری طور پر اپنے قائد عمران خان کو علامہ قادری سے اپنی پارٹی کی سیاست کے راستے الگ کرنے پر آمادہ کرنا چاہئے تھا جیسا کہ مخدوم جاوید ہاشمی بھی پارٹی قیادت کو یہی مشورہ دے چکے تھے مگر حضور والا! پارلیمنٹ ہائوس کی جانب پیشقدمی میں پہل تو آپ کی پارٹی کی جانب سے کی گئی جس کی  مخدوم جاوید ہاشمی یہ کہہ کرپہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں کہ انہوں نے عمران کو حکومتی ٹیم کے ساتھ کئے گئے وعدے کی پاسداری کرنے اور پارلیمنٹ ہائوس کی جانب پیش قدمی نہ کرنے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ اب ہمیں کوئی مجبوری لاحق ہو گئی ہے اس لئے ہم نے آگے بڑھنا ہی بڑھنا ہے، پھر اس پیش قدمی پر پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میدانِ کارزار بننے کے جو مناظر آپ روہانسے ہو کر پارلیمان کو دکھا رہے تھے آپ خود بتا دیں کہ آپ جس پارلیمنٹ اور آئین کو گزند تک نہ پہنچنے دینے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں، اس پارلیمنٹ ہائوس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آپ کے ہاتھوں میں ہوتی تو آپ پارلیمنٹ ہائوس کا تہس نہس کرنے کی نیت سے ڈنڈے، کلہاڑیاں، ہتھوڑے اور کٹر اٹھائے پارلیمنٹ ہائوس کی جانب بڑھنے والے اس ہجوم کے خلاف کیا ایکشن لیتے؟ میری رائے میں تو حکومتی مشینری نے پھر بھی انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے محض آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور لاٹھی چارج سے کام لیا جبکہ آپ کے پارٹی قائد تو اس واقعہ کے بعد پارلیمنٹ اور آئین کے تحفظ کے دعوئوں کے باوجود اس کا تہس نہس کرنے والوں سے بغلگیر ہو گئے، پی ٹی وی پر حملے کا معرکہ مشترکہ طور پر سر کیا گیا اور پھر شام کو عمران قادری ہتھ جوڑی پوری قوم نے دیکھی۔ کیا آپ کو پارلیمنٹ کے اس صبر و استقامت کی داد نہیں دینی چاہئے کہ پی ٹی اے کے ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے ان کے دستخطوں کے ساتھ ان کے استعفے سپیکر کی ٹیبل پر آنے کے بعد آئینی تقاضوں کے تحت وہ استعفے منظور ہو چکے ہیں، پھر بھی آپ اور پی ٹی اے کے دوسرے ارکان کو پارلیمنٹ ہائوس کی ارکان کے لئے مخصوص
نشستوں پر بٹھایا گیا اور آپ کو ہائوس کے اندر پون گھنٹہ کی جوشیلی تقریر کا بھی موقع دیا گیا۔ بھئی حد ہوتی ہے دشنام طرازی کی، مبالغہ آرائی کی، دروغ گوئی کی۔ آپ باتیں آئین اور پارلیمنٹ کی حفاظت کی کر رہے تھے اور عملی طور پر آپ اب بھی آئین اور پارلیمنٹ کو تہس نہس کرنے کا ایجنڈہ رکھنے والوںکے ساتھ کھڑے ہیں۔ ارے جناب! ملمع کاری کی ایسی سیاست اب نہیں چل سکتی۔ آپ آئین اور پارلیمنٹ کے ساتھ ہیں تو آپ پھر ہائوس میں آ کر اس مجوزہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیں جس کی محمود اچکزئی تجویز پیش کر چکے ہیں۔ آپ اپنی افراتفرای سیاست کے ذریعے جس نئے پاکستان کا نقشہ بنا اور دکھا رہے وہ یہاں قابل عمل اور نافذ نہیں ہونے والا، اس دھما چوکڑی کی اب گنجائش ہے نہ برداشت۔ اس لئے مشترکہ پارلیمنٹ کے ہائوس میں مستحکم ہونے والی اس رائے سے مجھے بھی مکمل اتفاق ہے کہ آئین اور اس کے تحت قائم اداروں کو تسلیم نہ کرنے والوں کے ساتھ صوفی محمد والا سلوک ہی ہونا چاہئے ورنہ یہاں اور کچھ نہیں ہو گا، بس ’’خالصہ راج‘‘ ہی چلے گا۔‘‘
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com