بسم اللہ ۔ تشریف لائیے
Sep 02, 2014

مجھے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کھلونا بنے مفاد پرست اشرافیہ طبقات کے مفادات کے رکھوالے جمہوری نظام سے کبھی ہمدردی نہیں رہی اور نہ ہی میں نے کبھی موروثی سیاست کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ مجھے بھی یہی فکر مندی ہے کہ سسٹم کو ”سٹیٹس کو“ کے حامی مفاد پرست طبقات سے نجات دلائے بغیر عام آدمی کی ان کے منتخب کردہ ایوانوں میں حقیقی نمائندگی ممکن نہیں۔ میرے قارئین بھی یقیناً اس امر کی گواہی دیں گے کہ میں نے ہمیشہ ایسے سسٹم کی وکالت کی ہے جس میں عام آدمی کی صرف کہنے کی نہیں‘ حقیقی معنوں میں حکمرانی ہو۔ سلطانی جمہور کا یہی فلسفہ ہے کہ اس میں جمہور حاکم ہوتی ہے۔ اور جمہوریت کا عرف عام والا مفہوم بھی یہی ہے کہ یہ عوام کے ذریعے عوام کے لئے ہی لائی جاتی ہے۔ اگر ”سٹیٹس کو“ والوں نے اپنے مفادات کے ٹانکے لگا کر اس نظام کا چہرہ بگاڑتے ہوئے اس پر سلطان کو جمہور پر حاوی کر دیا ہے اور سلطانی جمہور میں جمہور راندہ درگاہ اور سلطان شہنشاہ معظم بن بیٹھا ہے تو اس میں بذات خود سسٹم کا کوئی قصور نہیں بلکہ سسٹم کو اپنی ذہنیت‘ سوچ اور مفادات کے مطابق چلانے والے اس کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔ اس تناظر میں ضرورت نظام کی تبدیلی کی نہیں۔ اس کو چلانے والوں کی تبدیلی کی ہے جو ایسی انتخابی اصلاحات سے ہی ممکن ہے جس کے تحت بے وسیلہ عام آدمی کی انتخابات میں حصہ لینے اور منتخب ہو کر مقتدر ایوانوں میں پہنچنے کی گنجائش نکل سکے۔ یقینًا قیام پاکستان کے مقاصد بھی یہی تھے کہ وسائل سے محروم ایسے پسماندہ عوام الناس کو شرف انسانیت کے تقاضوں کے مطابق معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہو۔ ان کے اقتصادی مسائل کا تدارک ہو اور وہ تمام بنیادی ضرورتوں سے بے نیاز اور سہولتوں سے مزین ہو کر ملک کی ترقی و استحکام اور خوشحال معاشرے کے لئے اپنا کردار بروئے کار لائے۔ یہی اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے کا بنیادی تصور ہے۔ جسے قیام پاکستان سے آج کے دن تک ہمارے معاشرے میں پنپنے نہیں دیا گیا اور جمہوریت کا حلیہ بھی اسی لئے خراب ہوتا ہے کہ اس کے ثمرات سے اسے لانے والے عوام کو مستفید ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ عمران خان نے اس پس منظر میں نئے پاکستان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب کا نعرہ لگایا تو سلطانی جمہور کے حوالے سے اپنی سوچ کے تحت تو مجھے عمران خاں اور علامہ قادری کی آواز میں آواز ملانی چاہئے تھی مگر مجھے شروع دن سے ہی ان دونوں حضرات میں سسٹم کی حقیقی تبدیلی کے معاملہ پر کردار و عمل میں تضاد نظر آیا اور محسوس ہوا کہ ان کا مطمع نظر بھی جیسے تیسے اقتدار حاصل کرنے کا ہے جس کے لئے انہوں نے بھی سیاست کا روایتی چلن ہی اختیار کیا ہے جس کے مطابق سیاستدان کبھی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے بنتے ہیں، کبھی فوجی بوٹوں سے چمٹ کر ان کے ماورائے آئین اقتدار کے لئے معاون بنتے ہیں اور اس کے عوض وزیر مشیر بن کر اپنے حصے کا خیراتی ٹکڑا وصول کرتے ہیں۔ طاہر القادری تو سطانی جمہور کے قائل ہی نہیں۔ وہ کسی قاعدے قانون‘ آئین‘ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے بغیر ہی کسی نامعلوم انقلاب کے ذریعے اقتدار کا ہما اپنے سر پر بٹھانا چاہتے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ اپنی سیاست میں متشدد بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ہی تربیت انہوں نے اپنے ورکروں کی بھی کر رکھی ہے۔ جو زیادہ تر ان کے قائم کردہ مدارس اور ان کی منہاج یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کے ورکروں کی نوجوان نسل تو ابھی تک ان کے مدارس میں ہی زیر تعلیم ہے اس لئے وہ کسی نفع نقصان کی پرواہ کئے بغیر اپنے قائد کے اشارہ ابروپر”آتش نمرود“ میں بے خطر کود پڑنے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں یہ جمہوری سے زیادہ فسطائی سیاست کا طرز عمل ہے۔ جس میں نظر اقتدار پر ہوتی ہے اور چھینا چھپٹی اس کے حصول کا اصول ہوتا ہے ایسی سوچ والے اپنے ذاتی فائدے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ اور مقتدر قوتوں کے آسانی کے ساتھ آلہ کار بن جاتے ہیں اس لئے علامہ قادری کا انقلاب پسے پسمادہ عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے نہیں بلکہ اپنی ذاتی اغراض کے حصول کے لئے ہے جو سیدھے سبھاﺅ کے جمہوری نظام کے بجائے دما دم مست قلندر سے ہی ممکن ہے۔ چنانچہ علامہ قادری کے ماضی سے اس تناظر میں آگاہ ہونے کے باعث مجھے ان سے کبھی یہ توقع نہیں رہی کہ وہ اپنے ”انقلاب“ کو جمہور کی فلاح کے نظام پر منتج کر پائیں گے۔ عمران خان نے چونکہ مروجہ جمہوری نظام میں رہ کر ہی اسے سلطانی جمہور کے حقیقی تصور کے مطابق ڈھالنے کی سوچ دی اس لئے ان کے نئے پاکستان کے نعرہ میں عوام کے لئے کشش موجود تھی مگر انہوں نے اقتداری سیاست والا روائتی چلن اختیار کر کے ”الیکٹ ایبل پرسنلٹیز“ کا اپنی پارٹی میں ہجوم اکٹھا کیا۔ پارٹی ٹکٹ فروخت کئے اور پارٹی کے اندر اپنی شہنشاہیت کی دھاک بٹھانے کے اقدامات اٹھائے تو ان کی سیاست کے بارے میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہی کہ وہ بھی روائتی سیاست کے چلن کے مطابق ہی اقتدار کا حصول اپنی منزل بنائے بیٹھے ہیں۔ اس سوچ کے حامل سیاستدان ہی ماضی میں بھی ماورائے آئین اقدام والوں کے مہرے بنتے رہے ہیں چنانچہ عمران خان کا بھی اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بننا بعید از قیاس نہیں۔ اور اسٹیبلشمنٹ نے بھی ان دونوں حضرات کی ذاتی اغراض کو بھانپ کرہی انہیں اتھل پتھل ایجنڈہ دیتے ہوئے منتخب حکمرانوں کو ”کینڈے“ میں رکھنے کے مقصد کیلئے استعمال کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کی۔ یہی عمران و قادری دھماچوکڑی کا سارا پس منظر تھا جس میں ماورائے آئین اقدام کی سوچ والوں کو شاید اپنی سوچ اور حکمت عملی سے بھی زیادہ کامیابی حاصل ہو گئی ہے اس لئے منتخب حکمرانوں کو کینڈے میں رکھنے کی حکمت عملی سے آگے بڑھ کر اب ماورائے آئین اقدام ہی کا طے کر لیا گیا نظر آتا ہے۔
مجھے موجودہ حکمرانوں سے کسی قسم کی ہمدردی ہے نہ میں ان کے طرز سیاست و حکمرانی کا حامی ہوں کیونکہ وہ بھی روائتی اقتداری سیاست ہی کے اسیر ہیں جس میں جمہور کا مقہور بنے رہنے دینا ہی ان کا مقدر بنا دیا جاتا ہے مگر ان سے خلاصی کے لئے کیا ماورائے آئین اقدام والوں کی ننگی آمریت کے گلے میں ہار ڈال دیے جائیں جو کسی قاعدے قانون اور اقدار کی پابند ہوتی ہے نہ پارلیمنٹ (مقننہ) اور عدلیہ کی خود مختاری اور استحکام اسے وارا کھاتا ہے۔ پچھلی چار جرنیلی آمریتوں میں ملک اور عوام کا جو حشر ہوا اور آئین اور اس کے تحت قائم اداروں کی جو درگت بنائی جاتی رہی اس کی بنیاد پر تو اس زہر کو اب تریاق سمجھ کر پینے کی بھی قوم متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر عمران اور قادری اس ننگی جرنیلی آمریت کو محض اپنی ذاتی اقتداری اغراض کی خاطر کندھوں پر اٹھائے اس پر انقلاب اور نیا پاکستان کا لیبل لگانا چاہتے ہیں تو آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کے حامل مہذب معاشرے کے لئے تڑپ رکھنے والا ملک کا کوئی بھی ذی شعور باشندہ ایسی مکروہ سیاست کا ساتھ دینے کا گناہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں اسی تناظر میں عمران و قادری کی سیاست کا ناقد رہا ہوں جبکہ تنقید برداشت نہ کرنا بھی اس سیاست کے منشور کا حصہ ہے۔ اس منشور کی بنیاد پر اپنے ہر ناقد پر حکومتی پٹھو اور بکاﺅ مال کا لیبل لگانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ ایسے الزامات کی زد میں آنے والے افراد ان کی پالیسیوں اور سوچ پر مزید تنقید کے بجائے اپنے دفاع میں مصروف ہو جائیں۔ اس طرح جھوٹ اس سیاست کے پاﺅں بن جاتے ہیں جو ہر قانون، دستور، تمدن، تہذیب، شائستگی، شستگی کو روندتے ہوئے جنگل کے معاشرے کا راستہ نکالتے جاتے ہیں۔ عمران اور قادری کی دھرنا سیاست کے اب تک کے انداز نے ان کے حریصانہ مقاصد کو پہلے ہی ایکسپوز کر دیا تھا جبکہ تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے اب سارا بھانڈہ پھوڑ کر ان مقاصد کے بے نقاب ہونے میں رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ اگر آج کور کمانڈرحکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ طاقت استعمال کئے بغیر فوری طور پر سیاسی حل نکالے تو ان کی جانب سے نواز شریف کو واضح ہدایت عمران و قادری کے مطالبے کے مطابق استعفیٰ دے کر گھر جانے کی ہی ہے۔ اس مقصد کی خاطر ہی تو ان دونوں حضرات کو استعفے کے تقاضے پر آخری وقت تک ڈٹے رہنے کا ہدایت نامہ ملا تھا۔ بھئی آپ کے پاس طاقت کے استعمال کے بغیر لٹھ برداروں، ہتھوڑوں، کلہاڑوں، غلیلوں والوں اور کرین تک ساتھ لے کر آنے والوں کو قومی عمارات میں تہس نہس کرنے سے روکنے کا کوئی امرت دھارا موجود ہے تو پھر بسم اللہ کیجئے۔ آپ ان قومی عمارتوں کی حفاظت کے لئے آئین کی دفعہ 245 کے تقاضے بھی نہیں نبھا رہے تو عمران اور قادری کے کندھوں پر سوار ہو کر تشریف لے آئیں۔ عوام کی مسلسل اذیت اور قائداعظم کے ملک خداداد کی عالمی رسوائی اور جگ ہنسائی کا اہتمام تو نہ کریں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com